11 ستمبر حملوں کے مبینہ مرکزی منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا، مگر ربع صدی گزرنے کے باوجود اس کا مکمل ٹرائل شروع نہیں ہوسکا۔
اب 5 جون 2028 نئی تاریخ مقرر کی گئی ہے، تاہم مقدمے کی طویل تاریخ ایک بار پھر تاخیر کے خدشات پیدا کررہی ہے۔
11 ستمبر 2001 کے حملوں کو 25 سال مکمل ہونے والے ہیں، مگر ان حملوں سے جڑا سب سے اہم عدالتی مقدمہ آج بھی باقاعدہ ٹرائل کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکا۔
ایک نئی پیش رفت میں امریکی فوجی جج نے 5 جون 2028 کو خالد شیخ محمد کے مقدمے کے آغاز کی تاریخ مقرر کی ہے۔
امریکا خالد شیخ محمد کو 11 ستمبر حملوں کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیتا ہے۔
اس کے ساتھ گوانتانامو بے میں قید 3 دیگر ملزمان پر بھی مقدمہ چلایا جائے گا۔
اگر کارروائی واقعی نئی تاریخ پر شروع ہوئی تو اس وقت تک حملوں کو تقریباً 27 سال اور خالد شیخ محمد کی گرفتاری کو 25 سال گزر چکے ہوں گے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTخالد شیخ محمد کیس — اہم نکات ⌄
- ✓امریکی فوجی جج نے خالد شیخ محمد اور تین شریک ملزمان کے ٹرائل کے لیے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر کی ہے۔
- ✓خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔
- ✓امریکا اسے 11 ستمبر 2001 حملوں کا مبینہ مرکزی منصوبہ ساز قرار دیتا ہے۔
- ✓مقدمہ تشدد، متنازع اعترافات، خفیہ شواہد اور سزائے موت سے متعلق قانونی تنازعات میں دو دہائیوں سے زیادہ الجھا رہا۔
- ✓2024 کی پلی بارگین ڈیل سزائے موت کا امکان ختم کرسکتی تھی، مگر بعد میں اسے واپس لے لیا گیا۔
- ✓اگر ٹرائل 2028 میں شروع ہوا تو 11 ستمبر حملوں کو تقریباً 27 سال گزر چکے ہوں گے۔
امریکی فوجی جج نے استغاثہ کی جنوری 2027 میں مقدمہ شروع کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے سے پہلے متعدد قانونی معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔
اسی لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ مقدمہ کب شروع ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ امریکا کو اس شخص کے خلاف ٹرائل شروع کرنے میں ربع صدی سے زیادہ کیوں لگ رہی ہے جسے وہ 11 ستمبر کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتا ہے؟
مزید پڑھیں
پاکستان سے خفیہ جیلوں تک
خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا، یعنی 11 ستمبر حملوں کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد۔
امریکی حکام کے مطابق اس نے مسافر طیاروں کو اغوا کرکے امریکا کے اندر اہم اہداف سے ٹکرانے کے منصوبے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
ان حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
لیکن گرفتاری کے بعد اسے فوری طور پر کسی امریکی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔
خالد شیخ محمد کو امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے خفیہ حراستی پروگرام میں رکھا گیا اور مختلف مقامات پر منتقل کیا جاتا رہا۔
2006 میں اسے گوانتانامو بے پہنچایا گیا۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXخالد شیخ محمد: فیکٹ باکس ⌄
یہیں سے وہ مسئلہ پیدا ہوا جس نے بعد میں پورے مقدمے کو متاثر کیا:
اس سے تفتیش کے دوران اختیار کئے گئے طریقے۔
امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق خالد شیخ محمد کو سی آئی اے کی حراست میں 183 مرتبہ واٹر بورڈنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے بعد عدالت کے سامنے یہ سوال کھڑا ہوگیا کہ اس سے حاصل کئے گئے اعترافات اور معلومات کو کس حد تک قانونی ثبوت سمجھا جاسکتا ہے۔
تشدد شواہد کے راستے میں
بظاہر کیس انتہائی مضبوط دکھائی دیتا ہے:
سنگین الزامات، ہزاروں ہلاکتیں، طویل تحقیقات اور ایک ایسا شخص جسے امریکا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیتا ہے۔
لیکن عدالت میں مسئلہ پیچیدہ ہے۔
اگر کسی ملزم کے بیانات تشدد یا زبردستی کے دوران حاصل کئے گئے ہوں تو کیا انہیں بطور ثبوت استعمال کیا جاسکتا ہے؟
اور اگر وہی ملزم بعد میں دوبارہ وہی اعترافات کرے تو کیا نئے بیانات کو پہلے تشدد سے مکمل طور پر الگ تصور کیا جاسکتا ہے؟
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISمقدمہ ربع صدی کیوں کھنچ گیا؟ ⌄
یہ تاخیر کسی ایک وجہ سے نہیں، بلکہ کئی قانونی پیچیدگیوں کے جمع ہونے کا نتیجہ ہے:
اصل مسئلہ: امریکا جس تفتیشی نظام سے معلومات حاصل کرنا چاہتا تھا، اسی نظام کا قانونی بوجھ بعد میں ٹرائل کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا۔
یہی سوال برسوں سے استغاثہ اور دفاع کے درمیان قانونی جنگ کا مرکز ہیں۔
اسی تنازع نے مقدمے کو مسلسل ابتدائی سماعتوں، درخواستوں اور شواہد کی قانونی حیثیت پر بحث میں الجھائے رکھا۔
یوں 11 ستمبر کے بعد معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کئے گئے امریکی طریقے خود اسی مقدمے کی رفتار سست کرنے کا ایک بڑا سبب بن گئے۔
چار ملزمان، ایک طویل انتظار
خالد شیخ محمد کے ساتھ ولید بن عطاش، علی عبدالعزیز علی المعروف عمار البلوچی اور مصطفیٰ احمد الہوساوی پر بھی مقدمہ چلایا جائے گا۔
امریکا ان افراد پر 11 ستمبر حملوں کی منصوبہ بندی یا حملہ آوروں کی معاونت میں مختلف کردار ادا کرنے کا الزام لگاتا ہے۔
↯ OVERSEAS POST | TIMELINE2001 سے 2028 تک — اہم موڑ ⌄
نئے شیڈول کے مطابق پہلے فوجی کمیشن کے ارکان منتخب ہوں گے، پھر ابتدائی دلائل، شواہد اور گواہ پیش کئے جائیں گے۔ اگر ملزمان کو مجرم قرار دیا گیا تو بعد میں سزا کا مرحلہ شروع ہوگا۔
لیکن اس کیس کی تاریخ بتاتی ہے کہ تاریخ مقرر ہوجانا بھی اس بات کی ضمانت نہیں کہ مقدمہ وقت پر شروع ہوجائے گا۔
وہ ڈیل جو کیس ختم کرسکتی تھی
2024 میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب لگا کہ امریکا اس طویل قانونی بحران سے نکلنے کے قریب ہے۔
خالد شیخ محمد، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الہوساوی نے اعترافِ جرم کے معاہدوں پر رضامندی ظاہر کی۔
منصوبہ یہ تھا کہ ملزمان جرم قبول کریں اور بدلے میں سزائے موت کا امکان ختم ہوجائے، جبکہ عمر قید کا راستہ کھلا رہے۔
اس معاہدے سے برسوں سے جاری عدالتی کارروائی بغیر مکمل ٹرائل کے ختم ہوسکتی تھی۔
مگر ڈیل نے امریکا میں شدید سیاسی ردعمل پیدا کردیا۔
! OVERSEAS POST | EVIDENCE183 واٹر بورڈنگ — شواہد پر سب سے بڑا سوال ⌄
امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق خالد شیخ محمد کو سی آئی اے حراست میں 183 مرتبہ واٹر بورڈنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
- 1دفاع سوال اٹھاتا ہے کہ تشدد کے دوران یا اس کے بعد دیئے گئے بیانات کتنے قابلِ اعتماد ہیں۔
- 2عدالت کو طے کرنا ہے کہ بعد کے اعترافات پہلے کے جبر سے واقعی آزاد تھے یا نہیں۔
- 3یہ تنازع صرف ایک ملزم کا نہیں، بلکہ 11 ستمبر کے بعد امریکی تفتیشی پالیسیوں کے قانونی اثرات کا بھی امتحان ہے۔
اس وقت کے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اعلان کے صرف دو دن بعد معاہدوں کو منسوخ کردیا۔
پھر ایک نئی قانونی جنگ شروع ہوئی:
کیا وزیر دفاع کو پہلے سے منظور شدہ معاہدہ واپس لینے کا اختیار حاصل تھا؟
فوجی عدالتوں میں یہ معاملہ مختلف فیصلوں سے گزرا، مگر بالآخر وفاقی اپیل عدالت نے قرار دیا کہ وزیر دفاع کو معاہدہ منسوخ کرنے کا قانونی اختیار حاصل تھا۔
اس فیصلے کے بعد مکمل ٹرائل اور سزائے موت کا امکان ایک مرتبہ پھر واپس آگیا۔
متاثرہ خاندان بھی ایک رائے پر نہیں
11 ستمبر کے متاثرہ خاندانوں کے درمیان بھی اعترافِ جرم کی ڈیل پر اختلاف موجود رہا۔
کچھ خاندان چاہتے تھے کہ ملزمان جرم قبول کریں، حتمی سزا ہو اور دو دہائیوں سے جاری انتظار ختم ہو۔
⇄ OVERSEAS POST | PLEA DEALوہ ڈیل جو مقدمہ ختم کرسکتی تھی ⌄
نتیجہ: مکمل ٹرائل اور سزائے موت کا امکان دوبارہ میز پر آگیا۔
دوسری جانب بعض خاندانوں کا مطالبہ تھا کہ مکمل کھلی عدالت میں مقدمہ چلے، تمام شواہد سامنے آئیں اور سزائے موت کا امکان برقرار رکھا جائے۔
یہی اختلاف پورے کیس کی مشکل کو واضح کرتا ہے۔
اگر حکومت سمجھوتے سے مقدمہ ختم کرنا چاہتی ہے تو مکمل عدالتی کارروائی کا مطالبہ سامنے آتا ہے، اور جب حکومت ٹرائل کی طرف بڑھتی ہے تو تشدد، خفیہ جیلوں اور متنازع شواہد کا مسئلہ دوبارہ راستہ روک لیتا ہے۔
مقدمہ 2028 تک کیوں گیا؟
استغاثہ جنوری 2027 میں ٹرائل شروع کرنا چاہتا تھا، مگر فوجی جج نے جون 2028 کا انتخاب کیا کیونکہ مقدمے سے پہلے کئی اہم قانونی معاملات ابھی تک حل نہیں ہوئے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا 11 ستمبر کی 26 ویں برسی بھی مکمل ٹرائل کے بغیر گزار دے گا۔
◐ OVERSEAS POST | FAMILIESمتاثرہ خاندان بھی ایک رائے پر نہیں ⌄
اصل کشمکش: جلد انجام یا مکمل عدالتی احتساب — یہی دو مطالبات کیس کو سیاسی اور جذباتی طور پر مزید حساس بناتے ہیں۔
لیکن 2028 کی تاریخ بھی حتمی ضمانت نہیں۔
اس کیس میں جج تبدیل ہوچکے ہیں، سماعتیں ملتوی ہوئی ہیں، معاہدے ہوئے اور منسوخ ہوئے ہیں، جبکہ مختلف فیصلے فوجی اور وفاقی عدالتوں کے درمیان جاتے رہے ہیں۔
ایک مقدمہ جو پورے دور کی علامت بن گیا
خالد شیخ محمد کا کیس اب صرف 11 ستمبر کے ملزم کا مقدمہ نہیں رہا۔
یہ 11 ستمبر کے بعد شروع ہونے والے پورے امریکی دور کی علامت بن چکا ہے:
افغانستان کی جنگ، گوانتانامو بے، سی آئی اے کی خفیہ جیلیں، سخت تفتیشی طریقے، قومی سلامتی اور ملزمان کے حقوق کے درمیان کشمکش، اور دہشت گردی کے لیے قائم خصوصی فوجی عدالتی نظام۔
یہی اس مقدمے کا سب سے بڑا تاریخی تضاد بھی ہے۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا طے ہے، کیا ابھی باقی ہے؟ ⌄
امریکا نے 11 ستمبر کے بعد چند برسوں میں جنگیں شروع کیں، حکومتیں گرائیں اور القاعدہ کی قیادت کا دنیا بھر میں تعاقب کیا، مگر آج تک اس شخص کے خلاف مکمل مقدمہ شروع نہیں کرسکا جسے وہ ان حملوں کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیتا ہے۔
اب 5 جون 2028 ایک نئی امید کے طور پر سامنے ہے۔
اگر ٹرائل شروع ہوجاتا ہے تو یہ متاثرہ خاندانوں کے لیے ربع صدی سے زیادہ انتظار کے بعد اہم موڑ ہوگا۔
لیکن اس مقدمے کی پوری تاریخ ایک سوال اب بھی زندہ رکھتی ہے:
کیا 11 ستمبر کے مرکزی ملزم کا واقعی عدالت میں آخری فیصلہ قریب آگیا ہے، یا 2028 بھی اس طویل ترین مقدمے میں محض ایک اور تاریخ ثابت ہوگی؟
↗ OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع ⌄
ادارتی اصول: خالد شیخ محمد کو خبر میں امریکی الزام کے مطابق مبینہ ماسٹر مائنڈ کہنا زیادہ درست اور محتاط زبان ہے، جب تک حتمی عدالتی فیصلہ نہ آجائے۔