براہ راست نشریات

گھٹتی زندگی اور خود احتسابی، قرآن انسان کو کیا یاد دلاتا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Self Accountability

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

اسلام آباد

انسان کی زندگی پگھلتی برف کی مانند مسلسل کم ہو رہی ہے۔
قرآن مجید وقت کو انسان کا سرمایہ قرار دیتے ہوئے اسے خسارے سے بچنے، خود احتسابی کرنے اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی دعوت دیتا ہے۔
نیا سال جشن سے زیادہ اس سوال کا موقع ہے کہ گزشتہ سال ہم نے کیا کھویا، کیا پایا اور آنے والے وقت کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

سال بھر کی عمرِ عزیز گویا پگھلتی ہوئی برف کی ایک سل ہے جو ہر لمحہ کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ 

اگرچہ ہر فرد کی زندگی کا سال اس کی پیدائش سے شروع ہوتا ہے، لیکن اجتماعی زندگی کو منظم رکھنے کے لیے انسان نے ایک متعین تقویمی سال کو اپنا رکھا ہے۔

سال کا اختتام محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں بلکہ انسان کے لیے اپنے گزرے ہوئے وقت، اعمال اور ترجیحات کا جائزہ لینے کا موقع بھی ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

’اے انسان! تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے‘۔

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات
  • سال کا اختتام صرف کیلنڈر بدلنے کا نام نہیں بلکہ گزرے وقت اور اعمال کا جائزہ لینے کا موقع ہے۔

  • قرآن انسان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ مسلسل اپنے رب کی طرف بڑھ رہا ہے۔

  • وقت انسان کا اصل سرمایہ ہے؛ گزرا ہوا لمحہ دوبارہ واپس نہیں آتا۔

  • روزانہ، ہفتہ وار، ماہانہ اور سالانہ خود احتسابی زندگی کی سمت درست کرنے میں مدد دیتی ہے۔

  • نیا سال ماضی سے سبق، حال کی اصلاح اور مستقبل کی بہتر تیاری کا موقع ہے۔

overseaspost.net

محسنِ انسانیتﷺ نے فرمایا کہ جس کا آج اس کے گزشتہ کل سے بہتر نہیں، وہ خسارے میں ہے۔

ایک سال انسانی زندگی میں ایک طویل مدت ہوتی ہے۔ 

اس دوران انسان بے شمار منصوبے بناتا ہے، ارادے کرتا ہے، خواہشات پالتا ہے اور اپنی زندگی کے بارے میں مختلف اندازے قائم کرتا ہے۔ 

مزید پڑھیں

سال کے اختتام پر اگر وہ رک کر دیکھے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ ان منصوبوں میں کتنے مکمل ہوئے، کتنے ادھورے رہ گئے اور کتنی خواہشات وقت کی گرد میں دب گئیں۔

اسی لیے خود احتسابی ایک اہم انسانی اور دینی ضرورت ہے۔ 

اگرچہ ہر دن کے اختتام پر اپنے اعمال کا جائزہ لینا بہترین عادت ہے، تاہم سال کے اختتام پر یہ احتساب زیادہ وسیع تصویر سامنے لاتا ہے۔ 

انسان دیکھ سکتا ہے کہ وہ گزشتہ بارہ مہینوں میں علم، کردار، عبادت، معاشرت، خاندان اور اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے کہاں کھڑا ہے۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس: وقت، زندگی اور خود احتسابی
مرکزی موضوعوقت کی قدر اور خود احتسابی
بنیادی تصورزندگی مسلسل کم ہوتا سرمایہ ہے
قرآنی اشارہانسان اپنے رب کی طرف بڑھ رہا ہے
اہم مثالپگھلتی برف اور بہتا وقت
عملی سبقسالانہ کارکردگی کا جائزہ
اصل مقصدشعور، ایمان، عمل اور ذمہ داری
overseaspost.net

قرآن مجید نے زمانے کی قسم کھا کر انسان کے خسارے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ 

وقت انسان کا اصل سرمایہ ہے۔ 

ایک سال گزرنے کا مطلب ہے کہ زندگی کے سرمائے میں سے ایک اہم حصہ ہمیشہ کے لیے کم ہو گیا۔ 

یہ سرمایہ واپس نہیں آ سکتا، اس لیے کامیاب انسان وہی ہے جو وقت کو مقصد، بھلائی اور تعمیر میں استعمال کرے۔

یہ تصور ہماری عام زندگی سے بھی پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔ 

طالب علم کو امتحان کے لیے ایک خاص وقت دیا جاتا ہے۔ 

جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ امتحان کی مہلت کم ہو رہی ہے۔ 

وہ باقی وقت میں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ 

انسانی زندگی بھی ایک امتحان ہے جس کی مدت مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔

OVERSEAS POST | WHY IT MATTERSیہ موضوع کیوں اہم ہے؟

نئے سال کا لمحہ انسان کو صرف جشن نہیں بلکہ اپنے سفر کی سمت دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔

ذاتی سطحکیا کردار، عبادت، علم اور ذمہ داری میں بہتری آئی؟
خاندانی و سماجی سطحکیا تعلقات، حقوق اور ذمہ داریاں پہلے سے بہتر ہوئیں؟
قومی سطحکیا ہم نے علم، معیشت، اخلاق اور اجتماعی طاقت میں پیش رفت کی؟

اصل سوال: ایک سال گزرنے کے بعد ہم صرف عمر میں بڑھے ہیں یا شعور اور عمل میں بھی؟

overseaspost.net

امام رازی رحمہ اللہ نے وقت کے نقصان کو ایک برف فروش کی مثال سے سمجھایا ہے جو بازار میں پکار رہا تھا کہ لوگو! میرا سرمایہ پگھل رہا ہے، اسے خرید لو۔ 

انسان کی زندگی بھی اسی برف کی طرح ہے، ہر گزرتا لمحہ اس کے سرمائے کو کم کر رہا ہے۔

ایک سال کے اختتام اور دوسرے کے آغاز پر انسان کو اپنے آپ سے سوال کرنا چاہئے کہ اس نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ .

انسان کا اصل مقصد عبادت ہے، لیکن عبادت کا مفہوم صرف چند رسمی اعمال تک محدود نہیں۔ انسان اپنی زندگی میں جس شے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے، عملاً وہی اس کی ترجیح اور بعض اوقات اس کا معبود بن جاتی ہے۔

کسی کے لیے دولت سب کچھ بن جاتی ہے، کسی کے لیے شہرت، کسی کے لیے اقتدار اور کسی کے لیے قوم، نسل، زبان یا علاقہ۔ 

بعض لوگ اقتدار کے لیے اپنے اصول، ایمان، قوم اور اجتماعی مفادات تک قربان کر دیتے ہیں۔

حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالے۔ 

دنیاوی کامیابی عارضی ہے جبکہ آخرت کی کامیابی دائمی ہے۔ 

انسان جس رب کی طرف بہرحال بڑھ رہا ہے، اگر اسی کی طرف شعوری طور پر، اپنی رضا اور ایمان کے ساتھ بڑھے تو اس کی زندگی بامقصد ہو جاتی ہے۔

OVERSEAS POST | QURANIC PERSPECTIVEقرآن وقت کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟

قرآنی تصور میں وقت محض گھڑی کی حرکت نہیں بلکہ انسان کی مہلت اور سرمایہ ہے۔

  • 1

    ہر گزرتا لمحہ زندگی کے سرمائے کو کم کرتا ہے۔

  • 2

    انسان کی کامیابی صرف دنیاوی حصول سے نہیں بلکہ اعمال کے معیار سے جڑی ہے۔

  • 3

    وقت کا نقصان تب حقیقی خسارہ بنتا ہے جب اس سے علم، خیر اور اصلاح پیدا نہ ہو۔

  • 4

    نیا دور انسان کو اپنی سمت درست کرنے کی نئی مہلت دیتا ہے۔

overseaspost.net

اسی لیے روزانہ، ہفتہ وار، ماہانہ اور سالانہ بنیاد پر خود احتسابی ہونی چاہئے۔ 

فرد کو دیکھنا چاہئے کہ اس کا اخلاق، کردار، عبادت اور ذمہ داری کا احساس پہلے سے بہتر ہوا یا نہیں۔ 

اسی طرح قوم اور امت کو بھی جائزہ لینا چاہئے کہ اس نے علم، معیشت، اخلاق، اتحاد اور اجتماعی طاقت کے میدان میں کیا حاصل کیا۔

زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ موت کسی بھی لمحے آ سکتی ہے۔ 

اسی لیے ایک مسلمان کو اپنی ذاتی زندگی میں آخرت کی تیاری ہر وقت سامنے رکھنی چاہئے، جبکہ اجتماعی زندگی میں آنے والی نسلوں کے لیے طویل مدت کے منصوبے بنانے چاہئیں۔

سال کے اختتام پر محض جشن، لہو و لعب اور غفلت میں ڈوب جانا دانش مندی نہیں۔ 

گزرتا ہوا سال انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اس کی زندگی کا ایک حصہ ختم ہو گیا۔ 

اصل سوال یہ ہے کہ اس حصے کو کس کام میں صرف کیا گیا۔

OVERSEAS POST | ANALOGYپگھلتی برف — وقت کی طاقتور مثال

امام رازی رحمہ اللہ نے وقت کے نقصان کو ایک برف فروش کی صدا سے سمجھایا:

“لوگو! میرا سرمایہ پگھلتا چلا جا رہا ہے، کوئی تو خرید لو۔”

انسان کی زندگی بھی اسی برف کی طرح ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ برف دوبارہ خریدی جا سکتی ہے، مگر گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔

overseaspost.net

وقت کا نقصان فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ 

اگر ہم اپنی کمزوریوں، غلامانہ ذہنیت اور تہذیبی انحطاط کو پہچان لیں تو آنے والا سال تبدیلی کا آغاز بن سکتا ہے۔

نیا سال دراصل نئی ذمہ داری کا اعلان ہے۔ 

OVERSEAS POST | BALANCEفرد کے لیے آخرت، قوم کے لیے مستقبل

مضمون دو متوازی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتا ہے:

فرد کی ذمہ داریموت اور جواب دہی کو سامنے رکھ کر اپنی اصلاح اور آخرت کی تیاری کرے۔
قوم کی ذمہ داریآنے والی نسلوں کے لیے علم، معیشت، اخلاق اور اجتماعی قوت کا طویل المدت منصوبہ بنائے۔

ذاتی زندگی میں مہلت مختصر سمجھیں، مگر اجتماعی منصوبہ بندی میں صدیوں آگے دیکھیں۔

overseaspost.net

ہمیں اپنے ماضی سے سبق لیتے ہوئے، حال کو سنوارتے ہوئے اور مستقبل کی تیاری کرتے ہوئے اس یقین کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے کہ فرد بھی بدل سکتا ہے، قوم بھی اور امت بھی۔

انسان کا سفر بہرحال اپنے رب کی طرف ہے۔ 

کامیابی یہ ہے کہ یہ سفر غفلت میں نہیں بلکہ شعور، ایمان، عمل اور ذمہ داری کے ساتھ طے ہو۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے