اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

جنگ کے اثرات: دنیا بھر میں خوراک مہنگی، غذائی بحران کا خطرہ بڑھ گیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عالمی غذائی بحران

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے متعلق جنگی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث عالمی غذائی منڈیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
مئی 2026 میں عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ 3 سال کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔
گندم، مکئی، چاول اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ زرعی پیداوار کے لیے ایندھن اور کھاد مہنگی ہونے سے آئندہ مہینوں میں خوراک کی مزید مہنگائی اور عالمی غذائی بحران کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت FAO کے مطابق مئی 2026 میں عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ گزشتہ 3 سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہا، تاہم اپریل کے مقابلے میں اس میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ 

پام آئل اور سویا بین آئل کی قیمتوں میں کمی نے امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث زرعی شعبے میں پیدا ہونے والی لاگت کے دباؤ کو کسی حد تک متوازن کر دیا۔

ایران سے متعلق جنگ اور کشیدگی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے ایندھن اور کھاد کی ترسیل متاثر ہوئی، جس سے زرعی پیداوار کے بنیادی اخراجات میں اضافہ ہوا۔ 

اس کے باعث مکئی، چاول اور دیگر غذائی اجناس کی کاشت مہنگی ہوگئی، جبکہ دنیا کے کئی بڑے کسانوں نے پیداوار میں کمی کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

مزید پڑھیں

FAO کے مطابق عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ مئی میں 130.8 پوائنٹس پر رہا، جو اپریل کے مقابلے میں صرف 0.2 پوائنٹس کم ہے۔ 

یہ اشاریہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.9 فیصد زیادہ جبکہ مارچ 2022 کی ریکارڈ بلند سطح سے 18.4 فیصد کم ہے۔

یہ اشاریہ پانچ بنیادی غذائی شعبوں پر مشتمل ہے:

  •  اناج
  • نباتاتی تیل
  • گوشت
  • دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات
  • چینی
ChatGPT Image 5 يونيو 2026، 08 50 26 م

اناج اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ

مئی میں اناج کی قیمتوں کا اشاریہ 2.6 فیصد بڑھ کر 114.3 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 4.9 فیصد زیادہ ہے۔

عالمی سطح پر گندم کی قیمتیں مسلسل چوتھے ماہ بڑھیں، کیونکہ امریکا سمیت کئی بڑے برآمد کنندگان میں کم پیداوار کے خدشات پیدا ہوئے۔ 

امریکا میں موسمِ سرما کی گندم کی فصل کئی دہائیوں کی کمزور ترین صورتحال سے دوچار ہے۔ ایندھن اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی گندم کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا۔

FAO Food Price Index

عالمی غذائی قیمتیں 3 سال کی بلند سطح کے قریب

مئی 2026 میں FAO اشاریہ 130.8 پوائنٹس پر رہا؛ اناج اور چینی مہنگی جبکہ نباتاتی تیل اور ڈیری مصنوعات میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

🌾

130.8

غذائی قیمتوں کا مجموعی اشاریہ

📉

-0.2

اپریل کے مقابلے معمولی کمی

📈

+2.9%

گزشتہ سال کے مقابلے اضافہ

🛢️

-18.4%

مارچ 2022 کی ریکارڈ سطح سے کم

📊 پانچ بنیادی غذائی شعبے

🌾 اناج: 2.6% اضافہ

گندم، مکئی اور چاول کی قیمتوں میں اضافہ کم پیداوار کے خدشات، درآمدی طلب اور توانائی لاگت کے باعث ہوا۔

🍬 چینی: 7.5% اضافہ

برازیل میں گنے کی پیداوار اور ایتھنول کی طرف منتقلی کے خدشات نے چینی کی قیمتوں کو اکتوبر 2025 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچایا۔

🌻 نباتاتی تیل: 4.6% کمی

پام آئل کی قیمتیں پانچ ماہ اضافے کے بعد کم ہوئیں، جبکہ ریپ سیڈ اور سورج مکھی کے تیل میں رسد کی کمی سے اضافہ برقرار رہا۔

🥛 ڈیری: 0.5% کمی

یورپ اور اوشیانا میں مکھن کی قیمتوں میں کمی اور برآمد کنندگان کے درمیان مقابلے نے ڈیری اشاریہ نیچے لایا۔

🥩 گوشت: تقریباً مستحکم

گوشت کا اشاریہ 130.5 پوائنٹس پر رہا، جو اپریل کے مقابلے میں صرف 0.1 فیصد زیادہ ہے۔

🌍 عالمی اناج پیداوار کا منظرنامہ

🌾 2026/27 پیداوار: 2.982 ارب ٹن
📉 متوقع کمی: 2%
📦 ذخائر: 949 ملین ٹن
🚢 تجارت: 507.2 ملین ٹن

📌 خلاصہ

توانائی، کھاد، آبنائے ہرمز کی رکاوٹیں اور موسمی خدشات عالمی غذائی قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، اگرچہ پام آئل اور سویا بین آئل کی کمی نے مجموعی اشاریے کو معمولی نیچے رکھا۔

overseaspost.net

مکئی کی قیمتوں کو بھی عالمی درآمدی طلب میں اضافے، برازیل اور امریکا میں محدود رسد اور توانائی کی بلند قیمتوں سے سہارا ملا، کیونکہ ایتھنول کی پیداوار کے لیے مکئی کی طلب بڑھ رہی ہے۔

چاول کی قیمتوں میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجوہات موسمی خدشات اور خام تیل کی بلند قیمتیں تھیں، خاص طور پر ایشیا کے اہم برآمدی ممالک میں۔

اسی طرح چینی کی قیمتوں کا اشاریہ 7.5 فیصد بڑھ کر 95.1 پوائنٹس پر پہنچ گیا، جو اکتوبر 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ 

اگرچہ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اب بھی 13.1 فیصد کم ہے، تاہم عالمی رسد میں ممکنہ کمی کے خدشات قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے۔

برازیل کے جنوبی علاقوں میں گنے کی فصل کے تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ چینی کی پیداوار کے لیے مختص گنے کا تناسب کم ہوا ہے، جس سے زیادہ مقدار ایتھنول کی تیاری کی طرف منتقل ہونے کی توقع ہے۔

ChatGPT Image 5 يونيو 2026، 08 48 20 م

نباتاتی تیل اور ڈیری مصنوعات

نباتاتی تیل کا اشاریہ 4.6 فیصد کم ہو کر 185 پوائنٹس پر آگیا، جو 2026 کے آغاز کے بعد پہلی ماہانہ کمی ہے۔

پام آئل کی عالمی قیمتیں مسلسل پانچ ماہ اضافے کے بعد نیچے آئیں، کیونکہ درآمدی طلب میں کمی اور خام تیل کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال نے مارکیٹ پر اثر ڈالا۔

گندم، مکئی،
چاول اور چینی کی
عالمی قیمتوں میں
نمایاں اضافہ
ریکارڈ کیا گیا

اس کے برعکس:
ریپ سیڈ آئل کی قیمتیں یورپی یونین میں محدود رسد کے باعث بڑھیں۔
سورج مکھی کے تیل کی قیمتیں یوکرین سمیت بعض علاقوں میں سپلائی کی کمی کے باعث بلند رہیں۔
دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات کا اشاریہ 0.5 فیصد کم ہو کر 119.2 پوائنٹس رہا، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں 22.4 فیصد کم ہے۔
یورپ اور اوشیانا میں مکھن کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ دودھ کی چکنائی کی بہتر دستیابی اور برآمد کنندگان کے درمیان بڑھتا ہوا مقابلہ ہے۔
گوشت کی قیمتیں تقریباً مستحکم رہیں اور اشاریہ 130.5 پوائنٹس پر پہنچا، جو اپریل کے مقابلے میں صرف 0.1 فیصد زیادہ اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.3 فیصد بلند ہے۔
FAO نے ایک علیحدہ رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ 2026/2027 کے سیزن میں عالمی اناج کی پیداوار 2 فیصد کم ہو کر 2.982 ارب ٹن رہ سکتی ہے۔

ادارے کے مطابق:

  • گندم، مکئی اور جو سمیت تمام بڑی فصلوں کی پیداوار میں کمی متوقع ہے۔
  • سب سے زیادہ نسبتی کمی گندم میں اور سب سے کم مکئی اور جو میں متوقع ہے۔

اس کے برعکس، 2025 میں عالمی اناج کی پیداوار 3.043 ارب ٹن رہی تھی، جو 2024 کے مقابلے میں 6.1 فیصد زیادہ تھی، اور اس اضافے میں مکئی کی ریکارڈ پیداوار نے اہم کردار ادا کیا۔

ChatGPT Image 5 يونيو 2026، 09 19 19 م

استعمال، ذخائر اور تجارت

  • عالمی اناج کا استعمال 0.6 فیصد بڑھ کر 2.969 ارب ٹن ہو جائے گا۔
  • خوراک کے طور پر استعمال 1 فیصد بڑھے گا۔
  • جانوروں کے چارے میں استعمال 0.5 فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔

اسی دوران:

  • عالمی اناج کے ذخائر 0.3 فیصد کم ہو کر 949 ملین ٹن رہ سکتے ہیں۔
  • ذخائر اور استعمال کا تناسب تقریباً 31.7 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع ہے۔

عالمی اناج کی تجارت بھی 0.3 فیصد کم ہو کر 507.2 ملین ٹن رہنے کا امکان ہے، کیونکہ گندم اور جو کی تجارت میں کمی متوقع ہے، جبکہ:

  • مکئی کی تجارت 3.9 فیصد
  • اور چاول کی تجارت 1.4 فیصد بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

بشکریہ: الجزیرہ