خلا کی بلندیوں سے زمین کو دیکھنے والی جدید ترین ٹیکنالوجی، جو کبھی دنیا کو جغرافیائی حدیں دکھانے کے لیے استعمال ہوتی تھی، آج غزة کے اوپر ٹھہر کر ایک ایسی انسانی المیے کی تصویر کشی کر رہی ہے جس کی ہولناکی کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
مزید پڑھیں
گوگل کی جانب سے 22 مئی 2026 کو جاری کردہ اور 25 فروری 2026 کو لی گئی نئی سیٹلائٹ تصاویر نے غزة کی وسطی اور جنوبی پٹی کی ایک ایسی ویران حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جو جنگ کے تیسرے سال میں داخل ہونے والے لاکھوں انسانوں کی زندگی کے گرد پھیلے تاریک حصار کی کہانی سنا رہی ہے۔
قبروں کی بے حرمتی
ایک ایسی حقیقت جو جنگی جرائم کی تعریف میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے خان یونس کے علاقے ‘معن‘ ’میں واقع ’شیخ محمد‘ قبرستان کو ایک فوجی اڈے میں تبدیل کر دیا ہے۔
2022 کی پرانی تصاویر میں قبرستان پرسکون دکھائی دیتا تھا، لیکن نئی تصاویر میں اسے مکمل تباہ دکھایا گیا ہے۔
یہاں نہ صرف قبروں کو بلڈوز کیا گیا بلکہ ان کی جگہ خیمے لگا دیے گئے اور فوجی گاڑیاں کھڑی کر دی گئیں، جہاں کل تک لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ پڑھتے تھے، آج وہاں صرف فوجی جوتے اور دھات کے آہنی ڈھانچے دکھائی دیتے ہیں۔
How do Israeli terrorists celebrate New Year at Gaza’s "ceasefire borders"?
— Israel Genocide Tracker (@trackingisrael) January 3, 2026
We receive dozens of such actions daily. Their constant, open flaunting of these violations only means a complete absence of accountability in Israel's terrorist military. pic.twitter.com/76mZujQuK6
صحافیوں کے مطابق یہ صرف پتھروں کی توڑ پھوڑ نہیں، بلکہ ان خاندانوں کی یادوں اور جذباتی وابستگی کا قتل ہے جو اب یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کے پیاروں کی آخری آرام گاہیں کہاں ہیں۔
’یورومیڈیٹرین ہیومن رائٹس مانیٹر‘ کی رپورٹ کے مطابق غزة میں تقریباً 94 فیصد قبرستانوں کو جزوی یا مکمل طور پر مسمار کیا جا چکا ہے۔
شہربھوت نگر میں تبدیل
رفح کے اہم ترین رہائشی علاقے جیسے الجنینہ، السلام، خربۃ العدس اور الزھور اب ملبے کے ایسے ڈھیر ہیں جن میں کسی شناخت کی گنجائش نہیں بچی۔
تل السلطان میں واقع ’سعودی ہاؤسنگ پراجیکٹ‘، جو 752 رہائشی یونٹس پر مشتمل ایک مثالی منصوبہ تھا، اب مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔
اسی طرح ’سویڈش ویلج‘ (القرية السويدية) کو منظم طریقے سے نقشے سے مٹا دیا گیا ہے، جہاں اب صرف 5 گھر سلامت بچے ہیں، باقی سب کچھ فوجی ٹاورز اور خیموں میں بدل چکا ہے۔
خان یونس میں ’مدینہ حمد‘ کا حال بھی کچھ مختلف نہیں، جو کبھی قطر کی مالی معاونت سے تعمیر کردہ ایک جدید رہائشی منصوبہ تھا، اب ویران کھنڈرات اور بے گھر افراد کے خیموں کا گڑھ ہے۔
اسرائیلی فوج نے یہاں بنی سہیلہ کے چوک پر ایک مستقل فوجی چوکی قائم کر رکھی ہے، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ قابض فوج یہاں سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور مقامی آبادی کی واپسی کو مستقل طور پر ناممکن بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
خیموں کا سمندر اور بقا کی جنگ
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق غزة کے 1.9 ملین فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے 60 فیصد نے اپنا گھر بار مکمل طور پر کھو دیا ہے۔
ان لوگوں کی آخری پناہ گاہ ’المواصی‘ کا علاقہ ہے، جہاں خیمے سمندر کے کنارے تک پہنچ چکے ہیں۔
صحافی علاء ابومعمر کہتی ہیں کہ سیٹلائٹ تصاویر میں یہ خیمے شاید ایک منظم آبادی لگیں، لیکن حقیقت میں یہ 3 سال پرانے پھٹے ہوئے کپڑے ہیں جنہیں نہ شدید سردی سے بچاؤ حاصل ہے اور نہ ہی گرمی کی تپش سے۔
یہاں 10، 10 خاندان ایک ہی بیت الخلا استعمال کرنے پر مجبور ہیں، اور ایک خیمے کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے بھی بھاری کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔
غذائی قلت ، زراعت کا خاتمہ
غزة کے جنوبی علاقے، خاص طور پر رفح اور خان یونس، کبھی پورے علاقے کے لیے ’فوڈ باسکٹ‘ کی حیثیت رکھتے تھے، لیکن نئی تصاویر میں ان زرعی زمینوں، ہری بھری فصلوں اور زرعی انفرا اسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ شدہ دکھایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے اعداد و شمار کے مطابق اب غزة میں کل زرعی اراضی کا صرف 5 فیصد ہی قابل کاشت بچا ہے۔
اس منظم تباہی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عام شہری اب بازار میں سبزیوں کا نام تک بھول چکے ہیں اور قحط کا سایہ ہر گھر پر منڈلا رہا ہے۔
تعلیم کا جنازہ
یہاں تعلیمی ڈھانچہ مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ یونیسیف کے مطابق غزة کے 97 فیصد اسکول یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔
یونیورسٹی آف اقصیٰ کو اب بے گھر افراد کے خیموں کے مرکز میں بدل دیا گیا ہے۔
658,000 بچے پچھلے 2 سالوں سے تعلیم کے حصول سے محروم ہیں، اور ان عمارتوں کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے لیے برسوں درکار ہوں گے۔
گوگل کی یہ نئی تصاویر صرف اعداد و شمار یا نقشے کی تبدیلی نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک منظم ’مکان کشی‘ (Ecocide) کی دستاویز ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر زمین کے اوپر ہونے والے اس ظلم کو تو دکھا سکتی ہیں کہ کس طرح شہروں کو فوجی چھاؤنیوں میں بدلا گیا، مگر یہ وہ چیخیں اور وہ درد نہیں ریکارڈ کر سکتیں جو ان ملبوں کے نیچے دفن ہے۔
اسرائیلی حکمت عملی صرف عسکری نہیں، بلکہ یہ فلسطینیوں کے وجود اور ان کی تاریخ و ثقافت کو مٹانے کا ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ معلوم ہوتی ہے، تاکہ مستقبل میں ان لوگوں کے پاس واپسی کے لیے کوئی نشانی باقی نہ رہے۔