عبد المالک مجاہد
ریاض
دنیا کا ہر انسان خوشی اور خوش حالی چاہتا ہے، مگر کیا بے پناہ دولت حقیقی سعادت کی ضمانت ہے؟
عبد المالک مجاہد کا یہ فکرانگیز مضمون اسلامی تعلیمات، محنت کی اہمیت اور امام احمد بن حنبلؒ کی سیرت سے غیر معمولی محبت کی روشنی میں خوشی کے اصل مفہوم کو واضح کرتا ہے۔
ہم میں سے کون سا ایسا شخص ہے جو سعادت مند نہیں بننا چاہتا؟
اس خوبصورت اور رنگین دنیا میں ہر شخص خوشیوں کی تلاش میں رہتا ہے۔
اس کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح اچھی اور عمدہ زندگی گزارے۔
اپنی زندگی کو خوبصورت بنانے کے لیے ہر شخص بقدرِ امکان کوشش کرتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ خوش بختی، خوش قسمتی اور سعادت آخر ہے کیا، اور اسے کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے؟ اسے کہاں تلاش کیا جائے؟
کیا سعادت اور خوش قسمتی حد سے زیادہ مال دار ہونے میں ہے؟
ایک شخص اربوں کی جائیداد کا مالک ہے۔
اس کے پاس کوٹھیاں اور دکانیں ہیں، کام کاج کے لیے نوکروں کی طویل قطار ہے، گاڑیوں کا بیڑا ہے اور روپے پیسے کا انبار لگا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں
کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس شخص کو مال جیسی نعمت میسر ہے، وہ لازماً سعادت مند بھی ہے؟
قارئینِ کرام!
میں نے جان بوجھ کر مال کو ’نعمت‘ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔
بلاشبہ مال و دولت بہت بڑی نعمت ہے۔
فقر سے تو اللہ کے رسولﷺ نے بھی پناہ مانگی ہے، اور سیدنا عمر
فاروقؓ سے منسوب الفاظ ہیں:
’اگر فقر آدمی ہوتا تو میں اسے قتل کر دیتا‘۔
ہم میں سے اکثریت مال و دولت کی خواہش مند ہے اور اس کے حصول کے لیے مختلف طریقے اپناتی ہے۔
یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اسلام کی نگاہ میں دولت کوئی بری چیز نہیں، نہ ہی اسلام نے کمانے سے روکا ہے۔
بلکہ اسلام ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ ہم محنت کریں اور حلال طریقے سے کمائیں۔
✦اہم نکات +
- دنیا کا ہر انسان خوشی، آسودگی اور عمدہ زندگی کا خواہش مند ہے۔
- مال و دولت اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، مگر یہ حقیقی سعادت کی ضمانت نہیں۔
- اسلام حلال طریقے سے کمانے، محنت کرنے اور خود انحصاری کی تعلیم دیتا ہے۔
- ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا اور دوسروں کا محتاج بننا اسلامی مزاج کے خلاف ہے۔
- عظیم شخصیات کی کامیابی کے پیچھے مستقل مزاجی، محنت اور وقت کی قدر ہوتی ہے۔
- امام احمد بن حنبلؒ کی زندگی سنت سے غیر معمولی محبت کی روشن مثال ہے۔
ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر محض بیٹھے رہنا اسلام کی نگاہ میں سخت ناپسندیدہ ہے۔
اللہ کے رسولﷺ نے اپنے صحابہؓ کو اپاہج اور دوسروں کا محتاج نہیں بنایا، بلکہ انہیں محنت و مشقت کا خوگر بنایا۔
اسلامی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ صحابۂ کرامؓ نے کسی کا دست نگر بننا گوارا نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اپنی زندگی خود بنائی۔
اپنے عمل، کردار اور محنت سے اسے سنوارا۔
میں نے بڑی بڑی شخصیات کی زندگیوں کا مطالعہ کیا ہے۔
ان کی زندگیاں نہایت متوازن اور محنت سے بھرپور تھیں۔
ان کے روز و شب پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل یہ شخصیات سخت محنت کی عادی تھیں۔
وقت کے ضیاع کا ان کے ہاں تصور بھی نہ تھا۔
ان کی زندگیاں علم و عمل سے عبارت تھیں۔
♡حقیقی سعادت کیا ہے؟ +
اگر انہوں نے نام کمایا اور شہرت حاصل کی تو اس کے پیچھے ان کی مستقل مزاجی، جدوجہد اور محنت کا بنیادی کردار تھا۔
امام اہلِ سنت والجماعت، امام احمد بن حنبلؒ کی وفات کا وقت تھا۔
ان کے عزیز شاگرد انہیں وضو کروا رہے تھے۔
نزع کے عالم میں بھی وہ اپنی داڑھی کی طرف اشارہ کرکے شاگردوں سے کہہ رہے تھے کہ اس کا خلال کریں۔
◈اسلام اور مال و دولت +
- رزق حلال اور جائز طریقے سے کمایا جائے۔
- مال انسان کو غرور، ظلم یا دوسروں کے استحصال کی طرف نہ لے جائے۔
- دولت کو زندگی کا مقصد بنانے کے بجائے بھلائی کا ذریعہ بنایا جائے۔
- انسان محنت کرے اور بلا ضرورت دوسروں کا محتاج نہ بنے۔
اللہ اللہ! نزع کے عالم میں سنت کے احیا کا اس قدر پاس اور سنت سے ایسی بے مثال محبت!
میں کم و بیش روزانہ وضو کرتے ہوئے، داڑھی کا خلال کرتے وقت اس عالمِ ربانی کو خراجِ تحسین پیش کرتا اور ان کے لیے دعائیں کرتا ہوں۔