براہ راست نشریات

کوئی رفیق نہیں کتاب سے بہتر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Importance of Books

مولانا محمد قاسم قاسمی امروہوی

انڈیا

کتاب انسان کی تنہائی کی بہترین رفیق اور علم و آگہی کا روشن چراغ ہے۔
مطالعہ ذہنی وسعت، بہتر گفتگو اور درست فیصلہ سازی کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔
اچھی کتابیں ماضی کی عظیم شخصیات کے علم اور تجربات تک رسائی دیتی ہیں۔
تاہم فائدہ مند مطالعے کے لیے صحیح اور معیاری کتاب کا انتخاب ضروری ہے۔

وقت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ 

اسے ضائع کرنا ایک طرح کی خودکشی ہے۔ 

فرق صرف یہ ہے کہ خودکشی انسان کو ہمیشہ کے لیے زندگی سے محروم کردیتی ہے، جبکہ وقت کا ضیاع اسے زندہ ہوتے ہوئے بھی بے عمل اور بے مقصد بنادیتا ہے۔

اگر کسی شخص سے کہا جائے کہ اس کی عمر میں سے 5 یا 10 سال کم کردیے گئے ہیں تو یقیناً اسے سخت صدمہ ہوگا، لیکن وہی شخص بے کار بیٹھ کر اپنی عمر کے قیمتی لمحات خود ضائع کرتا رہتا ہے اور اسے اس نقصان کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ 

کامیاب زندگی کا بنیادی اصول یہی ہے کہ انسان اپنے وقت کی حفاظت کرے، ہر کام کے لیے وقت اور ہر وقت کے لیے کوئی مفید کام مقرر کرے۔

مزید پڑھیں

تنہائی کی بہترین رفیق

کتب بینی انسان کے وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کے ساتھ اس کی غم خوار، مددگار اور تنہائی کی بہترین رفیق بھی بنتی ہے۔ 

کتاب ضمیر کو روشنی بخشنے والی قندیل، علم و آگہی تک پہنچنے کا زینہ، زندگی کی ناہموار راہوں کی ہم سفر اور اضطراب و بے چینی کی معالج ہے۔

جب انسان گردشِ زمانہ، تلخ واقعات اور ذاتی مشکلات کے ہجوم میں مایوسی کے اندھیروں میں بھٹکنے لگتا ہے تو کتاب کے حروف اس کے لیے روشنی بن جاتے ہیں۔ 

وہ نا امیدی میں امید کی کرن دکھاتے اور بھولی ہوئی منزل کی راہ سمجھاتے ہیں۔ 

چار اہم نکات
  • کتاب انسان کو تنہائی اور بے مقصد مشاغل سے بچاتی ہے۔
  • مطالعہ ذہن، زبان اور شعور میں وسعت پیدا کرتا ہے۔
  • کتابیں عظیم شخصیات کے علم اور تجربات نئی نسلوں تک پہنچاتی ہیں۔
  • فائدہ مند مطالعے کے لیے اچھی اور معیاری کتاب کا انتخاب ضروری ہے۔

کتاب کی روشنی میں انسان اپنی شخصیت، خوبیوں اور خامیوں کو پہچاننے لگتا ہے۔

ڈاکٹر عائض القرنی اپنی معروف کتاب ’لا تحزن‘ میں لکھتے ہیں کہ مطالعے سے وسوسہ اور غم دور ہوتا، لڑائی جھگڑے سے حفاظت رہتی اور بے کار لوگوں کی صحبت سے بچاؤ ہوتا ہے۔ 

مطالعہ زبان میں روانی، گفتگو میں سلیقہ اور ذہن میں وسعت پیدا کرتا ہے۔ 

اس سے انسان کو علماء کی بصیرت، حکماء کی حکمت اور مختلف لوگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے، جبکہ دینی کتابوں کے مطالعے سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔

کتاب کبھی بے وفائی نہیں کرتی

امام جاحظ رحمہ اللہ کے مطابق کتاب انسان کی بہترین دوست ہے۔ 

وہ کبھی اپنے ساتھی سے اکتاتی، جھوٹ بولتی یا بے وفائی نہیں کرتی۔ 

انسان اس سے جس قدر فائدہ اٹھاتا ہے، وہ اتنی ہی فیاضی کے ساتھ اپنے علمی خزانے اس کے سامنے کھول دیتی ہے۔

کتاب انسان کی زبان کو علم و حکمت سے بھر دیتی ہے۔ 

وہ سفر و حضر اور رات دن ہر حال میں فائدہ دیتی ہے۔ 

نہ تھکتی ہے، نہ بے چینی ظاہر کرتی ہے اور نہ کسی صلے کی خواہش رکھتی ہے۔ 

کتاب کی دوستی انسان کو فضول مجلس آرائی، لایعنی مشاغل اور بری صحبت سے بچاتی ہے۔ اس سے روح کو تازگی، طبیعت کو سرور اور ذہن و فکر کو وسعت ملتی ہے۔

💡 کتاب انسان کے لیے کیوں اہم ہے؟
وقت کی حفاظت مطالعہ فارغ وقت کو مفید سرگرمی میں تبدیل کردیتا ہے۔
ذہنی وسعت کتاب انسان میں غوروفکر اور تجزیے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔
تجربات سے استفادہ قاری ماضی کی عظیم شخصیات کے تجربات سے سیکھتا ہے۔
بہتر شخصیت اچھی کتاب انسان کو اپنی خوبیوں اور کمزوریوں کی پہچان دیتی ہے۔

عظیم شخصیات سے ملاقات

مطالعہ دراصل دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے اور تاریخ کی برگزیدہ شخصیات سے ملاقات کرنے کا نام ہے۔ 

سوانح عمریوں، خودنوشت سوانح اور سفرناموں سے قاری ایسی کارآمد معلومات حاصل کرتا ہے جو اسے اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو سمجھنے اور دور کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

کتابوں کے مطالعے سے شعور میں پختگی، اچھے اور برے کی پہچان اور تنقید و تجزیے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ 

انسان کائنات اور زندگی کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے لگتا ہے۔ 

قوموں کے عروج و زوال کے اسباب اس کے سامنے آتے اور ماضی کے کامیاب و ناکام تجربات مستقبل کا راستہ متعین کرنے میں اس کی مدد کرتے ہیں۔

⏱️ ایک منٹ میں مضمون

وقت زندگی کی سب سے قیمتی نعمت ہے اور مطالعہ اسے بامقصد بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ کتاب غم اور تنہائی میں انسان کی ساتھی بنتی، اس کے ذہن کو وسعت دیتی اور اسے دوسروں کے علم و تجربات سے جوڑتی ہے۔

اچھی کتاب کامل رہبر بن سکتی ہے، لیکن گمراہ کن مواد نقصان بھی پہنچا سکتا ہے؛ اس لیے کتاب کا انتخاب علم، شعور اور اہلِ علم کی رہنمائی کے ساتھ کرنا چاہیے۔

سرورِ علم ہے کیفِ شراب سے بہتر
کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

انسان جب کسی کتب خانے میں داخل ہوکر کتابوں سے بھری الماریوں کے درمیان کھڑا ہوتا ہے تو درحقیقت وہ علم کے ایسے شہر میں موجود ہوتا ہے جہاں تاریخ کے ہر دور کے علماء، عقلاء اور اہلِ قلم کے افکار زندہ ہوتے ہیں۔ 

وہاں وہ امام غزالی، امام رازی، افلاطون، ارسطو، ابن رشد اور شاہ ولی اللہ دہلوی سمیت بے شمار عظیم شخصیات سے علمی ملاقات کرسکتا ہے۔

اچھی کتاب کا انتخاب

مطالعے کے لیے صحیح اور مفید کتابوں کا انتخاب بھی ضروری ہے۔ 

کتابیں سمندر کی مانند ہیں، ہر شخص کو اپنی ضرورت، صلاحیت اور ذوق کے مطابق کتاب منتخب کرنی چاہئے۔ 

اس سلسلے میں کسی صاحبِ علم اور صاحبِ ذوق فرد کی رہنمائی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

📖 مضمون کا خلاصہ

کتاب انسان کی تنہائی کی بہترین رفیق، علم و شعور کا روشن چراغ اور زندگی کی ناہموار راہوں کی مخلص ہم سفر ہے۔ مطالعہ وقت کو ضائع ہونے سے بچاتا، ذہن کو وسعت دیتا اور انسان کو تاریخ کی عظیم شخصیات کے علم اور تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

جگر مرادآبادی نے کہا ہے:

کامل رہبر، قاتل رہزن
دل سا دوست نہ دل سا دشمن

یہ بات کتاب پر بھی صادق آتی ہے۔ 

اچھی کتاب انسان کو ساحلِ ہدایت تک پہنچاتی ہے، جبکہ گمراہ کن کتاب اسے فکری بھنور میں ڈبو سکتی ہے۔ 

کتاب کامل رہبر بھی بن سکتی ہے اور خطرناک رہزن بھی، اس لیے کتاب کا انتخاب شعور اور احتیاط کے ساتھ کرنا چاہئے۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

روایت ہے کہ عبداللہ اعرابی کتابوں کے مطالعے میں مصروف تھے۔ 

کسی نے انہیں بلایا تو انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہیں، ان سے فارغ ہوکر آتا ہوں، حالانکہ وہاں کتابوں کے سوا کوئی موجود نہیں تھا۔ 

پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ کتابیں ایسے ہم نشیں ہیں جن کی باتوں سے انسان کبھی نہیں اکتاتا۔ 

وہ گزرے ہوئے لوگوں کے علم، عقل، ادب اور تجربات سے فائدہ پہنچاتی اور بری صحبت کے تمام نقصانات سے محفوظ رکھتی ہیں۔

کتابوں کے مصنف دنیا سے چلے جاتے ہیں، لیکن ان کے افکار اور تجربات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ 

کتابیں ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان علمی پل قائم کرتی ہیں۔ 

اسی لیے ہمیں کتاب کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی رفاقت اختیار کرنی چاہئے، کیونکہ:

سرورِ علم ہے کیفِ شراب سے بہتر
کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

فکر و نفس کی تربیت، دین و دنیا کی رہنمائی، کلک کریں

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے