عبد الستار خان
اوورسیز پوسٹ
رسول اکرمﷺ کی دعوت صرف بڑی سلطنتوں کے حکمرانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عمان، بصرہ، نجد، دومۃ الجندل اور دیگر علاقوں کے عاملوں اور قبائلی سرداروں تک بھی پہنچی۔
بعض حکمرانوں نے اسلام قبول کیا، بعض اپنے سابق عقیدے پر قائم رہے، جبکہ ایک واقعے میں رسول اکرمﷺ کے ایلچی کو شہید بھی کر دیا گیا۔
9/10
سربراہان اور بادشاہوں کے علاوہ رسول اکرمﷺ نے بعض قبائل اور چھوٹی ریاستوں پر مقرر کردہ عاملوں کو بھی گرامی نامے روانہ کئے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
عمان میں ایک چھوٹی بستی تھی جسے دما کہا جاتا تھا۔
اس پر کسریٰ کا عامل مقرر تھا، جس کا نام بستجان تھا۔
رسول اکرمﷺ نے اس کے نام مکتوب روانہ کیا جس میں اسے اسلام کی دعوت دی گئی، تاہم یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اس نے اسلام کی دعوت قبول کی یا نہیں۔
◆ OVERSEAS POST | KEY POINTSمختلف خطوط — اہم نکات ⌄
- ✓رسول اکرم ﷺ نے صرف بڑے بادشاہوں ہی نہیں بلکہ چھوٹی ریاستوں، عاملوں اور قبائلی سرداروں کو بھی دعوتِ اسلام کے خطوط روانہ کئے۔
- ✓عمان کی بستی دما کے عامل بستجان کو بھی مکتوب بھیجا گیا۔
- ✓رعیہ السحیمی، ثمامہ اور بعض دیگر حکمرانوں نے اسلام کی دعوت قبول کی۔
- ✓بصرہ کے حاکم کی جانب بھیجے گئے ایلچی شرحبیل کو شہید کر دیا گیا۔
- ✓فروہ بن عمرو نے اسلام قبول کرکے اپنے منصب اور جان دونوں کی قربانی دی۔
- ✓ذوالکلاح الحمیری کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے 18 ہزار غلام آزاد کئے۔
اس کے علاوہ رعیہ السحیمی نامی ایک شخص کو بھی گرامی نامہ روانہ کیا گیا، جس نے اسلام کی دعوت کو قبول کیا۔
مزید پڑھیں
علاوہ ازیں بصرہ کے حاکم کی طرف بھی گرامی نامہ روانہ کیا گیا، جس نے رسول اکرمﷺ کے ایلچی کو شہید کر دیا۔ تاریخ کی کتابوں میں شہید ہونے والے صحابی کا نام شرحبیل بتایا جاتا ہے اور یہ واحد ایلچی تھے جنہیں سفارتی آداب کے برعکس شہید کر دیا گیا۔
بکر بن وائل نامی ایک والی کو بھی گرامی نامہ روانہ کیا گیا۔
چھوٹے والیوں میں رومی سلطنت کے گورنر فروہ بن عمرو کو بھی
مکتوب روانہ کیا گیا، جس نے اسلام قبول کرکے نہ صرف عہدہ و جاہ پر لات ماری بلکہ جان بھی شہادتِ حق میں لگا دی۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXخطوط کہاں کہاں بھیجے گئے؟ ⌄
ان کے علاوہ رسول اکرمﷺ نے نجد کے حکمران ثمامہ کو بھی مکتوب روانہ کیا، جس نے اسلام کی دعوت قبول کی۔
جبلہ غسانی اور دومۃ الجندل کے حاکم اکیدر کو مکتوب روانہ کئے گئے، جو مسلمان ہوئے۔
حمیر قبیلے کے بادشاہ ذوالکلاح الحمیری کو بھی گرامی نامہ روانہ کیا گیا۔
یہ خود کو خدا کہتا تھا اور لوگوں سے سجدہ کراتا تھا۔
مکتوبِ گرامی ملنے کے بعد اسلام لے آیا۔
اسلام قبول کرنے کی خوشی میں اس نے 18 ہزار غلام آزاد کر دیئے۔
! OVERSEAS POST | DIPLOMATIC INCIDENTبصرہ کا غیر معمولی واقعہ ⌄
- 1رسول اکرم ﷺ کی جانب سے بصرہ کے حاکم کو بھی گرامی نامہ روانہ کیا گیا۔
- 2متن کے مطابق اس حاکم نے رسول اکرم ﷺ کے ایلچی کو شہید کر دیا۔
- 3تاریخی کتابوں میں شہید ہونے والے صحابی کا نام شرحبیل بتایا گیا ہے۔
- 4متن اسے سفارتی آداب کے برخلاف پیش آنے والا ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیتا ہے۔
حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں وہ اپنی بادشاہی چھوڑ کر مدینہ منورہ چلا آیا۔
ان کے علاوہ رسول اکرمﷺ نے معدی کرب بن ابرہہ، نجران کے راہب، غامد قبیلے کے سردار ابی ظبیان اور دیگر قبائل کے سرداروں کو مکتوب روانہ کئے، جن میں سے بعض نے اسلام قبول کیا جبکہ بعض کفر پر قائم رہے۔