ہرمز اور باب المندب متاثر ہوئے تو مہنگا تیل پاکستان میں روپے، پیٹرول اور مہنگائی، تینوں پر دباؤ بڑھا سکتا ہے
امریکا اور ایران کے درمیان مسلسل حملوں اور آبنائے ہرمز و باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی منڈیوں میں تشویش بڑھا دی۔
برینٹ خام تیل دورانِ تجارت 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا، جبکہ سونا 4,140 ڈالر فی اونس سے اوپر پہنچ گیا۔
اگر بحران برقرار رہا تو پاکستان میں پیٹرول، بجلی، ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر نیا دباؤ آسکتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو بے یقینی کے ایک نئے دور میں داخل کردیا ہے۔
بدھ کی کاروباری سرگرمیوں کے دوران خام تیل برینٹ 11 جون کے بعد پہلی مرتبہ 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا، جبکہ سونے کی قیمت بھی 4,140 ڈالر فی اونس سے اوپر چلی گئی۔
مارکیٹ میں یہ تیزی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز اور باب المندب، توانائی اور تجارت کی دو اہم ترین عالمی گزرگاہیں، بیک وقت جنگی خطرات کی زد میں آتی دکھائی دے رہی ہیں۔
اہم نکات +
- برینٹ خام تیل دورانِ تجارت 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا۔
- امریکی خام تیل تقریباً 87.27 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
- سونے کی قیمت 4,140 ڈالر فی اونس سے اوپر چلی گئی۔
- امریکا نے مسلسل گیارہویں رات ایرانی اہداف پر حملے کیے۔
- کویت نے ایرانی ڈرونز کو فضا میں روکنے کا اعلان کیا۔
- حوثیوں کی دھمکیوں کے بعد سعودی تیل لے جانے والے تین جہازوں نے راستے تبدیل کیے۔
- ہرمز اور باب المندب میں بیک وقت کشیدگی نے عالمی توانائی کی ترسیل کے خدشات بڑھا دیے۔
برینٹ خام تیل تقریباً چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد کچھ نیچے آیا اور 3 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ 93.85 ڈالر فی بیرل کے قریب تجارت کرتا رہا۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی بڑھ کر تقریباً 87.27 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔
اس سے ایک روز قبل تیل کی قیمتیں پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر بند ہوئی تھیں۔
مزید پڑھیں
نئی چھلانگ اس وقت دیکھنے میں آئی جب امریکی فوج نے ایران کے فوجی اہداف پر مسلسل گیارہویں رات حملوں کا آغاز کیا۔
دوسری جانب تہران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات اور مقامات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات نے سرمایہ کاروں کی تشویش میں مزید اضافہ کیا۔
انہوں نے ایران کی امن مذاکرات میں سنجیدگی پر سوال اٹھاتے ہوئے تہران پر وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
روبیو کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی آبی گزرگاہ اور عالمی توانائی کی فراہمی کا بنیادی راستہ ہے، جہاں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانا پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
دو اہم گزرگاہیں خطرے میں
موجودہ صورتِ حال کی اصل سنگینی صرف امریکی اور ایرانی حملوں کے تسلسل میں نہیں، بلکہ دنیا کی دو اہم ترین بحری گزرگاہوں کے ایک ساتھ دباؤ میں آنے میں پوشیدہ ہے۔
خلیج میں سرمایہ کاروں کو آبنائے ہرمز کے راستے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
فیکٹ باکس +
| اشاریہ | تازہ صورتِ حال |
|---|---|
| برینٹ خام تیل | دورانِ تجارت 95 ڈالر سے بلند |
| بعد کی رپورٹ شدہ قیمت | تقریباً 93.85 ڈالر فی بیرل |
| امریکی خام تیل | تقریباً 87.27 ڈالر فی بیرل |
| سونا | 4,140 ڈالر فی اونس سے بلند |
| چاندی | 60 ڈالر فی اونس کے قریب |
| امریکی حملے | مسلسل گیارہویں رات |
| بنیادی خطرہ | ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی |
دوسری جانب حوثیوں کی جانب سے باب المندب سے گزرنے والے سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی نے بحیرہ احمر میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔
سعودی تیل لے کر چین اور بھارت جانے والے 3 آئل ٹینکروں نے یمن کے ساحل سے دور رہنے کے لیے اپنے راستے تبدیل کردیے۔
اگر بحری کمپنیاں طویل یا متبادل راستے اختیار کرتی ہیں تو سفر کا دورانیہ، انشورنس پریمیم اور مال برداری کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، خواہ جہاز رانی مکمل طور پر بند نہ بھی ہو۔
یوں عالمی منڈیاں صرف ممکنہ طور پر کم ہونے والی تیل کی سپلائی کی قیمت مقرر نہیں کررہیں، بلکہ ہر بیرل میں جنگ، سکیورٹی، مہنگی انشورنس اور ترسیل میں تاخیر کی اضافی لاگت بھی شامل ہورہی ہے۔
سونے اور ڈالر کو سہارا
جنگی خدشات کا اثر قیمتی دھاتوں کی منڈی تک بھی پہنچا، جہاں سونا 1.5 فیصد سے زیادہ اضافے کے بعد 4,140 ڈالر فی اونس سے تجاوز کرگیا، جبکہ چاندی 60 ڈالر فی اونس کے قریب پہنچ گئی۔
یہ کیوں اہم ہے؟ +
آبنائے ہرمز خلیجی تیل اور گیس کی عالمی ترسیل کا بنیادی راستہ ہے، جبکہ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے جوڑتا ہے۔
اگر دونوں گزرگاہوں میں بیک وقت خلل پیدا ہوا تو صرف تیل کی سپلائی متاثر نہیں ہوگی، بلکہ جہازوں کے راستے، انشورنس پریمیم اور مال برداری کے اخراجات بھی بڑھ جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں ایندھن سے لے کر خوراک اور صنعتی مصنوعات تک عالمی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
سونے کو قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد ہونے والی خریداری اور محفوظ سرمایہ کاری کی طرف سرمایہ کاروں کے نئے رجحان سے سہارا ملا۔
ایک ہی کاروباری روز میں سونے سے منسلک ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کی مجموعی ہولڈنگز میں تقریباً 7.4 ٹن اضافہ ہوا، جو ایک ماہ سے زیادہ عرصے میں سب سے بڑی یومیہ سرمایہ کاری ہے۔
تاہم امریکی بانڈز پر بلند منافع اور شرح سود طویل عرصے تک اونچی رہنے کے امکانات سونے کی تیزی کو محدود کرسکتے ہیں، کیونکہ سونا اپنی ملکیت پر کوئی مقررہ منافع نہیں دیتا۔
کرنسی مارکیٹ میں محفوظ اثاثے کی طلب، مہنگے تیل اور امریکی ٹریژری بانڈز کے بڑھتے منافع نے ڈالر کو مضبوط کیا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 4 دہائیوں کی کم ترین سطح تک گرگیا۔
پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
پاکستان کے لیے تیل کی بڑھتی قیمتیں براہِ راست معاشی خطرہ ہیں، کیونکہ ملک اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی ایندھن پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
پاکستان کے لیے کیا مطلب ہے؟ +
پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی ایندھن پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ تیل کی قیمتیں 95 ڈالر کے قریب برقرار رہیں یا 100 ڈالر سے تجاوز کرگئیں تو:
- ملک کا درآمدی بل اور جاری کھاتے کا خسارہ بڑھ سکتا ہے۔
- ڈالر کی طلب میں اضافے سے پاکستانی روپے پر دباؤ آسکتا ہے۔
- پیٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوگا۔
- ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش مزید مہنگی ہوسکتی ہیں۔
- صنعتی پیداوار اور برآمدات کی لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
- حکومت کے لیے توانائی کی قیمتوں میں ریلیف دینا مشکل ہوجائے گا۔
اگر برینٹ خام تیل 95 ڈالر کے قریب برقرار رہا یا 100 ڈالر سے تجاوز کرگیا تو پاکستان کا درآمدی بل بڑھ سکتا ہے۔
اس سے جاری کھاتے کا خسارہ وسیع، ڈالر کی طلب زیادہ اور پاکستانی روپے پر دباؤ شدید ہونے کا امکان ہے۔
اس کے اثرات بتدریج پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں تک منتقل ہوسکتے ہیں۔
نتیجتاً مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے اور حکومت کے لیے توانائی کی قیمتوں میں ریلیف دینا مزید مشکل ہونے کا خدشہ ہے۔
مہنگی توانائی اور شپنگ سے پاکستانی صنعتوں کی پیداواری لاگت اور برآمدی مسابقت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
خلیج میں مقیم پاکستانیوں کے لیے کیا مطلب ہے؟ +
تیل کی بلند قیمتوں سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی معیشتوں کی آمدنی کو عارضی سہارا مل سکتا ہے، جس سے سرکاری اخراجات، ترقیاتی منصوبوں اور روزگار پر مثبت اثر پڑنے کا امکان ہوگا۔
تاہم جنگ پھیلنے کی صورت میں فضائی سفر، کاروباری سرگرمیاں اور سپلائی چین متاثر ہوسکتی ہیں۔ مہنگی پروازوں اور روزمرہ اخراجات میں اضافے سے تارکینِ وطن کے گھریلو بجٹ پر بھی دباؤ پڑسکتا ہے۔
خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے صورتِ حال کے دو پہلو ہیں۔
تیل مہنگا ہونے سے خلیجی معیشتوں کی آمدنی میں عارضی اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن جنگ پھیلنے، فضائی اور بحری سفر متاثر ہونے اور مہنگائی بڑھنے سے ملازمتوں، سفری اخراجات اور پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
آنے والے دنوں میں عالمی منڈیوں کی سمت ہرمز اور باب المندب کی صورتِ حال طے کرے گی۔ اگر بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری رہی اور سفارت کاری کا کوئی راستہ نکلا تو قیمتیں تیزی سے نیچے آسکتی ہیں۔
لیکن کسی بڑے آئل ٹینکر یا اہم توانائی تنصیب پر مؤثر حملہ ہوا تو موجودہ تیزی عالمی توانائی بحران میں تبدیل ہوسکتی ہے—اور پاکستان جیسے درآمدی ممالک اس کی سب سے بھاری قیمت ادا کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔