اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

ورلڈ کپ 2026: فٹبال کا میلہ ہے یا امریکی طاقت کا مظاہرہ؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ورلڈ کپ 2026

ورلڈ کپ 2026 کی تیاریوں کے دوران فیفا اور امریکی انتظامیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
نیویارک ٹائمز، لوموند اور گارڈین کی رپورٹس کے مطابق فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی تعلقات نے کھیل اور سیاست کے درمیان حد بندی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ فٹبال کی عالمی تنظیم سیاسی اثر و رسوخ کے دائرے میں داخل ہو رہی ہے، جبکہ حامی اسے ورلڈ کپ کی کامیابی کے لیے ضروری سفارتی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔

10 سال پہلے تک امریکہ فیفا کے خلاف اپنی تاریخ کی سب سے بڑی قانونی مہم چلا رہا تھا اور اس کے اعلیٰ عہدیداروں کا بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں تعاقب کر رہا تھا۔

لیکن آج، جب ورلڈ کپ 2026 کے آغاز کا وقت قریب آ رہا ہے، منظر نامہ بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔ 

فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو پہلے سے کہیں زیادہ وائٹ ہاؤس میں نظر آتے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹورنامنٹ کی تفصیلات میں اس حد تک شامل ہیں جو عالمی فٹبال میں پہلے کم ہی دیکھی گئی ہے۔

مزید پڑھیں

اسی تبدیلی پر نیویارک ٹائمز اور لوموند کی تحقیقات روشنی ڈالتی ہیں، جبکہ گارڈین یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آیا یہ ٹورنامنٹ امریکی سیاسی طاقت کی نوعیت کی عکاسی کرنے والا آئینہ بن چکا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق انفانٹینو نے برسوں تک ٹرمپ کے ساتھ ذاتی تعلقات استوار کرنے پر کام کیا۔ 

اس دوران انہوں نے مارالاگو اور ڈورال گالف کلب کے متعدد دورے کیے 

ٹرمپ کی نجی تقریبات میں شرکت کی اور یہاں تک کہ فیفا نے نیویارک میں ٹرمپ ٹاور کے اندر ایک دفتر بھی کرائے پر لیا۔

فیفا ایران ورلڈ کپ 2026 میچز اور شائقین کے ٹکٹ منسوخی کا بحران

اخبار کے مطابق فیفا کے صدر نے ٹرمپ کی تعریف و توصیف میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور انہیں ٹرافیاں اور اعزازات پیش کیے، تاکہ ورلڈ کپ کو سیاسی یا انتظامی رکاوٹوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

خود انفانٹینو بھی اس تعلق کی اہمیت کو نہیں چھپاتے۔ 

گزشتہ سال انہوں نے کہا تھا کہ ورلڈ کپ کی کامیابی کے لیے صدر اور حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

تاہم فٹبال کی عالمی تنظیم کے اندر ایک اہم سوال ابھر رہا ہے کہ عملی مفاد اور سیاسی وابستگی کے درمیان حد کہاں ختم ہوتی ہے؟

فیفا کے سابق صدر سیپ بلاٹر اس پالیسی کے سب سے بڑے ناقدین میں شمار ہوتے ہیں۔ 

انہوں نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انفانٹینو سمجھتے ہیں کہ وہ اس تعلق کو کنٹرول کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ٹرمپ کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔

لوموند اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے لکھتا ہے کہ دونوں شخصیات کے درمیان قربت فیفا کی سیاست زدگی کی انتہا ہے اور اس نے امریکہ کو عالمی فٹبال میں ایک غالب قوت کے طور پر مزید مستحکم کیا ہے۔

ورلڈ کپ 2026 شیڈول

اخبار کے مطابق امریکی اثر و رسوخ کی یہ کہانی ٹرمپ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ 2010 میں اس وقت جنم لی جب قطر نے امریکہ کو شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ 2022 کی میزبانی حاصل کی۔ 

امریکی حلقوں میں اس وقت یہ احساس پایا جاتا تھا کہ ان کے پاس بہترین امیدوار فائل ہونے کے باوجود وہ میزبانی سے محروم ہو گئے۔

اسی کے بعد واشنگٹن نے فٹبال کی دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بحال کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ 

2015 میں سامنے آنے والا ’فیفا گیٹ‘ اسکینڈل ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

لوموند کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی کارروائی نے فیفا کو اس کی تاریخ کے شدید ترین سیاسی اور اخلاقی بحرانوں میں دھکیل دیا۔ 

ایک عدالتی ذریعے کے مطابق اگر فیفا کو امریکی حکام کی نظر میں ’مافیائی تنظیم‘ سمجھے جانے سے بچنا تھا تو اسے تعاون کرنا اور بلاٹر کو رخصت کرنا ضروری تھا۔

ChatGPT Image 8 يونيو 2026، 08 22 38 م

امریکی اثر صرف عدالتی میدان تک محدود نہیں رہا۔ 

لوموند نے ان تجارتی معاہدوں کا بھی انکشاف کیا جو ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی کے ووٹ سے کئی سال پہلے امریکی نشریاتی اداروں کے ساتھ کیے گئے تھے۔ 

ان معاہدوں میں یہ شقیں شامل تھیں کہ اگر ٹورنامنٹ شمالی امریکہ میں منعقد ہوا تو اضافی مالی فوائد حاصل ہوں گے۔

ایک قانونی ماہر کے مطابق ان انتظامات کا عملی مطلب یہ تھا کہ میچ پہلے ہی طے ہو چکا تھا اور سب کو یقین تھا کہ ورلڈ کپ شمالی امریکہ میں ہی ہوگا۔

نیویارک ٹائمز بھی ایک مختلف زاویے سے اسی تاثر کی تائید کرتا ہے۔ 

اخبار کے مطابق فیفا امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی صارف منڈی اور فٹبال کی مقبولیت و آمدنی بڑھانے کے لیے تاریخی موقع سمجھتا ہے۔

تاہم اس قربت نے فیفا کے اندر تشویش کو بھی جنم دیا ہے۔ 

جب انفانٹینو 2025 میں ٹرمپ کے ساتھ خلیجی دورے پر گئے اور فیفا کے ایک اہم اجلاس میں شریک نہ ہو سکے تو کئی یورپی عہدیدار احتجاجاً اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ 

ان کا مؤقف تھا کہ فٹبال کے معاملات پر سیاسی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

ChatGPT Image 6 يونيو 2026، 12 45 09 م

نیویارک ٹائمز کے مطابق انفانٹینو نے صرف تعلقات برقرار رکھنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہیں فیفا کے اندر بھی استعمال کرنے کی کوشش کی۔ 

انہوں نے 2025 کے آخر میں ٹرمپ کو فیفا کا ’امن ایوارڈ‘ دینے کے لیے دباؤ ڈالا۔ 

رپورٹ کے مطابق یہ ایوارڈ اتنی جلدی میں تیار کیا گیا کہ ٹرافی بھی تنظیم کے موجودہ ذخیرے سے نکالی گئی۔

لوموند کے نزدیک یہ لمحہ سیاست اور کھیل کے غیرمعمولی اختلاط کی علامت تھا۔ 

ایک اعلیٰ فٹبال عہدیدار نے سوال اٹھایا کہ فیفا کا صدر کسی ریاستی سربراہ کی تقریبِ حلف برداری میں کیسے شریک ہو سکتا ہے؟

ورلڈ کپ قریب آنے کے ساتھ بحث کا رخ ہجرت، سرحدوں اور سیکیورٹی کے مسائل کی طرف بھی مڑ گیا ہے۔ 

نیویارک ٹائمز کے مطابق فیفا کے بعض عہدیداروں کو خدشہ تھا کہ امریکی امیگریشن پالیسیوں کی سختی شائقین کو دور کر سکتی ہے یا ٹورنامنٹ کی ساکھ متاثر کر سکتی ہے۔

یہیں سے گارڈین اپنی بحث کو وسیع سیاسی تناظر دیتا ہے۔ 

کالم نگار زوئی ولیمز کے مطابق ورلڈ کپ اب امریکہ میں حکمرانی کے انداز کا امتحان بن چکا ہے۔

وہ سوئس فارورڈ بریل ایمبولو کے امریکہ سفر میں تاخیر اور غیر ملکی شائقین کے سرحدی جانچ پڑتال سے متعلق خدشات کی مثال دیتی ہیں۔

نسل پرستی کے خلاف سرگرم کارکن شائستہ عزیز کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے امریکہ اب محفوظ مقام تصور نہیں کیا جاتا۔

ChatGPT Image 10 يونيو 2026، 10 00 58 م

گارڈین کا استدلال ہے کہ بڑے کھیلوں کے مقابلے حکومتوں کو یہ آزمانے کا موقع فراہم کرتے ہیں کہ عوام اور کھیلوں کے ادارے کس حد تک سیاسی دباؤ برداشت کر سکتے ہیں۔

اسی لیے آج انفانٹینو پر ہونے والی تنقید صرف ان کے اور ٹرمپ کے ذاتی تعلق تک محدود نہیں رہی بلکہ اس وسیع تبدیلی کی علامت بن گئی ہے جس میں سیاست اور کھیل کے درمیان فاصلے کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نتیجتاً تینوں اخبارات تقریباً ایک ہی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ورلڈ کپ 2026 محض فٹبال کا عالمی میلہ نہیں ہوگا۔

واشنگٹن کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، ٹرمپ کی نمایاں موجودگی، اور ہجرت، سرحدی نگرانی اور سیکیورٹی سے متعلق خدشات کے درمیان یہ ٹورنامنٹ کھیل اور سیاست کے تعلق کا ایک بڑا امتحان بنتا جا رہا ہے۔

اور اسی تناظر میں ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے:

جب ورلڈ کپ 2026 کی پہلی سیٹی بجے گی تو اصل طاقت کس کے ہاتھ میں ہوگی، فیفا کے یا وائٹ ہاؤس کے؟

بشکریہ: الجزیرہ