ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں، لیکن اس عارضی مفاہمت سے نہ جنگ ختم ہوگی اور نہ جوہری تنازع حل ہوگا۔
ایرانی ٹائم لائن کے مطابق جوہری مذاکرات دو سے 4 ماہ بعد شروع ہوسکتے ہیں، جس سے بحران نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات تک پہنچ جائے گا۔
تہران نے ٹرمپ کو انتخابی نقصان پہنچانے کی کسی حکمت عملی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، تاہم مذاکراتی شیڈول، ایندھن کی قیمتیں اور امریکی سروے اس سیاسی مفروضے کو تقویت دیتے ہیں۔
عین اس وقت جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ ’بہت جلد‘ ختم ہوسکتی ہے، تہران ان کے سامنے ایک مختلف ٹائم لائن رکھ رہا ہے:
پہلے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لئے عارضی معاہدہ، پھر اصل تنازع، یعنی جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے سے قبل دو سے 4 ماہ کا انتظار۔
امریکا کے ’بہت جلد‘ اور ایران کے ’4 ماہ‘ کے درمیان فرق محض سفارتی تفصیل نہیں، بلکہ نئی سیاسی جنگ کا مرکز ہے۔
ایرانی مہلت جنگ کو براہ راست 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات تک لے جاسکتی ہے، جہاں ٹرمپ اور ان کی جماعت کو اس سوال کا سامنا ہوگا کہ ان کی صدارتی مدت کے آخری دو برسوں میں کانگریس پر کس کا کنٹرول ہوگا۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORT ہرمز کا نومبر جال — اہم نکات ⌄
- ✓ایران کے مطابق عمان کے ساتھ بحری مفاہمت کا بنیادی فریم ورک تیار ہوچکا ہے۔
- ✓امریکا معاہدے پر عمل کے بعد ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادہ ہے۔
- ✓ایران جوہری مذاکرات کو جہاز رانی کے معاہدے کے دو سے چار ماہ بعد شروع کرنا چاہتا ہے۔
- ✓ٹرمپ کی مقبولیت 35 فیصد رہ گئی، جبکہ کانگریس کی دوڑ میں ڈیموکریٹس آگے ہیں۔
- !58 فیصد امریکیوں کو خدشہ ہے کہ ایندھن کی قیمتیں مزید خراب ہوں گی۔
- !امریکی انتخابات کو متاثر کرنے کا ایرانی منصوبہ سرکاری طور پر ثابت نہیں؛ یہ دستیاب شواہد پر مبنی سیاسی تجزیہ ہے۔
برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کے ایک تجزیے کے مطابق تہران کی کوشش ہوسکتی ہے کہ ٹرمپ کو انتخابات تک ایک غیر فیصلہ کن جنگ اور مہنگے ایندھن کے بوجھ تلے دبائے رکھا جائے۔
ایران نے ایسی کسی حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا، تاہم اس کے اقدامات کا وقت اور رائے عامہ کے جائزے اس مفروضے کو سیاسی وزن ضرور دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں
ایسا معاہدہ جو آبنائے کو کھولے گا، جنگ کو نہیں
ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت سے متعلق عمان کے ساتھ مفاہمت کا فریم ورک تیار ہوچکا ہے۔
دوسری طرف ایک امریکی عہدیدار نے جمعے کو کہا کہ واشنگٹن کو جلد ایسے معاہدے کی توقع ہے جو تجارتی جہاز رانی کو ’بلا رکاوٹ‘ بحال کردے گا۔
معاہدے پر عمل شروع ہونے کے بعد امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کردے گا، تاہم واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کے اقدامات تہران کی جانب سے شرائط پوری کرنے سے مشروط رہیں گے۔
زیرِ گردش مجوزہ فارمولے کے مطابق خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں کو منظم کرنے میں ایران، جبکہ خلیج سے باہر جانے والے جہازوں کی نقل وحرکت میں عمان کردار ادا کرے گا۔
اگر یہ بندوبست حتمی متن کا حصہ بن گیا تو تہران کو اس آبی گزرگاہ میں اپنے اثر و رسوخ کا عملی اعتراف مل جائے گا، جسے واشنگٹن کسی ایک ملک کی گرفت سے آزاد بین الاقوامی راستہ بنائے رکھنا چاہتا تھا۔
i OVERSEAS POST | FACT BOX ہرمز بحران: فیکٹ باکس ⌄
- امریکی وسط مدتی انتخابات
- 3 نومبر 2026
- ٹرمپ کی مقبولیت
- 35 فیصد
- کانگریس ووٹنگ رجحان
- ڈیموکریٹس 42، ری پبلکنز 37 فیصد
- برینٹ کی بند قیمت
- 83.55 ڈالر فی بیرل
- رواں ہفتے ہرمز سے گزرنے والے جہاز
- 33
- گزشتہ ہفتے اسی مدت میں
- 50
- جنگ سے پہلے ہفتہ وار آمدورفت
- تقریباً 130 سے 140 جہاز
- جوہری مذاکرات کے لیے ایرانی مدت
- جہاز رانی کا مسئلہ حل ہونے کے دو سے چار ماہ بعد
لیکن بحری مفاہمت نہ تو جوہری تنازع حل کرتی ہے، نہ پابندیوں، منجمد ایرانی اثاثوں اور سلامتی کی ضمانتوں سے متعلق اختلافات ختم کرتی ہے۔
یوں ایران اپنی بڑی رعایتیں پیش کرنے سے پہلے ناکہ بندی میں نرمی جیسا فوری فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔
سیاسی امید کے باوجود منڈیاں اب بھی محتاط ہیں۔
جمعے کو خام تیل برینٹ 83.55 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، کیونکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق غیر یقینی برقرار رہی۔
گزشتہ ہفتے پیر سے جمعرات تک آبنائے ہرمز سے صرف 33 جہاز گزرے، جبکہ اس سے گزشتہ ہفتے اسی مدت میں یہ تعداد 50 تھی۔
جنگ سے پہلے یہاں سے ہفتے میں تقریباً 130 سے 140 جہاز گزرتے تھے۔
نومبر ٹرمپ کی کمزوری کیوں بن رہا ہے؟
ایرانی قیادت جانتی ہے کہ آبنائے ہرمز کا سب سے مؤثر اثر بحری بیڑوں کے اعداد و شمار میں نہیں، بلکہ امریکی پٹرول پمپوں پر آویزاں قیمتوں میں نظر آتا ہے۔
ہرمز میں ہر خلل پہلے تیل، انشورنس اور جہاز رانی کی لاگت بڑھاتا ہے، پھر اس کا اثر نقل وحمل، خوراک اور گھریلو اخراجات تک پہنچتا ہے۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSIS ہرمز کا وقت کیوں اہم ہے؟ ⌄
آبنائے ہرمز کا بحران تین محاذوں کو ایک ہی سیاسی گھڑی سے جوڑ رہا ہے:
یہ صورتِ حال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب وائٹ ہاؤس کی انتخابی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ رائٹرز اور اِپسوس کے تازہ سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو کر 35 فیصد رہ گئی۔
کانگریس کے لئے ووٹنگ کے رجحان میں ڈیموکریٹس نے ری پبلکنز پر 42 کے مقابلے میں 37 فیصد کی برتری حاصل کرلی۔
تقریباً ایک دہائی میں پہلی مرتبہ معیشت سنبھالنے کی صلاحیت کے سوال پر بھی ڈیموکریٹس معمولی فرق سے آگے نکل گئے ہیں۔
58 فیصد
امریکیوں کو
خدشہ ہے کہ
ایندھن کی
قیمتیں مزید
بڑھیں گی
ایک دوسرے سروے میں 58 فیصد امریکیوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایندھن کی قیمتیں مزید خراب ہوں گی، جبکہ صرف 15 فیصد نے بہتری کی توقع ظاہر کی۔
اس سے پہلے ایک جائزے میں 79 فیصد شرکا نے جنگ جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا تھا، جبکہ تقریباً نصف کا کہنا تھا کہ یہ جنگ اپنی قیمت کے قابل نہیں۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایران کے لئے مذاکرات کو طول دینا کسی ناممکن فوجی فتح سے زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
مقصد امریکی فوج کو شکست دینا نہیں، بلکہ ایران کو قابو میں رکھنے کی سیاسی اور اقتصادی قیمت کو اس کے ساتھ سمجھوتے کی قیمت سے زیادہ کرنا ہے۔
ایران کی کوئی سرکاری دستاویز یہ نہیں کہتی کہ نومبر میں ری پبلکنز کو شکست دینا تہران کا ہدف ہے، لیکن 3 اہم اشارے موجود ہیں۔
ایرانی داؤ کے حق میں کیا شواہد ہیں؟
پہلا اشارہ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا پیش کردہ شیڈول ہے، جس کے تحت جہاز رانی کا مسئلہ حل ہونے کے دو سے 4 ماہ بعد جوہری مرحلہ شروع ہوگا۔
دوسرا اشارہ تہران کی پیشگی شرائط ہیں: امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور حملے دوبارہ شروع نہ ہونے کی ضمانتیں۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIED کیا مصدقہ ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟ ⌄
مصدقہ معلومات
- ایران اور عمان کے درمیان جہاز رانی کے فریم ورک پر پیش رفت ہوئی ہے۔
- واشنگٹن نے کہا ہے کہ اسے معاہدہ جلد طے پانے کی توقع ہے۔
- امریکا نے ناکہ بندی کا خاتمہ ایرانی عمل درآمد سے مشروط کیا ہے۔
- ایرانی عہدیدار نے جوہری مرحلے کے لیے دو سے چار ماہ کی مدت بیان کی ہے۔
- امریکی سروے کم مقبولیت اور مہنگے ایندھن سے متعلق تشویش ظاہر کرتے ہیں۔
تاحال غیر ثابت یا غیر واضح
- ایران–عمان معاہدے کا مکمل اور حتمی متن ابھی عوامی نہیں۔
- جہازوں کے داخلے اور اخراج پر دونوں ملکوں کے اختیارات کی قطعی حدود واضح نہیں۔
- فیس، نگرانی اور انشورنس سے متعلق عملی قواعد طے ہونا باقی ہیں۔
- جوہری مذاکرات واقعی چار ماہ تک مؤخر ہوں گے یا نہیں، یہ حتمی نہیں۔
- امریکی انتخابات کو متاثر کرنے کی سرکاری ایرانی حکمت عملی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
اہم احتیاط: ’نومبر کا جال‘ مذاکراتی شیڈول، ایرانی میڈیا کے بیانیے اور امریکی سیاسی حالات سے اخذ کردہ تجزیاتی نتیجہ ہے؛ اسے کسی اعلان شدہ ایرانی منصوبے کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
تیسرا اشارہ ایرانی اقتدار کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ کا بیانیہ ہے، جو ٹرمپ کی مقبولیت اور ایندھن کی قیمتوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اس بیانیے کے مطابق ٹرمپ ایک مشکل دو راہے پر ہیں:
جنگ جاری رکھتے ہیں تو اقتصادی اور سیاسی دباؤ بڑھے گا، پیچھے ہٹتے ہیں تو ان کے حامی اسے ایران کے سامنے شکست سمجھ سکتے ہیں۔
یہ اشارے رائٹرز کے اس تجزیے سے مطابقت رکھتے ہیں کہ تہران ’ناپا تلا دباؤ‘ بڑھا رہا ہے۔ مقصد مکمل جنگ چھیڑے بغیر بحران کا دائرہ اتنا وسیع کرنا ہے کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی ایران کو قابو میں رکھنے کے بجائے اس کے مطالبات تسلیم کرنا کم مہنگا سمجھیں۔
تاہم ایران کو ایک آواز رکھنے والی ریاست سمجھنا بھی درست نہیں۔
صدر مسعود پزشکیان پابندیاں جلد ختم کرانا چاہتے ہیں، جبکہ سخت گیر حلقوں کا خیال ہے کہ ہرمز پر دباؤ مزید رعایتیں دلا سکتا ہے۔
اس لیے مذاکرات میں تاخیر صرف امریکی انتخابات کو نشانہ بنانے والی متفقہ حکمت عملی نہیں، بلکہ اندرونی اختلافات کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے۔
نومبر کے
انتخابات کو
متاثر کرنے کی
ایرانی منصوبہ بندی سرکاری طور پر
ثابت نہیں
وائٹ ہاؤس کے سامنے تین مشکل راستے
اگر ٹرمپ موجودہ مجوزہ شکل میں معاہدہ قبول کرتے ہیں تو تیل کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں اور وہ ہرمز دوبارہ کھلوانے کا اعلان کرسکتے ہیں۔ لیکن مخالفین ان پر ایران کو ایسا بحری اثر و رسوخ دینے کا الزام لگائیں گے جو جنگ سے پہلے اسے حاصل نہیں تھا۔
اگر امریکا دوبارہ بڑے پیمانے پر حملے شروع کرتا ہے تو توانائی کی قیمتیں اور جانی نقصان بڑھنے کے ساتھ جنگ مزید طویل ہوسکتی ہے۔
ٹرمپ خود تسلیم کرچکے ہیں کہ دفاعی کمپنیوں کی جانب سے میزائلوں کی پیداوار بڑھانے کے باوجود بعض امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہورہے ہیں۔
تیسرا راستہ ناکہ بندی، محدود جوابی کارروائیوں اور سست مذاکرات کو برقرار رکھنا ہے۔
اس سے فوری بڑے تصادم سے بچا جاسکتا ہے، لیکن وقت کی چابی تہران کے ہاتھ میں رہے گی اور ٹرمپ انتخابات سے قبل کوئی واضح فتح پیش نہیں کرسکیں گے۔
انتخابات تک تین ممکنہ منظرنامے
پہلا منظرنامہ:
بحری معاہدے پر فوری عمل شروع ہوجائے، جہازوں کی آمد و رفت بحال ہو، ایندھن سستا ہوجائے اور ستمبر کے اختتام سے پہلے سنجیدہ جوہری مذاکرات شروع ہوجائیں۔
ایسی صورت میں ٹرمپ سمجھوتے کو انتخابی کامیابی کے طور پر پیش کرسکیں گے۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READ ایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی بحال کرنے کے قریب ہیں۔ امریکا نے کہا ہے کہ عمل درآمد کے بعد ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کی جاسکتی ہے، مگر یہ صرف بحری مرحلہ ہوگا۔
تہران جوہری مذاکرات کو مزید دو سے چار ماہ مؤخر کرنا چاہتا ہے۔ اس صورت میں بحران 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات تک پہنچ سکتا ہے، جب ٹرمپ پہلے ہی کم مقبولیت اور مہنگے ایندھن کے دباؤ میں ہیں۔
ایران نے کسی انتخابی منصوبے کا اعلان نہیں کیا۔ تاہم مذاکراتی شیڈول اور امریکی سیاسی حالات بتاتے ہیں کہ وقت تہران کا اہم ہتھیار بن سکتا ہے: ٹرمپ کو فوری کامیابی چاہیے، جبکہ ایران ہر تاخیر سے بہتر شرائط حاصل کرسکتا ہے۔
دوسرا منظرنامہ:
آبنائے ہرمز جزوی طور پر کھل جائے، لیکن تہران جوہری مذاکرات شروع کرنے سے پہلے 4 ماہ کی پوری مدت استعمال کرے۔
ری پبلکنز کسی حتمی معاہدے کے بغیر انتخابات میں داخل ہوں، جبکہ ایران ناکہ بندی میں نرمی اور وائٹ ہاؤس پر جاری سیاسی دباؤ سے فائدہ اٹھائے۔
یہی منظرنامہ ’نومبر کے جال‘ کے سب سے قریب ہے۔
تیسرا منظرنامہ:
فیس، پابندیوں یا جہاز رانی کے راستوں پر کنٹرول کے تنازع کے باعث مفاہمت ناکام ہوجائے، حملے دوبارہ شروع ہوں اور توانائی مہنگی ہوجائے۔
پورے خطے کو اس کی خطرناک قیمت ادا کرنا ہوگی، لیکن سیاسی طور پر یہ ٹرمپ کے لئے زیادہ نقصان دہ ہوسکتا ہے، کیونکہ امریکی ووٹر اس جنگ کی ذمہ داری انہی پر ڈالے گا جسے انہوں نے مختصر رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔
اصل جنگ وقت کی ہے
تہران کے ان حسابات کے پس منظر میں امریکی یرغمالیوں کا وہ بحران بھی موجود ہے جس نے صدر جمی کارٹر کا تعاقب کیا اور معیشت و مہنگائی سمیت دیگر عوامل کے ساتھ 1980 کے انتخابات میں ان کی شکست کا سبب بنا۔
تاہم اس مرتبہ ایران کا مقصد لازماً ٹرمپ کو ذاتی طور پر شکست دینا نہیں، کیونکہ نومبر میں وہ امیدوار نہیں ہوں گے۔
زیادہ حقیقت پسندانہ ہدف ان کی جماعت کو کمزور کرنا، کانگریس میں ان کی آزادی محدود کرنا اور انہیں ایسی مفاہمت قبول کرنے پر مجبور کرنا ہے جسے وہ بہتر مقبولیت اور دور انتخابات کی صورت میں مسترد کرسکتے تھے۔
اسی لیے موجودہ مقابلہ صرف آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا نہیں، بلکہ اپنی ٹائم لائن مسلط کرنے کا ہے۔
ٹرمپ کو ایک فوری اختتام درکار ہے جسے وہ فتح کے طور پر پیش کرسکیں، جبکہ ایران کو جوہری معاہدے اور ایندھن کی قیمتوں میں مستقل کمی کے بغیر گزرنے والے ہر ہفتے سے فائدہ پہنچتا ہے۔
مذاکرات جہازوں کے لئے راستہ کھول سکتے ہیں، لیکن انہوں نے ابھی جنگ سے نکلنے کا راستہ نہیں کھولا۔
ٹرمپ کی گھڑی نومبر کی طرف بڑھ رہی ہے اور تہران کا کیلنڈر 4 ماہ تک پھیلا ہوا ہے، یوں وقت خود اس معرکے کا سب سے خطرناک ہتھیار بن چکا ہے۔