محب اللہ قاسمی
نئی دہلی
اسلامی معاشرے کی مضبوطی صرف عبادات سے نہیں بلکہ باہمی محبت، ہمدردی، خیرخواہی اور ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری سے بھی وابستہ ہے۔
قرآن مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیتا ہے، جبکہ احادیث میں مومنوں کو ایک جسم سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مضمون میں واضح کیا گیا ہے کہ خودغرضی، حسد، پڑوسیوں سے بے حسی اور مظلوم کو تنہا چھوڑنا اسلامی اخوت اور کمالِ ایمان کے منافی رویے ہیں۔
اسلامی معاشرے کو پُرامن، مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کا باہمی تعلق محبت، ہمدردی اور خیرخواہی پر قائم ہو۔
ایسا نہ ہو کہ انسان صرف اپنی بہتری چاہے اور دوسرے مسلمانوں کے دکھ درد سے لاتعلق رہے۔
قرآن کریم نے اہل ایمان کے باہمی رشتے کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا ہے:
’اہل ایمان تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات درست کرو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘ (الحجرات)
◆ OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاسلامی اخوت — اہم نکات ⌄
- ✓قرآن کریم اہل ایمان کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیتا ہے۔
- ✓مسلمان کو دوسرے مسلمان کی تکلیف اپنی تکلیف محسوس کرنی چاہئے۔
- ✓کامل ایمان کا تقاضا ہے کہ انسان دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
- ✓پڑوسی کی بھوک اور پریشانی سے بے خبری اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
- ✓غیبت، حسد، جھوٹ، دھوکا اور تکبر اسلامی اخوت کو کمزور کرتے ہیں۔
- ✓مظلوم کی مدد، خیرخواہی اور عدل اسلامی اخوت کے بنیادی تقاضے ہیں۔
ایک مومن کا دوسرے مومن کے ساتھ تعلق اخوت پر مبنی ہے۔
اگرچہ یہ نسبی رشتہ نہیں، تاہم ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھے، اس کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کرے اور اس پر ہونے والے ظلم کو اپنے اوپر ظلم تصور کرے۔
مزید پڑھیں
رسول اللہﷺ نے اہل ایمان کو ایک جسم سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ باہمی محبت، شفقت اور ہمدردی میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی مانند ہے، جس کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بخار اور بے خوابی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ (بخاری و مسلم)
اسی لیے مسلمان خواہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہو، اگر اس پر ظلم ہورہا ہو تو دوسرے مسلمانوں کو اس کی تکلیف محسوس کرنی چاہئے
اور حسب استطاعت اس کی مدد کے لیے کوشش کرنی چاہئے۔
اسلامی اخوت کا یہی تصور امت کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔
کمالِ ایمان کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنے لیے جس خیر اور بھلائی کو پسند کرتا ہے، وہی اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا:
’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘ (متفق علیہ)
i OVERSEAS POST | FACT BOXاسلامی اخوت: فیکٹ باکس ⌄
- ✓بنیادی رشتہ: اہل ایمان آپس میں بھائی ہیں
- ✓مرکزی اصول: اپنے لیے جو پسند ہو، دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرنا
- ✓سماجی ذمہ داری: پڑوسی، ضرورت مند اور مظلوم کا خیال رکھنا
- ✓اخلاقی تقاضا: غیبت، حسد، جھوٹ، دھوکا اور تکبر سے بچنا
- ✓اجتماعی مقصد: محبت، ہمدردی، اتحاد اور عدل پر مبنی معاشرہ
یہ حدیث ایک صحت مند معاشرے کا بنیادی اصول بیان کرتی ہے۔
اگر ہر شخص اپنی بھلائی کے ساتھ دوسروں کی بھلائی بھی چاہے تو معاشرے سے خودغرضی، حسد، دشمنی اور بے حسی کم ہوسکتی ہے۔
آج مسلم معاشروں میں بھی مفاد پرستی اور خودغرضی بڑھتی نظر آتی ہے۔
لوگ بعض اوقات اپنے پڑوسیوں کے حالات سے بھی بے خبر رہتے ہیں۔
اسلام ایسی بے حسی کو معمولی اخلاقی کمزوری نہیں سمجھتا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’وہ شخص کامل ایمان والا نہیں جو خود آسودہ ہوکر سوئے جبکہ اسے معلوم ہو کہ اس کا پڑوسی بھوکا ہے۔‘
اسلام ایسے اعمال کی تعلیم دیتا ہے جو باہمی محبت میں اضافہ کریں۔
حضرت عبداللہ بن سلامؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپﷺ نے فرمایا:
’اے لوگو! سلام کو عام کرو، لوگوں کو کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات کو اس وقت نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوگے۔‘ (ترمذی، ابن ماجہ)
◎ OVERSEAS POST | EXPLAINERاسلامی اخوت کیا ہے؟ ⌄
- ✓اسلامی اخوت صرف نسب یا قومیت کا رشتہ نہیں بلکہ ایمان کی بنیاد پر قائم تعلق ہے۔
- ✓اس کا مطلب ہے کہ مسلمان دوسرے مسلمان کی جان، مال، عزت اور ضرورتوں کا خیال رکھے۔
- ✓دوسرے کی تکلیف کو محسوس کرنا، اس کی مدد کرنا اور اس کے لیے خیر چاہنا اس رشتے کی اصل روح ہے۔
اسلامی اخوت کو مضبوط رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اختلافات کو دشمنی میں نہ بدلا جائے۔ اگر کسی سے ناراضی ہوجائے تو اسے طویل نہ کیا جائے۔
غیبت، جھوٹ، خیانت، دھوکا، حسد اور تکبر سے بچا جائے۔
کسی کا مذاق نہ اڑایا جائے، برے القاب سے نہ پکارا جائے، راز فاش نہ کئے جائیں اور معاف کرنے کی عادت پیدا کی جائے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔ جو اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ اس کی ضرورت پوری کرتا ہے۔
جو مسلمان کی ایک پریشانی دور کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی دور فرمائے گا، اور جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔‘ (بخاری)
۞ OVERSEAS POST | QURANقرآن کیا کہتا ہے؟ ⌄
- ✓سورۃ الحجرات میں اہل ایمان کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔
- ✓قرآن باہمی تعلقات درست کرنے اور اللہ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہے۔
- ✓سورۃ الفتح میں صحابہ کرامؓ کی باہمی رحمت اور اہل ایمان کے درمیان محبت کو نمایاں وصف بتایا گیا ہے۔
اس تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان صرف اپنی ذات تک محدود نہ رہے بلکہ دوسرے انسانوں کی ضروریات اور مشکلات کا بھی خیال رکھے۔
اگر انسان دوسروں کی عیب جوئی کے بجائے پردہ پوشی کرے، مشکل میں مدد کرے اور اپنے مفاد کے ساتھ دوسروں کے مفاد کو بھی اہمیت دے تو بہت سی اخلاقی خرابیاں خود بخود ختم ہوسکتی ہیں۔
آج عالم اسلام کے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اسلامی اخوت کے جذبے کو دوبارہ مضبوط کیا جائے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے درمیان فاصلے، اختلافات اور مفادات کی کشمکش نے اجتماعی قوت کو نقصان پہنچایا ہے۔
حالانکہ قرآن کریم نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے مقابلے میں مضبوط اور آپس میں رحیم ہیں۔‘ (الفتح)
✦ OVERSEAS POST | HADITHاحادیث کی روشنی میں اخوت ⌄
- ✓مومنوں کو ایک جسم سے تشبیہ دی گئی ہے جس کے ایک عضو کی تکلیف پورے جسم کو متاثر کرتی ہے۔
- ✓کامل ایمان کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
- ✓مسلمان مسلمان کا بھائی ہے؛ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔
اسلامی اخوت کا مطلب صرف اپنے ہم مذہب سے محبت نہیں بلکہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا اور عدل کا ساتھ دینا بھی ہے۔
اگر مسلمانوں کے اندر ایمانی حمیت، باہمی محبت اور خیرخواہی پیدا ہوجائے تو وہ دنیا میں ایک مضبوط اور مستحکم قوت بن سکتے ہیں۔
لیکن اگر مسلمان ایک دوسرے کی مشکلات سے آنکھیں بند کرلیں، مظلوموں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیں اور صرف اپنے ذاتی یا قومی مفادات تک محدود ہوجائیں تو یہ مسلم معاشرے کی کمزوری کی علامت ہوگی۔
! OVERSEAS POST | WARNINGاخوت کو کیا کمزور کرتا ہے؟ ⌄
- ✓خودغرضی اور صرف ذاتی مفاد کو ترجیح دینا
- ✓غیبت، جھوٹ، خیانت اور دھوکا
- ✓حسد، تکبر اور دوسروں کو کمتر سمجھنا
- ✓مذاق اڑانا، برے القاب دینا اور راز فاش کرنا
- ✓اختلاف کو مستقل دشمنی میں بدل دینا
- ✓مظلوم اور ضرورت مند کو بے یار و مددگار چھوڑ دینا
اسلامی اخوت کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں، ظلم کے خلاف آواز بلند کریں، باہمی اختلافات کو ختم کریں اور محبت، ہمدردی، ایثار اور عدل کو اپنی اجتماعی زندگی کی بنیاد بنائیں۔
یہی طرزِ عمل کمالِ ایمان اور ایک مضبوط اسلامی معاشرے کی ضمانت بن سکتا ہے۔