غزہ کے الجوازات کیمپ میں انسانی بحران سنگین صورت اختیار کر گیا ہے جہاں 1800 سے زائد بے گھر فلسطینی خاندان خوراک، ایندھن اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق قحط اب محض خدشہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے، جبکہ امدادی سرگرمیوں میں کمی اور عالمی خاموشی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
غزہ کے الجوازات کیمپ نے ایسی انسانی المیے کی شکل اختیار کر لی ہے جسے مبصرین ’قریب آتی قحط سالی‘ کی واضح مثال قرار دے رہے ہیں۔
اس کیمپ میں 1800 سے زائد فلسطینی بے گھر خاندان انتہائی محدود جگہ میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں خوراک کا نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
نہ تیار کھانا دستیاب ہے، نہ ایندھن، اور نہ ہی لوگوں کے پاس کوئی خاطر خواہ آمدنی موجود ہے۔
کیمپ کے منتظم محمد سعدہ کے مطابق تقریباً 7 ہزار افراد ایک نہایت چھوٹے رقبے میں مقیم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ غذائی بحران مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے کیونکہ بیشتر خاندانوں کے پاس خوراک خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں
بعض اوقات آٹا دستیاب ہو بھی جاتا ہے تو لکڑی یا گیس میسر نہیں ہوتی، جس کے باعث لوگ آٹا ہونے کے باوجود روٹی پکانے سے قاصر رہتے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایک خاندان کو گیس کا کوٹہ اوسطاً ہر تین ماہ بعد صرف ایک مرتبہ ملتا ہے، جبکہ یہ مقدار بھی بمشکل 20 دن کے لیے کافی ہوتی ہے۔
یوں باقی دنوں میں کھانا پکانے کا کوئی ذریعہ موجود نہیں رہتا۔
محمد سعدہ نے مزید بتایا کہ بے گھر افراد پہلے خیراتی دسترخوانوں اور فیلڈ کچنوں پر انحصار کرتے تھے، لیکن اسرائیلی پالیسیوں کے باعث ’ورلڈ سینٹرل کچن‘ کی مکمل بندش نے خوراک کی آخری حفاظتی دیوار بھی گرا دی، جو کیمپ کو مکمل تباہی سے بچائے ہوئے تھی۔
بحران صرف خوراک تک محدود نہیں
کیمپ میں مقیم ایک بے گھر فلسطینی نے بتایا کہ مسئلہ صرف خوراک کی کمی نہیں بلکہ مچھروں، حشرات، جلدی بیماریوں، صحت کی سہولیات کے فقدان اور دائمی امراض میں مبتلا افراد کی مشکلات بھی شدت اختیار کر چکی ہیں۔
بزرگ افراد اور خصوصی ضروریات رکھنے والے شہری ایسے حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جنہیں ایک صحت مند انسان کے لیے بھی برداشت کرنا مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی مارکیٹ میں لکڑی، پٹرول اور دیگر ایندھن کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ اکثر بے گھر افراد ان کی خریداری کی استطاعت نہیں رکھتے، چاہے یہ اشیاء دستیاب ہی کیوں نہ ہوں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کا تقریباً 80 فیصد شہری ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے اور رہائشی علاقوں کی بڑی تعداد ملبے، لوہے اور کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی ہے، جہاں نہ گھر باقی ہیں اور نہ ہی محفوظ پناہ گاہیں۔
قحط اب خطرہ نہیں، حقیقت بن چکا ہے
محمد سعدہ نے خبردار کیا کہ الجوازات کیمپ کی صورتحال کوئی منفرد واقعہ نہیں بلکہ غزہ کے بیشتر پناہ گزین کیمپ اسی نوعیت کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق قحط اب مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے جو ایک کے بعد دوسرے کیمپ کے دروازے پر دستک دے رہی ہے، جبکہ عالمی برادری کی خاموشی اور امدادی سرگرمیوں کی کمی اس انسانی سانحے کے حجم کے مقابلے میں نہایت ناکافی ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ عالمی ادارہ برائے غذائی نگرانی IPC نے اگست 2025 میں باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا کہ غزہ گورنری میں قحط پھیل چکا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔
ادارے کے مطابق 5 لاکھ سے زائد افراد بھوک، شدید محرومی اور موت کے خطرے سے دوچار ہیں۔