براہ راست نشریات

لاکھوں شائقین مایوس: کیا رونالڈو پرتگال پر بوجھ بن گئے ہیں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
کرسٹیانو رونالڈو

کرسٹیانو رونالڈو کی چھٹی ورلڈ کپ مہم کا آغاز توقعات کے برعکس رہا۔
پرتگال کانگو ڈیموکریٹک ریپبلک کے خلاف 1-1 سے ڈرا رہا جبکہ 41 سالہ رونالڈو گول کرنے میں ناکام رہے۔
ان کی کارکردگی کے بعد ایک بار پھر یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ آیا پرتگال کو اب نئی نسل پر انحصار کرنا چاہیے یا اب بھی رونالڈو ہی ٹیم کی سب سے بڑی امید ہیں۔

فٹبال کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑیوں میں شمار ہونے والے کرسٹیانو رونالڈو نے اپنی چھٹی ورلڈ کپ مہم کا آغاز مایوس کن انداز میں کیا، جب پرتگال کا مقابلہ کانگو ڈیموکریٹک ریپبلک کے خلاف 1-1 سے برابر رہا۔ 

اس کارکردگی کے بعد ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا 41 سالہ رونالڈو اب بھی پرتگال کے لیے اتنے ہی مؤثر ہیں جتنے ماضی میں تھے یا نہیں۔

کانگو کے خلاف رونالڈو کا خاموش دن

ہیوسٹن میں کھیلے گئے میچ میں رونالڈو دیگر عالمی ستاروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر پیچھے دکھائی دیے۔ 

فرانس کے کیلیان ایمباپے اور انگلینڈ کے ہیری کین نے دو، دو گول کیے، جبکہ ارجنٹائن کے لیونل میسی نے ہیٹ ٹرک داغ کر شاندار آغاز کیا۔

مزید پڑھیں

اس کے برعکس رونالڈو پورے میچ میں صرف تقریباً 20 بار گیند کو چھو سکے، 3 شاٹس لیے مگر ایک بھی ہدف پر نہ جا سکا، اور وہ اپنے ساتھی پلے میکرز جواو نیویس، برونو فرنینڈس اور ویٹینیا سے کٹے کٹے نظر آئے۔

5 مرتبہ بیلن ڈی اور جیتنے والے رونالڈو نے قطر ورلڈ کپ 2022 میں گھانا کے خلاف پنالٹی پر گول کیا تھا، لیکن اس کے بعد سے بڑی بین 

الاقوامی ٹورنامنٹس میں 10 میچز کھیل کر 33 شاٹس لینے کے باوجود ایک بھی گول نہیں کر سکے۔

رونالڈو کی بہترین ورلڈ کپ کارکردگی 2006 میں سامنے آئی تھی، جب پرتگال جرمنی میں منعقدہ ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل تک پہنچا تھا۔

تھیری ہنری کی تنقید

فرانس کے سابق اسٹار اور موجودہ تجزیہ کار تھیری ہنری نے رونالڈو کی ایک حرکت کو مثال بناتے ہوئے کہا کہ ایک موقع پر انہیں دفاعی کھلاڑیوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے گول کی جانب دوڑنا چاہیے تھا، مگر وہ پیچھے ہٹ گئے اور حملے کی روانی متاثر ہوئی۔

ہنری نے کہا کہ گول ٹیم کو درکار ہوتا ہے، کسی ایک فرد کو نہیں۔

حریف بھی عمر کے اثرات تسلیم کرنے لگے

کانگو کے مڈفیلڈر نگالایل موکاؤ نے بھی اعتراف کیا کہ رونالڈو اب وہ کھلاڑی نہیں رہے جو ماضی میں تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ اب عمر رسیدہ ہو چکے ہیں اور پہلے جیسا کھیل پیش نہیں کر سکتے، لیکن وہ اب بھی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں اور میں ان کا بے حد احترام کرتا ہوں۔ 

ChatGPT Image 18 يونيو 2026، 01 46 07 م

شدید تنقید کے باوجود پرتگال کے ہسپانوی کوچ روبرٹو مارٹینیز نے رونالڈو کا بھرپور دفاع کیا اور انہیں پورے 90 منٹ میدان میں رکھا۔

مارٹینیز نے کہا کہ جب ٹیم کو گول کی ضرورت ہو تو تاریخ کے سب سے بڑے گول اسکورر کو میدان سے نکالنا منطقی فیصلہ نہیں ہوگا۔

ان کے مطابق رونالڈو کی باکس کے اندر موجودگی، تجربہ اور حریف کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت اب بھی ٹیم کے لیے انتہائی اہم ہے۔

کیا اب تبدیلی کا وقت آ گیا؟

دوسری جانب کئی ماہرین کا خیال ہے کہ نوجوان اسٹرائیکر گونزالو راموس کو زیادہ مواقع ملنے چاہئیں، کیونکہ رونالڈو اب پہلے جیسی رفتار اور مسلسل حرکت کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

تاہم ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بڑے میچز کا بے مثال تجربہ، قائدانہ کردار، ایک لمحے میں میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت، اب بھی انہیں پرتگال کے لیے قیمتی بناتی ہے۔

ازبکستان کے خلاف بڑا امتحان

پرتگال کی اگلی آزمائش ازبکستان کے خلاف ہوگی۔ 

اگر رونالڈو ایک بار پھر گول کرنے میں ناکام رہے تو ان پر اور کوچ مارٹینیز پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا، لیکن ایک گول بھی تمام تنقید کا رخ بدل سکتا ہے۔

میچ کے بعد رونالڈو نے اپنے انسٹاگرام پیغام میں کہا:

یہ وہ آغاز نہیں تھا جس کی ہم امید کر رہے تھے، لیکن سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ 

سر بلند رکھیں اور اگلے میچ پر توجہ دیں۔