عبد اللہ برنی المدنی
مدینہ منورہ
زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، اسی لیے اسلام نے قرض، امانت اور دوسرے واجب حقوق کی تفصیل لکھ کر رکھنے کی تاکید کی ہے۔
وصیت زیادہ سے زیادہ ایک تہائی مال تک ہوسکتی ہے، جبکہ قرض اور واجب حقوق پہلے ادا کئے جائیں گے۔
حج، زکوٰۃ یا دوسرے دینی واجبات باقی ہوں تو ان کا ذکر بھی وصیت میں ہونا چاہئے۔
1/2
انسان کو اپنی موت کا وقت معلوم نہیں۔
زندگی کے معاملات میں کسی سے قرض لیا ہوتا ہے، کسی کی امانت پاس ہوتی ہے، کسی کو رقم دینی ہوتی ہے اور بعض دینی فرائض یا واجبات بھی باقی رہ جاتے ہیں۔
اسی لیے اسلام نے وصیت کے معاملے کو غیر معمولی اہمیت دی ہے تاکہ کسی شخص کی اچانک وفات کے بعد دوسروں کے حقوق ضائع نہ ہوں۔
سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس مسلمان کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس کے بارے میں وصیت کرنا ضروری ہو، اس کے لیے مناسب نہیں کہ دو راتیں گزر جائیں اور اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کا انتظار کرنے کے بجائے انسان کو اپنے مالی اور شرعی معاملات پہلے ہی واضح کر دینے چاہئیں۔
◆ OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSوصیت — اہم نکات ⌄
- ✓موت کا وقت معلوم نہیں، اس لیے قرض، امانت اور واجب حقوق تحریری طور پر محفوظ رکھنا چاہئے۔
- ✓وصیت صرف جائیداد کی تقسیم نہیں بلکہ مالی اور دینی ذمہ داریوں کی وضاحت بھی ہے۔
- ✓وصیت زیادہ سے زیادہ ایک تہائی مال تک نافذ ہوسکتی ہے۔
- ✓تجہیز و تکفین کے بعد قرض اور واجب حقوق پہلے ادا کئے جائیں گے۔
- ✓حج، زکوٰۃ، کفارات یا دیگر واجبات باقی ہوں تو ان کا ذکر وصیت میں واضح ہونا چاہئے۔
وصیت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کوئی شخص یہ لکھ دے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کا مال کہاں خرچ کیا جائے، بلکہ اس میں ان تمام ذمہ داریوں کا ذکر بھی ہونا چاہئے جو اس کے ذمے باقی ہوں۔
مثلاً قرض، امانت، واجب الادا رقم، زکوٰۃ، کفارہ یا کوئی دوسرا ایسا حق جس کی ادائیگی ضروری ہو۔
مزید پڑھیں
اگر کسی شخص نے دوسروں سے قرض لیا ہے یا لوگوں کی امانتیں اس کے پاس موجود ہیں تو اسے چاہئے کہ ان کی مکمل تفصیل لکھ کر محفوظ رکھے۔
اسی طرح اگر کسی کو رقم دینی ہو یا کسی مالی معاملے کا حساب باقی ہو تو وہ بھی تحریر میں ہونا چاہئے تاکہ وفات کے بعد وارثوں کو معلوم ہوسکے کہ سب سے پہلے کون سے حقوق ادا کرنے ہیں۔
ایک روایت میں وصیت کے ساتھ دنیا سے جانے والے شخص کے بارے میں بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے اور اسے سنت اور درست راستے پر موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وصیت محض قانونی یا مالی دستاویز نہیں بلکہ ذمہ داری اور احتیاط کا بھی اظہار ہے۔
وصیت کتنے مال میں ہوسکتی ہے؟
شریعت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ وصیت کل مال کے صرف ایک تہائی تک نافذ ہوسکتی ہے۔ بلکہ بہتر یہ ہے کہ ایک تہائی سے بھی کم مال کی وصیت کی جائے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ وصیت اس پورے مال میں نافذ نہیں ہوتی جو بظاہر مرنے والے کے پاس موجود تھا۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXوصیت کا فیکٹ باکس ⌄
سب سے پہلے تجہیز و تکفین کے ضروری اخراجات ادا ہوں گے، پھر اس کے ذمے موجود قرضے اور واجب الادا حقوق ادا کئے جائیں گے۔
اس کے بعد جو مال باقی بچے گا، اس کے زیادہ سے زیادہ ایک تہائی حصے میں وصیت نافذ ہوگی۔
اگر کسی نے ایک تہائی سے زیادہ مال کی وصیت کردی ہو تو اضافی حصہ خود بخود نافذ نہیں ہوگا۔
مرنے والے کے بالغ وارث اس کی وفات کے بعد اجازت دیں تو ایک تہائی سے زیادہ وصیت بھی نافذ ہوسکتی ہے، لیکن اگر وہ اجازت نہ دیں تو وصیت صرف شرعی حد تک ہی معتبر ہوگی۔
زندگی میں وارثوں کی طرف سے دی گئی اجازت بھی حتمی نہیں ہوتی۔
اصل اعتبار وفات کے بعد اجازت کا ہے، کیونکہ میراث کا حق اسی وقت قائم ہوتا ہے۔
قرض پہلے یا وصیت؟
قرآن مجید میں کئی مقامات پر میراث کے احکام بیان کرتے ہوئے وصیت اور قرض کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن عملی شرعی ترتیب میں قرض کی ادائیگی پہلے ہوتی ہے۔
◎ OVERSEAS POST | WHY IT MATTERSوصیت کیوں اہم ہے؟ ⌄
بہت سے مالی معاملات زبانی ہوتے ہیں۔ اچانک وفات کی صورت میں اہل خانہ کو معلوم نہیں رہتا کہ کس کا قرض تھا، کس کی امانت موجود تھی یا کون سا دینی واجب باقی تھا۔
سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے وصیت نافذ کرنے سے پہلے قرض ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا۔
اس لیے اگر کسی شخص کے ذمے قرض ہو تو اس کا ترکہ پہلے قرض کی ادائیگی میں استعمال ہوگا۔
اس اصول کی حکمت بھی واضح ہے۔
قرض کسی دوسرے انسان کا حق ہے۔
مرنے والا شخص اپنی مرضی سے کسی نیک کام یا کسی دوسرے شخص کے لیے وصیت تو کرسکتا ہے، لیکن کسی کے واجب حق کو روک کر اپنی وصیت نافذ نہیں کراسکتا۔
اسی لیے کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ قرضوں میں گھرا ہوا ہو اور اس کے باوجود نفلی صدقات اور دوسرے کاموں میں بڑی رقم خرچ کرتا رہے جبکہ قرض خواہوں کے حقوق ادا نہ کرے۔
زندگی میں خیرات زیادہ بہتر
جو شخص اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا چاہتا ہو، فقراء و مساکین کی مدد کرنا چاہتا ہو یا مسجد، مدرسہ اور دوسرے فلاحی کاموں میں حصہ لینا چاہتا ہو، اس کے لیے بہتر ہے کہ جہاں ممکن ہو یہ کام اپنی زندگی ہی میں کرے۔
✎ OVERSEAS POST | CHECKLISTوصیت میں کیا لکھیں؟ ⌄
- 1قرض خواہوں کے نام اور واجب الادا رقم
- 2دوسروں کی امانتوں کی مکمل تفصیل
- 3باقی زکوٰۃ یا کفارات
- 4اگر ضروری ہو تو حجِ بدل سے متعلق ہدایت
- 5دیگر ایسے مالی یا دینی حقوق جو ابھی ادا نہ ہوئے ہوں
وفات کے بعد وصیت پر عمل کرنے کی ذمہ داری وارثوں یا وصی پر ہوتی ہے۔
ممکن ہے وہ پوری دیانتداری سے اس پر عمل کریں اور یہ بھی ممکن ہے کہ غفلت ہوجائے۔ اس لیے نیکی کے کاموں کو بلاوجہ موت تک مؤخر کرنا مناسب نہیں۔
تاہم خیرات کرتے وقت اپنے اہل خانہ کے ضروری اخراجات کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔ انسان پر اپنے زیر کفالت لوگوں کے حقوق بھی ہیں۔
اسی طرح قرض موجود ہو تو قرض کی ادائیگی کو ترجیح دینی چاہئے۔
حج، زکوٰۃ اور دوسرے واجبات
وصیت لکھتے وقت سب سے پہلے ان دینی فرائض اور واجبات کو درج کیا جانا چاہئے جو ابھی ادا نہیں ہوئے۔
مثلاً کسی شخص پر حج فرض تھا لیکن وہ حج نہیں کرسکا، یا اس پر زکوٰۃ واجب تھی جو ادا نہیں ہوئی، یا کوئی کفارہ اس کے ذمے تھا تو ان ذمہ داریوں کا ذکر وصیت میں کرنا چاہئے۔
اگر حج فرض ہوچکا ہو تو انسان کو اپنی زندگی میں حج ادا کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔ اگر کسی وجہ سے حج نہ کرسکے اور وفات کا اندیشہ ہو تو حجِ بدل کی وصیت کی جاسکتی ہے۔
⚖ OVERSEAS POST | ORDERوفات کے بعد مال کی ترتیب ⌄
- 1ضروری تجہیز و تکفین کے اخراجات
- 2قرض اور واجب حقوق کی ادائیگی
- 3باقی مال کے اندر شرعی حد تک وصیت کا نفاذ
- 4اس کے بعد باقی ترکہ شرعی اصول کے مطابق ورثاء میں تقسیم ہوگا
اہم: قرض دوسرے انسان کا حق ہے، اس لیے اسے نفلی وصیت یا صدقے پر مقدم رکھا جاتا ہے۔
وصیت کے مطابق حجِ بدل کرانے کے لیے کسی مناسب شخص کو بھیجا جائے گا۔
تاہم اس کے اخراجات بھی قرض وغیرہ کی ادائیگی کے بعد قابلِ وصیت مال کی شرعی حد کے اندر ہوں گے۔
اگر یہ رقم کافی نہ ہو اور بالغ وارث اپنی خوشی سے اضافی رقم دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، لیکن ان پر ایسا کرنا واجب نہیں۔
بعض اوقات لوگ مالی طور پر صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج کو مسلسل مؤخر کرتے رہتے ہیں، جبکہ دوسری تقریبات اور غیر ضروری اخراجات پر بڑی رقم خرچ کردی جاتی ہے۔
یہ رویہ درست نہیں۔
مال انسان کے پاس ہمیشہ نہیں رہتا، اس لیے فرائض کی ادائیگی کو ترجیح دینا چاہئے۔
وصیت ذمہ داری کا نام ہے
وصیت کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان دنیا سے جاتے وقت اپنے مالی اور دینی معاملات حتی الامکان صاف چھوڑ کر جائے۔
کسی کا قرض باقی نہ رہے، کسی کی امانت ضائع نہ ہو اور کوئی ایسا واجب حق نہ رہ جائے جس کا وارثوں کو علم ہی نہ ہو۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری بات ⌄
اسلام میں وصیت صرف یہ فیصلہ نہیں کہ وفات کے بعد مال کس کو دیا جائے۔ اس کا بنیادی مقصد انسان کے ذمے موجود حقوق اور ذمہ داریوں کو محفوظ کرنا ہے۔
اگر کسی پر قرض ہو، کسی کی امانت اس کے پاس ہو، زکوٰۃ یا کوئی دوسرا واجب باقی ہو تو اس کی تفصیل تحریر میں ہونی چاہئے۔
وفات کے بعد پہلے ضروری اخراجات اور قرض ادا ہوں گے، پھر باقی مال کے زیادہ سے زیادہ ایک تہائی میں وصیت نافذ ہوسکتی ہے۔
اس لیے وصیت محض بڑی جائیداد رکھنے والوں کے لیے نہیں۔
ایک عام شخص کے ذمے بھی قرض، امانت یا دیگر ذمہ داریاں ہوسکتی ہیں۔
بہتر یہ ہے کہ ان کی تحریری تفصیل محفوظ رکھی جائے اور وقتاً فوقتاً اسے تازہ بھی کیا جاتا رہے۔
اگلی قسط میں:
کیا کسی وارث کو میراث سے محروم کیا جاسکتا ہے؟
بیٹیوں کا حق روکنے، کسی ایک اولاد کو فائدہ پہنچانے، غیر شرعی وصیت اور وارث کے لیے وصیت کے بارے میں شرعی احکام۔