براہ راست نشریات

پانی: اللہ کی عظیم نعمت، ناقدری کہیں عذاب نہ بن جائے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پانی اللہ کی عظیم نعمت
قرآن و سنت پانی کے تحفظ، منصفانہ استعمال اور اسراف سے اجتناب کی کیا تعلیم دیتے ہیں؟

حافظ محمد ہاشم صدیقی

جمشید پور

پانی اور ہوا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ وہ عظیم نعمتیں ہیں جن کے بغیر انسانی زندگی اور کائنات کی بقا ممکن نہیں۔
قرآن مجید انسان کو پانی کی اہمیت، اس پر شکر اور اس کے محتاط استعمال کی تلقین کرتا ہے۔
اسلام عبادت کے دوران بھی پانی کے اسراف کی اجازت نہیں دیتا۔
بڑھتی ہوئی قلت کے پیش نظر پانی کی حفاظت، ضرورت مندوں تک اس کی رسائی اور عوامی مقامات پر پینے کے صاف پانی کا انتظام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اللہ رب العزت تمام جہانوں کا خالق اور پوری مخلوق کا پروردگار ہے۔ 

ہر جاندار کی روزی اسی کے ذمۂ کرم پر ہے۔ 

اس نے انسان کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اور اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرنا چاہو تو انہیں شمار نہیں کرسکو گے۔ بے شک اللہ بڑا بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ (سورۃ النحل: 18)

پانی اور ہوا انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہیں۔ 

ہوا دکھائی نہیں دیتی، مگر اس کے بغیر چند لمحوں سے زیادہ زندہ رہنا ممکن نہیں۔ 

اسی طرح پانی کے بغیر انسان، حیوانات، نباتات اور زراعت کا وجود برقرار نہیں رہ سکتا۔ 

شدید گرمی میں پانی میسر نہ ہو تو انسان سمیت تمام جاندار بے حال ہوجاتے ہیں۔

💧اہم نکات
  • پانی اور ہوا کے بغیر انسانی، حیوانی اور نباتاتی زندگی ممکن نہیں۔
  • قرآن مجید پانی کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیتا ہے۔
  • اسلام وضو اور غسل سمیت ہر کام میں پانی کے اسراف سے روکتا ہے۔
  • پانی بنیادی انسانی ضرورت ہے جس پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔
  • پیاسے کو پانی پلانا بہترین صدقہ اور عظیم انسانی خدمت ہے۔
  • آنے والی نسلوں کے لیے پانی محفوظ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’وہی ہے جس نے تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا، جس میں سے تم پیتے ہو اور اسی سے درخت اور نباتات اگتے ہیں جن میں تم اپنے مویشی چراتے ہو۔‘ (سورۃ النحل: 10)

مزید پڑھیں

میٹھا، صاف اور خوش گوار پانی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ 

اسی سے پیاس بجھتی، کھیت اور باغات سیراب ہوتے اور پھل، سبزیاں اور اناج پیدا ہوتے ہیں۔ 

قرآن مجید انسان کو غور کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:

’بھلا دیکھو تو وہ پانی جو تم پیتے ہو، کیا تم نے اسے بادلوں سے اتارا ہے یا ہم اتارنے والے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنادیں، پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟‘ (سورۃ الواقعہ: 68 تا 70)

آج دنیا کے بہت سے ممالک پانی کی قلت، خشک سالی، آلودگی اور بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت سے پریشان ہیں۔ 

پانی محفوظ کرنے، بارش کا پانی جمع کرنے اور استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے طریقے اپنائے جارہے ہیں، مگر بحران بڑھ رہا ہے۔ 

پانی کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ایک منٹ میں مضمون

پانی اور ہوا زندگی کی بنیادی ضرورت اور اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں۔ قرآن مجید انسان کو یاد دلاتا ہے کہ میٹھا پانی اس کی اپنی تخلیق نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے۔ اس کے باوجود گھروں اور عوامی مقامات پر بڑی مقدار میں پانی ضائع کیا جاتا ہے۔ اسلام وضو جیسی عبادت میں بھی اسراف سے روکتا ہے۔ پانی ہر انسان کی ضرورت ہے اور پیاسے کو پانی پلانا بہترین صدقہ ہے۔ اس لیے پانی کی حفاظت صرف حکومتوں نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔

اگر ہمیں اپنی اولاد اور آنے والی نسلوں سے محبت ہے تو پانی بچانے کی کوشش آج ہی سے شروع کرنا ہوگی۔ 

شکایت ہر شخص کرتا ہے، لیکن اپنی عادتیں بدلنے کے لیے بہت کم لوگ تیار ہوتے ہیں۔ 

بعض افراد پانی کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں۔ 

یہ اسراف اور اللہ کی نعمت کی ناقدری ہے۔ 

قدرت کی پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’پھر نہ ان پر آسمان رویا اور نہ زمین، اور نہ انہیں مہلت دی گئی۔‘ (سورۃ الدخان: 29)

قرآن مجید
پانی کو
اللہ تعالیٰ کی
عظیم نعمت
قرار دیتا ہے

آج گھروں کی صفائی، گاڑیوں کی دھلائی، کھلے پائپ، ٹپکتے نلوں اور غیر ضروری فلش سے بڑی مقدار میں صاف پانی ضائع ہورہا ہے۔
گرم پانی کے انتظار میں بھی نل مسلسل کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
بعض لوگ ضرورت مند پڑوسی کو چند بالٹی پانی دینے میں ہچکچاتے ہیں، مگر اپنی آسائش کے لیے اسے بہانے میں کوئی پریشانی محسوس نہیں کرتے۔
پانی بچانے کے لیے نل بلا ضرورت کھلا نہ چھوڑا جائے، گاڑی دھونے کے لیے پائپ کے بجائے بالٹی استعمال کی جائے، خراب نل اور پائپ فوراً درست کرائے جائیں اور بچا ہوا پانی پودوں یا صفائی کے کام میں استعمال کیا جائے۔
بچوں کو پانی کی قدر سکھائی جائے اور محلوں میں ’پانی بچاؤ، زندگی بچاؤ‘ مہم چلائی جائے۔
علمائے کرام بھی اسراف کی ممانعت واضح کریں۔
مسلمانوں کو پانی کے محتاط استعمال میں نمونہ پیش کرنا چاہیے۔

یہ کیوں اہم ہے؟

پانی کا بحران اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ انسانی صحت، خوراک، زراعت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال بن چکا ہے۔ آج پانی کی قدر اور حفاظت نہ کی گئی تو مستقبل میں صاف پانی تک رسائی مزید مشکل ہوسکتی ہے۔ پانی کا محتاط استعمال ایک دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔

نماز اور طہارت کے لیے پانی ضروری ہے، مگر شریعت نے عبادت میں بھی اسراف کی اجازت نہیں دی۔ 

حضرت سعدؓ نے پوچھا کہ کیا وضو میں بھی اسراف ہوسکتا ہے؟ 

رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’ہاں، اگرچہ تم بہتی ہوئی نہر کے کنارے ہی کیوں نہ ہو۔‘(سنن ابن ماجہ: 425)

رسول اللہﷺ نے یہ بھی فرمایا: ’لوگ 3 چیزوں میں شریک ہیں: پانی، چراگاہ اور آگ۔‘ (سنن ابی داؤد: 3477)

اس تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی قدرتی وسائل پر صرف مال دار یا طاقت ور افراد کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔ 

پانی ہر انسان کی ضرورت ہے اور کسی پیاسے کو اس سے محروم کرنا اسلامی اخلاق کے خلاف ہے۔

پانی پلانا عظیم صدقہ ہے۔ 

حضرت سعد بن عبادہؓ نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ 

آپﷺ نے فرمایا: ’پانی پلانا۔‘ (سنن ابی داؤد: 1681)

پانی بچانے کے عملی طریقے
  • نل کو بلا ضرورت کھلا نہ چھوڑیں۔
  • گاڑی دھونے کے لیے پائپ کے بجائے بالٹی استعمال کریں۔
  • ٹپکتے نل اور خراب پائپ فوری درست کرائیں۔
  • وضو کرتے وقت پانی کا بہاؤ محدود رکھیں۔
  • بچا ہوا صاف پانی پودوں یا صفائی کے لیے استعمال کریں۔
  • بچوں کو ابتدا ہی سے پانی کی قدر سکھائیں۔
  • گرمی میں عوامی مقامات پر پینے کے پانی کا انتظام کریں۔

خصوصاً گرمی میں ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں، بازاروں، اسپتالوں اور عوامی مقامات پر صاف پانی کا انتظام بڑی انسانی خدمت ہے۔ 

یہ کام مذہب، ذات، زبان اور علاقے کی تفریق کے بغیر ہونا چاہیے۔ 

اس سے اجر کے ساتھ محبت اور انسانی ہمدردی بھی بڑھتی ہے۔

پانی بچانا بھی نیکی ہے اور پیاسے کو پانی پلانا بھی عظیم صدقہ۔ 

ہمیں خود بھی عمل کرنا اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دینی چاہیے۔

کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر

خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی نعمتوں کی قدر کرنے، پانی کو ضائع ہونے سے بچانے اور پیاسوں کو پانی پلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے