دنیا میں مہنگائی کا نیا خطرہ خاموشی سے سر اٹھا رہا ہے اور اس مرتبہ معاملہ صرف تیل یا ڈالر تک محدود نہیں۔
مزید پڑھیں
رپورٹس کے مطابق گندم، مکئی، چینی اور خوردنی تیل جیسی بنیادی غذائی اشیا کی عالمی قیمتیں دوبارہ اوپر جارہی ہیں۔ اس تبدیلی کے اثرات آنے والے مہینوں میں عام صارف کی جیب تک پہنچ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2026 میں عالمی غذائی قیمتوں کا انڈیکس 131.1 پوائنٹس تک پہنچ چکا ہے۔
جون میں یہی شرح 130.3 پوائنٹس تھی۔ یوں عالمی غذائی قیمتیں 3 سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر آگئی ہیں۔
🍞
مہنگی روٹی کا خطرہ: کون سی غذائیں سب سے زیادہ متاثر؟
▼
ایک بحران نہیں، کئی مسائل اکٹھے
عالمی خوراک کی منڈی میں موجودہ تیزی کے پیچھے کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ جنگیں، شدید موسم، توانائی کی قیمتیں اور اہم تجارتی راستوں میں رکاوٹیں بیک وقت زرعی منڈی کو متاثر کررہی ہیں۔
عالمی ادارے کے مطابق جولائی میں مجموعی فوڈ پرائس انڈیکس ماہانہ بنیاد پر 0.6 فیصد بڑھا، جبکہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں اضافہ ایک فیصد رہا۔
بظاہر یہ اضافہ بہت بڑا نہیں ہے، لیکن مختلف اجناس کے اندر ہونے والی تیز تبدیلی زیادہ اہم ہے۔
خاص طور پر اناج کی قیمتوں کا انڈیکس صرف ایک ماہ میں 3.4 فیصد بڑھا ہے۔ یہی اضافہ جولائی کے مجموعی فوڈ انڈیکس کو اوپر لے جانے کا سب سے بڑا سبب بنا۔
خوراک کا عالمی بحران 🌾
گندم اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ عالمی مہنگائی میں تیزی
جولائی 2026 میں عالمی غذائی قیمتوں کا انڈیکس 131.1 پوائنٹس تک پہنچ کر 3 سال کی بلند ترین سطح پر آگیا ہے۔ جنگیں، شدید موسم اور تجارتی رکاوٹیں اس بحران کے اہم اسباب ہیں۔
عالمی غذائی انڈیکس 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جس میں ماہانہ 0.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔
بحیرہ اسود کی کشیدگی اور شدید گرمی کے باعث سالانہ بنیادوں پر گندم کی قیمت میں بڑا اضافہ۔
جولائی میں چینی 5.6 فیصد اور مکئی 3.6 فیصد مہنگی ہوئی، جبکہ چاول کی قیمت مستحکم رہی۔
عالمی اجناس کی قیمتوں کے اثرات مقامی دکانوں تک منتقل ہونے میں 3 سے 6 ماہ کا وقت لگتا ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
گندم پھر عالمی سیاست کے بیچ آگئی
گندم کی عالمی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 5.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے پیچھے بحیرہ اسود سے برآمدات میں ممکنہ رکاوٹ اور بڑے پیداواری علاقوں میں شدید گرمی سے فصل متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں ہے۔
بحیرہ اسود عالمی اناج کی تجارت کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ روس اور یوکرین دونوں بڑے زرعی برآمد کنندگان ہیں، اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان حملوں میں شدت صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتی۔ اس کا اثر عالمی منڈی میں گندم کی دستیابی اور قیمت پر بھی پڑتا ہے۔
جون میں انہی خدشات کے دوران گندم کی قیمت 2 سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔ اب مارکیٹ کی نظریں اس بات پر ہیں کہ بحیرہ اسود کے تجارتی راستے کتنے محفوظ رہتے ہیں اور گرمی فصلوں کو کتنا نقصان پہنچاتی ہے۔
مکئی اور چینی بھی مہنگائی کی لپیٹ میں
گندم اکیلی نہیں، مکئی کی عالمی قیمت بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.6 فیصد بڑھی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کے بعض علاقوں میں گرم اور خشک موسم کے خدشات کے ساتھ توانائی کی بلند قیمتوں نے مارکیٹ کو مزید دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔
چینی کی صورتحال اس سے بھی زیادہ نمایاں رہی، جس کی جولائی میں عالمی قیمت 5.6 فیصد بڑھ گئی۔ یورپ اور ایشیا میں موسم کے حوالے سے خدشات کے علاوہ برازیل میں ایتھنول کی بڑھتی طلب کی توقع نے چینی کی قیمت کو سہارا دیا۔
اس کے برعکس چاول کی قیمتیں مجموعی طور پر نسبتاً مستحکم رہیں، جو درآمدی خوراک پر انحصار کرنے والے کئی ایشیائی ملکوں کے لیے فی الحال ایک مثبت اشارہ ہے۔
پاکستان الرٹ
عالمی غذائی مہنگائی ہم تک کیسے پہنچے گی؟
+
تیل مہنگا ہو تو کھانا کیوں مہنگا ہوتا ہے؟
خوراک اور خام تیل بظاہر دو مختلف منڈیاں دکھائی دیتی ہیں، لیکن جدید زرعی نظام میں دونوں کا تعلق انتہائی گہرا ہے۔ ٹریکٹر سے فصل کی نقل و حمل تک توانائی درکار ہوتی ہے، جبکہ کھاد کی پیداوار بھی توانائی کی قیمتوں سے متاثر ہوتی ہے۔
ایران امریکا محاذ آرائی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی رکاوٹوں نے زرعی منڈی کی تشویش بڑھائی ہے۔
ہرمز عالمی توانائی اور کھاد کی تجارت کا اہم راستہ ہے۔ یہاں خلل زرعی پیداوار اور نقل و حمل دونوں کی لاگت بڑھا سکتا ہے۔
عالمی ادارہ خوراک و زراعت پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ اس راستے میں رکاوٹ سے کھاد کی منڈی، تجارتی بہاؤ اور زرعی پیداواری لاگت متاثر ہوسکتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق یہی دباؤ بالآخر خوراک کی قیمتوں میں منتقل ہونے کا خطرہ رکھتا ہے۔
🌐
عالمی فوڈ الرٹ: دنیا دوبارہ مہنگائی کے شکنجے میں کیوں؟
◀
خوردنی تیل پر دہرا دباؤ
رپورٹ کے مطابق جولائی میں سبزیوں کے تیل کی قیمتوں کا انڈیکس 2 فیصد بڑھ کر جون 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔
خام تیل کی قیمت اور بائیو ڈیزل کی مضبوط طلب نے پام آئل اور سویا بین آئل کو مہنگا کیا۔ دوسری جانب ریپ سیڈ اور سورج مکھی کے تیل کی قیمتوں میں کمی نے اس اضافے کو کسی حد تک محدود رکھا۔
یہ تعلق اس لیے بھی اہم ہے کہ جب خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو بائیو فیول کی کشش بڑھ سکتی ہے۔ نتیجتاً سویا، پام اور دوسری زرعی اجناس پر توانائی کی منڈی کا دباؤ بھی آنے لگتا ہے۔
ہر چیز مہنگی نہیں ہوئی
عالمی فوڈ مارکیٹ کی تصویر مکمل طور پر یک طرفہ نہیں ہے۔ جولائی میں گوشت کی قیمتوں کا انڈیکس 2.8 فیصد گرا اور رواں سال پہلی ماہانہ کمی ریکارڈ ہوئی۔
اسی طرح مرغی کے گوشت کی قیمت بھی نیچے آئی، جس میں برازیل سے برآمد کے لیے وافر سپلائی نے اہم کردار ادا کیا۔ سور اور گائے کا گوشت بھی سستا ہوا، لیکن بھیڑ کے گوشت نے الٹی سمت اختیار کی اور اس کی قیمت نئی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔
ڈیری مصنوعات کا انڈیکس بھی 0.7 فیصد نیچے آیا۔ مکھن اور دودھ کے پاؤڈر کی قیمتوں میں کمی اتنی رہی کہ پنیر مہنگا ہونے کے باوجود مجموعی ڈیری انڈیکس نیچے آگیا۔
⚔️
جنگ سے دسترخوان تک: خوراک مہنگی ہونے کی پوری کہانی
✚
پاکستان کے لیے اصل خطرہ کہاں ہے؟
پاکستان جیسے ملک کے لیے عالمی خوراک کی یہ نئی لہر خاص اہمیت رکھتی ہے۔
بین الاقوامی اجناس مہنگی ہونے کے ساتھ اگر توانائی، کھاد اور شپنگ کے اخراجات بھی بڑھیں تو مقامی قیمتوں پر دباؤ کئی راستوں سے آسکتا ہے۔
عالمی منڈی کی قیمت فوراً دکان تک نہیں پہنچتی۔ عالمی ادارہ خوارک و زراعت کے چیف اکانومسٹ میکسیمو ٹوریرو کے مطابق اجناس کی بلند قیمتوں کا صارفین کی غذائی قیمتوں تک اثر عموماً 3 سے 6 ماہ کے وقفے سے منتقل ہوسکتا ہے۔
اسی لیے جولائی کی مہنگائی صرف ابھی کے لیے نہیں، یہ آئندہ مہینوں کے لیے ابتدائی انتباہ بھی ہوسکتی ہے۔
⚓
بحیرہ اسود تا ہرمز: کون سے راستے خوراک مہنگی کررہے ہیں؟
تفصیلات
- ▪ اہمیت: عالمی گندم اور اناج کی برآمدات کا مرکزی راستہ۔
- ▪ خطاطی مسئلہ: روس یوکرین جنگ کے باعث تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے خدشات۔
- ▪ اثر: سیکیورٹی رسک سے انشورنس اور شپنگ کے اخراجات بڑھ کر گندم مہنگی کرتے ہیں۔
- ▪ اہمیت: خام تیل اور کیمیائی کھاد کی عالمی ترسیل کی شاہراہ۔
- ▪ خطاطی مسئلہ: ایران امریکا تنازع اور جہاز رانی میں رکاوٹوں کا خطرہ۔
- ▪ اثر: کھاد کی پیداوار اور زرعی ایندھن کی لاگت براہ راست اوپر جاتی ہے۔
کھیت سے زیادہ دنیا کی سیاست
خوراک کی موجودہ مہنگائی ایک اہم تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
اب کسی فصل کی قیمت صرف بارش، پیداوار اور طلب سے طے نہیں ہوتی۔ جنگ، سمندری راستے، خام تیل، کھاد، بائیو فیول اور شدید موسم بھی اسی قیمت کا حصہ بن چکے ہیں۔
اگر بحیرہ اسود میں کشیدگی مزید بڑھی، آبنائے ہرمز کی تجارت متاثر رہی یا شدید موسم نے اہم فصلوں کو نقصان پہنچایا تو موجودہ اضافہ ایک طویل مہنگائی کی لہر میں بدل سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق اصل سوال اب یہ نہیں کہ خوراک مہنگی ہوئی ہے یا نہیں۔ بڑا سوال یہ ہے کہ گندم کے کھیت سے گھر کی روٹی تک پہنچنے والی پوری زنجیر اگلے عالمی جھٹکے کو کتنی دیر برداشت کرسکتی ہے۔