دنیا کی سب سے جدید فوج رکھنے کے باوجود امریکا ویتنام، عراق اور افغانستان میں اپنے بنیادی سیاسی مقاصد حاصل نہیں کرسکا۔
اب ایران کی جنگ میں بھی واشنگٹن کو بڑھتے اخراجات، کم ہوتی عوامی حمایت اور میزائل ذخائر پر دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ امریکا کی اصل کمزوری اسلحے میں نہیں، بلکہ غیر محدود اہداف، مقامی حالات سے عدم واقفیت، جواب دہی کے فقدان اور فوجی تباہی کو سیاسی فتح سمجھنے کی دیرینہ غلطی میں پوشیدہ ہے۔
آبنائے ہرمز کے گرد امریکا کے جنگی جہاز موجود ہیں، ایران کی متعدد فوجی تنصیبات تباہ ہوچکی ہیں اور تہران کے کئی اہم کمانڈر مارے جاچکے ہیں۔
اس کے باوجود 5 ماہ کی جنگ کے بعد واشنگٹن فتح کا اعلان کرنے کے بجائے اس بحث میں پھنسا ہے کہ ایران سے سمجھوتہ کیسے کیا جائے اور جنگ سے نکلا کیسے جائے۔
اس سے بھی بڑا تضاد یہ ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور فوج کے ہتھیاروں کے ذخیرے دباؤ میں آگئے ہیں۔
رائٹرز کی خصوصی تحقیق کے مطابق امریکی فوج ایران جنگ میں اپنے بیشتر طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست نشانہ لگانے کے میزائل استعمال کرچکی ہے، ٹام ہاک میزائلوں کے عالمی ذخیرے کا تقریباً نصف خرچ ہوچکا، جبکہ پیٹریاٹ اور تھاڈ دفاعی میزائلوں کے ذخائر بھی نمایاں طور پر کم ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں
جنگ پر کم از کم 37.5 ارب ڈالر خرچ ہونے کے باوجود صرف 35 فیصد امریکی اس کی حمایت کرتے ہیں۔
رائٹرز/اپسوس سروے میں 50 فیصد افراد نے کہا کہ جنگ مشرقِ وسطیٰ کو مزید غیر مستحکم کرے گی، جبکہ صرف 17 فیصد کو زیادہ استحکام کی توقع تھی۔
یہ تصویر ایک پرانا سوال نئے انداز سے سامنے لاتی ہے:
اگر امریکا دشمن کی فضائیہ، میزائل اڈے اور فوجی قیادت تباہ کرسکتا ہے تو پھر ویتنام، عراق اور افغانستان کی طرح سیاسی نتیجہ اس کے ہاتھ سے کیوں نکل جاتا ہے؟
فتح کی امریکی تعریف میں بنیادی خرابی
ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر اسٹیفن ایم والٹ نے فارن پالیسی میں شائع اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ مسئلہ امریکی فوج کی صلاحیت یا بہادری نہیں، بلکہ ان جنگوں اور اہداف کا انتخاب ہے جن کے لیے اسے استعمال کیا جاتا ہے۔
واشنگٹن اکثر ایسے تنازعات میں داخل ہوتا ہے جہاں امریکی مفاد محدود، لیکن اعلان کردہ مقصد غیر معمولی حد تک بڑا ہوتا ہے—کسی حکومت کو گرانا، پورا سیاسی نظام بدلنا یا مخالف معاشرے کو امریکی ترجیحات کے مطابق تشکیل دینا۔
اہم ترین نکات ⌄
- ایران جنگ پر کم از کم 37.5 ارب ڈالر خرچ ہوچکے، مگر صرف 35 فیصد امریکی اس کی حمایت کرتے ہیں۔
- امریکی طویل فاصلے کے درست نشانہ لگانے والے میزائلوں اور ٹام ہاک، پیٹریاٹ و تھاڈ ذخائر پر شدید دباؤ ہے۔
- ویتنام میں وقت، عراق میں جنگ کے بعد کا انتشار اور افغانستان میں غیر پائیدار ریاست سازی امریکی ناکامی کا سبب بنے۔
- 1991 کی خلیجی جنگ اس لیے کامیاب ہوئی کہ مقصد محدود، قانونی جواز واضح اور اختتام پہلے سے متعین تھا۔
- فوجی برتری سیاسی رضامندی، مقامی اعتماد اور پائیدار اداروں کی جگہ نہیں لے سکتی۔
یہاں ’لڑائی جیتنے‘ اور ’جنگ جیتنے‘ کا فرق اہم ہے۔
کسی دار الحکومت پر قبضہ، فوجی اڈہ تباہ کرنا یا حکومت گرا دینا قابلِ پیمائش فوجی کامیابیاں ہیں۔
لیکن سیاسی فتح تب ہوتی ہے جب ان کارروائیوں سے ایسا پائیدار نتیجہ پیدا ہو جو جنگ شروع کرنے کے بنیادی مقصد کو پورا کرے۔
امریکا بار بار پہلی کامیابی کو مکمل فتح سمجھتا رہا اور مشکل مرحلہ اس کے بعد شروع ہوا۔
ویتنام: کمزور فریق کے پاس وقت تھا
ویتنام میں امریکا کو طیاروں، بارود اور وسائل کی واضح برتری حاصل تھی، لیکن شمالی ویتنام کے لئے جنگ قومی وحدت، اقتدار اور بقا کا سوال تھی۔
امریکا کے لئے جنوب مشرقی ایشیا میں کمیونزم روکنا اہم تھا، مگر اتنا اہم نہیں کہ امریکی معاشرہ غیر معینہ مدت تک لاشیں اور اخراجات برداشت کرتا رہتا۔
فیکٹ باکس ⌄
غیر مساوی جنگ میں کمزور فریق کو سپر پاور کو میدان میں شکست دینا ضروری نہیں ہوتا، اسے صرف زندہ رہنا اور طاقتور حریف کے تھکنے کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔
1973 کے معاہدے کے بعد امریکی فوج نکل گئی، مگر جنگ جاری رہی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سرکاری تاریخی ریکارڈ کے مطابق دو سال بعد شمالی ویتنام نے مکمل فتح حاصل کرلی۔
واشنگٹن نے بیشتر لڑائیاں جیتیں، لیکن وقت اور سیاسی ارادے کی جنگ ہار گیا۔
عراق: بغداد فتح ہوا، نتیجہ ایران کے حق میں نکلا
2003 میں امریکی فوج نے چند ہفتوں میں صدام حسین کی حکومت ختم کردی۔
مگر حکومت گرانے کے بعد ریاستی ادارے ٹوٹے، فوج تحلیل ہوئی، مسلح مزاحمت اور فرقہ وارانہ جنگ پھیلی۔
جس وسیع تباہی کے اسلحے کو حملے کا بنیادی جواز بنایا گیا تھا، وہ بھی نہیں ملا، امریکی سرکاری تحقیق نے بعد میں جنگ سے پہلے کے بیشتر انٹیلی جنس اندازوں کو غلط قرار دیا۔
یہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
سب سے گہرا اسٹریٹجک تضاد یہ تھا کہ امریکا نے اپنے ایک مخالف صدام حسین کو ہٹاکر عراق میں اپنے دوسرے مخالف ایران کے لیے سیاسی جگہ وسیع کردی۔
بغداد پر قبضہ فوجی فتح تھی، لیکن اس کے بعد پیدا ہونے والا علاقائی توازن واشنگٹن کے حق میں نہیں تھا۔
افغانستان: ایک محدود کارروائی لامحدود منصوبہ بن گئی
نائن الیون کے بعد القاعدہ کو ختم کرنے اور طالبان سے اس کی پناہ گاہ چھیننے کا ابتدائی مقصد واضح تھا۔
لیکن مشن جلد ہی افغانستان میں مغربی طرز کی ریاست، فوج، معیشت اور جمہوریت تعمیر کرنے کے منصوبے میں تبدیل ہوگیا۔
دو دہائیوں بعد امریکی فوج نکلی تو طالبان دوبارہ کابل میں تھے۔
امریکی نگران ادارے SIGAR کی جامع رپورٹ نے بتایا کہ واشنگٹن نے افغان حالات کو درست طور پر نہیں سمجھا، غیر حقیقی نظام الاوقات مقرر کیے اور ایسے ادارے بنائے جو امریکی مدد کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتے تھے۔
براؤن یونیورسٹی کے کاسٹس آف وار منصوبے نے 2021 میں نائن الیون کے بعد کے جنگی خطوں کی مجموعی لاگت تقریباً 8 ٹریلین ڈالر اور براہِ راست اموات 9 لاکھ سے زیادہ بتائی تھیں۔ صرف افغانستان و پاکستان کے جنگی خطے سے منسلک اخراجات کا اندازہ 2.3 ٹریلین ڈالر تھا۔
1991 کی خلیجی جنگ: کامیابی کا بھولا ہوا فارمولا
امریکی ریکارڈ میں 1991 کی خلیجی جنگ نمایاں استثنا ہے۔
عراق کے کویت پر قبضے کے بعد واشنگٹن نے وسیع بین الاقوامی اتحاد بنایا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 678 کے تحت عراقی فوج کو کویت سے نکالا۔
مقصد محدود، قانونی جواز واضح اور کامیابی کی تعریف پہلے سے طے تھی: کویت کی آزادی۔
ایک منٹ میں کہانی ⌄
صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے بغداد جاکر حکومت تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔
مقصد حاصل ہوا تو جنگ روک دی گئی۔
اس کامیابی کا راز زیادہ تباہ کن ہتھیار نہیں، بلکہ فوجی کارروائی، سیاسی مقصد اور قومی مفاد کے درمیان مطابقت تھی۔
واشنگٹن غلطی سے سبق کیوں نہیں سیکھتا؟
پہلی وجہ ٹیکنالوجی کا فریب ہے۔
درست نشانہ لگانے والے میزائل اور فضائی برتری جنگ کو آسان دکھاتے ہیں، مگر یہ نئی حکومت کو قانونی حیثیت، مقامی اداروں کو اعتماد یا بیرونی قبضے کو عوامی قبولیت نہیں دے سکتے۔
دوسری وجہ اہداف کا پھیلاؤ ہے۔
دہشت گرد تنظیم کے خلاف محدود کارروائی ریاست سازی بن جاتی ہے، ہتھیاروں کی تباہی حکومت کی تبدیلی میں بدل جاتی ہے اور دباؤ ڈالنے کی مہم ایسی جنگ بن جاتی ہے جس سے نکلنا سیاسی شکست تصور ہونے لگتا ہے۔
امریکا بار بار کیوں ہارتا ہے؟ ⌄
- ٹیکنالوجی کا فریب: درست نشانہ اور فضائی برتری کو سیاسی فتح سمجھ لیا جاتا ہے۔
- مقصد کا پھیلاؤ: محدود فوجی ہدف آہستہ آہستہ حکومت سازی اور پورے معاشرے کی تبدیلی بن جاتا ہے۔
- جواب دہی کا فقدان: ناکام مفروضے برسوں جاری رہتے ہیں، مگر فیصلہ ساز شاذ ہی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔
- وقت کا غیر مساوی افق: مقامی حریف بقا کی جنگ لڑتا ہے، جبکہ امریکا انتخابات، اخراجات اور عوامی صبر سے بندھا ہوتا ہے۔
تیسری وجہ جواب دہی کا فقدان ہے۔
جنگ کی حمایت کرنے والے سیاست دان، مشیر اور تھنک ٹینک غلط اندازوں کے باوجود نظام میں بااثر رہتے ہیں۔
کامیاب حملے فوری ٹیلی وژن مناظر فراہم کرتے ہیں، جبکہ ناکام سیاسی نتیجہ کئی سال بعد سامنے آتا ہے—جب فیصلہ کرنے والے اکثر اپنی ذمہ داری سے آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں۔
چوتھی وجہ وقت کا غیر مساوی حساب ہے۔
امریکی صدر اگلے انتخاب، منظوری کی شرح اور پٹرول کی قیمت دیکھتا ہے، مقامی حریف اپنی بقا اور آنے والی نسلوں کی سیاست دیکھتا ہے۔
جس فریق کے لئے جنگ وجودی ہو، وہ زیادہ عرصے تک نقصان برداشت کرسکتا ہے۔
ایران: فیصلہ ابھی باقی، لیکن خطرے کی علامات واضح
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکا ایران جنگ ہار چکا ہے۔
جنگ کے حامی ماہرین کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایران کی فوجی صلاحیت اور علاقائی نیٹ ورک کو حقیقی نقصان پہنچایا ہے۔
ممکن ہے یہی دباؤ آخرکار تہران سے اہم رعایتیں حاصل کرلے۔
ایران میں آگے کیا ہوسکتا ہے؟ ⌄
- حملوں میں شدت: امریکی میزائل ذخائر پر مزید دباؤ اور ایک طویل جنگ کا خطرہ۔
- تعطل یا ناکہ بندی: فوری فتح کے بغیر معاشی، عسکری اور سیاسی لاگت میں مسلسل اضافہ۔
- سمجھوتا: آبنائے ہرمز کے انتظام یا علاقائی بندوبست میں ایران کو زیادہ کردار مل سکتا ہے۔
- حقیقی سیاسی فتح: تبھی ممکن ہوگی جب ہرمز مستقل طور پر کھلے، شرائط واضح و قابلِ نفاذ ہوں اور خطے میں نسبتاً پائیدار استحکام پیدا ہو۔
لیکن فوجی نقصان اسی وقت سیاسی فتح بنے گا جب ایران امریکی شرائط قبول کرے، ہرمز مستقل طور پر کھلے اور جنگ کے بعد خطہ پہلے سے زیادہ محفوظ ہو۔
ابھی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
ٹرمپ کے سامنے بڑے حملوں کے ذریعے مزید اسلحہ خرچ کرنے، ایک غیر مقبول تعطل جاری رکھنے یا ایسے سمجھوتے کو قبول کرنے کے راستے ہیں جس میں ہرمز پر ایران کو پہلے سے زیادہ کردار مل سکتا ہے۔
نومبر کے وسط مدتی انتخابات، مہنگا ایندھن اور محدود ہوتے میزائل ذخائر فوجی فیصلے کو اندرونی سیاسی امتحان بنا رہے ہیں۔
یہی امریکا کی تاریخی مشکل ہے:
وہ دشمن کو یہ ثابت کردیتا ہے کہ اس کے پاس تباہ کرنے کی غیر معمولی طاقت ہے، مگر یہ ثابت نہیں کرپاتا کہ وہ لامحدود مدت تک قیمت ادا کرے گا۔
مخالف کو امریکا کو شکست دینے کی ضرورت نہیں، اسے صرف اس وقت تک جھکنے سے انکار کرنا ہے جب تک واشنگٹن کے لئے جنگ کا خرچ اس کے مقصد سے بڑا نہ ہوجائے۔
امریکا جنگیں اس لیے نہیں ہارتا کہ اس کے پاس بم کم یا فوج کمزور ہے۔
وہ تب ہارتا ہے جب تباہی کو کنٹرول، حکومت گرانے کو نظام سازی اور فوجی برتری کو سیاسی رضامندی سمجھ لیتا ہے۔
دنیا کی سب سے طاقتور فوج میدان فتح کرسکتی ہے لیکن اگر وائٹ ہاؤس کو یہ معلوم نہ ہو کہ جنگ کہاں ختم کرنی ہے تو آخری فتح ہمیشہ اس فریق کی ہوگی جو اس کے جانے تک انتظار کرسکے۔
↗ OVERSEAS POST | SOURCES اصل اور معتبر ذرائع
اعداد و شمار اور تاریخی دعووں کے لیے اصل رپورٹ، سرکاری ریکارڈ اور معتبر تحقیقی ذرائع الگ الگ فراہم کیے گئے ہیں۔