امریکی سیاست میں مسلمان امیدواروں کی موجودگی اب کوئی غیر معمولی بات نہیں رہی، لیکن عبدالرحمن السید اور زہران ممدانی جیسے نام ایک ایسی تبدیلی کی علامت بن رہے ہیں جو محض نمائندگی سے کہیں آگے جاتی ہے۔
مزید پڑھیں
یہ نئی نسل سیاست میں اپنے مذہب کے لیے جگہ مانگنے نہیں، بلکہ پورے سیاسی نظام کے مسائل کو چیلنج کرنے نکلی ہے۔
مشی گن میں ’عبدل‘ کے نام سے معروف عبدالرحمن السید کی حالیہ کامیابی اسی بدلتی ہوئی تصویر کا سب سے نمایاں اور کھلا اظہار ہے اور اگر وہ نومبر میں امریکی سینیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایک نئی تاریخ رقم ہوگی۔
خوف زدہ اقلیت سے سیاسی قوت تک
امریکا میں مسلم سیاست کا نیا پاور فارمولہ
▼
سیاسی بیانیے کا رخ صرف اسلاموفوبیا کے خلاف دفاع کے بجائے عام امریکی کے روزمرہ معاشی مسائل، جیسے کرائے، علاج کے اخراجات اور اجرت کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
مسلم امیدواروں نے محنت کش طبقے، نوجوانوں اور ترقی پسند غیر مسلم ووٹرز کے ساتھ مضبوط اشتراک قائم کیا ہے، جس سے ان کی انتخابی بنیاد محض مسلم حلقوں تک محدود نہیں رہی۔
کارپوریٹ فنڈنگ اور آئی پیک جیسی اربوں ڈالر خرچ کرنے والی طاقتور لابیوں کے خلاف گراس روٹ مہم اور عوامی عطیات کے ذریعے انتخابی برتری ثابت کی گئی۔
بیرون ملک جنگی امداد پر خرچ ہونے والے کھربوں ڈالرز کا موازنہ مقامی اسکولوں، سڑکوں اور اسپتالوں کی خستہ حالی سے کر کے ووٹروں کو متحرک کیا گیا۔
11 ستمبر کے بعد کئی برس تک امریکی مسلمانوں کی سیاست زیادہ تر دفاعی نوعیت کی رہی ہے۔ اسلاموفوبیا، شہری آزادیوں، امتیازی سلوک اور امریکی خارجہ پالیسی جیسے مسائل ان کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہے ہیں۔
مگر اب صورت حال بدل رہی ہے۔ عبدل، ممدانی، رشیدہ طلیب اور الہان عمر جیسے سیاست دان خود کو صرف مسلمان ووٹرز کے نمائندے کے طور پر پیش نہیں کرتے، بلکہ وہ مہنگے کرایوں، صحت کے اخراجات، کم اجرت، بڑی کارپوریشنوں کے اثرورسوخ اور سیاست میں بڑے سرمایے جیسے مسائل پر بات کرتے ہیں۔
یہی تبدیلی ان کی اپیل کو مذہبی شناخت سے باہر لے جاتی ہے۔ ان کا ہدف صرف مسلمان یا عرب ووٹر نہیں، بلکہ وہ عام امریکی بھی ہے جو بڑھتے اخراجات اور سیاسی اشرافیہ سے مایوس ہے۔
امریکی مسلمان سیاست دان دفاعی رویے کو ترک کر کے صحت، سستی رہائش اور معاشی انصاف کے بنیادی عوامی مسائل کے ذریعے ملک گیر سیاسی تبدیلی لا رہے ہیں۔
عبدالرحمن السید نے مشی گن میں بھاری فنڈنگ اور روایتی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تاریخی فتح حاصل کر کے نظام کو بدلا۔
نیویارک، مشی گن اور شکاگو کے اہم شہری اور صنعتی مراکز میں مسلم کمیونٹی فیصلہ کن سیاسی قوت بن چکی ہے۔
خارجہ پالیسی پر ناراضی کے باعث ڈیئر بورن میں روایتی پارٹی ووٹ 69 فیصد سے گر کر 36 فیصد پر آ گیا۔
سستی ٹرانسپورٹ، بچوں کی دیکھ بھال، اجرت اور کرایوں کے مشترکہ مسائل پر تمام طبقات کو متحد کیا جا رہا ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
عبدل کی شکست سے واپسی تک
2018ء میں عبدالرحمن السید نے مشی گن کے گورنر کا انتخاب لڑا تھا۔ اس وقت انہیں ایک ایسے نوجوان مسلمان امیدوار کے طور پر دیکھا گیا جس کا پروگرام ڈیموکریٹک پارٹی کی روایتی قیادت سے کافی زیادہ بائیں جانب تھا۔
وہ اس انتخاب میں گریچن وِٹمر کے مقابلے میں بڑے فرق سے ہار گئے تھے۔
اس شکست کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوا کہ عربی نام، مسلم شناخت اور ترقی پسند ایجنڈا رکھنے والا امیدوار شاید مشی گن جیسی سوئنگ اسٹیٹ میں بڑے عہدے تک نہیں پہنچ سکتا۔
🕊️ غزہ نے امریکی مسلمانوں کی سیاست کیسے بدل دی؟
سیاسی لہر
➔
ڈیموکریٹک پارٹی کا محفوظ ووٹ بینک سمجھا جانے والا مسلم طبقہ "اَن کمیٹڈ" تحریک کے ذریعے ایک منظم سیاسی پریشر گروپ بن کر ابھرا۔
ڈیئر بورن اور دیگر کلیدی مراکز میں مسلم ووٹرز کے فاصلہ اختیار کرنے سے سوئنگ ریاستوں میں قومی انتخابی نتائج کا رخ تبدیل ہو گیا۔
مسلم سیاست دانوں نے انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین اور غیر مشروط فوجی امداد کی روک تھام کو اپنی انتخابی مہم کا بنیادی ستون بنایا۔
کیمپسز اور سڑکوں پر ہونے والے احتجاجات نے نئی نسل کو پارٹی لکیروں سے بالاتر ہو کر آزادانہ سیاسی حکمت عملی اپنانے کا حوصلہ دیا۔
8 سال بعد آج وہی مفروضہ کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ عبدل نے ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری میں پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی مضبوط امیدوار ہیلی اسٹیونز کو شکست دی، حالانکہ ان کے مخالف کی پشت پر بھاری مالی اور سیاسی حمایت موجود تھی۔
اسرائیل نواز لابی آئی پیک نے بھی عبدل کو روکنے کے لیے 3 کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔
یہ کامیابی صرف ایک امیدوار کی فتح نہیں، بلکہ اس سوال کا جواب بھی ہے کہ کیا امریکی ووٹر واقعی صرف ’محفوظ‘ اور روایتی امیدوار چاہتے ہیں۔
مسلمان امریکی کتنے بااثر ہیں؟
مسلمان امریکی آبادی میں بہت بڑی اکثریت نہیں رکھتے۔ اندازوں کے مطابق وہ بالغ امریکی آبادی کا تقریباً 1.2 فیصد ہیں اور ان کی مجموعی تعداد قریب 35 لاکھ ہے۔
لیکن یہاں مسلمانوں کی اہمیت صرف تعداد ہی سے طے نہیں ہوتی۔ مسلمان اور عرب امریکی بڑے شہری مراکز میں زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔
مشی گن کے ڈیئر بورن اور ڈیٹرائٹ، نیویارک، نیوجرسی، شکاگو، ٹیکساس، کیلیفورنیا اور شمالی ورجینیا جیسے علاقوں میں ان کی سیاسی موجودگی کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
🛡️ خوف زدہ اقلیت سے سیاسی طاقت تک کا سفر
+
اسلاموفوبیا، امتیازی سلوک اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے دباؤ کے خلاف صرف قانونی و شہری آزادیوں کے تحفظ کی جدوجہد۔
مساجد اور کمیونٹی سینٹرز کا صرف عبادت گاہ سے بڑھ کر سماجی رابطوں، امدادی کاموں اور ووٹر آگاہی کے مراکز میں تبدیل ہونا۔
الہان عمر اور رشیدہ طلیب جیسی شخصیات کا ایوانِ نمائندگان میں پہنچ کر اقلیتی آواز کو قومی سطح پر بلند کرنا۔
سینیٹ اور بڑے شہروں کے میئر جیسے کلیدی عہدوں کے لیے پورے نظام کے معاشی اور سیاسی ڈھانچے کو چیلنج کرنے والی نئی قیادت کا ظہور۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ عرب امریکیوں اور مسلمانوں کو ایک ہی گروہ سمجھنا بھی درست نہیں۔
بیشتر امریکی مسلمان عرب نہیں جبکہ عرب امریکیوں کی بڑی تعداد مسیحی بھی ہے۔ یہی نسلی اور معاشی تنوع امریکی مسلم سیاست کو پیچیدہ اور دلچسپ بناتا ہے۔
تعلیم، کاروبار اور پیشہ ورانہ شعبوں میں بھی اس کمیونٹی کی نمایاں موجودگی ہے۔ طب، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، تعلیم، ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور چھوٹے کاروباروں میں عرب اور مسلمان امریکی خاصا اثر رکھتے ہیں۔
🏛️ کیا امریکا اپنے پہلے مسلمان سینیٹر کے لیے تیار ہے؟
▼
مشی گن میں پارٹی اسٹیبلشمنٹ اور بھاری فنڈنگ والی روایتی امیدوار کے خلاف کامیابی نے یہ ثابت کیا کہ ووٹرز روایتی قیاس آرائیوں سے آگے نکل چکے ہیں۔
مشی گن جیسے کثیر التنوع میدانِ جنگ میں عام انتخابات کا معرکہ صرف مذہبی شناخت پر نہیں بلکہ معاشی انصاف اور صحت کے نظام کے نعروں پر منحصر ہوگا۔
یہ پرانا بیانیہ کہ مسلم یا ترقی پسند امیدوار ریاستی سطح پر "ناقابلِ انتخاب" ہے، منظم عوامی مہم اور ووٹر ٹرن آؤٹ نے کمزور کر دیا ہے۔
حتمی کامیابی کا دارومدار ڈیموکریٹک پارٹی کے روایتی ووٹرز کو متحد رکھنے اور آزاد ووٹرز کو عام معاشی پروگرام پر قائل کرنے پر ہوگا۔
مسجد سے بیلٹ باکس تک
تحقیقی مطالعات کئی برس پہلے ہی واضح کرچکے تھے کہ امریکی مسلمان سیاسی طور پر غیر فعال کمیونٹی نہیں۔ 2004 کے ایک قومی سروے میں مسلمانوں کی سیاسی شرکت مجموعی امریکی آبادی سے نمایاں طور پر زیادہ پائی گئی تھی۔
مسجد بھی کئی عرب مسلمان کمیونٹیز میں صرف عبادت کی جگہ نہیں رہی۔ یہ سماجی رابطے، رضاکارانہ سرگرمی، کمیونٹی تنظیم اور بعض صورتوں میں سیاسی متحرک کاری کا مرکز بن گئی ہے۔
البتہ تمام مسلمان گروہ ایک جیسے نہیں ہیں۔ عرب، جنوبی ایشیائی اور افریقی نژاد امریکی مسلمانوں کے سیاسی تجربات مختلف رہے ہیں۔ اسی لیے ’مسلم ووٹ‘ کو کسی ایک رنگ میں دیکھنا درست نہیں۔
غزہ نے پرانی وفاداریاں بدل دیں
امریکی مسلم سیاست میں تازہ ترین بڑی تبدیلی غزہ جنگ کے بعد سامنے آئی ہے۔
مشی گن میں ’اَن کمیٹڈ‘ تحریک نے بائیڈن انتظامیہ کی اسرائیل پالیسی کے خلاف عرب اور مسلمان ووٹروں کی ناراضی کو منظم سیاسی دباؤ میں بدل دیا۔
2024ء کے انتخاب میں اس ناراضی کی قیمت ڈیموکریٹس کو محسوس ہوئی ہے۔ ڈیئر بورن میں کملا ہیرس کو تقریباً 36 فیصد ووٹ ملے، جبکہ 2020 میں جو بائیڈن نے وہاں قریب 69 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔
📊 نمبرز میں امریکی مسلمان: آبادی کم، اثر زیادہ؟
ڈیموگرافکس
▶
مشی گن (ڈیئر بورن، ڈیٹرائٹ)، نیویارک، نیوجرسی، شکاگو اور ورجینیا جیسے فیصلہ کن شہری علاقوں میں ان کا تناسب الیکشن کا پانسا پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
طب، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اعلیٰ تعلیم اور ریٹیل بزنس میں نمایاں نمائندگی نے اس طبقے کو مالی و سماجی طور پر انتہائی فعال بنا دیا ہے۔
اسی طرح ہیرس، مشی گن میں بھی تقریباً 80 ہزار ووٹوں سے ہاری ہیں۔
اس تجربے نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ مسلمان اور عرب ووٹرز اب کسی جماعت کی مستقل ملکیت نہیں۔ ان کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے پالیسی بھی دینی ہوگی۔
عبدل نے اسی ناراضی کو صرف فلسطین تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے اسرائیل کو غیر مشروط امریکی امداد کی مخالفت کو مقامی معاشی مسائل سے جوڑا اور سوال اٹھایا کہ مشی گن کے ٹیکس دہندگان کا پیسہ بیرون ملک خرچ ہو یا ان کی اپنی صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں پر۔
🔑 عبدول اور ممدانی کا کامیابی کا خفیہ فارمولا
+
عوامی صحت (Medicare for All)، کارپوریٹ فنڈنگ کی سیاست سے بے دخلی اور پانی و صفائی جیسے بنیادی انسانی حقوق کو انتخابی مہم کا مرکز بنایا۔
رہائشی کرایوں پر روک (Rent Freeze)، مفت پبلک ٹرانسپورٹ بسیں اور بچوں کی نگہداشت جیسے زمینی مسائل کے گرد تحریک بنا کر ہر طبقے کی حمایت حاصل کی۔
ممدانی اور عبدل کا مشترکہ فارمولہ
نیویارک میں زہران ممدانی بھی تقریباً یہی سیاسی نسخہ استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنی مسلم و مہاجر شناخت نہیں چھپاتے، فلسطینیوں کی حمایت بھی واضح رکھتے ہیں، لیکن اپنی پوری سیاست کو شناخت کے گرد نہیں رکھتے۔
اُن کا بڑا بیانیہ کرایوں، پبلک ٹرانسپورٹ، بچوں کی دیکھ بھال، مہنگائی اور معاشی انصاف کے گرد گھومتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے ووٹروں تک بھی پہنچتے ہیں جن کا اسلام یا عرب دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔
نئے مسلمان سیاست دانوں نے شاید یہی سب سے اہم سبق سیکھا ہے کہ شناخت دروازہ کھول سکتی ہے، مگر وسیع سیاسی طاقت روزمرہ مسائل سے بنتی ہے۔
💵 امریکی ٹیکس یا اسرائیلی امداد: نیا سیاسی سوال
▼
ووٹرز کے سامنے یہ سوال رکھا گیا کہ امریکی محنت کشوں کے ٹیکس کا پیسہ بیرون ملک جنگی ہتھیاروں پر خرچ ہونا چاہیے یا اندرونِ ملک ٹوٹے پھوٹے انفراسٹرکچر پر۔
مہنگے اسپتالوں، ادویات اور اسکولوں کے فقدان کا موازنہ اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ اربوں ڈالر کی غیر مشروط فوجی فنڈنگ سے کیا گیا۔
سپر پیکس کی جانب سے ترقی پسند امیدواروں کو گرانے کے لیے لائیو مہم میں کروڑوں ڈالر جھونکنے کے عمل کو جمہوریت پر دولت کا ناجائز تسلط قرار دیا گیا۔
کانگریس کے اندر ووٹنگ ریکارڈز کو شفاف بنا کر اراکین سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش رہنے کے بجائے جوابدہ ہوں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر نئی جنگ
عبدل کی کامیابی ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی گہری کشمکش کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک طرف روایتی قیادت ہے جو معتدل امیدوار، بڑے عطیہ دہندگان اور پرانے انتخابی فارمولے کو محفوظ راستہ سمجھتی ہے۔
اسی طرح دوسری طرف وہ ترقی پسند دھڑا ہے جو کارپوریشنوں، ارب پتیوں اور بڑی لابیوں کے خلاف زیادہ جارحانہ سیاست کا خواہش مند ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ اس اختلاف کی علامت ضرور ہے، مگر اصل بحث کہیں زیادہ بڑی ہے۔
🏛️ مسلم سیاست کا اگلا پڑاؤ: واشنگٹن میں کتنی طاقت؟
▶
سینیٹ کے ممکنہ پلیٹ فارم سے خارجہ پالیسی کے تعین، عدالتی تقرریوں اور قومی بجٹ کی ترجیحات میں براہِ راست ووٹ کی فیصلہ کن طاقت ملے گی۔
یہ لہر ثابت کرتی ہے کہ مسلم قیادت صرف اپنے وجود کا اعتراف کرانے نہیں نکلی بلکہ اس بنیادی سوال کو دوبارہ لکھ رہی ہے کہ امریکی جمہوریت کو کیسا ہونا چاہیے۔
نوجوان ڈیموکریٹ ووٹر مضبوط مزدور یونینز، دولت کی بہتر تقسیم، سستی صحت، سیاسی اصلاحات اور مختلف خارجہ پالیسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ بائیں بازو کی عوامی سیاست کسی حد تک ٹرمپ کی دائیں بازو کی عوامی سیاست کا جواب بھی ہے۔
ٹرمپ نظام سے ناراض ووٹر کو تارکین وطن اور ثقافتی تبدیلی کے خلاف متحرک کرتے ہیں۔ ترقی پسند بایاں بازو اسی ناراضی کو ارب پتیوں، کارپوریشنوں، مہنگے علاج، کم اجرت اور سیاسی پیسے کے خلاف موڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
امریکی مسلمانوں کے لیے اصل تبدیلی شاید یہی ہے۔ وہ اب صرف یہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کر رہے کہ وہ امریکی سیاست کا حصہ ہیں، بلکہ وہ اس بحث میں داخل ہوچکے ہیں کہ امریکی سیاست کو ہونا کیسا چاہیے۔