غزہ کی پٹی میں پانی کا بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے ۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ علاقہ جلد ہی شدید پیاس کی کیفیت سے دوچار ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مقامی آبادی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے انتہائی محدود ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
ترجمان غزہ میونسپلٹی حسنی مہنا نے بتایا کہ لوگ فی الحال شہر کے اندر چند بچے ہوئے ڈی سیلینیشن (پانی کو پینے کے قابل بنانے والے) پلانٹس اور چند زیرِ زمین ٹینکس پر انحصار کر رہے ہیں۔
استعمال سے تاحال محفوظ ہیں، جن میں زیادہ تر مشرقی علاقے اور شمالی غزہ کے کچھ حصے شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ذرائع اگرچہ فعال ہیں، لیکن یہ مقامی آبادی اور بے گھر افراد کی ضروریات کے ایک معمولی حصے ہی کو پورا کر پا رہے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ کنووں اور پانی کے نیٹ ورک کو پہنچنے والے وسیع نقصان نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں بنیادی سہولیات کی دستیابی میں تشویش ناک کمی آئی ہے۔
ترجمان کے مطابق، غزہ، خان یونس اور دیر البلح کے کچھ پلانٹس محدود سطح پر کام کر رہے ہیں، تاہم انہیں ایندھن کی شدید قلت اور جنریٹرز کی مرمت کے لیے درکار اسپیئر پارٹس نہ ملنے جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جس کا براہِ راست اثر پانی کی فراہمی پر پڑ رہا ہے۔
حسنی مہنا نے انکشاف کیا کہ غزہ شہر میں پانی کا بحران اس حد تک سنگین ہے کہ بعض دنوں میں 55 سے 70 فیصد آبادی تک پانی کی باقاعدہ رسائی ممکن نہیں ہوتی۔
یہ صورتحال میونسپلٹی پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے، جو متاثرہ محلوں میں پانی پہنچانے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور گرمیوں کی آمد کے ساتھ درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تو پانی کی طلب میں مزید اضافہ ہوگا، جو ایک بڑے انسانی المیے اور شدید قحطِ آب کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
میونسپلٹی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ انسانی بنیادوں پر فوری طور پر بارڈر کراسنگز کو کھولا جائے تاکہ پانی کے کنووں اور پلانٹس کی بحالی کے لیے درکار آلات، اسپیئر پارٹس اور ایندھن کی ترسیل ممکن ہو سکے۔
انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع فراہم کرنے پر بھی زور دیا تاکہ بنیادی شہری خدمات کا کم از کم معیار برقرار رکھا جا سکے۔