سعودی عرب کی درخواست کے بعد چین نے ایران سے حوثیوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کو کہا ہے۔
پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور باب المندب ایک ہی علاقائی بحران کے مختلف محاذ بنتے جارہے ہیں۔
اصل امتحان یہ ہے کہ آیا چین ایران کے ساتھ اپنے گہرے معاشی تعلقات کو عملی سیاسی اثر میں تبدیل کرسکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری بحران اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جہاں جنگی میدان کے ساتھ سفارتی محاذ بھی تیزی سے اہم ہورہا ہے۔
سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کی بڑھتی سرگرمیوں اور بحیرہ احمر و باب المندب کے گرد خطرات کے بعد چین سے رابطہ کیا، جس کے بعد بیجنگ نے ایران سے کہا کہ وہ حوثیوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔
رائٹرز کے مطابق چین نے یہ پیغام ایران کو نجی سفارتی رابطوں کے ذریعے پہنچایا۔ اس پیش رفت کی اہمیت صرف یہ نہیں کہ بیجنگ حوثیوں کے معاملے میں سرگرم ہوا ہے، بلکہ سعودی عرب ایک مرتبہ پھر چین کو ایران کے ساتھ اپنے پیچیدہ تعلقات میں اہم سفارتی ذریعے کے طور پر استعمال کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
◆OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاہم نکات⌄
- ✓سعودی عرب نے حوثیوں سے بڑھتے خطرات کے تناظر میں چین سے سفارتی مدد طلب کی۔
- ✓چین نے ایران سے کہا کہ وہ حوثیوں پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔
- ✓یہ پیش رفت بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آئی۔
- ✓اصل سوال یہ ہے کہ کیا بیجنگ اپنی معاشی طاقت کو عملی سیاسی اثر میں بدل سکتا ہے؟
یہ وہی چین ہے جس کی ثالثی میں مارچ 2023 میں سعودی عرب اور ایران نے سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
اب بیجنگ کے سامنے کہیں مشکل سوال ہے:
کیا وہ اپنے معاشی اور سیاسی اثرورسوخ کو استعمال کرکے تہران کو یمن اور بحیرہ احمر میں کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے؟
مزید پڑھیں
ریاض نے چین سے مدد کیوں مانگی؟
حوثیوں کی حالیہ فوجی سرگرمیوں نے سعودی عرب کے لیے یمن کے ساتھ باب المندب کے تحفظ کو بھی قومی اور اقتصادی سلامتی کے بڑے مسئلے میں تبدیل کردیا ہے۔
باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتا ہے۔
ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز پہلے ہی ایران سے متعلق کشیدگی کے باعث دباؤ میں ہے۔
اگر ہرمز اور باب المندب دونوں راستوں پر ایک ہی وقت میں خطرات بڑھتے ہیں تو خلیج سے عالمی منڈیوں تک تیل، گیس اور دوسری اشیا کی ترسیل شدید متاثر ہوسکتی ہے۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس⌄
اسی مقام پر چین کے مفادات بھی براہ راست سامنے آتے ہیں۔
خلیجی ممالک چین کی توانائی ضروریات پوری کرنے والے بڑے ذرائع میں شامل ہیں، جبکہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ بیجنگ کے وسیع تجارتی تعلقات ہیں۔
چین ایران پر کتنا اثر رکھتا ہے؟
یہ اس پوری کہانی کا بنیادی سوال ہے۔
چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم خریدار ہے۔ امریکی پابندیوں اور مغرب کے ساتھ ایران کی کشیدگی کے دوران بیجنگ تہران کے لیے ایک اہم معاشی راستہ بنا ہوا ہے۔
اس وجہ سے چین کے پاس ایران پر اثرانداز ہونے کے لیے خاصا معاشی وزن موجود ہے۔
تاہم اثرورسوخ اور مکمل کنٹرول دو مختلف چیزیں ہیں۔
◎OVERSEAS POST | ANALYSISریاض نے چین سے مدد کیوں مانگی؟⌄
باب المندب میں بڑھتی کشیدگی سعودی سلامتی کے ساتھ عالمی تجارت کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔
چین ایران کو احکامات دینے کی پوزیشن میں نہیں، جبکہ ایران اور حوثیوں کے تعلقات بھی اتنے سادہ نہیں کہ بیجنگ کے ایک پیغام سے پورا منظرنامہ تبدیل ہوجائے۔ تہران حوثیوں اور دوسرے علاقائی اتحادیوں سے اپنے تعلقات کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ وسیع تر مقابلے کے تناظر میں دیکھتا ہے۔
اسی لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ چین تہران کو کشیدگی کم کرنے کے لیے کس حد تک آمادہ کرسکتا ہے۔
عراقچی کا بیجنگ پہنچنا کیوں اہم تھا؟
اس سفارتی سرگرمی کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 16 ستمبر کو بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی نے کہا کہ بیجنگ نہیں چاہتا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی مزید یمن اور بحیرہ احمر تک پھیلے۔
چین نے مسائل مذاکرات سے حل کرنے، بین الاقوامی سمندری راستوں کو محفوظ رکھنے اور توانائی کی عالمی ترسیل متاثر نہ ہونے دینے پر زور دیا۔
↯OVERSEAS POST | CHINA–IRANچین کے پاس ایران پر کتنا اثر ہے؟⌄
چین ایران کا بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم خریدار ہے، اس لیے بیجنگ کے پاس معاشی اثر موجود ہے۔
لیکن: معاشی اثرورسوخ کا مطلب مکمل سیاسی کنٹرول نہیں۔ تہران اپنے علاقائی فیصلوں کو امریکا، اسرائیل اور اپنی سلامتی کے وسیع تناظر میں دیکھتا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ ایران تنازع جاری نہیں رکھنا چاہتا اور سفارتی حل کی طرف واپسی کا خواہاں ہے، تاہم تہران اپنے حقوق اور مفادات کا تحفظ بھی کرے گا۔
یہ بیانات محتاط سفارتی زبان میں ہیں، لیکن ان کا وقت اہم ہے کیونکہ اسی عرصے میں چین کی جانب سے ایران کو حوثیوں پر اپنا اثر استعمال کرنے کا پیغام سامنے آیا۔
تہران معاملے کو کیسے دیکھتا ہے؟
ایرانی مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران یمن کے مسئلے کو الگ تھلگ معاملے کے بجائے پورے علاقائی تصادم کا حصہ سمجھتا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ صرف حوثیوں پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ ایران کے لیے کافی نہیں ہوسکتا۔
تہران کسی بڑے سیاسی حل کو امریکا کی علاقائی پالیسی، اسرائیل کے ساتھ تصادم، ہرمز اور اپنی سلامتی کے معاملات سے جوڑ سکتا ہے۔
یہی نکتہ چین کی سفارت کاری کو مشکل بناتا ہے۔
●OVERSEAS POST | DIPLOMACYعراقچی کا دورۂ بیجنگ کیوں اہم؟⌄
سعودی حکمت عملی میں نیا رخ
اس پیش رفت کا سب سے اہم پہلو سعودی حکمت عملی ہے۔
ریاض ایک طرف اپنی سرزمین، بحری راستوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات کررہا ہے اور دوسری طرف سفارتی راستے بھی کھلے رکھے ہوئے ہے۔
◈OVERSEAS POST | IRANتہران معاملے کو کیسے دیکھتا ہے؟⌄
ایران یمن کے معاملے کو الگ تھلگ مسئلے کے بجائے وسیع تر علاقائی تصادم کے ایک حصے کے طور پر دیکھتا ہے۔
- 1امریکی علاقائی پالیسی تہران کے حساب کتاب کا حصہ ہے۔
- 2اسرائیل کے ساتھ تصادم ایرانی حکمت عملی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
- 3ہرمز اور ایران کی اپنی سلامتی بھی کسی بڑے سیاسی حل سے جڑی ہوئی ہے۔
چین سے رابطہ اسی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
مقصد ایران کے ساتھ براہ راست نئی کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے ایسے ملک کو درمیان میں لانا ہے جس کے تہران سے مضبوط تعلقات اور سعودی عرب سے بڑے معاشی مفادات دونوں موجود ہیں۔
یہاں چین کی پوزیشن امریکا سے مختلف ہے۔
واشنگٹن اور تہران براہ راست تصادم میں ہیں، جبکہ بیجنگ بیک وقت سعودی عرب اور ایران دونوں سے بات کرسکتا ہے۔
پاکستان کے لیے معاملہ کیوں اہم ہے؟
اس بحران کا پاکستان سے بھی براہ راست تعلق بنتا ہے۔
پاکستان کے سعودی عرب، ایران اور چین تینوں کے ساتھ اہم تعلقات ہیں۔
سعودی عرب پاکستان کا بڑا اقتصادی اور دفاعی شراکت دار ہے، چین اسلام آباد کا قریبی اسٹریٹجک اتحادی ہے، جبکہ ایران اس کا ہمسایہ ہے۔
◆OVERSEAS POST | SAUDI STRATEGYسعودی حکمت عملی میں نیا رخ⌄
ریاض دفاعی تیاری کے ساتھ سفارتی راستے بھی بیک وقت استعمال کررہا ہے۔
چین کی خاص اہمیت یہ ہے کہ وہ سعودی عرب اور ایران دونوں سے براہ راست بات کرسکتا ہے۔
خلیج اور بحیرہ احمر میں طویل کشیدگی پاکستان کے لیے تیل کی قیمتوں، درآمدی اخراجات، سمندری تجارت اور خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
اگر چین سعودی عرب اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات استعمال کرکے یمن کے محاذ پر کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کے مثبت اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہیں گے۔
اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے
چین نے ایران کو پیغام دے دیا، لیکن اصل سوال اب سامنے آتا ہے:
کیا تہران واقعی حوثیوں پر اپنا اثر استعمال کرے گا؟
اور اگر کرے گا تو حوثی کس حد تک اس دباؤ کو قبول کریں گے؟
≈OVERSEAS POST | SEA ROUTESہرمز + باب المندب: دوہرا خطرہ⌄
خطرہ: دونوں گزرگاہیں بیک وقت متاثر ہوں تو تیل، گیس، بحری انشورنس، مال برداری اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اگر ایران چینی درخواست پر عملی قدم نہیں اٹھاتا تو کیا بیجنگ صرف سفارتی اپیل تک محدود رہے گا یا اپنے معاشی اثرورسوخ کو بھی استعمال کرے گا؟
فی الحال ایک تبدیلی واضح ہے۔
سعودی عرب بحران کا حل صرف میدان جنگ میں تلاش نہیں کررہا بلکہ مختلف طاقتوں کے ساتھ سفارتی راستے بھی استعمال کررہا ہے۔
اگر یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے تو چین مشرق وسطیٰ میں اپنے سفارتی کردار کو مزید مضبوط کرسکتا ہے۔ اگر ناکام رہتی ہے تو ہرمز سے باب المندب تک پھیلی کشیدگی عالمی توانائی اور تجارت کے لیے مزید بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
اب اصل سوال یہی ہے:
کیا چین اپنی معاشی طاقت کو سیاسی اثر میں تبدیل کرکے ایران اور حوثیوں کو کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کرسکے گا؟
🔗 ذرائع اور حوالہ جات
سعودی درخواست کے بعد چین کی جانب سے ایران سے حوثیوں پر اثرورسوخ استعمال کرنے کے مطالبے سے متعلق خصوصی رپورٹ۔
اصل رپورٹ دیکھیں ↗
وانگ یی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات؛ ہرمز، یمن اور بحیرہ احمر میں کشیدگی کم کرنے سے متعلق چین کا سرکاری بیان۔
سرکاری بیان دیکھیں ↗