بچوں کے مستقبل کے لیے بچت کرنا کوئی نئی بات نہیں، لیکن اب دنیا کے کئی ممالک میں صرف بچت نہیں بلکہ پیدائش ہی سے سرمایہ کاری کا تصور تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
امریکا، برطانیہ، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں خصوصی مالیاتی منصوبے متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
ان منصوبوں کے ذریعے والدین یا سرپرست اپنے بچوں کے نام پر ابتدائی عمر ہی سے سرمایہ کاری شروع کر سکتے ہیں تاکہ وقت کے ساتھ ایک مضبوط مالی بنیاد قائم ہو سکے۔
یہ رجحان نہ صرف دنیا بھر میں بلکہ خاص طور پر خلیجی ممالک
سمیت بیرون ملک مقیم افراد خصوصاً پاکستانیوں کے لیے بھی توجہ کا باعث ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، عمان، امریکا، برطانیہ اور دیگر ممالک میں لاکھوں پاکستانی اپنے بچوں کی بہتر تعلیم اور محفوظ مستقبل کے لیے باقاعدگی سے رقم بچاتے ہیں۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بچت صرف بینک اکاؤنٹس تک محدود رہنے کے بجائے طویل المدتی سرمایہ کاری کی صورت اختیار کرے تو اس کے نتائج کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
سرمایہ کاری کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق طویل مدت کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری میں ’کمپاؤنڈ گروتھ‘ یا منافع پر منافع کا اصول کام کرتا ہے، جس کے باعث چھوٹی رقوم بھی برسوں بعد نمایاں مالی اثاثوں میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کے لیے سرمایہ کاری کیوں اہم ہے؟
یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں بچوں کے لیے خصوصی سرمایہ کاری پروگرام تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔
سرمایہ کاری اب صرف امیروں تک محدود نہیں
چند برس پہلے تک بچوں کے نام پر سرمایہ کاری زیادہ تر خوشحال خاندانوں کی سہولت سمجھی جاتی تھی کیونکہ اس کے لیے مالیاتی مشیروں اور پیچیدہ سرمایہ کاری نظام کی ضرورت پڑتی تھی۔
تاہم ڈیجیٹل بینکنگ، آن لائن بروکریج پلیٹ فارمز اور موبائل ایپس نے یہ صورتحال بدل کر رکھ دی ہے۔
📌 بچوں کی سرمایہ کاری: فیکٹ باکس
اب معمولی رقم سے بھی سرمایہ کاری کا آغاز ممکن ہے اور والدین چند منٹ میں اپنے بچوں کے لیے خصوصی سرمایہ کاری اکاؤنٹس کھول سکتے ہیں۔
امریکا میں Robinhood، Vanguard، Fidelity اور Charles Schwab جیسے بڑے سرمایہ کاری ادارے کم عمر بچوں کے لیے خصوصی اکاؤنٹس اور سرمایہ کاری کے حل پیش کر رہے ہیں۔
اسی طرح Acorns Early نامی سروس روزمرہ خریداری کے بعد بچ جانے والی معمولی رقم کو خودکار انداز میں سرمایہ کاری میں تبدیل کر دیتی ہے، جس سے بغیر کسی اضافی بوجھ کے بچوں کے لیے اثاثے جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے بچوں کو بھی کم عمری سے مالی نظم و ضبط اور سرمایہ کاری کی اہمیت کا شعور ملتا ہے۔
💰 بچوں کی کم عمری میں سرمایہ کاری
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے عالمی مالیاتی ماڈلز اور مستقبل کی بچت کی حکمت عملی
دنیا بھر میں بچوں کے لیے پیدائش کے وقت سے ہی سرمایہ کاری کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بچوں کی اعلیٰ تعلیم اور مضبوط مالی بنیاد قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
🇺🇸 امریکی ماڈل
1000$ٹرمپ اکاؤنٹس کے تحت حکومت اہل بچوں کو ایک ہزار ڈالر فراہم کرتی ہے، جبکہ نجی ادارے بھی مساوی رقم جمع کراتے ہیں۔
🇬🇧 برطانوی جونیئر ISA
والدین کو سالانہ مخصوص حد تک رقم مکمل طور پر ٹیکس فری بنیادوں پر شیئرز اور فنڈز میں لگانے کی قانونی اجازت۔
🇸🇦 خلیجی اقدامات
سعودی عرب کا 'زود الاجیال' اور قطر کی 'جونیئرز' ایپ جیسے پروگرامز کم عمری سے ماہانہ بچت اور مالیاتی آگاہی کو فروغ دے رہے ہیں۔
📈 منافع پر منافع (کمپاؤنڈ گروتھ) کا اصول
عام بینک اکاؤنٹس کے بجائے انڈیکس فنڈز اور طویل المدتی منصوبوں میں لگائی گئی چھوٹی رقم بھی برسوں بعد بڑے مالی اثاثوں میں بدل جاتی ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
امریکی حکومتی منصوبہ توجہ کا مرکز
امریکا میں بچوں کے لیے سرمایہ کاری کے فروغ میں حکومتی سطح پر بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں متعارف کرائے گئے ’ٹرمپ اکاؤنٹس‘ کا مقصد بچوں کے لیے ایسا سرمایہ کاری اکاؤنٹ فراہم کرنا ہے جس میں والدین، دادا دادی، رشتے دار یا دیگر افراد رقم جمع کرا سکیں۔
ٹرمپ اکاؤنٹس کے ذریعے بچہ بالغ ہونے پر اس سرمایہ کا قانونی مالک بن جاتا ہے۔
✨ اہم نکات
اس پروگرام کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ حکومت نے ٹرمپ دور میں پیدا ہونے والے اہل بچوں کے اکاؤنٹس میں ابتدائی طور پر ایک ہزار ڈالر جمع کرانے کا اعلان کیا، تاکہ سرمایہ کاری کا سفر ابتدا ہی سے شروع ہو سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس منصوبے میں نجی شعبہ بھی پیش پیش ہے۔
ڈیل کے چیف ایگزیکٹو مائیکل ڈیل نے اربوں ڈالر کی معاونت کا اعلان کیا ہے، جبکہ Goldman Sachs اور Intel سمیت کئی بڑی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کے بچوں کے لیے مساوی سرمایہ کاری کی سہولت دینے کا وعدہ کیا۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق حکومت اور نجی شعبے کی شراکت ایسے منصوبوں کو زیادہ مؤثر بناتی ہے اور خاندانوں کو مستقبل کی منصوبہ بندی پر آمادہ کرتی ہے۔
برطانیہ میں ٹیکس فری سرمایہ کاری
دوسری جانب برطانیہ میں بھی بچوں کے لیے سرمایہ کاری کا نظام کافی منظم سمجھا جاتا ہے۔
یہاں جونیئر انفرادی سیونگ اکاؤنٹ (Junior Individual Savings Account) کے ذریعے والدین ہر مالی سال مخصوص حد تک رقم ٹیکس سے مستثنیٰ بنیادوں پر جمع کرا سکتے ہیں۔
یہ رقم مختلف سرمایہ کاری فنڈز، شیئرز یا دیگر مالیاتی اثاثوں میں لگائی جا سکتی ہے۔
برطانوی سرمایہ کاری ادارے نوجوانوں کے لیے ایسے پورٹ فولیو بھی تیار کرتے ہیں جن میں رسک نسبتاً کم رکھا جاتا ہے تاکہ طویل مدت میں سرمایہ محفوظ رہتے ہوئے بڑھ سکے۔
سعودی عرب اور خلیجی ممالک بھی پیچھے نہیں
اگرچہ خلیجی ممالک میں بچوں کے لیے سرمایہ کاری کا تصور ابھی مغربی دنیا جتنا عام نہیں، تاہم حالیہ برسوں میں اس حوالے سے نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔
سعودی عرب میں سوشل ڈویلپمنٹ بینک کا ’زود الاجیال‘ پروگرام والدین کو بچوں کے مستقبل کے لیے باقاعدہ ماہانہ بچت کی ترغیب دیتا ہے۔
اس پروگرام میں الراجحی اور ریاض بینک سمیت متعدد مالیاتی ادارے شامل ہیں، جو خاندانوں کو طویل المدتی مالی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
اسی طرح قطر میں قطر اسلامک بینک (QIB) نے بچوں کے لیے ’جونیئرز‘ ایپ متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد کم عمری سے مالیاتی آگاہی پیدا کرنا اور ذمہ دارانہ مالی رویوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
مصر میں بھی کمرشل انٹرنیشنل بینک (CIB) نوجوانوں کے لیے خصوصی اکاؤنٹس پیش کر رہا ہے، جبکہ مراکش میں خاندانوں کو بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات کے لیے طویل المدتی فنڈز بنانے کی سہولت دی جا رہی ہے۔
خلیجی ممالک میں اس رجحان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ یہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی ورکرز، خصوصاً پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی اور فلپائنی شہری اپنے خاندانوں کے بہتر مستقبل کے لیے مستقل بچت کرتے ہیں۔
اوورسیز پاکستانیوں کو کیا کرنا چاہیے؟
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، عمان، امریکا اور برطانیہ میں مقیم لاکھوں اوورسیز پاکستانی ہر ماہ رقوم اپنے وطن بھیجتے ہیں، جن کا بڑا حصہ گھریلو اخراجات، تعلیم یا جائیداد کی خریداری پر خرچ ہوتا ہے۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان رقوم کا ایک حصہ بچوں کے لیے طویل المدتی سرمایہ کاری فنڈز، انڈیکس فنڈز، ریٹائرمنٹ طرز کے بچت منصوبوں یا دیگر قانونی سرمایہ کاری ذرائع میں لگایا جائے تو آنے والے برسوں میں یہ بچوں کی اعلیٰ تعلیم، کاروبار یا دیگر ضروریات کے لیے مضبوط مالی سہارا بن سکتا ہے۔
خصوصاً خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی خاندان، جہاں آمدنی نسبتاً مستحکم ہوتی ہے، وہ اپنی ماہانہ بچت کا ایک محدود حصہ بھی منظم سرمایہ کاری میں منتقل کریں تو اس کے طویل المدتی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی قابلِ غور ماڈل
پاکستان میں بچوں کے لیے خصوصی سرمایہ کاری اکاؤنٹس کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بینک، اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیاں (Asset Management Companies)، نجی شعبہ اور حکومت مل کر بچوں کے لیے آسان، شفاف اور کم لاگت سرمایہ کاری منصوبے متعارف کرائیں، تو نہ صرف مالیاتی شمولیت بڑھے گی بلکہ بچت کا قومی رجحان بھی مضبوط ہوگا۔
اگر ایسے منصوبوں میں مناسب ٹیکس مراعات، ڈیجیٹل سہولت اور مالیاتی آگاہی کی مہم شامل کر دی جائے تو اوورسیز پاکستانی بھی اپنے بچوں کے لیے پاکستان یا اپنے میزبان ممالک میں زیادہ اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں وہی معاشرے مالی طور پر زیادہ مستحکم ہوں گے جو بچوں کو صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ کم عمری سے مالی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کی عملی تربیت بھی فراہم کریں گے۔
ایسے میں سعودی عرب، امریکا، برطانیہ اور دیگر خلیجی ممالک کے یہ ماڈلز پاکستان اور خصوصاً اوورسیز پاکستانی خاندانوں کے لیے قابل عمل مثال بن سکتے ہیں، کیونکہ آج کی معمولی سرمایہ کاری ہی آنے والے کل کی مضبوط مالی بنیاد بن سکتی ہے۔