عرب اتحادی افواج نے مدینہ منورہ کی طیبہ بجلی تقسیم تنصیب پر ہونے والے ڈرون حملے کی ذمہ داری حوثی ملیشیا پر عائد کی ہے۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق متعلقہ اداروں کی تحقیقات، آپریشنل جائزے اور ڈرون کے ملبے کی جانچ کے بعد حوثیوں کے ملوث ہونے کا تعین کیا گیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق تنصیب مسجد نبوی کو بجلی کی خدمات فراہم کرتی ہے۔ حملے میں ایک ٹرانسفارمر متاثر ہوا لیکن بجلی کا مجموعی نظام متاثر نہیں ہوا۔
سعودی عرب میں مدینہ منورہ کی ایک اہم بجلی تنصیب کو ڈرون حملے کا نشانہ بنائے جانے کے بعد عرب اتحادی افواج نے حملے کی ذمہ داری حوثی ملیشیا پر عائد کردی ہے۔
اتحاد کے مطابق نشانہ بننے والی طیبہ بجلی تقسیم کرنے والی تنصیب ان تنصیبات میں شامل ہے جو مسجد نبوی کو بجلی کی خدمات فراہم کرتی ہیں۔
🎯 حملے میں کیا نشانہ بنایا گیا؟
ہدف مدینہ منورہ میں واقع طیبہ بجلی تقسیم تنصیب تھی۔
سعودی اتحاد کے مطابق یہ شہری بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے اور مسجد نبوی کو بجلی کی خدمات فراہم کرتی ہے۔
حملے کے باوجود مجموعی بجلی نیٹ ورک فعال رہا اور کسی وسیع بلیک آؤٹ کی اطلاع نہیں دی گئی۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حملہ منگل 29 ستمبر 2026 کو صبح 5 بج کر 11 منٹ پر ہوا۔
المالکی نے کہا کہ متعلقہ سعودی اداروں کی تحقیقات، آپریشنل جائزے اور حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کے ملبے کی جانچ کے بعد حوثی ملیشیا کے حملے کی منصوبہ بندی اور اسے انجام دینے میں ملوث ہونے کا تعین کیا گیا۔
حملے میں کتنا نقصان ہوا؟
سعودی حکام کے مطابق ڈرون حملے کے نتیجے میں طیبہ تنصیب کا ایک ٹرانسفارمر سروس سے باہر ہوگیا، لیکن اس کے باوجود مجموعی بجلی نیٹ ورک متاثر نہیں ہوا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حملے سے ایک مخصوص حصے کو نقصان پہنچا، تاہم بجلی کی فراہمی کے نظام نے کام جاری رکھا اور حکام کی جانب سے کسی بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش کی اطلاع نہیں دی گئی۔
⏱️ حملے کی ٹائم لائن
29 ستمبر، صبح 5:11: طیبہ بجلی تقسیم تنصیب پر ڈرون حملہ۔
متعلقہ اداروں نے جائے وقوعہ، آپریشنل صورتحال اور ڈرون کے ملبے کا جائزہ لیا۔
تحقیقات کے بعد سعودی اتحاد نے حوثی ملیشیا کو حملے کا ذمہ دار قرار دیا اور تفصیلات یکم اکتوبر کو سامنے آئیں۔
یہ نکتہ اس لیے بھی اہم ہے کہ سعودی حکام نے طیبہ تنصیب کو مسجد نبوی کو بجلی کی خدمات فراہم کرنے والے شہری بنیادی ڈھانچے کا حصہ قرار دیا ہے۔
مسجد نبوی میں بجلی اور دیگر آپریشنل نظام 24 گھنٹے کام کرتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق مسجد نبوی میں توانائی اور آپریشن کا مربوط نظام زائرین اور نمازیوں کی خدمت کے لیے مسلسل فعال رہتا ہے۔
اتحاد نے اسے سنگین کیوں قرار دیا؟
اتحاد کے ترجمان نے حملے کو محض ایک بجلی تنصیب پر کارروائی کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے مقدس مقامات سے متعلق شہری خدمات کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا۔
⚡ کتنا نقصان ہوا؟
ایک ٹرانسفارمر حملے کے نتیجے میں سروس سے باہر ہوگیا۔
اس کے باوجود بجلی کا مجموعی نیٹ ورک متاثر نہیں ہوا۔
سرکاری معلومات میں بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش یا زائرین کی خدمات میں وسیع خلل کی اطلاع نہیں دی گئی۔
المالکی کے مطابق مسجد نبوی کو بجلی کی خدمات فراہم کرنے والی شہری تنصیب کو نشانہ بنانا حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی سابقہ کوششوں کے تسلسل میں آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
حملے کا اعلان دو روز بعد کیوں ہوا؟
واقعہ منگل 29 ستمبر کی صبح پیش آیا جبکہ اس کی تفصیلات یکم اکتوبر کو سامنے آئیں۔
سرکاری بیان کے مطابق اس دوران متعلقہ اداروں نے تحقیقات، آپریشنل جائزہ اور استعمال ہونے والے ڈرون کے ملبے کا معائنہ کیا۔
انہی تحقیقات کی بنیاد پر اتحاد نے حوثیوں کے ملوث ہونے کا اعلان کیا۔
🕌 مسجد نبوی سے کیا تعلق ہے؟
سعودی اتحاد کے بیان کے مطابق طیبہ تنصیب مسجد نبوی کو بجلی کی خدمات فراہم کرتی ہے۔
اسی وجہ سے واقعے کو صرف ایک بجلی تنصیب پر حملے کے بجائے مقدس شہر کے شہری بنیادی ڈھانچے کی سلامتی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
البتہ دستیاب بیان اسے مسجد نبوی کی واحد بجلی تنصیب قرار نہیں دیتا۔
اس لیے دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ حملے کے فوراً بعد ذمہ داری کا اعلان کرنے کے بجائے تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد حوثیوں پر الزام عائد کیا گیا۔
حالیہ کشیدگی کے تناظر میں واقعہ
مدینہ منورہ کا واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب سعودی اتحاد نے حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے دوسرے حملوں کی بھی اطلاع دی ہے۔
24 ستمبر کو المالکی نے بتایا تھا کہ فضائی دفاع نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے6 بیلسٹک میزائل تباہ کیے اور طائف اور ینبع کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنائی۔
انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ حوثیوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
مدینہ منورہ میں ڈرون حملہ اس اعلان کے صرف چند روز بعد پیش آیا۔
🔍 حوثیوں کے ملوث ہونے کا تعین کیسے ہوا؟
اتحاد کے مطابق متعلقہ اداروں نے حملے کے بعد تحقیقات اور آپریشنل جائزہ کیا۔
حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کے ملبے کا بھی معائنہ کیا گیا۔
اتحاد کا کہنا ہے کہ انہی تحقیقات کی بنیاد پر حوثی ملیشیا کے حملے کی منصوبہ بندی اور اسے انجام دینے میں ملوث ہونے کا تعین کیا گیا۔
اب سعودی اتحاد کیا کہتا ہے؟
ترکی المالکی نے کہا ہے کہ اتحاد حوثی ملیشیا کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
ان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد حرمین شریفین کا تحفظ اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ آنے والے زائرین کی سلامتی یقینی بنانا ہے۔
🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ
جريدة الرياض — 1 اکتوبر 2026
سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کا بیان: مدینہ منورہ کی طیبہ بجلی تقسیم تنصیب پر حملے، وقت، تحقیقات، ڈرون کے ملبے، ایک ٹرانسفارمر کے متاثر ہونے اور مسجد نبوی کو بجلی کی خدمات فراہم کرنے کی تفصیلات۔
اصل خبر کھولیں
Saudi Gazette — 1 اکتوبر 2026
طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر ڈرون حملے اور سعودی اتحاد کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کی انگریزی رپورٹ۔
رپورٹ کھولیں
المدينة / واس — 24 ستمبر 2026
حالیہ کشیدگی کا پس منظر: سعودی فضائی دفاع کی جانب سے چھ بیلسٹک میزائل تباہ کرنے اور طائف و ینبع کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنانے سے متعلق بیان۔
اصل رپورٹ کھولیں
سعودی پریس ایجنسی (واس) — توانائی نظام
حرمین اور مقدس مقامات میں بجلی کے نظام کی قابلِ اعتماد فراہمی، حقیقی وقت کی نگرانی اور مکہ، مدینہ اور مشاعر مقدسہ کے برقی نیٹ ورک سے متعلق مزید مطالعہ۔
مزید مطالعہ