براہ راست نشریات

انگشتری نبیﷺ اریس کنویں میں کیسے گم ہوئی؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Prophet Muhammad Ring
Picture of عبد الستار خان

عبد الستار خان

اوورسیز پوسٹ

رسول اکرمﷺ نے حکمرانوں کے نام خطوط پر مہر لگانے کے لیے ایک انگوٹھی بنوائی تھی جس پر ’محمد رسول اللہ‘ کندہ تھا۔ یہ انگوٹھی آپﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ، پھر حضرت عمرؓ اور بعد ازاں حضرت عثمانؓ تک پہنچی۔
حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں یہ مدینہ منورہ کے تاریخی کنویں بئرِ اریس میں گر گئی۔
3 دن تک تلاش اور کنویں کا پانی نکلوانے کے باوجود یہ انگوٹھی دوبارہ نہ مل سکی۔

10/10

رسول اکرمﷺ اپنے دور کے سفارتی آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے سربراہانِ ممالک کے نام اپنے خطوط پر مہر لگانے کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ 

اس کے لئے آپﷺ نے بطورِ خاص انگوٹھی بنوائی جس پر ’محمد رسول اللہ‘ کے الفاظ کندہ تھے۔

آپﷺ کے ہر گرامی نامے کے ذیل میں یہ مہر لگی ہوئی ہے۔

آپﷺ کی وفات کے بعد یہ انگوٹھی حضرت عائشہ صدیقہؓ کے سپرد کر دی گئی۔ 

جب حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ مقرر ہوئے تو حضرت عائشہؓ نے یہ انگوٹھی ان کے حوالے کر دی۔

حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد یہ انگوٹھی حضرت عمر فاروقؓ کو ملی۔ 

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTخاتمِ نبوی ﷺ — اہم نکات
  • رسول اکرم ﷺ نے خطوط پر مہر لگانے کے لیے ایک خاص چاندی کی انگوٹھی بنوائی تھی۔
  • اس پر ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے الفاظ کندہ تھے۔
  • آپ ﷺ کے بعد یہ انگوٹھی خلفائے راشدین کے پاس منتقل ہوتی رہی۔
  • حضرت عثمانؓ کے دور میں یہ بئرِ اریس میں جا گری۔
  • تین دن تک تلاش اور کنویں کا پانی نکلوانے کے باوجود یہ دوبارہ نہ مل سکی۔
  • اسی واقعے کے بعد بئرِ اریس کو بئرِ خاتم بھی کہا جانے لگا۔
overseaspost.net

حضرت عمرؓ نے انتقال سے پیشتر وہ انگوٹھی ام المؤمنین حضرت حفصہؓ کے پاس رکھوا دی اور ہدایت کی کہ جو خلیفہ منتخب ہو، اس کے سپرد کر دی جائے۔

چنانچہ جب حضرت عثمان بن عفانؓ خلیفہ بنے تو یہ انگوٹھی ان تک پہنچی اور ان سے ہی ایک کنویں میں گر گئی۔

مزید پڑھیں

بئرِ اریس یا بئرِ خاتم

جس کنویں میں یہ انگوٹھی گری تھی اس کا نام ’بئرِ اریس‘ یعنی اریس کا کنواں ہے۔ 

اریس یہودی نام ہے جس کا مطلب کسان ہے۔

اس کنویں کو ’بئر النبیﷺ‘ یعنی نبی اکرمﷺ کا کنواں بھی کہا جاتا ہے، تاہم انگوٹھی گرنے کے بعد اس کا نام ’بئر الخاتم‘ یعنی انگوٹھی کا

 کنواں پڑ گیا۔

اس کنویں کا تاریخ میں اہم مقام ہے۔

یہ کنواں مسجد قبا کے مغرب میں اس وقت کے صدر دروازے سے 42 میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ 

ابن نجار کے مطابق کنویں کی گہرائی 6.3 میٹر اور چوڑائی 2.2 میٹر تھی جبکہ پانی کی سطح 1.3 میٹر تھی۔ 

بعد کے ادوار میں کھدائی کرکے اس کی گہرائی 8.5 میٹر کر دی گئی۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXخاتمِ نبوی ﷺ: فیکٹ باکس
جنس
چاندی کی انگوٹھی
کندہ الفاظ
محمد رسول اللہ
استعمال
خطوط پر مہر ثبت کرنا
بعد از وفات
خلفائے راشدین تک منتقل ہوئی
گم ہونے کا مقام
بئرِ اریس
دوسرا معروف نام
بئرِ خاتم
مقام
مسجدِ قبا کے مغرب میں، تقریباً 42 میٹر کے فاصلے پر
تلاش
کنویں کا پانی نکالا گیا، ریت چھانی گئی اور تین دن تک تلاش جاری رہی
overseaspost.net

1317ء میں کنویں کی تہہ تک اترنے کے لئے سیڑھیاں تعمیر کر دی گئیں، لیکن یہ زینہ کس نے تعمیر کرایا، اس پر مورخین کا اختلاف ہے۔

عثمانی دورِ حکومت میں اس کنویں پر گنبد تعمیر کرایا گیا اور ایک دوسرا گنبد اس کے جنوبی سمت میں تعمیر کرایا گیا۔

OverseasPost Template 3 6

دونوں گنبد شکستہ حالت میں تھے جب 1964ء میں مسجد قبا کا چوک تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا۔ 

تب مدینہ منورہ میونسپلٹی نے انہیں منہدم کرا دیا۔

بعد ازاں مسجد قبا چوک بنانے کے لئے زمین کو ہموار کیا گیا اور ایسا کرنے سے وہ کنواں بھی دفن ہو گیا۔ 

مدینہ منورہ منورہ میونسپلٹی نے مسجد قبا کے قریب اریس کنویں کے مقام کو محفوظ بنانے کے لیے نشان لگا رکھا ہے اور رہنمائی کے لیے بورڈ بھی ہے۔

Youtube video

بئرِ اریس اور جنت کی بشارت

صحیح مسلم میں ہے کہ ایک دن رسول اکرمﷺ اس کنویں پر اپنی ٹانگیں لٹکائے تشریف فرما تھے کہ حضرت ابوبکر الصدیقؓ اور حضرت عمر بن خطابؓ بھی وہاں آگئے اور رسول اکرمﷺ کے قریب بیٹھ گئے۔

تھوڑی دیر بعد حضرت عثمان بن عفانؓ بھی وہاں پہنچ گئے اور رسول اکرمﷺ کے قریب جگہ نہ پاکر تینوں کے سامنے بیٹھ گئے۔

OVERSEAS POST | TIMELINEخاتمِ نبوی ﷺ کا سفر
1رسول اکرم ﷺسربراہانِ ممالک کے نام خطوط پر مہر لگانے کے لیے انگوٹھی استعمال فرماتے تھے۔
2حضرت ابوبکر صدیقؓآپ ﷺ کی وفات کے بعد یہ انگوٹھی پہلے حضرت ابوبکرؓ تک پہنچی۔
3حضرت عمر فاروقؓحضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد یہ حضرت عمرؓ کے پاس آئی۔
4حضرت عثمان بن عفانؓخلافت سنبھالنے کے بعد یہ انگوٹھی ان کے پاس پہنچی۔
5بئرِ اریسحضرت عثمانؓ کے ہاتھ سے انگوٹھی کنویں میں گری اور تلاش کے باوجود نہ مل سکی۔
overseaspost.net

اپنے تینوں صحابہ کرام کو بیٹھا دیکھ کر رسول اکرمﷺ نے انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام پانے کی بشارت دی۔

اسی نسبت سے اس کنویں کو بئر النبیﷺ بھی کہا جاتا ہے۔

خاتمِ نبوی ﷺ کنویں میں گر گئی

حضرت عثمان بن عفانؓ کی خلافت کا زمانہ تھا جب وہ اس کنویں پر اسی طرح بیٹھے تھے جس طرح رسول اکرمﷺ اپنے دونوں ساتھیوں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ انگوٹھی ان کے ہاتھ سے نکل کر کنویں میں جا گری۔

✓? OVERSEAS POST | CONTEXTیہ واقعہ کیوں اہم ہے؟

خاتمِ نبوی ﷺ کا واقعہ اسلامی تاریخ میں کئی پہلوؤں سے اہمیت رکھتا ہے:

سفارتی علامتیہ انگوٹھی رسول اکرم ﷺ کے سرکاری خطوط پر مہر کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔
تاریخی تسلسلآپ ﷺ کے بعد یہ خلفائے راشدین کے پاس منتقل ہوتی رہی۔
بئرِ اریس کی نسبتانگوٹھی کے گرنے کے بعد یہ کنواں بئرِ خاتم کے نام سے بھی مشہور ہوا۔
یہ واقعہ ایک ایسی تاریخی یادگار سے متعلق ہے جو عہدِ نبوی ﷺ، خلافتِ راشدہ اور مدینہ منورہ کی جغرافیائی تاریخ کو ایک ہی سلسلے میں جوڑتا ہے۔
overseaspost.net

آپؓ نے اس کنویں کا سارا پانی نکلوا کر اس کی ریت کو اچھی طرح چھنوایا مگر وہ نہیں ملی۔

انہوں نے 3 دن تک کنویں کے اندر انگوٹھی کو تلاش کروایا، مگر اس کے باوجود وہ نہ ملی۔

خاتمِ نبویﷺ کے اس طرح گم ہو جانے پر آپؓ کو سخت ملال ہوا۔ 

بعد میں بھی اس انگوٹھی کی تلاش کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں، مگر وہ کسی کو نہ ملی۔

بعض مورخین کا کہنا ہے کہ حضرت عثمانؓ نے بعد ازاں اسی شکل کی انگوٹھی بنوائی تھی۔

مکاتیب النبیﷺ
سربراہان کے نام رسولﷺ کے خطوط
پورا سلسلہ پڑھنے کے لیے کلک کریں

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے