براہ راست نشریات

سائنس کا پہاڑ یا اسلام کی کشتی؟ دورِ جدید کے مسائل کا حل کہاں ہے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Modern Challenges

عبد الرحمن عزیز

القصیم

مضمون کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ دنیا کا کوئی معاشرہ اصول اور پابندیوں کے بغیر نہیں چل سکتا۔
انسان ریاست، ادارے اور ڈاکٹر کی ہدایات تسلیم کرتا ہے، لیکن مذہبی احکام کو اکثر آزادی میں مداخلت تصور کرتا ہے۔
مصنف کے مطابق اسلام صرف عبادات نہیں بلکہ فرد اور معاشرے کے لیے ایک مکمل اخلاقی و سماجی نظام فراہم کرتا ہے۔

انسان کی فطرت میں آزادی کی خواہش پائی جاتی ہے۔ 

جب اس پر کوئی پابندی عائد کی جائے تو وہ اسے آسانی سے قبول نہیں کرتا بلکہ مزاحمت کرتا ہے۔ 

تاہم حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا کوئی ملک، معاشرہ، ادارہ حتیٰ کہ ایک گھر بھی نظم و ضبط اور اصولوں کے بغیر نہیں چل سکتا۔

تعجب یہ ہے کہ ہم دنیاوی معاملات میں پابندیوں کو بخوشی قبول کر لیتے ہیں لیکن جب اسلام زندگی کے کسی شعبے میں رہنمائی یا حدود مقرر کرتا ہے تو ہمیں وہ گراں گزرتی ہیں۔ 

فوج میں لباس، حلیے اور نظم کی پابندی ہمیں قابلِ قبول ہے، کسی ادارے میں مخصوص یونیفارم پہننے پر اعتراض نہیں ہوتا اور کسی ملک میں رہتے ہوئے ہم اس کے قوانین کی پابندی ضروری سمجھتے ہیں۔ 

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSدورِ جدید کے مسائل — اہم نکات
  • دنیا کا کوئی معاشرہ، ادارہ یا گھر قواعد و ضوابط کے بغیر نہیں چل سکتا۔
  • ہم دنیاوی قوانین اور طبی ہدایات قبول کرتے ہیں، مگر دینی حدود کو اکثر آزادی میں مداخلت سمجھتے ہیں۔
  • اسلام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ فرد اور معاشرے کے لیے اخلاقی و سماجی رہنمائی بھی دیتا ہے۔
  • کسی مسلمان کی غلطی کو اسلام کی تعلیمات کی غلطی قرار دینا درست نہیں۔
  • سائنس عظیم قوت ہے، مگر اخلاقی و روحانی رہنمائی کا مکمل متبادل نہیں۔
overseaspost.net

اسی طرح ڈاکٹر مریض پر کھانے پینے کی پابندیاں عائد کرے تو مریض اس پر عمل کرتا ہے، لیکن اگر خالقِ کائنات انسانی زندگی، صحت اور معاشرے کی بہتری کے لیے کچھ حدود مقرر کرے تو انہیں آزادی میں مداخلت سمجھ لیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

اگر کسی ادارے کے قوانین کو اس کے مالک کا حق سمجھا جاتا ہے تو اللہ کی زمین پر رہتے ہوئے اس کے احکام کو تسلیم کرنے میں تردد کیوں؟

مذہب کے مخالفین نے مختلف ادوار میں اسلام پر متعدد اعتراضات اٹھائے۔ 

کسی نے اسے ذہنی پسماندگی قرار دیا، کسی نے خلافِ عقل کہا، 

جبکہ بعض نے مذہب کو صرف عبادات تک محدود کرنے کی کوشش کی۔ 

کچھ لوگ سیکولرازم کے نام پر مذہب سے مکمل لاتعلقی کو ضروری سمجھتے ہیں، حالانکہ سیکولرازم کا بنیادی تصور مختلف مذاہب اور نظریات رکھنے والوں کے ساتھ مساوی سلوک ہے۔

اسلام تو صدیوں پہلے یہ اصول دے چکا کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ 

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں، گرجے، عبادت گاہیں اور مسجدیں مسمار کر دی جاتیں۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXمضمون کا فیکٹ باکس
مرکزی موضوعاسلام، جدید انسان اور مادی ترقی
مصنفعبدالرحمن عزیز
مقامالقصیم
مرکزی استعارہنوحؑ کی کشتی اور پہاڑ
بنیادی سوالکیا سائنس اور مادی ترقی انسانی زندگی کے تمام مسائل کا مکمل حل ہیں؟
overseaspost.net

مسئلہ یہ ہے کہ بعض لوگ مذہب اور مذہب کے ماننے والوں کے رویے میں فرق نہیں کرتے۔ کسی مسلمان کی غلطی کو اسلام کی غلطی قرار دینا درست نہیں۔ کوئی نظام اپنے ماننے والوں کی انفرادی کوتاہیوں سے غلط ثابت نہیں ہوجاتا۔

ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ بعض لوگ اسلام کو اس وقت تک بہترین مذہب سمجھتے ہیں جب تک اس کے احکام ان کے ذاتی مفاد کے مطابق ہوں۔ 

جیسے ہی کوئی شرعی حکم ان کے مفاد سے ٹکراتا ہے، وہ اسے غیر منطقی قرار دینے لگتے ہیں۔

پاکستان میں مسجد کی امامت کے دوران میرے سامنے ایک ایسا واقعہ پیش آیا۔ 

ایک شخص نے پہلی بیوی کی وفات کے بعد دوسری شادی کی۔ 

پہلی بیوی سے اس کا ایک بیٹا تھا جبکہ دوسری بیوی سے 7 بچے تھے۔ 

بڑے بیٹے نے کہیں سے سن لیا کہ بعض مغربی قوانین کے مطابق جائیداد بیویوں کے اعتبار سے تقسیم ہوسکتی ہے، چنانچہ اس نے سمجھا کہ اسے آدھی جائیداد ملنی چاہئے۔

اسلام عدل،
مساوات، دیانت،
ذمہ داری اور
اجتماعی فلاح پر
زور دیتا ہے

جب اس نے مجھ سے شرعی حکم پوچھا تو میں نے بتایا کہ باپ کی زندگی میں وراثت تقسیم نہیں ہوتی، اور اگر باپ اپنی زندگی میں مال تقسیم کرنا چاہے تو اولاد میں انصاف ضروری ہے۔ اس پر اس نوجوان نے کہا: ’’اس اسلام سے تو انگریزوں کا قانون اچھا ہے۔‘‘
میں نے جواب دیا: کیونکہ وہاں تمہارا ذاتی فائدہ زیادہ تھا۔
یہی ہمارے رویے کا بنیادی مسئلہ ہے۔
ہم اصول کو نہیں بلکہ اپنے فائدے کو معیار بنا لیتے ہیں، جبکہ قانون اور نظام فرد کے مفاد کے بجائے مجموعی معاشرتی فائدے کے لیے بنایا جاتا ہے۔
بعض لوگ علماء کے کردار سے بھی شاکی ہیں۔
یہ شکایت کسی حد تک درست ہوسکتی ہے، لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ہمارا معاشرہ دینی تعلیم کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔
ذہین بچے کو مہنگے اسکول، یونیورسٹی اور بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا جاتا ہے، لیکن دینی مدرسے کے لیے اکثر وہ بچے منتخب کئے جاتے ہیں جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ دنیاوی تعلیم میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔

؟ OVERSEAS POST | CORE QUESTIONاصل سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟

مضمون ایک بنیادی تضاد کی طرف توجہ دلاتا ہے:

ریاستہم ملکی قوانین کی پابندی ضروری سمجھتے ہیں۔
ادارہیونیفارم، وقت اور نظم کے قواعد بخوشی مانتے ہیں۔
ڈاکٹرصحت کے لیے خوراک اور طرزِ زندگی کی پابندیاں قبول کرتے ہیں۔
سوال: پھر خالق کی طرف سے دی گئی اخلاقی اور دینی رہنمائی کو صرف پابندی کیوں سمجھا جائے؟
overseaspost.net

پھر ہم توقع کرتے ہیں کہ ہمارے دینی رہنما اعلیٰ علمی، فکری اور تحقیقی صلاحیتوں کے حامل ہوں۔
اگر ہم دینی تعلیم میں بہترین صلاحیتیں، وسائل اور سرمایہ نہیں لگائیں گے تو نتائج بھی ہماری توقعات کے مطابق نہیں ہوں گے۔

اسلام انسانی فطرت، عقل اور اجتماعی زندگی کے اصولوں سے ہم آہنگ نظام پیش کرتا ہے۔ 

یہ صرف عبادات کا مذہب نہیں بلکہ فرد، خاندان، معاشرہ، معیشت اور اخلاقیات سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

دنیا کے کامیاب معاشروں کا مطالعہ کریں تو وہاں عدل، مساوات، دیانت، قانون کی بالادستی، ذمہ داری اور عوامی فلاح جیسے وہی اصول نظر آتے ہیں جنہیں اسلام نے صدیوں پہلے اہم قرار دیا تھا۔

ہمیں مذہب کے بارے میں اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ 

خالقِ کائنات کے مقرر کردہ کچھ قوانین ایسے ہیں جن سے انسان نکل نہیں سکتا، جیسے زندگی، موت اور فطرت کے قوانین۔ 

جبکہ کچھ احکام انسان کو اختیار دے کر آزمائش کے طور پر دیے گئے ہیں۔

OVERSEAS POST | ANALYSISقانون قبول، دینی ہدایت پر اعتراض؟

دنیاوی زندگی میں

  • قانون کی پابندی
  • ادارے کے ضابطے
  • طبی ہدایات
  • پیشہ ورانہ نظم

دینی زندگی میں

  • اخلاقی حدود
  • حقوق و ذمہ داریاں
  • حلال و حرام کے اصول
  • اجتماعی بھلائی
مضمون کے مطابق مسئلہ پابندی کا وجود نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کس اتھارٹی کی پابندی کو جائز اور ضروری سمجھتے ہیں۔
overseaspost.net

اصل کامیابی یہ ہے کہ جس خالق کے قوانین کے سامنے ہم فطری طور پر مجبور ہیں، اسی کے اخلاقی اور دینی احکام کے سامنے اپنی مرضی سے بھی جھک جائیں۔

آج ہماری کیفیت نوح علیہ السلام کے بیٹے جیسی ہے، جس نے کشتی میں سوار ہونے کے بجائے پہاڑ کو محفوظ سمجھا۔ 

آج انسان بھی سائنس، ٹیکنالوجی اور مادی ترقی کو اپنی آخری پناہ گاہ سمجھ بیٹھا ہے۔

سائنس یقیناً انسان کے لیے عظیم نعمت ہے، لیکن وہ خالق کا متبادل نہیں۔ 

حقیقی کامیابی اس وقت ممکن ہے جب علم، سائنس اور ترقی کو اللہ کی ہدایت کے ساتھ جوڑا جائے۔

آئیے، اپنی سوچ کو مثبت بنائیں اور اسلام کی کشتی میں سوار ہوں تاکہ دنیا کے فکری، اخلاقی اور معاشرتی بھنوروں سے بھی بچ سکیں اور آخرت کی کامیابی بھی حاصل کر سکیں۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄