اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے متعلق جنگی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث عالمی غذائی منڈیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
مئی 2026 میں عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ 3 سال کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔
گندم، مکئی، چاول اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ زرعی پیداوار کے لیے ایندھن اور کھاد مہنگی ہونے سے آئندہ مہینوں میں خوراک کی مزید مہنگائی اور عالمی غذائی بحران کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
اس کے برعکس:
ریپ سیڈ آئل کی قیمتیں یورپی یونین میں محدود رسد کے باعث بڑھیں۔
سورج مکھی کے تیل کی قیمتیں یوکرین سمیت بعض علاقوں میں سپلائی کی کمی کے باعث بلند رہیں۔
دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات کا اشاریہ 0.5 فیصد کم ہو کر 119.2 پوائنٹس رہا، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں 22.4 فیصد کم ہے۔
یورپ اور اوشیانا میں مکھن کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ دودھ کی چکنائی کی بہتر دستیابی اور برآمد کنندگان کے درمیان بڑھتا ہوا مقابلہ ہے۔
گوشت کی قیمتیں تقریباً مستحکم رہیں اور اشاریہ 130.5 پوائنٹس پر پہنچا، جو اپریل کے مقابلے میں صرف 0.1 فیصد زیادہ اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.3 فیصد بلند ہے۔
FAO نے ایک علیحدہ رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ 2026/2027 کے سیزن میں عالمی اناج کی پیداوار 2 فیصد کم ہو کر 2.982 ارب ٹن رہ سکتی ہے۔