حال ہی میں ٹاٹا الیکٹرونکس کے ڈیٹا لیک ہونے کے واقعے نے ’میڈ ان انڈیا‘مہم کی ساکھ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مزید پڑھیں
چینی میڈیا نے اس واقعے کو ایپل کی سپلائی چین کی کمزوری اور انڈیا کی مینوفیکچرنگ انفرا اسٹرکچر کی محدودیت قرار دیتے ہوئے اسے عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک انتباہ قرار دیا ہے۔
ایپل کا سب سے بڑا ڈیٹا لیک
چینی اخبار ’ہوان چیو‘ کے مطابق یہ ایپل کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیٹا لیک ہے۔
اس واقعے میں آئی فون 18 پرو سے متعلق تکنیکی دستاویزات اور سپلائرز کی خفیہ فہرستیں سمیت 630 جی بی ڈیٹا اور 2 لاکھ تکنیکی فائلیں چوری ہوئی ہیں۔
یہ معلومات کمپنی کے اہم ساتھی ’ٹاٹا الیکٹرونکس‘ کے ڈیٹا بیس پر سائبر حملے کے ذریعے حاصل کی گئیں۔
قومی سلامتی اور ٹاٹا الیکٹرونکس
انڈیا نے اس واقعے کو محض ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیا ہے۔
اس لیک نے آئی فون کے پرزوں، قیمتوں اور سپلائرز کی تفصیلات کو بے نقاب کر دیا ہے، جس سے ایپل کی عالمی مارکیٹ میں سودے بازی کی طاقت اور راز داری کا طویل مدتی نظام شدید متاثر ہوا ہے۔
سپلائی چین میں اعتماد کا بحران
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایپل اور ٹاٹا الیکٹرونکس کے درمیان اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی 2020ء کے ہنگامے، 2024ء میں فیکٹری میں آتشزدگی اور ماحولیاتی تنازعات نے انڈیا میں ایپل کے آپریشنز کو مشکلات میں ڈال دیا تھا۔
اس بار سوال یہ ہے کہ آیا ایپل انڈیا میں مزید حساس تحقیقی کام منتقل کرے گا یا نہیں۔
انڈیا میں صنعت کی محدود صلاحیت
تحقیقی رپورٹ کے مطابق لیک ہونے والی فہرستوں سے واضح ہے کہ انڈیا اب بھی بنیادی پرزوں کی تیاری میں پیچھے ہے اور اہم کمپوننٹس کے لیے انڈیا چین، جنوبی کوریا، جاپان اور امریکہ پر انحصار کرتا ہے۔
انڈیا زیادہ تر صرف ’اسمبلی‘ کا کام کر رہا ہے، جبکہ مکمل ویلیو چین ابھی تک ناپید ہے۔
چین کا صنعتی نظام ناقابلِ نقل کیوں؟
تجزیہ کار جانگ جینگ بوو کے مطابق چین کی برتری صرف سستی لیبر نہیں بلکہ منظم صنعتی ایکو سسٹم ہے۔
چین میں لاکھوں انجینئرز اور ہزاروں کمپنیاں ایک ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ اس کے برعکس انڈیا کی فیکٹریاں کام کی رفتار اور معیار کے لحاظ سے ابھی تک چینی معیار تک پہنچنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔
ٹیسلا اور دیگر کمپنیوں کا محتاط رویہ
صرف ایپل ہی نہیں، ٹیسلا نے بھی مبینہ طور پر انڈیا میں بڑی فیکٹری لگانے کے منصوبے ترک کر دیے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں لیتھیم، کوبالٹ اور نکل جیسے خام مال کی کمی ہے، جبکہ بنیادی انفرا اسٹرکچر کے اخراجات عالمی سطح پر مقابلہ کرنے میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
’میڈ ان انڈیا‘کی حقیقت
ڈیٹا لیک کا یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ مغربی کمپنیوں کا چین پر انحصار کم کرنے کا اقدام صرف سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔
سپلائی چین کی منتقلی کے لیے محض عزم کافی نہیں، بلکہ ایک مربوط صنعتی اور تکنیکی انفرا اسٹرکچر درکار ہے۔ فی الحال یہ تبدیلی خطرات کو کم کرنے کے بجائے نئے سیکیورٹی چیلنجز کو جنم دے رہی ہے۔