براہ راست نشریات

گندم سے چینی تک: خوراک کا عالمی بحران دستک دینے لگا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
غذائی بحران اور گندم کی بڑھتی عالمی قیمتیں
جولائی 2026 میں عالمی غذائی قیمتوں کا انڈیکس 131.1 پوائنٹس تک پہنچ چکا ہے (فوٹو: اے آئی)
OVERSEAS POST  |  PREMIUM BUSINESS STORY

دنیا میں مہنگائی کا نیا خطرہ خاموشی سے سر اٹھا رہا ہے اور اس مرتبہ معاملہ صرف تیل یا ڈالر تک محدود نہیں۔

مزید پڑھیں

رپورٹس کے مطابق گندم، مکئی، چینی اور خوردنی تیل جیسی بنیادی غذائی اشیا کی عالمی قیمتیں دوبارہ اوپر جارہی ہیں۔ اس تبدیلی کے اثرات آنے والے مہینوں میں عام صارف کی جیب تک پہنچ سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت  کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2026 میں عالمی غذائی قیمتوں کا انڈیکس 131.1 پوائنٹس تک پہنچ چکا ہے۔

جون میں یہی شرح 130.3 پوائنٹس تھی۔ یوں عالمی غذائی قیمتیں 3 سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر آگئی ہیں۔

🍞
مہنگی روٹی کا خطرہ: کون سی غذائیں سب سے زیادہ متاثر؟
🌾 گندم اور اناج شدید متاثر (+5.8%)
بحیرہ اسود میں کشیدگی اور یورپ میں شدید گرمی سے فصلوں کو نقصان پہنچا، جس کے باعث گندم کی قیمتیں 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
🍬 چینی اور میٹھا تیز اضافہ (+5.6%)
برازیل میں بائیو ایندھن (ایتھنول) کی بڑھتی طلب اور ایشیا و یورپ میں موسم کی خرابی کے باعث چینی کی عالمگیر سپلائی شدید متاثر ہوئی۔
🧴 خوردنی تیل درمیانہ دباؤ (+2.0%)
خام تیل مہنگا ہونے سے پام اور سویا بین آئل کی قیمتیں جون 2022 کے بعد سب سے اوپر گئیں، تاہم سورج مکھی کے تیل کی کمی نے کچھ توازن قائم رکھا۔
🍗 گوشت و ڈیری قیمتوں میں کمی (-2.8%)
مرغی، گائے اور ڈیری مصنوعات (مکھن، پاؤڈر) کی عالمی سپلائی بہتر ہونے سے ان کے انڈیکس میں کمی دیکھی گئی، جس سے جزوی راحت ملی۔

ایک بحران نہیں، کئی مسائل اکٹھے

عالمی خوراک کی منڈی میں موجودہ تیزی کے پیچھے کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ جنگیں، شدید موسم، توانائی کی قیمتیں اور اہم تجارتی راستوں میں رکاوٹیں بیک وقت زرعی منڈی کو متاثر کررہی ہیں۔

عالمی ادارے کے مطابق جولائی میں مجموعی فوڈ پرائس انڈیکس ماہانہ بنیاد پر 0.6 فیصد بڑھا، جبکہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں اضافہ ایک فیصد رہا۔ 

بظاہر یہ اضافہ بہت بڑا نہیں ہے، لیکن مختلف اجناس کے اندر ہونے والی تیز تبدیلی زیادہ اہم ہے۔

خاص طور پر اناج کی قیمتوں کا انڈیکس صرف ایک ماہ میں 3.4 فیصد بڑھا ہے۔ یہی اضافہ جولائی کے مجموعی فوڈ انڈیکس کو اوپر لے جانے کا سب سے بڑا سبب بنا۔

خوراک کا عالمی بحران 🌾

گندم اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ عالمی مہنگائی میں تیزی

جولائی 2026 میں عالمی غذائی قیمتوں کا انڈیکس 131.1 پوائنٹس تک پہنچ کر 3 سال کی بلند ترین سطح پر آگیا ہے۔ جنگیں، شدید موسم اور تجارتی رکاوٹیں اس بحران کے اہم اسباب ہیں۔

🚨 فوڈ پرائس انڈیکس 131.1

عالمی غذائی انڈیکس 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جس میں ماہانہ 0.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔

🌾 گندم کی قیمت 5.8%

بحیرہ اسود کی کشیدگی اور شدید گرمی کے باعث سالانہ بنیادوں پر گندم کی قیمت میں بڑا اضافہ۔

📈 چینی اور دیگر اجناس 5.6%

جولائی میں چینی 5.6 فیصد اور مکئی 3.6 فیصد مہنگی ہوئی، جبکہ چاول کی قیمت مستحکم رہی۔

⏱️ پاکستان پر اثرات 3-6

عالمی اجناس کی قیمتوں کے اثرات مقامی دکانوں تک منتقل ہونے میں 3 سے 6 ماہ کا وقت لگتا ہے۔

📊 اہم اجناس میں ماہانہ اضافہ (جولائی 2026)
چینی +5.6%
اناج (مجموعی) +3.4%
سبزیوں کا تیل +2.0%

گندم پھر عالمی سیاست کے بیچ آگئی

گندم کی عالمی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 5.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے پیچھے بحیرہ اسود سے برآمدات میں ممکنہ رکاوٹ اور بڑے پیداواری علاقوں میں شدید گرمی سے فصل متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں ہے۔

بحیرہ اسود عالمی اناج کی تجارت کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ روس اور یوکرین دونوں بڑے زرعی برآمد کنندگان ہیں، اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان حملوں میں شدت صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتی۔  اس کا اثر عالمی منڈی میں گندم کی دستیابی اور قیمت پر بھی پڑتا ہے۔

جون میں انہی خدشات کے دوران گندم کی قیمت 2 سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔  اب مارکیٹ کی نظریں اس بات پر ہیں کہ بحیرہ اسود کے تجارتی راستے کتنے محفوظ رہتے ہیں اور گرمی فصلوں کو کتنا نقصان پہنچاتی ہے۔

معیشت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ پر نظر رکھیں، کلک کریں

مکئی اور چینی بھی مہنگائی کی لپیٹ میں

گندم اکیلی نہیں، مکئی کی عالمی قیمت بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.6 فیصد بڑھی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا کے بعض علاقوں میں گرم اور خشک موسم کے خدشات کے ساتھ توانائی کی بلند قیمتوں نے مارکیٹ کو مزید دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔

چینی کی صورتحال اس سے بھی زیادہ نمایاں رہی، جس کی جولائی میں عالمی قیمت 5.6 فیصد بڑھ گئی۔ یورپ اور ایشیا میں موسم کے حوالے سے خدشات کے علاوہ برازیل میں ایتھنول کی بڑھتی طلب کی توقع نے چینی کی قیمت کو سہارا دیا۔

اس کے برعکس چاول کی قیمتیں مجموعی طور پر نسبتاً مستحکم رہیں، جو درآمدی خوراک پر انحصار کرنے والے کئی ایشیائی ملکوں کے لیے فی الحال ایک مثبت اشارہ ہے۔

پاکستان کا پرچم پاکستان الرٹ
عالمی غذائی مہنگائی ہم تک کیسے پہنچے گی؟
+
1
درآمدی لاگت اور شپنگ میں اضافہ
عالمی اجناس، خام تیل اور بحری کرایوں (شپنگ) میں اضافے سے خام مال کی عالمی قیمت فوراً بڑھ جاتی ہے۔
2
زرعی پیداواری لاگت پر دباؤ
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے کھاد اور ایندھن مہنگا ہونے سے مقامی فصلوں کی تیاری مزید مہنگی ہو جاتی ہے۔
3
مقامی بازار تک منتقلی کا وقفہ (3 تا 6 ماہ)
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی کی مہنگائی کا اثر عام پاکستانی شہری کی جیب اور دکان تک پہنچنے میں 3 سے 6 ماہ کا وقت لگتا ہے۔
جولائی کی عالمی مہنگائی آئندہ 3 سے 6 مہینوں میں مقامی مارکیٹ میں منتقل ہونے کا قوی امکان ہے۔

تیل مہنگا ہو تو کھانا کیوں مہنگا ہوتا ہے؟

خوراک اور خام تیل بظاہر دو مختلف منڈیاں دکھائی دیتی ہیں، لیکن جدید زرعی نظام میں دونوں کا تعلق انتہائی گہرا ہے۔ ٹریکٹر سے فصل کی نقل و حمل تک توانائی درکار ہوتی ہے، جبکہ کھاد کی پیداوار بھی توانائی کی قیمتوں سے متاثر ہوتی ہے۔

ایران امریکا محاذ آرائی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی رکاوٹوں نے زرعی منڈی کی تشویش بڑھائی ہے۔

ہرمز عالمی توانائی اور کھاد کی تجارت کا اہم راستہ ہے۔ یہاں خلل زرعی پیداوار اور نقل و حمل دونوں کی لاگت بڑھا سکتا ہے۔

عالمی ادارہ خوراک و زراعت پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ اس راستے میں رکاوٹ سے کھاد کی منڈی، تجارتی بہاؤ اور زرعی پیداواری لاگت متاثر ہوسکتی ہے۔ 

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق یہی دباؤ بالآخر خوراک کی قیمتوں میں منتقل ہونے کا خطرہ رکھتا ہے۔

🌐
عالمی فوڈ الرٹ: دنیا دوبارہ مہنگائی کے شکنجے میں کیوں؟
131.1
عالمی فوڈ انڈیکس (جولائی 2026)
3 سال
بلند ترین سطح کا نیا ریکارڈ
🔥 شدید موسم اور گرمی
امریکا، یورپ اور ایشیا کے مختلف زرعی خطوں میں غیرمعمولی گرمی اور خشکی سے گندم و مکئی کی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔
⛽ بائیو فیول کی بڑھتی طلب
خام تیل مہنگا ہونے پر برازیل جیسے ممالک نے سویا، پام اور چینی کو بائیو ڈیزل/ایتھنول کی تیاری کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
🚢 تجارتی شاہراہوں پر بحران
بحیرہ اسود اور آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں پر کشیدگی سے شپنگ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
📉 مجموعی اشاریے میں تیزی
صرف ایک ماہ میں فوڈ انڈیکس میں 0.6 فیصد اور اناج میں 3.4 فیصد اضافے نے زرعی منڈی میں کھلبلی مچا دی ہے۔

خوردنی تیل پر دہرا دباؤ

رپورٹ کے مطابق جولائی میں سبزیوں کے تیل کی قیمتوں کا انڈیکس 2 فیصد بڑھ کر جون 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔

خام تیل کی قیمت اور بائیو ڈیزل کی مضبوط طلب نے پام آئل اور سویا بین آئل کو مہنگا کیا۔ دوسری جانب ریپ سیڈ اور سورج مکھی کے تیل کی قیمتوں میں کمی نے اس اضافے کو کسی حد تک محدود رکھا۔

یہ تعلق اس لیے بھی اہم ہے کہ جب خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو بائیو فیول کی کشش بڑھ سکتی ہے۔ نتیجتاً سویا، پام اور دوسری زرعی اجناس پر توانائی کی منڈی کا دباؤ بھی آنے لگتا ہے۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

ہر چیز مہنگی نہیں ہوئی

عالمی فوڈ مارکیٹ کی تصویر مکمل طور پر یک طرفہ نہیں ہے۔ جولائی میں گوشت کی قیمتوں کا انڈیکس 2.8 فیصد گرا اور رواں سال پہلی ماہانہ کمی ریکارڈ ہوئی۔

اسی طرح مرغی کے گوشت کی قیمت بھی نیچے آئی، جس میں برازیل سے برآمد کے لیے وافر سپلائی نے اہم کردار ادا کیا۔ سور اور گائے کا گوشت بھی سستا ہوا، لیکن بھیڑ کے گوشت نے الٹی سمت اختیار کی اور اس کی قیمت نئی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔

ڈیری مصنوعات کا انڈیکس بھی 0.7 فیصد نیچے آیا۔ مکھن اور دودھ کے پاؤڈر کی قیمتوں میں کمی اتنی رہی کہ پنیر مہنگا ہونے کے باوجود مجموعی ڈیری انڈیکس نیچے آگیا۔

⚔️ جنگ سے دسترخوان تک: خوراک مہنگی ہونے کی پوری کہانی
روس کا پرچم یوکرین کا پرچم بحیرہ اسود میں فوجی کشیدگی
روس اور یوکرین کے درمیان جاری حملوں سے دنیا کے سب سے بڑے غلے کی سپلائی کا راستہ غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ حملوں میں شدت گندم اور اناج کی بین الاقوامی قیمتیں فوری بڑھا دیتی ہے۔
ایران کا پرچم امریکا کا پرچم آبنائے ہرمز کا محاذ
ایران امریکا تنازع سے توانائی اور کھاد کی عالمی نقل و حمل متاثر ہونے کا شدید خدشہ ہے، جس سے زرعی پیداوازی لاگت بڑھ رہی ہے۔
🚜 کھیت سے ایندھن کا ربط
ٹریکٹر چلانے سے لے کر فصل کی شپنگ اور کیمیائی کھاد کی تیاری تک، تمام مراحل کا انحصار خام تیل کی قیمتوں پر ہوتا ہے۔

پاکستان کے لیے اصل خطرہ کہاں ہے؟

پاکستان جیسے ملک کے لیے عالمی خوراک کی یہ نئی لہر خاص اہمیت رکھتی ہے۔

بین الاقوامی اجناس مہنگی ہونے کے ساتھ اگر توانائی، کھاد اور شپنگ کے اخراجات بھی بڑھیں تو مقامی قیمتوں پر دباؤ کئی راستوں سے آسکتا ہے۔

عالمی منڈی کی قیمت فوراً دکان تک نہیں پہنچتی۔ عالمی ادارہ خوارک و زراعت کے چیف اکانومسٹ میکسیمو ٹوریرو کے مطابق اجناس کی بلند قیمتوں کا صارفین کی غذائی قیمتوں تک اثر عموماً 3 سے 6 ماہ کے وقفے سے منتقل ہوسکتا ہے۔

اسی لیے جولائی کی مہنگائی صرف ابھی کے لیے نہیں، یہ آئندہ مہینوں کے لیے ابتدائی انتباہ بھی ہوسکتی ہے۔

بحیرہ اسود تا ہرمز: کون سے راستے خوراک مہنگی کررہے ہیں؟
تفصیلات
روس کا پرچم یوکرین کا پرچم بحیرہ اسود (Black Sea)
  • اہمیت: عالمی گندم اور اناج کی برآمدات کا مرکزی راستہ۔
  • خطاطی مسئلہ: روس یوکرین جنگ کے باعث تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے خدشات۔
  • اثر: سیکیورٹی رسک سے انشورنس اور شپنگ کے اخراجات بڑھ کر گندم مہنگی کرتے ہیں۔
ایران کا پرچم آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)
  • اہمیت: خام تیل اور کیمیائی کھاد کی عالمی ترسیل کی شاہراہ۔
  • خطاطی مسئلہ: ایران امریکا تنازع اور جہاز رانی میں رکاوٹوں کا خطرہ۔
  • اثر: کھاد کی پیداوار اور زرعی ایندھن کی لاگت براہ راست اوپر جاتی ہے۔

کھیت سے زیادہ دنیا کی سیاست

خوراک کی موجودہ مہنگائی ایک اہم تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

اب کسی فصل کی قیمت صرف بارش، پیداوار اور طلب سے طے نہیں ہوتی۔ جنگ، سمندری راستے، خام تیل، کھاد، بائیو فیول اور شدید موسم بھی اسی قیمت کا حصہ بن چکے ہیں۔

اگر بحیرہ اسود میں کشیدگی مزید بڑھی، آبنائے ہرمز کی تجارت متاثر رہی یا شدید موسم نے اہم فصلوں کو نقصان پہنچایا تو موجودہ اضافہ ایک طویل مہنگائی کی لہر میں بدل سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق اصل سوال اب یہ نہیں کہ خوراک مہنگی ہوئی ہے یا نہیں۔ بڑا سوال یہ ہے کہ گندم کے کھیت سے گھر کی روٹی تک پہنچنے والی پوری زنجیر اگلے عالمی جھٹکے کو کتنی دیر برداشت کرسکتی ہے۔

🌾 اصل ذرائع ORIGINAL SOURCES عالمی غذائی قیمتوں، جنگ، موسم، توانائی اور کھاد کے بحران سے متعلق بنیادی اور سرکاری حوالہ جات 4 معتبر ذرائع
🌍 عالمی غذائی قیمتیں اور فوڈ پرائس انڈیکس
🌾 فاو — عالمی غذائی قیمتوں کا سرکاری انڈیکس اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کا بنیادی ڈیٹا پیج، جہاں عالمی سطح پر اناج، خوردنی تیل، گوشت، ڈیری اور چینی کی قیمتوں میں ماہانہ تبدیلی ریکارڈ کی جاتی ہے۔ سرکاری اقوام متحدہ ماخذ اصل ڈیٹا دیکھیں ↗ 📈 روئٹرز — عالمی خوراک تین سال کی بلند ترین سطح پر جولائی 2026 میں عالمی غذائی قیمتوں میں اضافے، گندم، مکئی، چینی اور خوردنی تیل کی تیزی، خراب موسم اور خلیج و بحیرہ اسود کی جنگی کشیدگی پر بنیادی بین الاقوامی رپورٹ۔ بنیادی بین الاقوامی رپورٹ اصل رپورٹ کھولیں ↗
⛽ آبنائے ہرمز، توانائی اور کھاد کا بحران
🚢 فاو — آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی خوراک کا خطرہ فاو کے چیف اکانومسٹ کی سرکاری بریفنگ، جس میں ہرمز کے راستے تجارت میں خلل، ایندھن اور کھاد کی بڑھتی لاگت اور زرعی پیداوار پر ممکنہ اثرات کی تفصیل دی گئی ہے۔ سرکاری فاو بریفنگ سرکاری رپورٹ کھولیں ↗ 🔥 فاو — مشرق وسطیٰ جنگ کے عالمی زرعی اثرات ایران اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث توانائی، کھاد، زرعی تجارت اور غذائی تحفظ کو لاحق خطرات پر فاو کی تفصیلی تکنیکی رپورٹ، خاص طور پر درآمدی ممالک کے لیے۔ عالمی زرعی و معاشی تجزیہ تحقیقی رپورٹ کھولیں ↗
📝 ادارتی نوٹ: اس فیچر رپورٹ کی تیاری میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے سرکاری Food Price Index، ہرمز بحران سے متعلق فاو کی بریفنگ اور تکنیکی تجزیے کے ساتھ روئٹرز کی 7 اگست 2026 کی بنیادی عالمی رپورٹ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ BY: overseaspost.net