اپریل 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے درآمدی ٹیرف کے اعلان نے عالمی منڈیوں اور حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا، مگر سولہ ماہ بعد ان کی دھمکیاں پہلے جیسا خوف پیدا نہیں کر رہیں۔
بار بار دی جانے والی آخری مہلتوں، فیصلوں میں التوا، عدالتی رکاوٹوں اور چین، برازیل، یورپ اور ایران کی مزاحمت نے دنیا کو ٹرمپ کے بیانات اور حقیقی امریکی پالیسی میں فرق کرنا سکھا دیا ہے۔
تاہم اس بدلتی صورتِ حال کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ اپنی کھوتی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لیے ٹرمپ کسی بڑی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔
سیاسی دھمکی کی کامیابی کے لیے اس پر ہر بار عمل ضروری نہیں، اتنا کافی ہے کہ مخالف کو یقین ہو کہ دھمکی دینے والا اسے پورا کرنے کی طاقت اور قیمت ادا کرنے کی آمادگی رکھتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت اسی اصول سے شروع کی:
انتہائی بلند مطالبہ، مختصر مہلت، سخت سزا کا خوف اور پھر رعایتوں کا انتظار۔
اپریل 2025 میں یہ حکمتِ عملی مؤثر دکھائی دی۔
ٹرمپ نے بڑے پیمانے پر درآمدی ٹیرف کا اعلان کیا تو عالمی منڈیاں لرز اٹھیں اور 75 سے زیادہ حکومتوں نے واشنگٹن سے مذاکرات شروع کر دئیے۔
ممکنہ نتائج کا خوف دنیا کو حرکت میں لانے کے لیے کافی تھا۔
16 ماہ بعد صورتِ حال بدل چکی ہے۔
ٹرمپ کے بیانات اب بھی سرخیاں بناتے ہیں، لیکن حکومتیں ہر دھمکی پر فوراً جھکنے کے لئے تیار نہیں۔
OVERSEAS POST | GLOBAL WATCH
اہم نکات
⌄
- اپریل 2025 کے ٹیرف اعلان کے بعد 75 سے زیادہ حکومتوں نے امریکا سے مذاکرات شروع کیے۔
- مسلسل دھمکیوں، التوا اور استثنا نے ٹرمپ کی ’’آخری مہلت‘‘ کا اثر کم کیا۔
- امریکی سپریم کورٹ نے وسیع ٹیرف لگانے کے صدارتی اختیار کو محدود کردیا۔
- چین نے نایاب معدنیات اور زرعی خریداری کو جوابی دباؤ کے طور پر استعمال کیا۔
- برازیل اور یورپ نے امریکی دباؤ کے سامنے فوری پسپائی اختیار نہیں کی۔
- ایران نے فوجی دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز پر امریکی شرائط قبول نہیں کیں۔
- خلیجی ممالک پر ممکنہ جوابی حملوں کا خطرہ واشنگٹن کے فیصلوں کو متاثر کررہا ہے۔
- دھمکیوں کا خوف کم ہونا امن کی ضمانت نہیں؛ یہ بڑی کارروائی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
وہ طریقۂ کار سمجھ چکی ہیں:
چونکا دینے والا اعلان، آخری مہلت، مذاکرات، استثنا یا التوا، اور پھر ایسی کامیابی کا دعویٰ جو ابتدائی مطالبے سے چھوٹا ہوتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اسی تجربے نے رہنماؤں کو ٹرمپ کے بیانات اور حقیقی پالیسی میں فرق کرنا سکھایا ہے۔
مزید پڑھیں
جب دھمکی معمول بن جائے
امریکا کی فوجی اور اقتصادی طاقت کم نہیں ہوئی، مگر دھمکی کی قوت اس کے استعمال کی ساکھ سے پیدا ہوتی ہے۔
ٹرمپ جب کسی انتہائی اقدام کو مؤخر یا محدود کرتے ہیں تو مخالفین کے لیے پہلی آواز پر جھکنے کے بجائے انتظار آسان ہو جاتا ہے۔
کینیڈا کو امریکا میں شامل کرنے، گرین لینڈ پر کنٹرول، سو فیصد ٹیرف،
اتحادیوں سے تجارت روکنے اور ایران پر تباہ کن حملوں جیسی مسلسل دھمکیوں نے غیر معمولی اعلان کو معمول بنا دیا۔
جب ہر چند روز بعد نئی ’آخری مہلت‘ آئے تو آخری مہلت بھی اپنا مطلب کھونے لگتی ہے۔
امریکی نظام کی اندرونی رکاوٹیں
فروری 2026 میں ٹرمپ کے ہتھیار کو بڑی قانونی ضرب لگی۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ہنگامی اقتصادی اختیارات کا قانون صدر کو وسیع ٹیرف لگانے کا اختیار نہیں دیتا۔
عدالتی فیصلے نے محصولات کے بنیادی اختیار کو کانگریس سے جوڑا۔
OVERSEAS POST | FACT BOX
فیکٹ باکس
⌄
انتظامیہ نے دوسرے قوانین کا سہارا لیا، لیکن دنیا کو پیغام مل گیا کہ صدارتی اعلان کو عدالت روک یا کانگریس محدود کر سکتی ہے۔
تجارتی جنگ کی قیمت بھی صرف بیرونی ملک نہیں چکاتا، ٹیرف امریکی صارف کے لیے اشیا مہنگی کرتے، صنعتوں کی لاگت بڑھاتے اور جوابی پابندیاں کسانوں کی منڈیاں بند کر سکتی ہیں۔ یوں امریکی معیشت خود تصادم کی حد مقرر کرتی ہے۔
چین، برازیل اور گرین لینڈ کا سبق
چین نے سو فیصد ٹیرف کی دھمکی کے سامنے جھکنے کے بجائے نایاب معدنیات پر اپنی گرفت اور امریکی سویابین کی خریداری کو دباؤ کے لیے استعمال کیا۔
آخرکار ایک سمجھوتے نے بھاری ٹیرف کا خطرہ ٹال دیا، جبکہ چین نے بعض پابندیاں نرم کیں۔ مکمل فتح کسی کو نہیں ملی، مگر دنیا نے دیکھا کہ مؤثر جوابی دباؤ ٹرمپ کو مطالبات کم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
OVERSEAS POST | WHY IT MATTERS
یہ کیوں اہم ہے؟
⌄
امریکا اب بھی عالمی تجارت، سلامتی اور توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ تبدیلی امریکی طاقت میں نہیں بلکہ اس طاقت کے استعمال سے متعلق عالمی یقین میں آئی ہے۔
اگر اتحادی اور مخالف یہ سمجھنے لگیں کہ واشنگٹن اپنی آخری مہلت پر عمل نہیں کرے گا تو امریکی دباؤ کی افادیت کم ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف، اپنی ساکھ ثابت کرنے کی کوشش کسی اچانک فوجی یا اقتصادی تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔
برازیل پر 50 فیصد تک محصولات بھی سابق صدر ژائر بولسونارو کے خلاف عدالتی کارروائی نہ رکوا سکے۔
صدر لولا دا سلوا کی حکومت نے دباؤ مسترد کیا اور قانونی عمل جاری رہا۔
امریکی منڈی کے ذریعے کسی ملک کا خودمختار فیصلہ بدلوانا ہمیشہ ممکن نہیں۔
گرین لینڈ یورپ کے لیے فیصلہ کن موڑ بنا۔ ٹرمپ نے امریکی کنٹرول کی مخالفت کرنے والے آٹھ یورپی ممالک کو اضافی ٹیرف کی دھمکی دی، مگر متحدہ یورپی مؤقف کے سامنے ڈیوس میں پیچھے ہٹ گئے۔
انہوں نے قطب شمالی کی سلامتی سے متعلق ایک مبہم فریم ورک کا اعلان کیا، لیکن گرین لینڈ کی ملکیت حاصل نہ کر سکے۔
ایران اور خلیج۔۔۔ سب سے بڑا امتحان
اگر چین اور گرین لینڈ نے اقتصادی دباؤ کی حد دکھائی تو ایران نے فوجی دھمکی کا مشکل ترین امتحان پیش کیا۔
فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد ٹرمپ نے تہران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے کئی مہلتیں دیں اور اہم تنصیبات پر حملوں کی دھمکیاں دیں۔
اس کے باوجود ایران نے امریکی شرائط قبول نہیں کیں اور آبنائے بھی واشنگٹن کے اعلان کردہ طریقے سے نہ کھلی۔
OVERSEAS POST | PAKISTAN IMPACT
پاکستانیوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
⌄
آبنائے ہرمز میں نئی رکاوٹ پاکستان کے توانائی بل اور مہنگائی پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
علاقائی تصادم سے فضائی راستے، ٹکٹوں کی قیمتیں اور خلیج کا سفر متاثر ہوسکتا ہے۔
توانائی تنصیبات یا کاروباری سرگرمیوں میں خلل تارکینِ وطن کے روزگار پر اثر ڈال سکتا ہے۔
خلیجی معیشت میں طویل دباؤ پاکستان آنے والی ترسیلات اور خاندانوں کی آمدن کو متاثر کرسکتا ہے۔
ٹرمپ نے کئی مرتبہ مذاکرات یا قریب آتے معاہدے کا ذکر کیا، جبکہ تہران نے براہِ راست بات چیت کی تردید یا تفصیلات سے اختلاف کیا۔
بعض حملے مؤخر ہوئے اور نئی مہلتیں سامنے آئیں۔
اگست کے آغاز تک معاملہ امریکی حکم کے بجائے ایران اور عمان کے درمیان جہاز رانی کے راستوں پر مذاکرات تک پہنچ گیا۔
زیرِ غور تجاویز ایران کو خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں کی نقل و حرکت میں کردار دے سکتی ہیں۔
سمجھوتا حتمی نہیں، مگر ابتدائی امریکی مطالبے اور ممکنہ نتیجے کا فرق واضح ہے۔
جنگ نے خلیجی ممالک کی اہمیت بھی بڑھائی۔ کسی بڑے امریکی حملے کا جواب ایران تک محدود رہنے کی ضمانت نہیں، فوجی اڈے، بندرگاہیں اور توانائی تنصیبات نشانہ بن سکتی ہیں۔
OVERSEAS POST | NEXT SCENARIOS
آگے کیا ہوسکتا ہے؟
⌄
ٹرمپ دھمکیوں کا استعمال جاری رکھیں گے، مگر فوری رعایتیں حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
مزید ممالک چین اور یورپ کی طرح مشترکہ یا جوابی دباؤ کی حکمتِ عملی اپنا سکتے ہیں۔
عدالتی اور سیاسی رکاوٹیں ٹرمپ کو زیادہ سخت انتظامی یا فوجی فیصلوں کی طرف لے جاسکتی ہیں۔
کسی غلط اندازے سے خلیج ایک نئے فوجی، بحری اور اقتصادی بحران میں داخل ہوسکتی ہے۔
سعودی عرب نے مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا، جبکہ ایران نے علاقائی مفادات کو نشانہ بنانے کا انتباہ دیا۔
بعد میں ٹرمپ نے فوری معاہدے کا موقع دینے کے لئے حملہ روکنے کا اعلان کیا۔
’’TACO‘‘۔۔۔ مذاق سے حکمتِ عملی تک
مالی منڈیوں میں TACO کی اصطلاح مقبول ہوئی، یعنی ’ٹرمپ ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں‘۔ یہ ان سرمایہ کاروں کا طنز تھا جو دھمکی کے بعد حصص خریدتے اور ٹیرف مؤخر ہونے پر منڈی کی بحالی کا انتظار کرتے تھے۔
اب یہی سوچ سفارتی حلقوں میں دکھائی دیتی ہے۔
حکومتیں ٹرمپ کو نظرانداز نہیں کرتیں اور بلا ضرورت مشتعل بھی نہیں کرتیں، مگر بڑی رعایت سے پہلے جانچتی ہیں کہ دھمکی قابلِ نفاذ ہے اور واشنگٹن اس کی قیمت برداشت کرنے پر آمادہ ہے۔
پھر بھی ہر دھمکی کو دکھاوا سمجھنا خطرناک ہوگا۔
ٹرمپ فوجی طاقت استعمال کر چکے ہیں اور اچانک بڑا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
اصل مشکل یہ جاننا ہے کہ کون سی دھمکی حملے میں بدلے گی اور کون سی نئی مہلت میں۔
OVERSEAS POST | ONE-MINUTE STORY
ایک منٹ میں کہانی
⌄
ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت کے آغاز میں دھمکی، خوف اور اچانک فیصلوں کو مذاکراتی طاقت بنایا۔ ابتدا میں منڈیاں اور حکومتیں فوری طور پر حرکت میں آگئیں۔
چین نے جوابی اقتصادی دباؤ استعمال کیا، برازیل نے سیاسی مداخلت قبول نہیں کی، یورپ گرین لینڈ پر متحد رہا اور ایران امریکی شرائط کے سامنے نہیں جھکا۔
دنیا اب ٹرمپ کے ہر بیان پر فوراً ہتھیار نہیں ڈالتی۔ لیکن کھوتی ہوئی ہیبت بحال کرنے کے لیے کسی بڑی دھمکی پر عمل پوری دنیا، خصوصاً خلیج کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
اصل خطرہ اب شروع ہو سکتا ہے
ٹرمپ کا ہتھیار ختم نہیں ہوا، مگر اس کی نفسیاتی چمک کم ہوئی ہے۔
امریکا اب بھی پابندیاں لگانے، فوجی طاقت استعمال کرنے اور عالمی معیشت میں ہلچل پیدا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
صرف یہ امکان کمزور پڑا ہے کہ صدر آواز بلند کریں اور دوسرا فریق لڑے بغیر رعایت دے دے۔
یہیں خطرناک تضاد جنم لیتا ہے۔
جس رہنما نے اپنی شناخت دوسروں کو پیچھے ہٹانے پر قائم کی ہو، وہ دنیا کو اپنی دھمکیوں کا عادی ہوتا دیکھ کر کسی بڑی کارروائی کے ذریعے ساکھ بحال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
اس لیے ٹرمپ کی گھٹتی ہیبت کا مطلب زیادہ پُرامن دنیا نہیں۔
دنیا شاید گھبرانے کے بجائے حساب لگانا اور انہیں آزمانا سیکھ گئی ہے۔
اور جو ہتھیار اپنی چمک کھو دے، وہ لازماً ناکارہ نہیں ہوتا، اگر اس کا مالک اپنی دھار ثابت کرنے پر اتر آئے تو وہ پہلے سے زیادہ خطرناک بھی بن سکتا ہے۔