براہ راست نشریات

حکیم العرب کا سبق: ہر سوال کا جواب ضروری نہیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
Think Before You Speak
Picture of شیخ صالح المغامسی

شیخ صالح المغامسی

امام مسجد نبوی شریف

سوشل میڈیا کے دور میں ہر شخص ہر معاملے پر فوراً رائے دینا ضروری سمجھتا ہے، خواہ اسے موضوع کا مکمل علم ہو یا نہ ہو۔
حکیمُ العرب عامر بن الظرب، امام غزالیؒ اور امام مالکؒ کے اقوال ہمیں سکھاتے ہیں کہ خاموشی کم علمی نہیں، بلکہ بعض اوقات علمی دیانت اور فکری پختگی کی سب سے بڑی علامت ہوتی ہے۔

عامر بن الظرب عرب کے معروف دانشور تھے اور انہیں ’حکیمُ العرب‘ کا خطاب دیا گیا تھا۔ 

ان کا ایک نہایت حکمت بھرا قول منقول ہے:

’رائے کو خوب پکنے دو اور اس کے پختہ ہونے سے پہلے اسے بیان کرنے سے اجتناب کرو۔‘

یہ ایک ایسی نصیحت ہے جس پر آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ کتنے ہی سیاسی، شرعی اور معاشرتی مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں کوئی رائے دینے سے پہلے گہرے غوروفکر، مکمل تحقیق اور معاملے کے تمام پہلوؤں کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

💡 اہم ترین نکات
  • رائے دینے سے پہلے تحقیق، تدبر اور توقف ضروری ہے۔
  • ہر سوال کا فوری جواب دینا علم کی علامت نہیں۔
  • سوشل میڈیا نے غیر ذمہ دارانہ اظہارِ رائے کو بڑھا دیا ہے۔
  • زہیر بن ابی سلمی اپنے قصیدوں پر طویل عرصے تک غور کرتے تھے۔
  • عامر بن الظرب نے ایک پیچیدہ مسئلے پر چالیس دن توقف کیا۔
  • ’’مجھے معلوم نہیں‘‘ کہنا علمی دیانت کی علامت ہوسکتا ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم رائے دینے میں سبقت لے جانے کو قابلیت سمجھ بیٹھے ہیں۔ 

بہت سے لوگ غیر معمولی بے باکی کے ساتھ ہر موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ 

بعض افراد کے نزدیک خاموش رہنا شاید کسی بڑے گناہ سے کم نہیں۔ 

وہ ہر مسئلے، ہر بحث اور ہر اختلاف میں اپنی رائے شامل کرنا ضروری سمجھتے ہیں، خواہ انہیں اس موضوع کا مکمل علم ہو یا نہ ہو۔

امام غزالیؒ نے کتنی خوب صورت اور حقیقت پر مبنی بات فرمائی:

’اگر مسئلے کے متعلق مکمل علم نہ رکھنے والا خاموش ہوجائے تو اختلاف کی نوبت ہی نہ آئے۔‘

مزید پڑھیں

پختگی کے لیے وقت ضروری ہے

عربوں کے عظیم شاعر زہیر بن ابی سلمی کے قصیدے بہت مشہور ہیں۔ 

ان کے قصیدوں کو ’حولیات‘ یعنی سالانہ قصیدے کہا جاتا تھا۔ 

وہ اپنا قصیدہ لوگوں کے سامنے پیش کرنے سے پہلے اس پر بار بار نظرثانی کرتے اور بعض اوقات پورا سال غور و فکر کرتے رہتے تھے۔

جب وہ کسی مجمعِ عام میں اپنا قصیدہ سناتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے ان کے منہ سے موتی جھڑ رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کے قصیدے عربی زبان وادب، علم، حکمت اور دانش کے بیش قیمت خزینوں میں شمار ہوتے ہیں۔

اس طرزِ عمل میں ہمارے لیے ایک بڑا سبق موجود ہے۔ 

بہترین بات وہ نہیں جو سب سے پہلے کہہ دی جائے، بلکہ بہترین بات وہ ہے جو تحقیق، تدبر اور فکری پختگی کے بعد سامنے آئے۔ 

سوشل میڈیا اور رائے کا فتنہ

موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے انسانی زندگی میں ایک بڑا انقلاب پیدا کردیا ہے۔ 

اس کے ذریعے ہر شخص کو اپنی بات دنیا تک پہنچانے کا موقع ملا، لیکن اس سہولت نے رائے دینے کے معاملے میں ایک نئے فتنے کو بھی جنم دیا ہے۔

فیکٹ باکس
مرکزی شخصیت عامر بن الظرب
معروف خطاب حکیمُ العرب
توقف کی مدت چالیس دن
بنیادی پیغام رائے پختہ ہونے سے پہلے بیان نہ کی جائے
موجودہ تناظر سوشل میڈیا پر فوری اور غیر مصدقہ آرا
اصل سبق توقف، تحقیق اور علمی دیانت

اہلِ رائے اس کی کشش میں مبتلا ہوئے تو امت کا ایک بڑا طبقہ بھی ان کے ساتھ اس فتنے کا شکار ہوگیا۔ 

اصل مصیبت یہ ہے کہ جو صاحبِ علم اور صاحبِ رائے نہیں، وہ بھی ہر معاملے میں فیصلہ کن انداز اختیار کرنے لگا ہے۔ 

حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ علم سے محروم لوگ بھی نہایت حساس علمی، شرعی اور معاشرتی مسائل پر رائے دینے سے گریز نہیں کرتے۔

مومن کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ کسی معاملے میں رائے دینے سے پہلے توقف کرے۔ 

اپنی معلومات کا جائزہ لے، متعلقہ اہلِ علم سے رجوع کرے اور یہ سمجھے کہ اس کی کہی ہوئی بات دوسروں کی زندگی، سوچ اور فیصلوں پر کس طرح اثرانداز ہوسکتی ہے۔

امام مالکؒ سے بڑھ کر اپنے زمانے میں علم کا مقام رکھنے والا کون ہوسکتا تھا؟ 

اس کے باوجود انہوں نے فرمایا:

’جس نے ہر سوال کا جواب دیا، وہ بے وقوف ہے‘۔

یہ قول ہمیں بتاتا ہے کہ ہر سوال کا فوراً جواب دینا علم کی علامت نہیں۔ 

بعض اوقات ’مجھے معلوم نہیں‘ کہنا ہی علم، دیانت اور عقل مندی کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے۔ 

چالیس دن کا توقف

حکیمُ العرب عامر بن الظرب کا ایک واقعہ اس اصول کو مزید واضح کرتا ہے۔ 

ایک مرتبہ کچھ لوگ ان کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا:

’اے عامر! ہمارے معاملے کا فیصلہ کیجیے۔ 

ہمارے ہاں ایک ایسا شخص ہے جس میں مرد اور عورت، دونوں کی جسمانی علامات پائی جاتی ہیں۔ 

اب سوال یہ ہے کہ اسے اپنے والد کے ترکے میں مرد کا حصہ دیا جائے یا عورت کا؟

⚠️ یہ مضمون کیوں اہم ہے؟

آج سوشل میڈیا پر چند لمحوں میں خبریں، تبصرے اور فیصلے پھیل جاتے ہیں۔ لوگ مکمل معلومات کے بغیر مذہبی، سیاسی اور معاشرتی مسائل پر حتمی رائے قائم کردیتے ہیں۔ ایک غلط یا ناپختہ رائے اختلاف، بدگمانی اور گمراہی کا سبب بن سکتی ہے۔

ذمہ دارانہ خاموشی بعض اوقات بولنے سے کہیں زیادہ مفید ہوتی ہے۔

یہ ایک پیچیدہ اور غیر معمولی معاملہ تھا۔ 

عامر بن الظرب نے فوراً جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کرلی۔ 

وہ 40 دن تک اس مسئلے پر غور و فکر کرتے رہے، لیکن کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔

بالآخر ان کی کنیز نے انہیں مشورہ دیا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ وہ شخص رفعِ حاجت کے لیے کون سا عضو استعمال کرتا ہے۔ 

جس عضو کا استعمال غالب ہو، اسی بنیاد پر اس کی حیثیت اور وراثت میں اس کا حصہ متعین کیا جائے۔

⏱️ ایک منٹ میں مضمون 1 MIN

حکیمُ العرب عامر بن الظرب کا کہنا تھا کہ رائے کو اچھی طرح پکنے اور پختہ ہونے دینا چاہیے۔ انہوں نے ایک پیچیدہ معاملے کا جواب دینے سے پہلے چالیس دن تک غور کیا۔ عرب شاعر زہیر بن ابی سلمی بھی اپنے قصیدوں کو پیش کرنے سے پہلے طویل عرصے تک ان پر نظرثانی کرتے تھے۔

اس کے برعکس آج سوشل میڈیا نے ہر شخص کو ہر موضوع پر فوری رائے دینے کا عادی بنادیا ہے۔ امام غزالیؒ اور امام مالکؒ کی تعلیمات بتاتی ہیں کہ مکمل علم کے بغیر خاموش رہنا زیادہ بہتر ہے۔

اصل دانش مندی ہر سوال کا جواب دینے میں نہیں، بلکہ یہ جاننے میں ہے کہ کب بولنا اور کب خاموش رہنا چاہیے۔

عامر بن الظرب کو یہ رائے بہت پسند آئی۔ 

انہوں نے اس مشورے کو اپنے نام سے منسوب کرنے کے بجائے پوری دیانت داری کے ساتھ مجمعِ عام میں اعلان کیا کہ یہ رائے ان کی کنیز نے پیش کی ہے۔ 

ہمارے لیے سبق

آج ہمیں بولنے سے زیادہ سوچنے، تبصرہ کرنے سے زیادہ تحقیق کرنے اور دوسروں کو غلط ثابت کرنے سے زیادہ اپنی معلومات کی جانچ کرنے کی ضرورت ہے۔ 

ہر موضوع پر رائے دینا ضروری نہیں اور ہر سوال کا فوری جواب دینا بھی دانش مندی نہیں۔

بسا اوقات خاموشی کم علمی نہیں بلکہ فکری پختگی، اخلاقی ذمہ داری اور علمی دیانت کی علامت ہوتی ہے۔ 

رائے بھی ایک امانت ہے، اسے بیان کرنے سے پہلے اچھی طرح پکنے اور پختہ ہونے دینا چاہیے۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے