براہ راست نشریات

بہتی نہر، خوشبودار پھل اور شہد کی مکھی: مومن کی پہچان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مومن کی نبوی تمثیلات

کلامِ نبویﷺ میں تشبیہات و تمثیلات — دوسری قسط

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

پرتاپ گڑھ، - انڈیا

کلامِ نبویﷺ کی حکمت بھری تمثیلات پر مشتمل دوسری قسط میں نماز کو بہتی ہوئی نہر، قرآن پڑھنے والے مومن کو خوشبودار پھل اور نیک صحبت کو عطر فروش سے تشبیہ دینے کی حکمت بیان کی گئی ہے۔
مخلص مومن کی صفات سونے کی ڈلی اور شہد کی مکھی کی مثال سے بھی واضح کی گئی ہیں۔

اس خصوصی سلسلے کی پہلی قسط میں مومن کو آئینہ، دنیا میں انسان کو مسافر، بے عمل واعظ کو جلتا ہوا چراغ اور مال و منصب کی حرص کو بھوکے بھیڑیوں سے دی گئی تشبیہات کا ذکر کیا گیا تھا۔

دوسری قسط میں نماز کے ذریعے گناہوں کی تطہیر، تلاوتِ قرآن کی تاثیر، نیک و بد صحبت کے اثرات اور مخلص مومن کی چند ایسی صفات بیان کی جارہی ہیں جنہیں رسول اللہﷺ نے بہتی ہوئی نہر، خوشبودار پھل، سونے کی ڈلی اور شہد کی مکھی جیسی زندہ اور دل نشیں مثالوں سے سمجھایا۔

پانچ نمازیں اور بہتی ہوئی نہر

رسول اللہﷺ نے نماز کی برکت اور اس کے ذریعے گناہوں کی تطہیر کو نہایت خوب صورت مثال سے واضح فرمایا:

’تمہارا کیا خیال ہے، اگر تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے ایک نہر بہتی ہو اور وہ اس میں ہر روز 5 مرتبہ غسل کرے تو کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہ سکتا ہے؟‘

صحابہ کرامؓ نے عرض کیا:

’اس کے جسم پر کوئی میل باقی نہیں رہے گا۔‘

آپﷺ نے فرمایا:

’یہی مثال 5 نمازوں کی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم، عن ابی ہریرہؓ)

مزید پڑھیں

اس تمثیل میں نماز کی روحانی تاثیر کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں سمجھایا گیا ہے۔ 

جس طرح صاف پانی میں بار بار غسل کرنے والے کے جسم پر میل باقی نہیں رہتا، اسی طرح اخلاص، خشوع اور شعور کے ساتھ 5 وقت نماز ادا کرنے والے کا باطن گناہوں کی آلودگی سے پاک ہوتا رہتا ہے۔

نماز کا مقصد صرف چند ظاہری حرکات ادا کرنا نہیں، بلکہ دل و نگاہ کی 

تطہیر، اخلاق و کردار کی بلندی اور نفس کا تزکیہ ہے۔ 

جو شخص دن اور رات میں کئی مرتبہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو، اپنی بندگی اور عبدیت کا اظہار کرے اور نماز کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کرے، اس کی زندگی پر نماز کے اثرات ضرور نمایاں ہونے چاہئیں۔

تاہم اگر کوئی شخص جان بوجھ کر گناہوں میں مبتلا رہے اور یہ خیال کرے کہ محض نمازیں ادا کرلینے سے اس کی تمام ذمہ داریاں پوری ہوگئیں تو یہ سوچ نماز کی حقیقی روح کے منافی ہے۔ نماز گناہوں پر قائم رہنے کا جواز نہیں دیتی، بلکہ انسان کو گناہوں سے باہر نکالنے اور اس کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بنتی ہے۔

ہم سے جڑے رہیں

قصور نماز کا نہیں بلکہ اس شخص کی نیت، فہم اور کردار کا ہوتا ہے جو نماز کے تقاضوں کو اپنی زندگی میں جگہ نہیں دیتا۔ 

غذا جسم کو توانائی فراہم کرنے کے لیے کھائی جاتی ہے، لیکن اگر معدہ اسے قبول کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے تو مفید غذا بھی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ 

اسی طرح نماز اپنی حقیقت، اخلاص اور شعور کے ساتھ ادا کی جائے تو وہ انسان کے ظاہر و باطن دونوں کو پاک کردیتی ہے۔

تلاوتِ قرآن، ذائقہ بھی، خوشبو بھی

رسول اللہﷺ نے قرآن مجید کی تلاوت کرنے اور نہ کرنے والوں کی کیفیت سمجھانے کے لیے خوشبو اور ذائقے کی نہایت دل نشیں مثالیں بیان فرمائیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

’جو مومن قرآن پڑھتا ہے، اس کی مثال اُترُجّہ (نارنجی کی مانند) کی سی ہے، جس کی خوشبو بھی عمدہ اور ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے۔ جو مومن قرآن نہیں پڑھتا، اس کی مثال کھجور کی سی ہے، جس میں خوشبو نہیں مگر ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ جو منافق قرآن پڑھتا ہے، اس کی مثال خوشبودار پھول کی سی ہے، جس کی خوشبو اچھی مگر ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ 

اور جو منافق قرآن نہیں پڑھتا، اس کی مثال حنظل (کڑوا پھل) کی سی ہے، جس میں خوشبو نہیں ہوتی اور ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

6 اہم نکات+
  1. پانچ نمازیں گناہوں کو اسی طرح مٹاتی ہیں جیسے پانی جسم کا میل دھو دیتا ہے۔
  2. نماز کا حقیقی مقصد دل، نگاہ، اخلاق اور کردار کی تطہیر ہے۔
  3. قرآن پڑھنے والے مومن کا ظاہر خوشبودار اور باطن شیریں ہوتا ہے۔
  4. تلاوت کا مکمل فائدہ قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔
  5. نیک صحبت عطر فروش جبکہ بری صحبت بھٹی پھونکنے والے کی مانند ہے۔
  6. مخلص مومن سونے کی طرح کھرا اور شہد کی مکھی کی طرح نفع بخش ہوتا ہے۔

اُترُجّہ ایک خوشبودار اور خوش ذائقہ پھل ہے۔ 

قرآن کی تلاوت کرنے والے سچے مومن کو اس سے تشبیہ دے کر بتایا گیا کہ اس کا باطن بھی ایمان کی مٹھاس سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کا ظاہر بھی تلاوت، اخلاق اور عمل کی خوشبو پھیلاتا ہے۔

قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی سی ہے۔ 

اس کے اندر ایمان کی مٹھاس تو موجود ہوتی ہے، مگر تلاوتِ قرآن سے پیدا ہونے والی ظاہری خوشبو اور تاثیر نمایاں نہیں ہوتی۔

اس کے برعکس وہ شخص جس کا باطن ایمان کی حقیقت سے خالی ہو مگر وہ قرآن پڑھتا ہو، خوشبودار مگر کڑوے پھول کی مانند ہے۔ 

اس کی آواز اور تلاوت لوگوں کو متاثر کرسکتی ہے، لیکن اگر اس کا کردار قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہو تو اس کے باطن میں وہ مٹھاس پیدا نہیں ہوتی جو ایک حقیقی مومن کی پہچان ہے۔

یہ تمثیل واضح کرتی ہے کہ قرآن مجید کا تعلق صرف زبان اور آواز سے نہیں، بلکہ دل، کردار اور عمل سے بھی ہے۔ 

کامل تاثیر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب تلاوت کے ساتھ قرآن کو سمجھا، قبول کیا اور زندگی میں نافذ بھی کیا جائے۔

فیکٹ باکس+
  • مضمون نگار: مولانا محمد قمرالزماں ندوی
  • مقام: پرتاپ گڑھ، ہند
  • خصوصی سلسلہ: کلامِ نبوی ﷺ میں تشبیہات و تمثیلات
  • قسط: دوسری
  • اہم تمثیلات: نہر، خوشبودار پھل، عطر فروش، سونا اور شہد کی مکھی
  • مرکزی پیغام: عبادت، تلاوت، صالح صحبت اور پاکیزہ کردار

نیک اور بد صحبت کا اثر

انسان اپنے ماحول اور ساتھیوں سے مسلسل متاثر ہوتا ہے۔ 

اچھی صحبت خاموشی کے ساتھ انسان کے اخلاق و کردار کو سنوارتی ہے، جبکہ بری صحبت کا نقصان بھی کسی نہ کسی صورت میں اس تک ضرور پہنچتا ہے۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال مشک رکھنے والے اور بھٹی پھونکنے والے کی سی ہے۔ مشک رکھنے والا یا تو تمہیں خوشبو دے گا، یا تم اس سے خوشبو خرید لوگے، یا کم از کم تمہیں اس کے پاس سے اچھی مہک آئے گی۔ 

بھٹی پھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلادے گا، یا تمہیں اس کے پاس سے ناگوار بو آئے گی۔‘

(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

عطر فروش کے پاس کچھ وقت گزارنے والا شخص خالی ہاتھ واپس آجائے تو بھی خوشبو سے ضرور متاثر ہوتا ہے۔ 

اسی طرح نیک لوگوں کی صحبت میں رہنے والا انسان ان کے علم، عبادت، اخلاق، گفتگو اور کردار سے کسی نہ کسی درجے میں فائدہ اٹھاتا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے؟+

یہ تمثیلات واضح کرتی ہیں کہ عبادات کا مقصد صرف ظاہری ادائیگی نہیں بلکہ انسان کی زندگی اور کردار میں حقیقی تبدیلی پیدا کرنا ہے۔ نماز باطن کو پاک، قرآن شخصیت کو مہک دار، نیک صحبت کردار کو مضبوط اور حلال و پاکیزہ زندگی انسان کو معاشرے کے لیے فائدہ مند بناتی ہے۔

اس کے برعکس بری صحبت بھٹی پھونکنے والے کی مانند ہے۔ 

اگر اس کی چنگاری کپڑوں کو نہ بھی جلائے تو دھواں اور بدبو ضرور متاثر کرتے ہیں۔ 

انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ وہ بری صحبت میں رہتے ہوئے بھی محفوظ رہے گا، لیکن مسلسل میل جول کے نتیجے میں خیالات، زبان، عادات اور ترجیحات آہستہ آہستہ تبدیل ہونے لگتی ہیں۔

یہ تمثیل انسان کو اپنے دوستوں اور مجلسوں کے انتخاب میں احتیاط کا درس دیتی ہے، کیونکہ صحبت صرف وقت نہیں گزارتی بلکہ شخصیت بھی بناتی ہے۔

مخلص مومن، سونے کی ڈلی اور شہد کی مکھی

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمدﷺ کی جان ہے! مومن کی مثال سونے کی اس ڈلی کی سی ہے جسے اس کے مالک نے آگ میں تپایا، مگر نہ اس کا رنگ بدلا اور نہ اس کے وزن میں کمی آئی۔ 

اور مومن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے، جو پاکیزہ چیز کھاتی، عمدہ شہد بناتی اور جس شاخ پر بیٹھتی ہے، نہ اسے توڑتی ہے اور نہ خراب کرتی ہے۔‘ (مسند احمد)

اس تمثیل میں مخلص مومن کی کئی بنیادی صفات بیان کی گئی ہیں۔

ایک منٹ میں مضمون+

پانچ نمازیں بہتی ہوئی نہر کی مانند انسان کے گناہوں کو دھوتی ہیں، بشرطیکہ انہیں اخلاص اور شعور کے ساتھ ادا کیا جائے۔ قرآن پڑھنے والا مومن خوشبودار اور خوش ذائقہ پھل جیسا ہے۔ نیک ساتھی عطر فروش جبکہ برا ساتھی بھٹی پھونکنے والے کی مانند اثر چھوڑتا ہے۔ حقیقی مومن آزمائش میں سونے کی طرح کھرا اور شہد کی مکھی کی طرح پاکیزہ، بے ضرر اور نفع بخش ہوتا ہے۔

مومن کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ خالص سونے کی طرح ہوتا ہے۔ 

آزمائش کی آگ اس کی حقیقت اور کردار کو تبدیل نہیں کرتی، بلکہ جتنا اسے آزمایا جاتا ہے، اتنا ہی اس کا اخلاص نمایاں ہوتا ہے۔ 

وہ نقلی سونے کی مانند نہیں ہوتا جسے آگ میں ڈالا جائے تو اس کا رنگ بدل جائے یا وزن گھٹ جائے۔

سچا مومن خوش حالی میں بھی اپنے رب کو نہیں بھولتا اور مشکل حالات میں بھی اصول، امانت اور دیانت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ 

آزمائشیں اسے توڑنے کے بجائے اس کے ایمان کو مزید نکھارتی ہیں۔

اس کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ شہد کی مکھی کی طرح پاکیزہ رزق اختیار کرتا ہے۔ 

شہد کی مکھی صاف اور خوشبودار پھولوں سے غذا حاصل کرتی ہے، اسی طرح مومن حلال اور پاکیزہ چیزیں اختیار کرتا اور حرام، ناپاک اور مشتبہ امور سے خود کو محفوظ رکھتا ہے۔

تیسری صفت یہ ہے کہ مومن جہاں جاتا ہے وہاں تباہی نہیں بلکہ خیر چھوڑتا ہے۔ 

شہد کی مکھی پھولوں سے رس حاصل کرتی ہے، مگر پھولوں کو برباد نہیں کرتی۔ 

وہ جس نازک شاخ پر بیٹھتی ہے، اسے توڑتی یا خراب نہیں کرتی۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

اسی طرح حقیقی مومن معاشرے سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے اور بدلے میں لوگوں کو علم، اخلاق، محبت، آسانی اور بھلائی فراہم کرتا ہے۔ 

اس کی زبان، ہاتھ اور رویّے سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتا۔ 

اس کا وجود دوسروں کے لیے شہد کی طرح نفع بخش اور شفا کا ذریعہ بنتا ہے۔

کلامِ نبویﷺ کی ان تمثیلات میں ایک مکمل مومن کی تصویر سامنے آتی ہے: 

نماز اسے پاک کرتی ہے، قرآن اس کے ظاہر و باطن کو خوشبو اور مٹھاس عطا کرتا ہے، نیک صحبت اس کے کردار کو سنوارتی ہے، آزمائش اسے سونے کی طرح کھرا ثابت کرتی ہے اور پاکیزہ طرزِ زندگی اسے شہد کی مکھی کی طرح نفع بخش بناتا ہے۔

اگلی اور آخری قسط میں: مومن کو کھجور کے درخت سے دی گئی تشبیہ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ و حضرت عمر فاروقؓ کے مزاج کو انبیائے کرامؑ کی سیرتوں سے جوڑنے والی بے مثال نبوی تمثیلات۔

فکر و نفس کی تربیت، دین و دنیا کی رہنمائی، کلک کریں

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے