براہ راست نشریات

کھجور کا درخت، صدیقؓ اور فاروقؓ؛ مومن کی بے مثال تمثیلات

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مومن کی نبوی تمثیلات

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

پرتاپ گڑھ - انڈیا

کلامِ نبویﷺ میں تشبیہات و تمثیلات — تیسری اور آخری قسط

خصوصی سلسلے کی آخری قسط میں مومن کو کھجور کے درخت سے دی گئی تشبیہ کی حکمت بیان کی گئی ہے۔ غزوۂ بدر کے قیدیوں سے متعلق حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کی مختلف آرا اور انہیں انبیائے کرامؑ سے دی گئی تشبیہات رحمت، عدل اور دینی بصیرت کے درمیان توازن واضح کرتی ہیں۔

اس خصوصی سلسلے کی پہلی قسط میں مومن کو آئینہ، دنیا میں انسان کو مسافر، بے عمل واعظ کو جلتا چراغ اور مال و منصب کی حرص کو بھوکے بھیڑیوں سے دی گئی تشبیہات کا ذکر کیا گیا تھا۔

دوسری قسط میں نماز کو بہتی ہوئی نہر، قرآن پڑھنے والے مومن کو خوشبودار پھل، نیک و بد صحبت کو عطر فروش اور بھٹی پھونکنے والے، جبکہ مخلص مومن کو سونے کی ڈلی اور شہد کی مکھی سے دی گئی تشبیہات کی حکمت بیان کی گئی۔

اس تیسری اور آخری قسط میں مومن کو کھجور کے درخت سے دی گئی تشبیہ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ و حضرت عمر فاروقؓ کے مزاج کو انبیائے کرامؑ کی سیرتوں سے جوڑنے والی نہایت بلیغ نبوی تمثیلات پیش کی جارہی ہیں۔

مزید پڑھیں

مومن کھجور کے درخت کی طرح

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے مجلس میں موجود صحابہ کرامؓ سے دریافت فرمایا:

’درختوں میں ایک ایسا درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ 

مسلمان کی مانند ہے۔ بتاؤ، وہ کون سا درخت ہے؟‘

صحابہ کرامؓ مختلف صحرائی اور جنگلی درختوں کے بارے میں سوچنے لگے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میرے دل میں خیال آیا کہ اس سے مراد کھجور کا درخت ہے، لیکن مجلس میں بڑے صحابہؓ موجود تھے اور وہ خاموش تھے، اس لیے مجھے جواب دیتے ہوئے حیا محسوس ہوئی اور میں بھی خاموش رہا۔

آخرکار صحابہ کرامؓ نے عرض کیا:

’اللہ کے رسولﷺ! آپ ہی فرمادیجیے کہ وہ کون سا درخت ہے؟‘

آپ ﷺ نے فرمایا:

’وہ کھجور کا درخت ہے۔‘ (صحیح بخاری)

6 اہم نکات +
  1. مومن کھجور کے درخت کی طرح ہمیشہ سرسبز اور ثابت قدم رہتا ہے۔
  2. کھجور کا پورا وجود نفع بخش ہے؛ مومن کو بھی معاشرے کے لیے مفید ہونا چاہیے۔
  3. حضرت ابوبکرؓ نے بدر کے قیدیوں کے لیے فدیہ اور رہائی کی رائے دی۔
  4. حضرت عمرؓ نے دشمنوں کے ساتھ سخت اور فیصلہ کن معاملے کی حمایت کی۔
  5. حضرت ابوبکرؓ کی رحمت کو ابراہیمؑ و عیسیٰؑ کے مزاج سے جوڑا گیا۔
  6. حضرت عمرؓ کی قوت و استقامت کو نوحؑ و موسیٰؑ کے انداز سے تشبیہ دی گئی۔

رسول اللہﷺ نے مومن کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دے کر اس کی متعدد صفات کی جانب اشارہ فرمایا۔

کھجور کا درخت ہمیشہ سرسبز رہتا ہے۔ 

سخت گرمی، خشک موسم اور صحرائی حالات بھی اس کی ہریالی اور افادیت کو ختم نہیں کرتے۔ 

اسی طرح مومن کو بھی ذکر، عبادت، نیک اعمال اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق کے ذریعے اپنے ایمان کو ہمیشہ سرسبز رکھنا چاہیے۔

حالات سازگار ہوں یا مشکل، حقیقی مومن اپنے رب سے تعلق نہیں توڑتا۔ 

خوش حالی اسے غفلت میں مبتلا نہیں کرتی اور آزمائش اسے مایوسی کی طرف نہیں لے جاتی۔ اس کا ایمان موسموں اور حالات کے ساتھ رنگ نہیں بدلتا۔

کھجور ایک نہایت بابرکت اور نفع بخش درخت بھی ہے۔ 

اس کا پھل انسان کی غذا بنتا ہے، اس کے پتے مختلف ضروریات میں استعمال ہوتے ہیں، اس کے تنے اور شاخیں کام آتی ہیں اور اس کا سایہ مسافر کو راحت فراہم کرتا ہے۔ 

گویا اس کا پورا وجود دوسروں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

مومن کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دینے میں یہ پیغام بھی پوشیدہ ہے کہ مسلمان کو اپنے خاندان، پڑوسیوں، معاشرے اور پوری انسانیت کے لیے نفع بخش ہونا چاہیے۔ 

اس کا علم، اخلاق، زبان، رویہ اور صلاحیتیں دوسروں کے لیے خیر اور آسانی کا ذریعہ بنیں۔

حقیقی مومن صرف اپنی ذات کی اصلاح تک محدود نہیں رہتا بلکہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کی زندگی میں بھی مثبت تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ 

جس طرح کھجور کا درخت خاموشی کے ساتھ مسلسل فائدہ پہنچاتا ہے، اسی طرح مومن بھی دکھاوے اور خود نمائی کے بغیر لوگوں کے کام آتا ہے۔

بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ

غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی اور دشمن کے 70 افراد قیدی بنائے گئے۔ 

ان قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے، اس بارے میں رسول اللہﷺ نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ فرمایا۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے رائے دی کہ یہ لوگ ہمارے رشتہ دار اور اپنی قوم کے افراد ہیں، اس لیے ان سے فدیہ لے کر انہیں رہا کردیا جائے۔ 

ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں توبہ اور ہدایت کی توفیق عطا فرمائے اور وہ مستقبل میں اسلام کی قوت بن جائیں۔

فیکٹ باکس +
مضمون نگار مولانا محمد قمرالزماں ندوی
مقام پرتاپ گڑھ، ہند
خصوصی سلسلہ کلامِ نبوی ﷺ میں تشبیہات و تمثیلات
قسط تیسری اور آخری
مرکزی تمثیل مومن اور کھجور کا درخت
اہم شخصیات حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ
مرکزی واقعہ غزوۂ بدر کے قیدیوں سے متعلق مشورہ
بنیادی پیغام رحمت، عدل، قوت اور نفع بخشی

حضرت عمر فاروقؓ کی رائے اس سے مختلف تھی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے رسول اللہﷺ کو جھٹلایا، مسلمانوں پر ظلم کیا، انہیں وطن چھوڑنے پر مجبور کیا اور اسلام کے خلاف جنگ کے لیے میدان میں آئے، اس لیے ان کے ساتھ سخت معاملہ کیا جانا چاہئے۔

دونوں آرا کے پیچھے دین سے محبت اور اسلام کی بھلائی کا جذبہ موجود تھا، لیکن دونوں بزرگوں کے مزاج اور اندازِ فکر میں فرق تھا۔ 

حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طبیعت میں نرمی، رحمت اور اصلاح کی امید نمایاں تھی، جبکہ حضرت عمر فاروقؓ کے مزاج میں حق کے معاملے میں قوت، عدل اور فیصلہ کن رویہ غالب تھا۔

حضرت ابوبکرؓ، ابراہیمؑ اور عیسیٰؑ کی مانند

رسول اللہﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے فرمایا:

’اے ابوبکر! تمہاری مثال ابراہیمؑ اور عیسیٰؑ جیسی ہے۔‘

حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا تھا:

’جو میری پیروی کرے، وہ مجھ سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو بے شک تو بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔‘

حضرت عیسیٰؑ نے عرض کیا تھا:

’اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو غالب اور حکمت والا ہے۔‘

یہ کیوں اہم ہے؟ +

یہ تمثیلات بتاتی ہیں کہ مومن کا ایمان صرف اس کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا؛ اسے کھجور کے درخت کی طرح دوسروں کے لیے فائدہ مند ہونا چاہیے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کی مختلف آرا یہ سبق دیتی ہیں کہ صالح قیادت میں رحمت اور عدل، نرمی اور قوت، امید اور احتساب کے درمیان توازن ضروری ہے۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کی رائے میں بھی یہی رحمت، شفقت اور اصلاح کی امید نمایاں تھی۔ 

وہ دشمنوں کے لیے بھی ہدایت اور توبہ کا دروازہ کھلا دیکھنا چاہتے تھے۔

یہ نرمی کمزوری نہیں تھی بلکہ ایسے مضبوط ایمان کا اظہار تھی جو دشمن کے حال کے ساتھ اس کے ممکنہ مستقبل کو بھی دیکھتا ہے۔ 

صدیق اکبرؓ کو امید تھی کہ آج اسلام کے خلاف میدان میں آنے والے لوگ کل ہدایت پاکر اسلام کے محافظ بن سکتے ہیں۔

حضرت عمرؓ، نوحؑ اور موسیٰؑ کی مانند

رسول اللہﷺ نے حضرت عمر فاروقؓ سے فرمایا:

’اے عمر! تمہاری مثال نوحؑ اور موسیٰؑ جیسی ہے۔‘

حضرت نوحؑ نے طویل عرصے تک اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی جانب بلایا، لیکن مسلسل انکار اور سرکشی کے بعد دعا کی:

’اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کسی بسنے والے کو نہ چھوڑ۔‘

اسی طرح حضرت موسیٰؑ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کی مسلسل سرکشی کے بعد ان کے خلاف دعا فرمائی۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

حضرت عمر فاروقؓ کی رائے میں بھی حق، عدل اور دینی مصلحت کے معاملے میں یہی سختی اور فیصلہ کن انداز موجود تھا۔ 

وہ سمجھتے تھے کہ جن لوگوں نے مسلمانوں پر ظلم کیا اور حق کو مٹانے کے لیے ہتھیار اٹھائے، انہیں ایسی سزا ملنی چاہیے جو آئندہ اسلام کے دشمنوں کے لیے عبرت بنے۔

حضرت عمرؓ کی سختی ذاتی انتقام یا غصے پر مبنی نہیں تھی، بلکہ حق کی حفاظت اور ظلم کے خاتمے کے جذبے سے پیدا ہوئی تھی۔ 

وہ دین کے معاملے میں مداہنت اور کمزوری کو خطرناک سمجھتے تھے۔

رحمت اور عدل کا حسین امتزاج

حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کی آرا بظاہر ایک دوسرے سے مختلف تھیں، مگر دونوں کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی تھا۔

حضرت ابوبکرؓ کی رائے رحمت، اصلاح اور مستقبل کی امید کی نمائندگی کرتی تھی، جبکہ حضرت عمرؓ کی رائے عدل، تحفظ اور برائی کے خلاف مضبوط موقف کی عکاس تھی۔

مختصر تجزیہ +

حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کی آرا میں اختلاف مقصد کا نہیں بلکہ طریقۂ کار کا تھا۔ ایک جانب اصلاح، ہدایت اور مستقبل کی امید تھی، دوسری جانب ظلم کے خلاف فیصلہ کن عدل اور قوت۔ کامیاب دینی و اجتماعی قیادت ان دونوں اوصاف کے متوازن استعمال کا نام ہے۔

ایک صالح معاشرے کو ان دونوں اوصاف کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

صرف نرمی بعض اوقات ظلم اور سرکشی کو بڑھا سکتی ہے، جبکہ حکمت سے خالی سختی انسانوں کو اصلاح کے موقع سے محروم کرسکتی ہے۔ 

نبوی تربیت انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ کہاں رحمت اختیار کرنی ہے اور کہاں عدل و قوت کے ساتھ فیصلہ کرنا ہے۔

جو شخص حضرت ابراہیمؑ، حضرت عیسیٰؑ، حضرت نوحؑ اور حضرت موسیٰؑ کی سیرتوں سے واقف ہے، وہ اس حقیقت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے مزاج اور کردار کو سمجھانے کے لیے اس سے زیادہ بلیغ اور جامع تمثیل ممکن نہیں۔

کلامِ نبویﷺ کی بے مثال تاثیر

رسول اللہﷺ کی بیان کردہ تشبیہات اور تمثیلات محض ادبی حسن کی حامل نہیں بلکہ ان کے اندر تعلیم، اصلاح، تربیت اور تزکیۂ نفس کا پورا نظام موجود ہے۔

آئینہ مومن کو خیر خواہی اور پردہ پوشی سکھاتا ہے۔ 

مسافر کی مثال دنیا کی بے ثباتی واضح کرتی ہے۔ 

جلتا چراغ علم کے ساتھ عمل کی ضرورت یاد دلاتا ہے، جبکہ بھوکے بھیڑیئے مال و منصب کی تباہ کن حرص سے خبردار کرتے ہیں۔

ہم سے جڑے رہیں

بہتی ہوئی نہر نماز کی پاکیزگی سمجھاتی ہے۔ 

خوشبودار پھل قرآن کی تلاوت اور عمل کی تاثیر ظاہر کرتا ہے۔ 

عطر فروش اور بھٹی پھونکنے والے کی مثال صحبت کے گہرے اثرات واضح کرتی ہے، جبکہ سونے کی ڈلی اور شہد کی مکھی مومن کے اخلاص، پاکیزہ رزق اور نفع بخش کردار کی تصویر پیش کرتے ہیں۔

کھجور کا درخت مومن کو ایمان میں سرسبز اور معاشرے کے لیے فائدہ مند رہنے کا درس دیتا ہے۔ 

حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کی تمثیلات رحمت، عدل، قوت اور دینی بصیرت کے درمیان توازن سکھاتی ہیں۔

یہی کلامِ نبویﷺ کا اعجاز ہے کہ مختصر الفاظ میں ایسی زندہ تصویریں پیش کردی جاتی ہیں جو دل میں اترتی، ذہن میں محفوظ رہتی اور انسان کو زندگی بھر عمل، اصلاح اور خیر کی دعوت دیتی رہتی ہیں۔

فکر و نفس کی تربیت، دین و دنیا کی رہنمائی، کلک کریں

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے