اہم خبریں
27 May, 2026
--:--:--

کیا غزہ میں زندگی باقی ہے؟ گوگل میپس سے ہولناک مناظر آشکار

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
گوگل میپس کی سیٹلائٹ تصاویر رفح، جنوبی غزہ کی پٹی میں مکمل تباہی کو ظاہر کرتی ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

خلا کی بلندیوں سے زمین کو دیکھنے والی جدید ترین ٹیکنالوجی، جو کبھی دنیا کو جغرافیائی حدیں دکھانے کے لیے استعمال ہوتی تھی، آج غزة کے اوپر ٹھہر کر ایک ایسی انسانی المیے کی تصویر کشی کر رہی ہے جس کی ہولناکی کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

مزید پڑھیں

گوگل کی جانب سے 22 مئی 2026 کو جاری کردہ اور 25 فروری 2026 کو لی گئی نئی سیٹلائٹ تصاویر نے غزة کی وسطی اور جنوبی پٹی کی ایک ایسی ویران حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جو جنگ کے تیسرے سال میں داخل ہونے والے لاکھوں انسانوں کی زندگی کے گرد پھیلے تاریک حصار کی کہانی سنا رہی ہے۔

قبروں کی بے حرمتی

ایک ایسی حقیقت جو جنگی جرائم کی تعریف میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے خان یونس کے علاقے ‘معن‘ ’میں واقع ’شیخ محمد‘ قبرستان کو ایک فوجی اڈے میں تبدیل کر دیا ہے۔

gaza destruction 2
غزہ شہر میں تباہی اور بے گھر لوگوں کے خیموں کا ایک فضائی منظر (فوٹو: الجزیرہ)

2022 کی پرانی تصاویر میں قبرستان پرسکون دکھائی دیتا تھا، لیکن نئی تصاویر میں اسے مکمل تباہ دکھایا گیا ہے۔

یہاں نہ صرف قبروں کو بلڈوز کیا گیا بلکہ ان کی جگہ خیمے لگا دیے گئے اور فوجی گاڑیاں کھڑی کر دی گئیں، جہاں کل تک لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ پڑھتے تھے، آج وہاں صرف فوجی جوتے اور دھات کے آہنی ڈھانچے دکھائی دیتے ہیں۔

صحافیوں کے مطابق یہ صرف پتھروں کی توڑ پھوڑ نہیں، بلکہ ان خاندانوں کی یادوں اور جذباتی وابستگی کا قتل ہے جو اب یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کے پیاروں کی آخری آرام گاہیں کہاں ہیں۔ 

’یورومیڈیٹرین ہیومن رائٹس مانیٹر‘ کی رپورٹ کے مطابق غزة میں تقریباً 94 فیصد قبرستانوں کو جزوی یا مکمل طور پر مسمار کیا جا چکا ہے۔

gaza destruction 3
(فوٹو: الجزیرہ)

شہربھوت نگر میں تبدیل

رفح کے اہم ترین رہائشی علاقے جیسے الجنینہ، السلام، خربۃ العدس اور الزھور اب ملبے کے ایسے ڈھیر ہیں جن میں کسی شناخت کی گنجائش نہیں بچی۔

تل السلطان میں واقع ’سعودی ہاؤسنگ پراجیکٹ‘، جو 752 رہائشی یونٹس پر مشتمل ایک مثالی منصوبہ تھا، اب مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ 

اسی طرح ’سویڈش ویلج‘ (القرية السويدية) کو منظم طریقے سے نقشے سے مٹا دیا گیا ہے، جہاں اب صرف 5 گھر سلامت بچے ہیں، باقی سب کچھ فوجی ٹاورز اور خیموں میں بدل چکا ہے۔

gaza destruction 4
رفح سے صحافی محناد قشتہ اپنے خیمے کے اندر اور خان یونس میں تباہ شدہ مکانات کے درمیان (فوٹو: الجزیرہ)

خان یونس میں ’مدینہ حمد‘ کا حال بھی کچھ مختلف نہیں، جو کبھی قطر کی مالی معاونت سے تعمیر کردہ ایک جدید رہائشی منصوبہ تھا، اب ویران کھنڈرات اور بے گھر افراد کے خیموں کا گڑھ ہے۔

اسرائیلی فوج نے یہاں بنی سہیلہ کے چوک پر ایک مستقل فوجی چوکی قائم کر رکھی ہے، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ قابض فوج یہاں سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور مقامی آبادی کی واپسی کو مستقل طور پر ناممکن بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

gaza destruction 5
(فوٹو: الجزیرہ)

خیموں کا سمندر اور بقا کی جنگ

اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق غزة کے 1.9 ملین فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے 60 فیصد نے اپنا گھر بار مکمل طور پر کھو دیا ہے۔

ان لوگوں کی آخری پناہ گاہ ’المواصی‘ کا علاقہ ہے، جہاں خیمے سمندر کے کنارے تک پہنچ چکے ہیں۔ 

gaza destruction 11
فلسطینی بچے غزہ کے رمل محلے میں ایک بے گھر کیمپ میں پانی کے کنٹینرز کے پاس انتظار کر رہے ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

صحافی علاء ابومعمر کہتی ہیں کہ سیٹلائٹ تصاویر میں یہ خیمے شاید ایک منظم آبادی لگیں، لیکن حقیقت میں یہ 3 سال پرانے پھٹے ہوئے کپڑے ہیں جنہیں نہ شدید سردی سے بچاؤ حاصل ہے اور نہ ہی گرمی کی تپش سے۔

یہاں 10، 10 خاندان ایک ہی بیت الخلا استعمال کرنے پر مجبور ہیں، اور ایک خیمے کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے بھی بھاری کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔

gaza destruction 6
(فوٹو: الجزیرہ)

غذائی قلت ، زراعت کا خاتمہ

غزة کے جنوبی علاقے، خاص طور پر رفح اور خان یونس، کبھی پورے علاقے کے لیے ’فوڈ باسکٹ‘ کی حیثیت رکھتے تھے، لیکن نئی تصاویر میں ان زرعی زمینوں، ہری بھری فصلوں اور زرعی انفرا اسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ شدہ دکھایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے اعداد و شمار کے مطابق اب غزة میں کل زرعی اراضی کا صرف 5 فیصد ہی قابل کاشت بچا ہے۔ 

اس منظم تباہی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عام شہری اب بازار میں سبزیوں کا نام تک بھول چکے ہیں اور قحط کا سایہ ہر گھر پر منڈلا رہا ہے۔

gaza destruction 7
وسطی غزہ کی پٹی: البریج کیمپ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے درمیان ایک فلسطینی بچہ گلدستہ اٹھائے ہوئے ہے (فوٹو: الجزیرہ)

تعلیم کا جنازہ

یہاں تعلیمی ڈھانچہ مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ یونیسیف کے مطابق غزة کے 97 فیصد اسکول یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔

یونیورسٹی آف اقصیٰ کو اب بے گھر افراد کے خیموں کے مرکز میں بدل دیا گیا ہے۔

658,000 بچے پچھلے 2 سالوں سے تعلیم کے حصول سے محروم ہیں، اور ان عمارتوں کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے لیے برسوں درکار ہوں گے۔

gaza destruction 8
اسرائیلی میڈیا نے خان یونس کے مشرق میں بنی سہیلہ گول چکر پر اسرائیلی فوجی مقام کی تصویر شائع کی ہے (فوٹو: الجزیرہ)

گوگل کی یہ نئی تصاویر صرف اعداد و شمار یا نقشے کی تبدیلی نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک منظم ’مکان کشی‘ (Ecocide) کی دستاویز ہیں۔

سیٹلائٹ تصاویر زمین کے اوپر ہونے والے اس ظلم کو تو دکھا سکتی ہیں کہ کس طرح شہروں کو فوجی چھاؤنیوں میں بدلا گیا، مگر یہ وہ چیخیں اور وہ  درد نہیں ریکارڈ کر سکتیں جو ان ملبوں کے نیچے دفن ہے۔ 

gaza destruction 9
صحافی اولا ابو معمر غزہ کی پٹی میں نسل کشی کی جنگ کو کور کرنے کے دوران (فوٹو: الجزیرہ)

اسرائیلی حکمت عملی صرف عسکری نہیں، بلکہ یہ فلسطینیوں کے وجود اور ان کی تاریخ و ثقافت کو مٹانے کا ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ معلوم ہوتی ہے، تاکہ مستقبل میں ان لوگوں کے پاس واپسی کے لیے کوئی نشانی باقی نہ رہے۔

gaza destruction 10
خان یونس کے علاقے المواسی میں فلسطینی ایک خیراتی ادارے کی طرف سے فراہم کردہ کھانے کے منتظر ہیں (فوٹو: الجزیرہ)