عبد الستار خان
اوورسیز پوسٹ
رسول اکرمﷺ نے حکمرانوں کے نام خطوط پر مہر لگانے کے لیے ایک انگوٹھی بنوائی تھی جس پر ’محمد رسول اللہ‘ کندہ تھا۔ یہ انگوٹھی آپﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ، پھر حضرت عمرؓ اور بعد ازاں حضرت عثمانؓ تک پہنچی۔
حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں یہ مدینہ منورہ کے تاریخی کنویں بئرِ اریس میں گر گئی۔
3 دن تک تلاش اور کنویں کا پانی نکلوانے کے باوجود یہ انگوٹھی دوبارہ نہ مل سکی۔
10/10
رسول اکرمﷺ اپنے دور کے سفارتی آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے سربراہانِ ممالک کے نام اپنے خطوط پر مہر لگانے کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔
اس کے لئے آپﷺ نے بطورِ خاص انگوٹھی بنوائی جس پر ’محمد رسول اللہ‘ کے الفاظ کندہ تھے۔
آپﷺ کے ہر گرامی نامے کے ذیل میں یہ مہر لگی ہوئی ہے۔
آپﷺ کی وفات کے بعد یہ انگوٹھی حضرت عائشہ صدیقہؓ کے سپرد کر دی گئی۔
جب حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ مقرر ہوئے تو حضرت عائشہؓ نے یہ انگوٹھی ان کے حوالے کر دی۔
حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد یہ انگوٹھی حضرت عمر فاروقؓ کو ملی۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTخاتمِ نبوی ﷺ — اہم نکات ⌄
- ✓رسول اکرم ﷺ نے خطوط پر مہر لگانے کے لیے ایک خاص چاندی کی انگوٹھی بنوائی تھی۔
- ✓اس پر ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے الفاظ کندہ تھے۔
- ✓آپ ﷺ کے بعد یہ انگوٹھی خلفائے راشدین کے پاس منتقل ہوتی رہی۔
- ✓حضرت عثمانؓ کے دور میں یہ بئرِ اریس میں جا گری۔
- ✓تین دن تک تلاش اور کنویں کا پانی نکلوانے کے باوجود یہ دوبارہ نہ مل سکی۔
- ✓اسی واقعے کے بعد بئرِ اریس کو بئرِ خاتم بھی کہا جانے لگا۔
حضرت عمرؓ نے انتقال سے پیشتر وہ انگوٹھی ام المؤمنین حضرت حفصہؓ کے پاس رکھوا دی اور ہدایت کی کہ جو خلیفہ منتخب ہو، اس کے سپرد کر دی جائے۔
چنانچہ جب حضرت عثمان بن عفانؓ خلیفہ بنے تو یہ انگوٹھی ان تک پہنچی اور ان سے ہی ایک کنویں میں گر گئی۔
مزید پڑھیں
بئرِ اریس یا بئرِ خاتم
جس کنویں میں یہ انگوٹھی گری تھی اس کا نام ’بئرِ اریس‘ یعنی اریس کا کنواں ہے۔
اریس یہودی نام ہے جس کا مطلب کسان ہے۔
اس کنویں کو ’بئر النبیﷺ‘ یعنی نبی اکرمﷺ کا کنواں بھی کہا جاتا ہے، تاہم انگوٹھی گرنے کے بعد اس کا نام ’بئر الخاتم‘ یعنی انگوٹھی کا
کنواں پڑ گیا۔
اس کنویں کا تاریخ میں اہم مقام ہے۔
یہ کنواں مسجد قبا کے مغرب میں اس وقت کے صدر دروازے سے 42 میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔
ابن نجار کے مطابق کنویں کی گہرائی 6.3 میٹر اور چوڑائی 2.2 میٹر تھی جبکہ پانی کی سطح 1.3 میٹر تھی۔
بعد کے ادوار میں کھدائی کرکے اس کی گہرائی 8.5 میٹر کر دی گئی۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXخاتمِ نبوی ﷺ: فیکٹ باکس ⌄
- جنس
- چاندی کی انگوٹھی
- کندہ الفاظ
- محمد رسول اللہ
- استعمال
- خطوط پر مہر ثبت کرنا
- بعد از وفات
- خلفائے راشدین تک منتقل ہوئی
- گم ہونے کا مقام
- بئرِ اریس
- دوسرا معروف نام
- بئرِ خاتم
- مقام
- مسجدِ قبا کے مغرب میں، تقریباً 42 میٹر کے فاصلے پر
- تلاش
- کنویں کا پانی نکالا گیا، ریت چھانی گئی اور تین دن تک تلاش جاری رہی
1317ء میں کنویں کی تہہ تک اترنے کے لئے سیڑھیاں تعمیر کر دی گئیں، لیکن یہ زینہ کس نے تعمیر کرایا، اس پر مورخین کا اختلاف ہے۔
عثمانی دورِ حکومت میں اس کنویں پر گنبد تعمیر کرایا گیا اور ایک دوسرا گنبد اس کے جنوبی سمت میں تعمیر کرایا گیا۔
دونوں گنبد شکستہ حالت میں تھے جب 1964ء میں مسجد قبا کا چوک تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا۔
تب مدینہ منورہ میونسپلٹی نے انہیں منہدم کرا دیا۔
بعد ازاں مسجد قبا چوک بنانے کے لئے زمین کو ہموار کیا گیا اور ایسا کرنے سے وہ کنواں بھی دفن ہو گیا۔
مدینہ منورہ منورہ میونسپلٹی نے مسجد قبا کے قریب اریس کنویں کے مقام کو محفوظ بنانے کے لیے نشان لگا رکھا ہے اور رہنمائی کے لیے بورڈ بھی ہے۔

بئرِ اریس اور جنت کی بشارت
صحیح مسلم میں ہے کہ ایک دن رسول اکرمﷺ اس کنویں پر اپنی ٹانگیں لٹکائے تشریف فرما تھے کہ حضرت ابوبکر الصدیقؓ اور حضرت عمر بن خطابؓ بھی وہاں آگئے اور رسول اکرمﷺ کے قریب بیٹھ گئے۔
تھوڑی دیر بعد حضرت عثمان بن عفانؓ بھی وہاں پہنچ گئے اور رسول اکرمﷺ کے قریب جگہ نہ پاکر تینوں کے سامنے بیٹھ گئے۔
◎ OVERSEAS POST | TIMELINEخاتمِ نبوی ﷺ کا سفر ⌄
اپنے تینوں صحابہ کرام کو بیٹھا دیکھ کر رسول اکرمﷺ نے انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام پانے کی بشارت دی۔
اسی نسبت سے اس کنویں کو بئر النبیﷺ بھی کہا جاتا ہے۔
خاتمِ نبوی ﷺ کنویں میں گر گئی
حضرت عثمان بن عفانؓ کی خلافت کا زمانہ تھا جب وہ اس کنویں پر اسی طرح بیٹھے تھے جس طرح رسول اکرمﷺ اپنے دونوں ساتھیوں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ انگوٹھی ان کے ہاتھ سے نکل کر کنویں میں جا گری۔
✓? OVERSEAS POST | CONTEXTیہ واقعہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
خاتمِ نبوی ﷺ کا واقعہ اسلامی تاریخ میں کئی پہلوؤں سے اہمیت رکھتا ہے:
آپؓ نے اس کنویں کا سارا پانی نکلوا کر اس کی ریت کو اچھی طرح چھنوایا مگر وہ نہیں ملی۔
انہوں نے 3 دن تک کنویں کے اندر انگوٹھی کو تلاش کروایا، مگر اس کے باوجود وہ نہ ملی۔
خاتمِ نبویﷺ کے اس طرح گم ہو جانے پر آپؓ کو سخت ملال ہوا۔
بعد میں بھی اس انگوٹھی کی تلاش کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں، مگر وہ کسی کو نہ ملی۔
بعض مورخین کا کہنا ہے کہ حضرت عثمانؓ نے بعد ازاں اسی شکل کی انگوٹھی بنوائی تھی۔