براہ راست نشریات

روزی کا راز: کائنات کے سب سے بڑے نظام پر غور کی دعوت

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Allah as Provider

مولانا محمد عابد ندوی

جدہ

اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی روزی کا ذمہ لیا ہے۔
انسان، جانور، پرندے اور حشرات سب ایک ایسے مربوط نظام کے تحت رزق حاصل کرتے ہیں جس میں علم، حکمت اور قدرت نمایاں ہے۔
قرآن انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود اس نظام میں غور کرے اور سمجھے کہ خالق بھی اللہ ہے اور اصل رازق بھی وہی۔

1/2

اس سے قبل ہم نے سورۃ البقرہ کی آیت 164 میں بیان کی گئی قدرت کی 7 عظیم نشانیوں پر روشنی ڈالی تھی۔ 

اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی بے شمار نشانیاں پھیلا رکھی ہیں تاکہ بندے ان میں غور و فکر کرکے اپنے رب کی معرفت حاصل کریں اور اس حقیقت کو پہچانیں کہ اس کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں۔

لیکن عموماً انسان ان عظیم نشانیوں سے بے توجہی کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی اسی بے رُخی کو قرآن میں یوں بیان فرمایا:

’اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن سے یہ منہ موڑے گزر جاتے ہیں۔‘ (یوسف: 105)

یعنی لوگ ان میں غور و فکر نہیں کرتے۔ 

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات
  • اللہ تعالیٰ ہی حقیقی رازق ہے اور تمام مخلوقات کی روزی اسی کے نظام سے پہنچتی ہے۔
  • قرآن انسان کو کائنات اور رزق کے نظام میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
  • انسان، جانور، پرندے اور حشرات سب اللہ کے قائم کردہ نظامِ رزق سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
  • پرندوں کی مثال توکل کے ساتھ کوشش کا عملی سبق دیتی ہے۔
  • اللہ ہر جاندار کی جگہ، ضرورت اور اس کے مناسب رزق سے پوری طرح واقف ہے۔
  • زمین، بارش، بیج اور فصلیں رزق کے اسی بڑے الٰہی نظام کی نمایاں نشانیاں ہیں۔
overseaspost.net

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے بار بار اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر فرمایا اور انسان کو ان میں غور و فکر کی دعوت دی، کیونکہ یہی غور و فکر انسان کو اپنے پروردگار کی معرفت عطا کرتا اور اس کے دل میں اللہ کی عظمت پیدا کرتا ہے۔

مزید پڑھیں

اللہ ہی اصل رازق ہے

اللہ تعالیٰ کی صفات میں ایک عظیم صفت رازق اور رزاق ہونا ہے۔ 

اسی نے اپنے فضل و کرم سے تمام مخلوقات کی روزی کا ذمہ لیا ہے۔ 

انسان، جو اشرف المخلوقات ہے، وہ بھی اسی نظامِ رزق کا حصہ ہے اور اسے روزی دینے والا بھی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کے لیے رزق کا جو حیرت انگیز انتظام فرمایا ہے، وہ اس کی قدرت کی ایک بڑی نشانی ہے۔ اس نظام پر غور کرنے سے صرف اللہ کی رزاقیت ہی ظاہر نہیں ہوتی بلکہ اس کے وسیع علم، حکمت اور مستحکم تدبیر کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے:

’بے شک اللہ ہی سب کو روزی دینے والا اور طاقت و قوت والا ہے۔‘ (الذاریات: 58)

ایک اور مقام پر فرمایا:

’اور بہت سے جانور ایسے ہیں جو اپنی روزی اُٹھائے نہیں پھرتے، ان سب کو اور تمہیں بھی اللہ ہی روزی دیتا ہے، وہ بڑا سننے والا، جاننے والا ہے۔‘ (العنکبوت: 60)

i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس
  • موضوع: رزق اور قدرتِ الٰہی
  • مصنف: مولانا محمد عابد ندوی
  • مقام: جدہ
  • بنیادی نکتہ: تمام مخلوقات کا حقیقی رازق اللہ تعالیٰ ہے
  • اہم حوالے: یوسف 105، الذاریات 58، العنکبوت 60، النمل 64، الملک 14 و21، ہود 6، الانعام 99
  • مرکزی پیغام: جائز کوشش کی جائے، مگر بھروسا اور شکر اللہ کے لیے ہو۔
overseaspost.net

اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں بے شمار جاندار ایسے ہیں جو نہ اپنی غذا کا ذخیرہ کرتے ہیں اور نہ اسے ساتھ لے جانے کی قدرت رکھتے ہیں، لیکن وہ جہاں کہیں بھی ہوں، اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی قدرت اور فضل سے انہیں روزی پہنچاتا ہے۔

پرندوں سے توکل کا سبق

رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

’اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرو جیسے اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اسی طرح روزی دے جس طرح پرندوں کو دیتا ہے۔ 

وہ صبح خالی پیٹ اپنے آشیانوں سے نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ واپس آتے ہیں۔‘ (ترمذی، ابن ماجہ)

OVERSEAS POST | QURANIC VIEWقرآن کس طرف توجہ دلاتا ہے؟
  • قرآن بتاتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بے شمار نشانیاں موجود ہیں، مگر بہت سے لوگ ان سے بے توجہی کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔
  • رزق کا نظام بھی انہی عظیم نشانیوں میں سے ایک ہے جس کے ذریعے انسان اپنے رب کی قدرت، علم اور حکمت کو پہچان سکتا ہے۔
  • غور و فکر کا مقصد صرف حیرت نہیں، بلکہ معرفت، شکر اور بندگی کی طرف رہنمائی ہے۔
overseaspost.net

یہ حدیث انسان کو ایک طرف توکل کا درس دیتی ہے اور دوسری طرف یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رزق کے لیے کوشش اور اسباب اختیار کرنے کا بھی نظام قائم فرمایا ہے۔ 

پرندہ گھونسلے میں بیٹھا نہیں رہتا بلکہ رزق کی تلاش میں نکلتا ہے، لیکن اسے رزق پہنچانے والی اصل ذات اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔

کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہے جو انسان، حیوان، چرند، پرند اور حشرات کو روزی دیتا ہو؟ 

اگر اللہ کسی کی روزی روک لے تو کون اسے روزی فراہم کرسکتا ہے؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’کیا وہ جو مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا، اور جو تمہیں آسمان و زمین سے روزی دے رہا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل لے آؤ۔‘ (النمل: 64)

اور فرمایا:

’اگر اللہ اپنی روزی روک لے تو بتاؤ کون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا؟‘ (الملک: 21)

پرندہ گھونسلے
میں بیٹھا نہیں
رہتا بلکہ رزق
کی تلاش میں
نکلتا ہے
لیکن اسے
رزق پہنچانے
والی اصل ذات
اللہ تعالیٰ ہی
کی ہے

رزق کے انتظام کے لیے علم بھی ضروری ہے

رزق پہنچانے کے لیے صرف قدرت کافی نہیں، بلکہ مکمل علم اور حکمت بھی ضروری ہے۔
جس مخلوق کو روزی دی جارہی ہے وہ کہاں ہے؟
اسے کس قسم کی غذا چاہئے؟
کون سی خوراک اس کے لیے فائدہ مند اور کون سی نقصان دہ ہے؟
اسے کب، کہاں اور کتنی غذا درکار ہے؟
ان تمام امور کا مکمل علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں فرماتا ہے کہ وہ دلوں کے بھید تک جانتا ہے۔
اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ کوئی مخلوق اس کا احاطہ نہیں کرسکتی۔
قرآن میں ایک نہایت مضبوط عقلی دلیل دی گئی ہے:
’کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا؟ وہ تو باریک بین اور نہایت باخبر ہے۔‘ (الملک: 14)
جس ذات نے ہر مخلوق کو پیدا کیا، وہ یقیناً اس کی ضرورت، کمزوری، ساخت، رہائش اور غذائی حاجات کو بھی پوری طرح جانتی ہے۔

1′ OVERSEAS POST | HADITHپرندوں سے توکل کا سبق
  • حدیث میں پرندوں کی مثال دی گئی ہے: وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ واپس آتے ہیں۔
  • یہ مثال واضح کرتی ہے کہ توکل کا مطلب کوشش چھوڑ دینا نہیں۔
  • پرندہ رزق کی تلاش میں نکلتا ہے، مگر اسے رزق پہنچانے والی اصل ذات اللہ تعالیٰ ہے۔
overseaspost.net

ہر جاندار کی روزی اللہ کے ذمہ

اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کی روزی کا ذمہ لیتے ہوئے یہ بھی واضح فرمایا کہ وہ ان کے مستقل اور عارضی ٹھکانوں تک سے واقف ہے۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے:

’زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزی اللہ کے ذمہ ہے، وہ ان کے رہنے کی جگہ اور ان کے سونپے جانے کی جگہ کو بھی جانتا ہے، سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے۔‘ (ہود: 6)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی جاندار اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں۔ 

سمندر کی تہہ میں موجود مخلوق ہو، پہاڑوں میں رہنے والا جانور ہو، صحرا میں چلنے والا حشرہ ہو یا فضا میں پرواز کرتا پرندہ، ہر ایک کی ضرورت اور رزق اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔

انسان کا رزق رحمِ مادر ہی میں لکھ دیا جاتا ہے

اللہ تعالیٰ جس طرح رحمِ مادر میں بچے کی پرورش کرتا اور اس کے مناسب غذا پہنچاتا ہے، اسی طرح اسے دنیا میں بھیجنے کے بعد بھی اس کی روزی کا کفیل رہتا ہے۔

احادیث میں آتا ہے کہ انسان ابھی رحمِ مادر میں ہوتا ہے تو فرشتہ اللہ کے حکم سے اس کی عمر، عمل اور روزی سمیت اس کی تقدیر کے بعض امور لکھ دیتا ہے۔

؟ OVERSEAS POST | REFLECTIONاگر اللہ روزی روک لے؟
  • قرآن ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے: اگر اللہ کسی کی روزی روک لے تو کون اسے فراہم کرسکتا ہے؟
  • یہ سوال انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اس کے روزگار، تجارت اور محنت کے پیچھے بھی ایک بڑا نظام کارفرما ہے۔
  • اسباب اختیار کرنا ضروری ہیں، مگر اسباب کو اصل رازق سمجھ لینا درست نہیں۔
overseaspost.net

ایک دوسری روایت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی جان کو اس وقت تک موت نہیں آتی جب تک وہ اپنی مقررہ روزی پوری نہ کرلے۔

یہ حقیقت انسان کے اندر اطمینان پیدا کرتی ہے کہ رزق کے لیے جائز محنت اور کوشش ضرور کی جائے، لیکن رزق کے اصل مالک کو فراموش نہ کیا جائے۔

خالق بھی وہی، رازق بھی وہی

اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کے اثبات میں اس حقیقت کو بار بار بیان فرمایا کہ جس نے مخلوقات کو پیدا کیا، وہی انہیں روزی بھی دیتا ہے۔ تخلیق اور رزق رسانی دونوں اسی کے اختیار میں ہیں۔

جب اللہ ہی خالق اور رازق ہے تو عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ بندگی، دعا، امید اور شکر کا اصل مستحق بھی وہی ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے روزی اُتارتا ہے۔ 

نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ 

پس تم اللہ ہی کو پکارو، اسی کے لیے دین کو خالص کرکے۔‘

(المؤمن: 13-14)

ایک اور مقام پر معبودانِ باطلہ کی بے بسی کو یوں بیان کیا گیا:

’اور وہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین سے انہیں کچھ بھی روزی نہیں دے سکتے اور نہ انہیں کوئی قدرت حاصل ہے۔‘ (النحل: 73)

OVERSEAS POST | ANALYSISرزق کے لیے علم کیوں ضروری ہے؟
  • کون سی مخلوق کہاں ہے؟ اسے کس وقت کیا چاہئے؟ کون سی غذا اس کے لیے مناسب ہے؟
  • رزق رسانی کے مکمل نظام کے لیے صرف قدرت نہیں، بلکہ کامل علم اور حکمت بھی ضروری ہے۔
  • قرآن کی دلیل ہے: جس ذات نے مخلوق کو پیدا کیا، وہ اس کی ضروریات سے کیسے بے خبر ہوسکتی ہے؟
overseaspost.net

زمین اور آسمان کے درمیان رزق کا نظام

اللہ تعالیٰ نے انسان اور تمام مخلوقات کو پیدا کرنے سے پہلے ہی ان کی ضروریات کے مطابق وسائل کا انتظام فرمایا۔ 

زمین میں غذائی اجناس، نباتات، پانی اور دیگر ضروری وسائل رکھے اور آسمان سے بارش کا ایسا نظام قائم کیا جس کے ذریعے زمین مردہ ہونے کے بعد زندہ ہوتی ہے۔

OVERSEAS POST | DIVINE PROVISIONہر جاندار کی روزی
  • سمندر کی تہہ، پہاڑ، صحرا، جنگل یا فضا—کوئی جاندار اللہ کے علم سے باہر نہیں۔
  • قرآن کے مطابق زمین پر چلنے والے ہر جاندار کی روزی اللہ کے ذمہ ہے۔
  • ہر مخلوق کی جگہ، قیام اور ضرورت اس کے علم میں ہے؛ اسی لیے رزق کا یہ نظام مسلسل قائم ہے۔
overseaspost.net

ایک معمولی سا بیج زمین میں ڈالا جاتا ہے، پھر وہ پھٹتا ہے، اس سے کونپل نکلتی ہے، وہ پودا بنتا ہے، پھر درخت یا فصل کی شکل اختیار کرکے انسان اور دیگر جانداروں کے لیے غذا فراہم کرتا ہے۔

یہ پورا عمل انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ صرف پیداوار کو نہ دیکھے بلکہ اس کے پس منظر میں کارفرما قدرت، حکمت اور تدبیر کو بھی پہچانے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس کے ذریعے ہر قسم کی نباتات نکالیں… ہر ایک کے پھل کو دیکھو جب وہ پھلتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو، یقیناً ان میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘ (الانعام: 99)

یہی زمین، یہی پانی اور یہی نظام انسان کے سامنے ہر روز یہ اعلان کررہا ہے کہ مخلوق کا رزق اتفاق سے نہیں، بلکہ ایک منظم الٰہی تدبیر کے تحت پہنچ رہا ہے۔

جاری ہے

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄