مضمون کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ دنیا کا کوئی معاشرہ اصول اور پابندیوں کے بغیر نہیں چل سکتا۔
انسان ریاست، ادارے اور ڈاکٹر کی ہدایات تسلیم کرتا ہے، لیکن مذہبی احکام کو اکثر آزادی میں مداخلت تصور کرتا ہے۔
مصنف کے مطابق اسلام صرف عبادات نہیں بلکہ فرد اور معاشرے کے لیے ایک مکمل اخلاقی و سماجی نظام فراہم کرتا ہے۔
جب اس نے مجھ سے شرعی حکم پوچھا تو میں نے بتایا کہ باپ کی زندگی میں وراثت تقسیم نہیں ہوتی، اور اگر باپ اپنی زندگی میں مال تقسیم کرنا چاہے تو اولاد میں انصاف ضروری ہے۔ اس پر اس نوجوان نے کہا: ’’اس اسلام سے تو انگریزوں کا قانون اچھا ہے۔‘‘
میں نے جواب دیا: کیونکہ وہاں تمہارا ذاتی فائدہ زیادہ تھا۔
یہی ہمارے رویے کا بنیادی مسئلہ ہے۔
ہم اصول کو نہیں بلکہ اپنے فائدے کو معیار بنا لیتے ہیں، جبکہ قانون اور نظام فرد کے مفاد کے بجائے مجموعی معاشرتی فائدے کے لیے بنایا جاتا ہے۔
بعض لوگ علماء کے کردار سے بھی شاکی ہیں۔
یہ شکایت کسی حد تک درست ہوسکتی ہے، لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ہمارا معاشرہ دینی تعلیم کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔
ذہین بچے کو مہنگے اسکول، یونیورسٹی اور بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا جاتا ہے، لیکن دینی مدرسے کے لیے اکثر وہ بچے منتخب کئے جاتے ہیں جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ دنیاوی تعلیم میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔