عبد الستار خان
اوورسیز پوسٹ
مسیلمہ کذاب نے نبوت میں شراکت کا دعویٰ کرتے ہوئے رسول اکرمﷺ کو خط بھیجا، جس کے جواب میں آپﷺ نے واضح فرمایا کہ زمین اللہ کی ہے اور انجام متقین کے حق میں ہوگا۔
بعد ازاں مسیلمہ نے جھوٹے معجزات دکھانے کی کوششیں کیں اور معرکۂ یمامہ میں اس کا خاتمہ ہوا۔
8/10
رسول اکرمﷺ نے مسیلمہ کذاب کو مکتوب روانہ کیا جس میں اسے اسلام کی دعوت دی گئی۔ مسیلمہ کذاب وہ شخص ہے جس نے رسول اکرمﷺ کی شانِ عالی میں گستاخی کی تھی۔
یہ قبیلہ بنی حنیفہ سے تعلق رکھتا تھا، جس کا نام مسیلمہ (کذاب) بن ثمامہ بھی تھا، جو کہ یمامہ کا باشندہ تھا۔
اس نے اپنا خط دے کر دو قاصد نبی اکرمﷺ کی خدمت میں ارسال کئے، جس میں اس نے لکھا:
’میں بھی منصبِ نبوت میں آپﷺ کا حصہ دار ہوں۔
یہ ہمارے (بنی حنیفہ) اور قریش کے مابین آدھا آدھا مشترک ہے۔‘
یعنی اس نے نبی اکرمﷺ سے آدھے ملک کی سربراہی طلب کی۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTمسیلمہ کذاب — اہم نکات ⌄
- ✓مسیلمہ کذاب کا تعلق قبیلہ بنی حنیفہ سے تھا اور وہ یمامہ کا باشندہ تھا۔
- ✓اس نے رسول اکرم ﷺ کو خط بھیج کر نبوت میں شراکت کا دعویٰ کیا۔
- ✓اس کے دو قاصد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے دعوے کی تائید کی۔
- ✓رسول اکرم ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اور انجام متقین کے حق میں ہوگا۔
- ✓روایت کے مطابق مسیلمہ نے معجزات کی نقل کی کوشش کی مگر نتائج اس کی خواہش کے برعکس نکلے۔
- ✓معرکۂ یمامہ میں حضرت وحشیؓ نے اسے اپنے برچھے کا نشانہ بنایا۔
نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں قاصدوں سے پوچھا:
’کیا تم بھی مسیلمہ کی نبوت کو مانتے ہو؟‘
انہوں نے ہاں میں جواب دیا تو رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
’اگر قاصدوں کے قتل کی ممانعت کا دستور نہ ہوتا تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔‘
مزید پڑھیں
اس کے اس خط کے جواب میں نبی رحمتﷺ نے اسے مکتوبِ گرامی ارسال فرمایا تھا، جس میں لکھا تھا:
’محمد رسول اللہﷺ کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام۔
سلام ہو اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔
اما بعد۔ یہ سرزمین اللہ تعالیٰ کی ہے، وہ جس کو چاہتا ہے اس کا سربراہ بنا دیتا ہے۔
انجام کار متقین کے حق میں ہوگا۔‘
مسیلمہ کذاب کے خود ساختہ معجزات
مسیلمہ کذاب معجزات گھڑنے کی کوشش کیا کرتا تھا، جس کے نتائج اس کی مرضی کے خلاف ہی رونما ہوا کرتے تھے۔
امام ابن کثیر نے علمائے تاریخ کے حوالے سے لکھا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک کنویں میں اپنا لعابِ مبارک ڈالا تو اس کا پانی بڑھ گیا۔
مسیلمہ کذاب نے بھی اسی طرح کرنا چاہا اور ایک کنویں میں تھوک دیا تو اس کا پانی خشک ہو گیا۔
دوسرے کنویں میں تھوکا تو اس کا پانی کھارا ہو گیا۔
✉ OVERSEAS POST | BACKGROUNDمسیلمہ کے خط کا پس منظر ⌄
رپورٹ کے مطابق اس دعوے کا مفہوم یہ تھا کہ مسیلمہ نبی اکرم ﷺ سے اقتدار اور سربراہی میں حصہ چاہتا تھا۔ اس نے اپنا خط دو قاصدوں کے ذریعے بھیجا۔
اس نے وضو میں استعمال شدہ پانی کھجوروں کے پودوں کو دے دیا، جس سے وہ سوکھ کر لکڑی ہوگئے۔
اس کے پاس بچے لائے گئے تاکہ وہ برکت کے لئے ان کے سر پر ہاتھ پھیرے۔
اس نے بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرا تو ایک کا سر گنجا ہو گیا اور دوسرے کی زبان ہکلانے لگی۔
ایک آدمی کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔
اس نے اس کے لئے شفا کی دعا مانگی اور اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ اس کی دونوں آنکھیں اندھی ہوگئیں۔
حضرت وحشیؓ اور مسیلمہ کذاب
مسیلمہ کو حضرت وحشیؓ نے واصلِ جہنم کیا۔
حضرت وحشیؓ کا کہنا ہے کہ اسلام لانے سے قبل میرے ہاتھوں حضرت حمزہؓ کی شہادت ہوئی اور اسی کے نتیجہ میں مجھے غلامی سے آزادی ملی۔
جب نبی کریمﷺ نے مکہ مکرمہ کو فتح کیا تو میں طائف بھاگ گیا اور جب اہلِ طائف کا ایک وفد مسلمان ہونے کے لئے نبی کریمﷺ کی طرف روانہ ہوا تو میں نے شام، یمن یا کسی دوسرے ملک بھاگ جانے کا ارادہ کیا۔
↗ OVERSEAS POST | LETTERرسول اکرم ﷺ کا جواب ⌄
اس مکتوب میں مسیلمہ کے دعوے کے مقابلے میں اقتدار و زمین کی ملکیت کو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے جوڑا گیا اور انجامِ کار متقین کے حق میں بتایا گیا۔
اتنے میں کسی نے مجھ سے کہا:
’تیرا بھلا ہو، اللہ کی قسم! نبی کریمﷺ ایسے کسی شخص کو ہرگز قتل نہیں کرتے جو کلمۂ شہادت پڑھ کر آپﷺ کے دین میں داخل ہوجائے۔‘
یہ سن کر میں بھی نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور کلمۂ شہادت پڑھا۔
وحشیؓ کہتے ہیں:
’جب صحابہ کرامؓ کا ایک لشکر یمامہ کے مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کے لئے روانہ ہوا تو میں بھی اس جہاد میں شامل تھا۔
میں نے وہی برچھا لیا جس سے حضرت امیر حمزہؓ کو شہید کیا تھا۔
جب مسیلمہ اور اس کے لشکر سے جنگ شروع ہوئی تو میری نظر مسیلمہ پر پڑ گئی، جو تلوار سونتے کھڑا تھا۔
! OVERSEAS POST | NARRATIONSخود ساختہ معجزات کے الٹے نتائج ⌄
- 1ایک کنویں میں تھوکنے پر، روایت کے مطابق، اس کا پانی خشک ہوگیا۔
- 2دوسرے کنویں میں تھوکنے سے اس کا پانی کھارا ہوگیا۔
- 3وضو میں استعمال شدہ پانی کھجور کے پودوں کو دیا تو وہ سوکھ گئے۔
- 4بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرنے کے بعد ایک کے گنجا اور دوسرے کے ہکلانے کی روایت بیان ہوئی ہے۔
- 5آنکھوں میں تکلیف والے شخص پر ہاتھ پھیرنے کے بعد اس کے اندھے ہونے کا ذکر بھی متن میں موجود ہے۔
یہ واقعات رپورٹ میں امام ابن کثیر کے حوالے سے علمائے تاریخ کی روایات کے طور پر بیان کئے گئے ہیں۔
ایک طرف سے میں نے اسے اپنے برچھے کا نشانہ بنایا اور دوسری طرف سے ایک انصاری نے اس پر تلوار سے وار کر دیا اور اللہ جانتا ہے کہ اسے کس نے قتل کیا۔‘
معرکۂ یمامہ
حضرت عمر فاروقؓ معرکۂ یمامہ میں شریک تھے۔
وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس دن کسی کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا کہ مسیلمہ کو ایک کالے حبشی غلام، یعنی وحشیؓ، نے قتل کیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ معرکۂ یمامہ میں حضرت وحشیؓ کی عمر 150 سال تھی۔
اس معرکہ میں مسلمانوں میں سے 5، 6 سو افراد شہید ہوئے جبکہ کفار کے 10 ہزار اور ایک روایت کے مطابق 21 ہزار آدمی مرے تھے۔