فیفا ورلڈکپ 2026 کی تاریخ میں پہلی بار عالمی فٹبال کی درجہ بندی کرنے والی تنظیم ’فیفا‘ کی جانب سے ٹاپ 4 پوزیشن پر موجود ممالک گولڈن اسکوائر (یعنی سیمی فائنل) میں پہنچے ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ پیش رفت اس کھیل کی معاشی بنیادوں اور متعلقہ ممالک کی اقتصادی صورتحال کو سمجھنے کا اچھا موقع ہے۔
اسپین: یوروزون کی ابھرتی ہوئی معاشی قوت
اسپین یوروزون کا چوتھا بڑا معاشی مرکز ہے، جہاں 2026 میں شرح نمو 2.1 فیصد متوقع ہے۔
گولڈمین سیچس کے مطابق یہ شرح پورے خطے کی اوسط (0.7 فیصد)
سے 3 گنا زیادہ ہے۔ ’برانڈ فنانس‘ کے مطابق اسپین ’سافٹ پاور‘ انڈیکس میں بارہویں نمبر پر ہے۔
عالمی بینک کے 2025 کے ڈیٹا کے مطابق اسپین کا جی ڈی پی 1.9 ٹریلین ڈالر، آبادی 49.35 ملین اور فی کس آمدنی 38 ہزار ڈالر سالانہ ہے۔
ملک میں مہنگائی کی شرح 2.7 فیصد ہے، جو اسے معاشی استحکام کی جانب گامزن رکھتی ہے۔
اسپین کے فٹ بال کلب اور مالیاتی کامیابی
اسپین کے ریال میڈرڈ اور بارسلونا جیسے کلب عالمی فٹ بال میں برانڈ بن چکے ہیں۔
ڈیلویٹ کی ’منی لیگ 2026‘ رپورٹ کے مطابق ریال میڈرڈ 2024-25ء کے سیزن میں 1.2 ارب یورو (تقریباً 1.36 ارب ڈالر) آمدنی کے ساتھ دنیا کا امیر ترین کلب ہے۔
بارسلونا 975 ملین یورو (1.1 ارب ڈالر) آمدن کے ساتھ دوسرے نمبر پر، جس میں 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح تیسرے نمبر پر موجود اٹلیٹیکو میڈرڈ 455 ملین یورو (507 ملین ڈالر) کے ساتھ یورپی سطح پر 13ویں امیر ترین کلب کے طور پر شامل ہے۔
فرانس: یورپی یونین کا مرکزی مگر چیلنجز کا شکار معیشت
فرانس، جرمنی کے بعد یورپی یونین کی دوسری بڑی معیشت ہے۔
یورپی کمیشن کے مطابق یہاں 2025-26ء میں شرح نمو صرف 0.8 فیصد رہی۔ معاشی تشویش کی بڑی وجہ بڑھتا ہوا قرضہ ہے، جس کے 2027ء تک جی ڈی پی کے 120 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
عالمی بینک (2025) رپورٹ کے مطابق فرانس کا جی ڈی پی 3.37 ٹریلین ڈالر اور فی کس آمدنی 49 ہزار ڈالر ہے۔
68.7 ملین کی آبادی والے ملک میں مہنگائی کی شرح 0.9 فیصد ہے، جبکہ سافٹ پاور انڈیکس میں فرانس دنیا بھر میں چھٹے نمبر پر ہے۔
پیرس سینٹ جرمین: فرانسیسی فٹبال کا واحد معاشی ستون
فرانسیسی کلبوں میں بارسلونا اور ریال میڈرڈ کے مقابلے میں آمدنی کا بڑا فرق ہے۔
پیرس سینٹ جرمین (PSG) 837 ملین یورو (954.2 ملین ڈالر) آمدنی کے ساتھ یورپ کے ٹاپ 4 امیر کلبوں میں شامل ہے۔ یہ فرانس کا واحد کلب ہے جو ٹاپ 20 کی فہرست میں موجود ہے۔
انگلینڈ: بریگزٹ کے اثرات اور مالیاتی خدمات کا مرکز
برطانیہ (بشمول انگلینڈ، ویلز، اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ) یورپ کی دوسری بڑی معیشت ہے۔
بریگزٹ کے بعد سے یہ ملک سست معاشی نمو (تقریباً 0.2 سے 0.6 فیصد) کا شکار ہے اور سافٹ پاور انڈیکس میں انگلینڈ عالمی سطح پر چوتھے نمبر پر موجود ہے۔
عالمی بینک (2025) رپورٹ کے مطابق برطانیہ کا جی ڈی پی 4 ٹریلین ڈالر، فی کس آمدنی 58 ہزار ڈالر اور مہنگائی کی شرح 3.9 فیصد ہے۔
پریمیئر لیگ کی عالمی شہرت اس کی معاشی طاقت کا ایک اہم ترین جزو تسلیم کی جاتی ہے۔
انگلش کلبوں کی مالیاتی بالادستی
انگلینڈ کے کئی کلب ٹاپ 10 امیر ترین یورپی کلبوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
ڈیلویٹ کے مطابق لیورپول (836 ملین یورو)، مانچسٹر سٹی (829 ملین یورو)، آرسنل (822 ملین یورو)، مانچسٹر یونائیٹڈ (793 ملین یورو)، ٹوٹنہم (672 ملین یورو) اور چیلسی (584 ملین یورو) آمدنی کے اعتبار سے نمایاں ہیں۔
ارجنٹائن: لاطینی امریکہ کی زرعی اور توانائی کی صلاحیت
ارجنٹائن لاطینی امریکہ کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے، جو توانائی اور زراعت میں وافر وسائل رکھتی ہے،تاہم ملک شدید مہنگائی سے نبردآزما ہے، جو 2024 میں 219 فیصد تھی اور 2025 میں کم ہو کر 39 فیصد پر آئی۔
عالمی بینک کے مطابق ارجنٹائن کا جی ڈی پی 683 ارب ڈالر، آبادی 45.8 ملین اور فی کس آمدنی 15 ہزار ڈالر ہے۔
سافٹ پاور کے اعتبار سے ارجنٹائن ٹاپ 20 ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہے، جو اس کی عالمی اثر انگیزی کو محدود کرتا ہے۔
ارجنٹائن کے فٹبال کی معاشی مشکلات
بوکا جونیئرز اور ریور پلیٹ ارجنٹائن کے بڑے کلب ہیں، لیکن مقامی لیگ کی مجموعی اسپانسرشپ آمدنی 2024ء میں صرف 28.16 ملین ڈالر رہی۔
یہی وجہ ہے کہ ارجنٹائن کے اسٹار کھلاڑی یورپ اور دیگر خطوں میں منتقل ہونے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ بہتر معاشی مواقع حاصل کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنلسٹ ممالک کا معاشی جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسپین، فرانس اور انگلینڈ جیسے ممالک کی فٹبال کلبوں میں سرمایہ کاری ان کی مجموعی معیشت اور سافٹ پاور سے جڑی ہے۔
اس کے برعکس ارجنٹائن کا ماڈل وسائل کے باوجود مالیاتی عدم استحکام کا عکاس ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کھیل کی عالمی سطح پر حکمرانی کے لیے مستحکم معاشی انفرا اسٹرکچر بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔