براہ راست نشریات

علم اور مال کی نعمت، اصل کامیابی درست استعمال میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Knowledge and Wealth

مولانا محمد عابد ندوی

جدہ

علم اور مال اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں بھی ہیں اور آزمائش بھی۔
رسول اللہﷺ نے واضح فرمایا کہ صدقہ مال کو کم نہیں کرتا، ظلم پر صبر عزت بڑھاتا ہے اور بلا ضرورت سوال انسان کو محتاجی کی طرف لے جاتا ہے۔
حدیث کا بنیادی سبق یہ ہے کہ اعمال کی قدر و قیمت نیت سے متعین ہوتی ہے، سچی نیت انسان کو عمل کئے بغیر بھی اجر دلا سکتی ہے۔

حضرت ابوکبشہ انماریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ 3 باتیں ایسی ہیں جن پر آپﷺ قسم کھاتے ہیں: 

صدقہ کرنے سے کسی بندے کا مال کم نہیں ہوتا، جس شخص پر ظلم ہو اور وہ صبر کرے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھاتا ہے، اور جو شخص سوال کا دروازہ کھولتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ 

پھر آپﷺ نے ایک اہم حقیقت بیان فرمائی کہ دنیا میں مال اور علم کے اعتبار سے لوگ 4 قسموں میں تقسیم ہوتے ہیں۔

پہلا شخص وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مال بھی عطا کیا اور علم بھی۔ 

وہ اپنے مال کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور نیک کاموں میں مال خرچ کرتا ہے۔ 

ایسا شخص سب سے بلند مرتبے پر فائز ہے۔

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات
  • علم اور مال اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں بھی ہیں اور آزمائش بھی۔
  • صدقہ کرنے سے مال حقیقتاً ضائع نہیں ہوتا بلکہ اس میں برکت اور اجر بڑھتا ہے۔
  • ظلم پر صبر کرنے والے کی اللہ تعالیٰ عزت بڑھاتا ہے۔
  • بلا ضرورت سوال کو عادت بنانا انسان کو محتاجی کی طرف لے جاسکتا ہے۔
  • نیکی کی سچی نیت، استطاعت نہ ہونے کے باوجود، اجر کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
  • اصل کامیابی مال کی کثرت میں نہیں بلکہ اسے صحیح نیت اور صحیح جگہ استعمال کرنے میں ہے۔
overseaspost.net

مزید پڑھیں

دوسرا وہ ہے جسے علم تو عطا ہوا لیکن مال نہیں ملا۔ 

وہ نیت کا سچا ہے اور کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں نیک شخص کی طرح اللہ کے راستے میں خرچ کرتا۔ 

رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اپنی سچی نیت کے سبب اسے بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا مال خرچ کرنے والے کو ملتا ہے۔

تیسرا وہ شخص ہے جسے مال تو ملا لیکن علم سے محروم رہا۔ 

وہ سوچے سمجھے بغیر مال خرچ کرتا ہے، اللہ سے نہیں ڈرتا، رشتہ داروں کے حقوق ادا نہیں کرتا اور مال میں دوسروں کا حق تسلیم نہیں کرتا۔ 

ایسا شخص بدترین مرتبے پر ہے۔

چوتھا وہ ہے جسے نہ مال ملا اور نہ علم، لیکن اس کی تمنا ہے کہ اگر اسے مال ملتا تو وہ بھی کسی گناہ گار اور فضول خرچ شخص کی طرح عیش و عشرت میں اسے اڑا دیتا۔ 

نیت کی خرابی کے باعث وہ بھی گناہ میں اس شخص کے برابر شمار ہوتا ہے۔ 

یہ حدیث ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے۔

iOVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس
راویحضرت ابوکبشہ انماریؓ
بنیادی مراجعجامع ترمذی، مسند احمد
مرکزی موضوعنیت، صدقہ، صبر، خودداری اور مال کا درست استعمال
لوگوں کی تقسیمعلم اور مال کے اعتبار سے چار اقسام
اصل معیارنعمت کا صحیح استعمال اور اللہ سے خوف
بنیادی نتیجہاعمال کی قدر و قیمت میں نیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے
overseaspost.net

اس جامع حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ علم اور مال دونوں اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہونے کے ساتھ آزمائش بھی ہیں۔ 

اصل کامیابی صرف مال رکھنے یا علم حاصل کرنے میں نہیں بلکہ ان نعمتوں کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرنے میں ہے۔ 

اسی لئے احادیث میں دو اشخاص کو قابلِ رشک قرار دیا گیا ہے: ایک وہ جسے اللہ نے علم دیا اور وہ اسے دوسروں تک پہنچاتا ہے، دوسرا وہ جسے مال دیا اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔

رسول اللہﷺ نے قسم کھا کر یہ بھی واضح فرمایا کہ صدقہ مال کو کم نہیں کرتا۔ 

بظاہر کسی رقم کے خرچ ہوجانے سے مال کم نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں اللہ تعالیٰ اس میں برکت، اجر اور خیر بڑھا دیتا ہے۔ 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان انسان کو تنگ دستی سے ڈراتا ہے، جبکہ اللہ اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے۔ 

اسی طرح ارشاد ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کروگے اللہ اس کا بدلہ عطا فرمائے گا۔

3OVERSEAS POST | HADITHحدیث کے تین بنیادی اصول
  • 1صدقہ: کسی بندے کا مال صدقہ کرنے سے کم نہیں ہوتا۔
  • 2صبر: جس پر ظلم ہو اور وہ صبر کرے، اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھاتا ہے۔
  • 3سوال: جو شخص سوال کا دروازہ کھولتا ہے، اس کیلئے فقر کا دروازہ کھل سکتا ہے۔
یہ تینوں اصول انسان کے مال، کردار اور خودداری کے درمیان ایک مضبوط اخلاقی تعلق قائم کرتے ہیں۔
overseaspost.net

مال کی محبت اور مستقبل کا بے جا خوف انسان کو انفاق فی سبیل اللہ سے روکتا ہے۔ 

وہ سوچتا ہے کہ خرچ کرنے سے دولت کم ہوجائے گی، حالانکہ اللہ کی راہ میں دیا گیا مال کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ 

بعض اوقات اللہ تعالیٰ خرچ کرنے والے کو دنیا ہی میں اس کا بدل عطا فرماتا ہے، اور کبھی باقی مال میں ایسی برکت دیتا ہے کہ کم مال بھی اس کی ضروریات کیلئے کافی ہوجاتا ہے۔ 

حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم خرچ کرو، میں تم پر خرچ کروں گا۔

حدیث کا دوسرا اہم سبق ظلم پر صبر ہے۔ 

جو شخص زیادتی کا جواب زیادتی سے دینے کے بجائے صبر، تحمل اور عفو و درگزر سے کام لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھاتا ہے۔ 

بظاہر صبر کمزوری محسوس ہوسکتا ہے، لیکن اللہ کے نزدیک یہی رویہ عزت اور بلندی کا ذریعہ بنتا ہے۔

4OVERSEAS POST | EXPLAINERعلم و مال کے اعتبار سے چار اقسام
1 — علم بھی، مال بھی

اللہ سے ڈرتا، حقوق ادا کرتا، صلہ رحمی کرتا اور نیکی میں خرچ کرتا ہے؛ سب سے بلند مرتبہ۔

2 — علم ہے، مال نہیں

سچی نیت رکھتا ہے کہ مال ہوتا تو نیکی میں خرچ کرتا؛ نیت کے سبب اجر پاتا ہے۔

3 — مال ہے، علم نہیں

بے سوچے خرچ کرتا، حقوق نہیں پہچانتا اور اللہ سے نہیں ڈرتا؛ بدترین مرتبہ۔

4 — نہ علم، نہ مال

برائی اور عیش کی تمنا رکھتا ہے؛ بری نیت اسے گناہ کے انجام میں شریک کرسکتی ہے۔

overseaspost.net

اسی طرح بلا ضرورت لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ 

جو شخص سوال کو معمول بنالیتا ہے وہ رفتہ رفتہ محتاجی کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ 

اسلام انسان کو محنت، قناعت اور خودداری کی تعلیم دیتا ہے۔

حدیث کا سب سے گہرا پیغام نیت سے متعلق ہے۔ 

اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے۔ 

ایک انسان کسی نیکی کو عملی طور پر انجام نہ دے سکے لیکن دل میں سچی خواہش اور پختہ ارادہ ہو کہ استطاعت ملتی تو وہ ضرور یہ نیکی کرتا، تو اللہ تعالیٰ اسے اس عمل کا اجر عطا فرماتا ہے۔ 

OVERSEAS POST | CHARITYصدقہ مال کو کم کیوں نہیں کرتا؟

بظاہر صدقہ کرنے سے رقم کم ہوتی دکھائی دیتی ہے، لیکن دینی تعلیمات کے مطابق اس کے بدلے اجر، برکت اور خیر میں اضافہ ہوتا ہے۔

  • اللہ تعالیٰ خرچ کرنے والے کو دوسرے ذرائع سے بدل عطا کرسکتا ہے۔
  • باقی مال میں ایسی برکت ہوسکتی ہے کہ کم مال بھی ضروریات کیلئے کافی ہوجائے۔
  • آخرت میں صدقے کا اجر کئی گنا بڑھایا جاتا ہے۔
مستقبل کے بے جا خوف اور مال کی محبت کو خیر کے راستے میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔
overseaspost.net

اسی طرح اگر کوئی شخص گناہ کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہو اور صرف موقع یا وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اسے انجام نہ دے سکے، تو اس کی نیت بھی اس کے اخلاقی انجام پر اثر انداز ہوتی ہے۔

اس لئے مال سے زیادہ اہم یہ ہے کہ انسان اسے کس نیت سے استعمال کرتا ہے، اور علم سے زیادہ اہم یہ ہے کہ علم اسے اللہ سے قریب کرتا ہے یا نہیں۔ 

بہترین انسان وہ ہے جسے اللہ علم اور مال دے اور وہ دونوں کو اللہ کی رضا، بندوں کی خدمت اور خیر کے فروغ کیلئے استعمال کرے۔

OVERSEAS POST | CHARACTERصبر عزت کیسے بڑھاتا ہے؟

ظلم یا زیادتی کے جواب میں فوری انتقام کے بجائے صبر، تحمل اور عفو و درگزر اختیار کرنا بظاہر کمزوری محسوس ہوسکتا ہے، مگر حدیث اسے عزت اور رفعت کا راستہ قرار دیتی ہے۔

صبرغصے اور ردعمل پر قابو
تحملمشکل حالت میں اخلاقی توازن
عفوانتقام کے بجائے درگزر
نتیجہاللہ کے ہاں عزت اور بلند مرتبہ
overseaspost.net