پانی اور ہوا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ وہ عظیم نعمتیں ہیں جن کے بغیر انسانی زندگی اور کائنات کی بقا ممکن نہیں۔
قرآن مجید انسان کو پانی کی اہمیت، اس پر شکر اور اس کے محتاط استعمال کی تلقین کرتا ہے۔
اسلام عبادت کے دوران بھی پانی کے اسراف کی اجازت نہیں دیتا۔
بڑھتی ہوئی قلت کے پیش نظر پانی کی حفاظت، ضرورت مندوں تک اس کی رسائی اور عوامی مقامات پر پینے کے صاف پانی کا انتظام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آج گھروں کی صفائی، گاڑیوں کی دھلائی، کھلے پائپ، ٹپکتے نلوں اور غیر ضروری فلش سے بڑی مقدار میں صاف پانی ضائع ہورہا ہے۔
گرم پانی کے انتظار میں بھی نل مسلسل کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
بعض لوگ ضرورت مند پڑوسی کو چند بالٹی پانی دینے میں ہچکچاتے ہیں، مگر اپنی آسائش کے لیے اسے بہانے میں کوئی پریشانی محسوس نہیں کرتے۔
پانی بچانے کے لیے نل بلا ضرورت کھلا نہ چھوڑا جائے، گاڑی دھونے کے لیے پائپ کے بجائے بالٹی استعمال کی جائے، خراب نل اور پائپ فوراً درست کرائے جائیں اور بچا ہوا پانی پودوں یا صفائی کے کام میں استعمال کیا جائے۔
بچوں کو پانی کی قدر سکھائی جائے اور محلوں میں ’پانی بچاؤ، زندگی بچاؤ‘ مہم چلائی جائے۔
علمائے کرام بھی اسراف کی ممانعت واضح کریں۔
مسلمانوں کو پانی کے محتاط استعمال میں نمونہ پیش کرنا چاہیے۔