ایشیا میں رواں سال مئی کے دوران چاول کی قیمتوں میں گزشتہ 2 دہائیوں کا سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مزید پڑھیں
اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجوہات میں مشرق وسطیٰ کی جنگ، توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیداوار میں کمی کے خدشات شامل ہیں۔
بلومبرگ کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق تھائی سفید چاول کی قیمت مئی میں 20 فیصد تک بڑھ گئی ہے جو 2008 کے بعد سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہے۔
اسی طرح شکاگو بورڈ آف ٹریڈ میں چاول کے مستقبل کے سودوں میں بھی 15 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں کیونکہ بحیرہ الکاہل میں درجہ حرارت بڑھنے سے ’ایل نینو‘ کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔
یہ موسمیاتی تبدیلی ایشیا میں خشک سالی اور شدید گرمی کا باعث بنتی ہے جس سے فصلیں متاثر ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ ایشیائی ممالک کو ایندھن اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بھی شدید دباؤ کاسامنا ہے۔
آبنائے ہرمز کی جزوی بندش کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی ہے جس سے کھاد کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے کیونکہ چاول کی فصل میں کھاد کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔
انٹرنیشنل رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور فلپائن میں نائٹروجن کھاد کی قیمتوں میں فروری سے اب تک 40 سے 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اگر کھاد کی عالمی تجارت جلد بحال نہ ہوئی تو آنے والے مہینوں میں چاول کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
اسی طرح چاول کے کھیتوں کی سیرابی کے لیے استعمال ہونے والے پمپ زیادہ تر ڈیزل پر چلتے ہیں، جس کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ پیداواری لاگت بڑھانے کا اہم سبب بن رہا ہے۔
ویتنام میں کسانوں نے مہنگی کھاد اور ناموافق موسم کی وجہ سے کاشتکاری کے سیزن کم کر دیے ہیں۔
فلپائن نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کی شدت کی وجہ سے چاول کی پیداوار میں 7 لاکھ ٹن تک کمی ہو سکتی ہے جو کہ سالانہ ہدف کا ساڑھے 3 فیصد ہے۔
علاوہ ازیں بھارت، تھائی لینڈ اور ویتنام جیسے بڑے برآمد کنندگان کی پیداوار میں کمی عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہوگی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت میں موجود وافر ذخائر اور عالمی طلب میں کمی کی وجہ سے قیمتوں میں اضافے کی رفتار کسی حد تک محدود رہ سکتی ہے۔
تاہم حالیہ رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ اور ایل نینو کے اثرات کئی سالوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
ای سی آئی یو کی رپورٹ بتاتی ہے کہ بحران کے وقت قیمتیں تیزی سے بڑھتی ہیں لیکن حالات معمول پر آنے کے بعد ان میں کمی بہت سست ہوتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق قیمتیں 2 سال گزرنے کے بعد بھی صرف 7 فیصد تک ہی کم ہو پاتی ہیں۔
ایرانی کشیدگی نے توانائی اور کھاد کی فراہمی میں بڑے پیمانے پر خلل ڈالا ہے کیونکہ عالمی سطح پر یوریا کی 36 فیصد پیداوار خلیج عرب سے آتی ہے۔
سپلائی متاثر ہونے سے ایشیائی ممالک میں زرعی اخراجات بڑھ گئے ہیں جس کا بوجھ صارفین پر پڑ رہا ہے۔
جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں کے مطابق ایل نینو سے نہ صرف چاول بلکہ چینی، خوردنی تیل، کوکو، کافی اور چائے کی پیداوار بھی متاثر ہوگی۔
ان اثرات کی شدت موسم سرما میں عروج پر پہنچنے کا خدشہ ہے جب کھاد کی فراہمی میں تاخیر کے مسائل سنگین ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق کھاد کی سپلائی چین کو مکمل بحالی کے لیے ایک سے چار سال کا عرصہ درکار ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ متاثرہ قدرتی گیس کی تنصیبات کو دوبارہ فعال کرنے میں 5 سال لگ سکتے ہیں جس سے عالمی غذائی قیمتوں پر طویل مدتی دباؤ رہے گا۔