آبنائے ہرمز میں کشیدگی ہو، یوکرین جنگ ہو، چین امریکہ کی بڑھتی رقابت ہو یا مشرق وسطیٰ میں مسلسل بحران، آج کی دنیا ایک بار پھر ایسے دور میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہے، جہاں پرانے اصول کمزور ہو چکے ہیں اور نئے قواعد ابھی پوری طرح بنے نہیں۔
مزید پڑھیں
یہ کیفیت نئی کوئی نہیں ہے۔ عالمی نظام کی پوری تاریخ ایسے ہی دوراہوں سے بھری پڑی ہے۔
تقریباً ہر بڑا بین الاقوامی نظام کسی جنگ، تباہی یا سیاسی انقلاب کے بعد پیدا ہوا ہے۔ یعنی پہلے پرانا توازن ٹوٹا، پھر فاتح طاقتوں نے دنیا کو اپنے انداز میں دوبارہ ترتیب دیا۔
1648ء کی صلحِ ویسٹ فیلیا ہو، 1815ء کی کانگریس آف ویانا ہو، پہلی
عالمی جنگ کے بعد لیگ آف نیشنز یا دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ، ہر مرحلے کے پیچھے ایک بڑا سوال موجود رہا کہ ایسی دنیا میں امن کیسے قائم رکھا جائے، جہاں کوئی ایک عالمی حکومت نہیں اور ہر ریاست اپنے مفاد، سلامتی اور طاقت کی فکر کرتی ہے؟
🌐
تلخ حقائق: موجودہ عالمی نظام کیسے وجود میں آیا؟
+
تلخ حقائق: موجودہ عالمی نظام کیسے وجود میں آیا؟
موجودہ عالمی نظام کسی پرامن مذاکراتی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ دوسری جنگِ عظیم کی ہولناک تباہی اور 6 کروڑ سے زائد انسانی جانوں کے زیاں کے بعد فاتح طاقتوں کی ترجیحات پر تشکیل پایا تھا۔
1945 کا یالٹا اور پوٹسڈیم سمجھوتہ
امریکہ، سوویت یونین اور برطانیہ نے دنیا کو اپنے اپنے اثر و رسوخ کے علاقوں میں تقسیم کر کے نئے عالمی ضابطوں کی بنیاد رکھی۔
بریٹن ووڈز کا مالیاتی ڈھانچہ
ڈالر کو مرکزی عالمی ریزرو کرنسی تسلیم کرتے ہوئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک قائم کیے گئے تاکہ عالمی معیشت مغربی کنٹرول میں رہے۔
سلامتی کونسل کا ویٹو نظام
اقوام متحدہ میں 5 مستقل ایٹمی طاقتوں کو ویٹو پاور دی گئی، جس نے طاقتور ریاستوں کو عالمی قانون سے بالاتر استثنیٰ فراہم کیا۔
سرد جنگ کا دو قطبی توازن
چار دہائیوں تک ایٹمی ہتھیاروں کے باہمی خوف نے بڑی طاقتوں کو براہِ راست تصادم سے روکے رکھا، مگر پراکسی جنگیں جاری رہیں۔
ایک میدان، کئی کھلاڑی
بین الاقوامی تعلقات کو آسان الفاظ میں سمجھیں تو دنیا ایک بڑے کھیل کے میدان کی طرح ہے۔ کبھی اس میدان میں صرف ریاستیں اہم کھلاڑی تھیں، لیکن آج منظر کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
اب ریاستوں کے ساتھ اقوام متحدہ، نیٹو، عالمی مالیاتی ادارے، کثیرالقومی کمپنیاں، مسلح تنظیمیں، آزادی کی تحریکیں اور عالمی رائے عامہ بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔
اسی طرح ٹیکنالوجی کمپنیوں اور مالیاتی منڈیوں نے بھی طاقت کے روایتی تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کا ہر بڑا بین الاقوامی نظام کسی بڑی جنگ یا بحران کے بعد تشکیل پایا، اور آج کی دنیا ایک بار پھر اسی نازک موڑ پر کھڑی ہے۔
یورپ کی تیس سالہ تباہ کن جنگ کے بعد قومی خودمختاری، عدم مداخلت اور طاقت کے توازن کے بنیادی بین الاقوامی اصول قائم ہوئے۔
نپولین کی شکست کے بعد فاتح طاقتوں نے طاقت کا کثیر الجہتی توازن قائم کیا جس نے یورپ کو تقریباً ایک صدی تک ہمہ گیر جنگ سے محفوظ رکھا۔
دوسری عالمی جنگ کی بے مثال تباہی کے بعد موجودہ عالمی مالیاتی و سفارتی ادارے وجود میں آئے اور دنیا سرد جنگ کے دور میں داخل ہوئی۔
سوویت یونین کے انہدام کے بعد قائم امریکی بالادستی اب چین، روس اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اشتراک سے کثیر قطبی نظام میں تبدیل ہو رہی ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اس کھیل میں بین الاقوامی قانون ریفری کا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ریفری کے پاس ہمیشہ اتنی طاقت ہی نہیں ہوتی کہ بڑے کھلاڑیوں کو روک سکے۔
یہی وجہ ہے کہ قانون، طاقت اور مفاد کے درمیان کشمکش آج بھی عالمی سیاست کی بنیادی حقیقت ہے۔
جنگوں کے بعد نئے نظام: تاریخ کا حیران کن سبق
▼
جنگوں کے بعد نئے نظام: تاریخ کا حیران کن سبق
📜 1648 — صلحِ ویسٹ فیلیا
30 سالہ مذہبی جنگ میں یورپ کی ایک تہائی آبادی ختم ہونے کے بعد قومی خودمختاری اور ملکی سرحدوں کے احترام کا پہلا ضابطہ طے پایا۔
👑 1815 — کانگریس آف ویانا
نپولین کی ہولناک مہمات کی شکست کے بعد یورپی طاقتوں نے باہمی طاقت کے توازن کا نظام بنایا جس نے براعظم کو تقریباً ایک صدی تک بڑی جنگ سے بچایا۔
🕊️ 1919 — معاہدۂ ورسائی اور لیگ آف نیشنز
پہلی جنگِ عظیم کے بعد جرمنی پر عائد سخت شرائط نے پائیدار امن کے بجائے فاشزم اور دوسری عالمی جنگ کا بارود بھر دیا۔
تاریخی سبق: انسانی تاریخ کا سب سے الم ناک پہلو یہ ہے کہ عالمی طاقتیں پیشگی عقل و دانش کے بجائے ہمیشہ وسیع تباہی کے ملبے پر ہی نئے اصول وضع کرتی ہیں۔
ویسٹ فیلیا: جدید ریاست کی پیدائش
جدید عالمی نظام کی کہانی عام طور پر 1648 سے شروع کی جاتی ہے، جب یورپ کی تباہ کن 30 سالہ جنگ صلحِ ویسٹ فیلیا پر ختم ہوئی۔ اس جنگ سے پہلے یورپ میں مذہبی اقتدار، سلطنتوں اور جاگیردارانہ طاقتوں کا پیچیدہ نظام قائم تھا۔
کلیسا اور مقدس رومی سلطنت کی طاقت اکثر مقامی بادشاہوں کی سرحدوں و اختیارات سے آگے نکل جاتی تھی۔
30 سالہ جنگ نے پورے براعظم کو تباہ کردیا تھا اور کچھ علاقوں میں آبادی کا ایک تہائی تک ختم ہوگیا تھا۔
اس تباہی نے یورپی طاقتوں کو ایک بنیادی سبق دیا کہ ہر ریاست کو اپنی سرزمین اور اندرونی معاملات پر اختیار تسلیم کیے بغیر مستقل امن ممکن نہیں۔
یہیں سے قومی خودمختاری، عدم مداخلت اور طاقت کے توازن جیسے اصول مضبوط ہوئے۔ یہی اصول بعد میں جدید بین الاقوامی قانون اور قومی ریاست کے بنیادی ستون بنے۔
♟️
طاقت کی عالمی بساط: اصل کھلاڑی کون ہیں؟
کثیر رخی نیٹ ورک
طاقت کی عالمی بساط: اصل کھلاڑی کون ہیں؟
1۔ خودمختار قومی ریاستیں (قوم پرستی کا روایتی محور)
امریکہ، چین، روس اور یورپی یونین جیسے بڑے ریاستی کھلاڑی جو فوجی، اقتصادی اور سفارتی وسائل پر براہِ راست کنٹرول رکھتے ہیں۔
2۔ بگ ٹیک اور نجی ٹیکنالوجی دیو
سیمی کنڈکٹر، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جو روایتی حکومتوں سے زیادہ بااثر بن چکے ہیں۔
3۔ عالمی مالیاتی منڈیاں اور فنڈز
وال اسٹریٹ، ملٹی نیشنل کارپوریشنز اور خودمختار دولت فنڈز جو کرنسیوں اور قرضوں کے ذریعے ممالک کو قابو کرتے ہیں۔
4۔ عسکری و اقتصادی اتحاد
نیٹو (NATO)، برکس (BRICS) اور شنگھائی تعاون تنظیم جو بلاک سیاست کے ذریعے طاقت کا توازن بدل رہے ہیں۔
5۔ غیر ریاستی مسلح اور سیاسی گروہ
علاقائی مزاحمتی تحریکیں اور پراکسی نیٹ ورکس جو چوک پوائنٹس اور اسٹریٹجک گزرگاہوں کو متأثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انقلابِ فرانس نے پرانا کھیل بدل دیا
ویسٹ فیلیا کے بعد بنایا گیا توازن بھی ہمیشہ قائم نہیں رہ سکا۔ 1789 کا انقلابِ فرانس صرف ایک بادشاہت کا خاتمہ نہیں تھا، بلکہ اس نے پورے یورپ کے سیاسی تصور کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
عوامی حاکمیت، قوم پرستی، شہری حقوق اور اشرافیہ کے خلاف نئے خیالات سامنے آئے۔ نپولین بوناپارٹ نے ان نظریات کو اپنی فوجی طاقت کے ذریعے یورپ کے دوسرے حصوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔
1805ء کی جنگِ آسٹرلٹز اس دور کی علامت بن گئی۔ نپولین نے روس اور آسٹریا کی مشترکہ افواج کو شکست دی اور یورپ کے قدیم سیاسی ڈھانچے کو شدید دھچکا پہنچایا۔
لیکن تاریخ نے جلد پلٹا کھایا اور ایک دہائی سے بھی کم عرصے بعد 1815ء میں واٹرلو میں نپولین شکست کھا گیا۔
⚔️
امریکا بمقابلہ چین: کیا اگلا بڑا تصادم قریب ہے؟
◀
امریکا بمقابلہ چین: کیا اگلا بڑا تصادم قریب ہے؟
قائم شدہ طاقت (امریکہ کا دفاعی گھیراؤ)
واشنگٹن ڈالر کی برتری، بحری راستوں کے کنٹرول اور جدید ترین چپس کی برآمدی پابندیوں کے ذریعے اپنی یک قطبی بالادستی برقرار رکھنے پر بضد ہے۔
ابھرتی ہوئی طاقت (چین کی صنعتی توسیع)
بیجنگ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، متبادل ادائیگیوں اور تائیوان پر اپنے اصولی مؤقف کے ساتھ مغربی نظام کو کھلی معاشی و عسکری برابری کی پیشکش کر رہا ہے۔
تھوسیڈائڈز ٹریپ (Thucydides' Trap): تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی کوئی ابھرتی طاقت پرانی حاکم طاقت کو چیلنج کرتی ہے تو خوف اور غلط فہمی بڑے تصادم کو ناگزیر بنا دیتے ہیں، جب تک کہ قیادتیں باہمی بقا کا نیا سمجھوتہ نہ کر لیں۔
ویانا کا سبق: دشمن کو ہمیشہ ذلیل نہ کرو
نپولین کی شکست کے بعد یورپی طاقتیں ویانا میں جمع ہوئیں۔ ان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ براعظم کو ایسی جنگوں سے دوبارہ کیسے بچایا جائے۔
کانگریس آف ویانا نے طاقت کے توازن کو مرکزی اصول بنایا، جس کا مقصد یہ تھا کہ کوئی ایک ریاست اتنی طاقتور نہ ہوجائے کہ باقی پورے یورپ پر چھا جائے۔
ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ شکست خوردہ فرانس کو مکمل طور پر الگ یا تباہ نہیں کیا گیا، بلکہ کچھ عرصے بعد اسے نئے نظام میں دوبارہ بڑی طاقت کی حیثیت دے دی گئی۔
یہ سوچ بعد ازاں غیر معمولی طور پر کامیاب ثابت ہوئی۔ یورپ تقریباً ایک صدی تک کسی ایسی ہمہ گیر جنگ سے بچا رہا جو پورے براعظم کو اپنی لپیٹ میں لے، مگر یہ امن بھی مستقل نہیں تھا۔
⚠️
ایک غلطی سے عالمی تباہی: دنیا کتنی محفوظ ہے؟
نازک توازن
ایک غلطی سے عالمی تباہی: دنیا کتنی محفوظ ہے؟
1914 کا سرائیوو لمحہ: نادانستہ جنگ کا خوف
پہلی جنگِ عظیم کی طرح موجودہ دور میں بھی سخت فوجی معاہدے اور خودمختار میزائل دفاعی نظام ایسی سطح پر ہیں جہاں آبنائے ہرمز، تائیوان یا بحیرہ بالٹک میں ایک معمولی چنگاری خودکار طور پر عالمی جنگ میں بدل سکتی ہے۔
🛰️ اے آئی اور ہائپر سونک ہتھیار
فیصلہ سازی کا وقت گھنٹوں سے گھٹ کر محض چند منٹ رہ گیا ہے، جس سے انسانی عقل کے بجائے الگورتھم کی غلطی سے ایٹمی ردِعمل کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔
⚡ سپلائی چین کا فوری تعطل
دنیا پہلے سے کہیں زیادہ جڑی ہوئی ہے؛ ایک اہم بحری گزرگاہ کی بندش چند گھنٹوں میں عالمی منڈیوں کو اناج اور تیل کی قحط سالی میں جھونک سکتی ہے۔
قوم پرستی، سامراج اور اتحادوں نے پھر بارود بھر دیا
انیسویں صدی میں قوم پرستی تیزی سے پھیلی۔ اٹلی 1861ء اور جرمنی 1871ء میں متحد ہوئے۔ جاپان ایک صنعتی اور فوجی طاقت بن کر ابھرا، جبکہ امریکہ نے بھی عالمی سیاست میں اپنی الگ حیثیت منوانا شروع کردی۔
اسی عرصے میں سفارت کاری زیادہ منظم ہوئی، سفارت کاروں کے درجے طے ہوئے اور بین الاقوامی اداروں کا باضابطہ ابتدائی ڈھانچہ سامنے آیا۔
لیکن ساتھ ہی یورپی طاقتیں افریقہ، ایشیا اور دیگر خطوں میں نوآبادیاتی دوڑ میں مصروف تھیں۔ معیشتیں ایک دوسرے سے جڑ رہی تھیں مگر سلطنتیں وسائل اور منڈیوں کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ بھی کر رہی تھیں۔
پھر سخت فوجی اتحاد بننے لگے۔ جرمنی، آسٹریا اور اٹلی ایک طرف، جبکہ فرانس، روس اور بعد میں برطانیہ دوسری طرف آگئے۔ اس کے نتیجے میں یورپ ایک ایسے بارود کے ڈھیر میں بدل گیا جسے صرف ایک چنگاری کی ضرورت تھی۔
اور پھر وہ چنگاری 1914ء میں سرائیوو میں آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ کے قتل سے پیدا ہوئی۔
⏳
ویسٹ فیلیا سے ہرمز تک: دنیا کے بڑے موڑ
تاریخی ارتقا
ویسٹ فیلیا سے ہرمز تک: دنیا کے بڑے موڑ
ریاستی سرحدوں کا دور
قومی خودمختاری کا قیام اور یورپی طاقتوں کا نوآبادیاتی پھیلاؤ۔
سرد جنگ اور دو قطبی دنیا
ایٹمی ڈیٹرنس اور واشنگٹن بمقابلہ ماسکو نظریاتی کشمکش۔
یک قطبی لمحہ تا کثیر قطبیت
امریکی برتری کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز جیسے چوک پوائنٹس کا تنازع۔
ارتقائی جائزہ: دنیا جغرافیائی سرحدوں کی سیاست سے شروع ہو کر اب توانائی، سیمی کنڈکٹرز اور سمندری گزرگاہوں کی ہمہ جہت معاشی و دفاعی جنگ میں داخل ہو چکی ہے۔
پہلی عالمی جنگ نے دنیا کا نقشہ بدل دیا
پہلی عالمی جنگ نے صرف کروڑوں زندگیاں ہی متاثر نہیں کیں بلکہ کئی پرانی سلطنتوں کو بھی ختم کردیا۔ جرمن، روسی، آسٹرو ہنگیرین اور عثمانی سلطنتیں ٹوٹ گئیں۔
نئی ریاستیں بنیں اور یورپ کمزور ہونے لگا، جبکہ امریکہ بڑی اقتصادی اور سیاسی طاقت کے طور پر ابھرا۔
جنگ کے بعد امریکی صدر ووڈرو ولسن نے کھلی سفارت کاری اور اجتماعی امن کا تصور پیش کیا۔ لیگ آف نیشنز قائم ہوئی، مگر خود امریکہ اس تنظیم کا رکن نہ بن سکا۔
اسی دوران 1919ء کے معاہدۂ ورسائی نے جرمنی پر انتہائی سخت شرائط عائد کردیں۔ جرمن معاشرے میں ذلت اور غصے کا احساس بڑھا، جس نے آنے والے برسوں میں نازی قوم پرستی کے لیے زمین تیار کی۔
یوں پہلی عالمی جنگ کا اختتام حقیقی امن کے بجائے دوسری عالمی جنگ کی تمہید بن کر سامنے آیا۔
بدلتی دنیا میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
قومی سلامتی و خارجہ پالیسی
بدلتی دنیا میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
سی پیک اور چینی شراکت داری
چین کے بیلٹ اینڈ روڈ کا اہم ترین ستون ہونے کی وجہ سے پاکستان ابھرتے ہوئے یوریشین بلاک کا قدرتی حلیف ہے۔
مغربی مالیاتی انحصار کا دباؤ
آئی ایم ایف پروگرام اور مغربی تجارتی منڈیوں سے وابستگی کے باعث پاکستان کو بلاک سیاست سے بچنے کا کٹھن چیلنج درپیش ہے۔
آبنائے ہرمز کی جغرافیائی نزدیکی
خلیجی کشیدگی اور سمندری ایندھن کے روٹس پر انحصار پاکستان کے داخلی معاشی و توانائی تحفظ کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔
اسٹریٹجک نکتہ: پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے کے بجائے جیو اکنامکس پر مبنی آزاد خارجہ پالیسی برقرار رکھنا ہے تاکہ دونوں بلاکس سے تعلقات متوازن رہیں۔
دوسری عالمی جنگ اور موجودہ نظام کی بنیاد
1945ءمیں دوسری عالمی جنگ ختم ہوئی تو دنیا ناقابل تصور تباہی دیکھ چکی تھی۔ 6 کروڑ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، یورپ کی معیشت اور صنعت برباد ہوچکی تھی اور ہیروشیما و ناگاساکی پر ایٹمی بم گرائے جاچکے تھے۔
اس بے مثال اور وسیع تباہی کے بطن سے موجودہ عالمی نظام کی بنیادی شکل نے جنم لیا۔
اقوام متحدہ قائم ہوئی۔ عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک جیسے ادارے مضبوط ہوئے۔ عالمی عدالت انصاف وجود میں آئی۔ دوسری جانب دنیا 2 بڑی طاقتوں، یعنی امریکہ اور سوویت یونین، میں تقسیم ہوگئی۔
یہ دو قطبی نظام تقریباً 4 دہائیوں تک سرد جنگ کی صورت میں برقرار رہا۔ دونوں طاقتیں براہ راست ٹکرانے سے بچتی رہیں کیونکہ ایٹمی جنگ دونوں کے لیے تباہ کن ہوسکتی تھی، لیکن کوریا، ویتنام، افغانستان، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں پراکسی جنگیں جاری رہیں۔
🔭
آئندہ کیا ہوگا: نیا عالمی نظام کیسا ہوگا؟
◀
آئندہ کیا ہوگا: نیا عالمی نظام کیسا ہوگا؟
🌐 منقسم اور کثیر قطبی دنیا
کوئی واحد سپر پاور دنیا پر مکمل کنٹرول نہیں رکھ سکے گی؛ دنیا مغربی، یوریشین اور گلوبل ساؤتھ کے خودمختار بلاکس میں بٹ جائے گی۔
💱 ڈی ڈالرائزیشن اور متبادل کرنسیاں
عالمی تجارت میں ڈالر کے ساتھ ساتھ مقامی کرنسیوں، ڈیجیٹل اثاثوں اور سونا پر مبنی مالیاتی لین دین کا تناسب تیزی سے بڑھے گا۔
حتمی تجزیہ: اکیسویں صدی کا اصل امتحان یہ ہے کہ آیا عالمی طاقتیں کسی نئی بڑی تباہی کے بغیر باہمی تعاون کے کثیر قطبی ضابطے طے کر پاتی ہیں یا تاریخ کا تلخ پہیہ ایک بار پھر کسی بڑے تصادم کے بعد ہی نیا نظام تخلیق کرے گا۔
دیوارِ برلن گری تو لگا تاریخ ختم ہوگئی
1989ءمیں دیوارِ برلن گری، کچھ عرصے بعد سوویت یونین ٹوٹ گیا اور امریکہ واحد سپر پاور بن کر سامنے آیا۔
اس دور کو بعض مفکرین نے ’یک قطبی لمحہ‘ کہا۔ فرانسس فوکویاما نے یہاں تک لکھا کہ لبرل جمہوریت کی فتح کے ساتھ نظریاتی تاریخ اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے، لیکن تاریخ نے ایک بار پھر مختلف راستہ اختیار کیا۔
امریکہ نے نیٹو کو مشرق کی طرف بڑھایا۔ صومالیہ، بوسنیا اور کوسووو سمیت مختلف مقامات پر مداخلتیں کیں۔ پھر 11 ستمبر 2001ء کے حملوں نے عالمی سلامتی کے پورے تصور کو بدل کر رکھ دیا۔
افغانستان اور عراق کی جنگوں نے دکھایا کہ بڑی فوجی طاقت بھی ہمیشہ سیاسی استحکام پیدا نہیں کرسکتی۔
امریکہ مصروف رہا، چین اور روس واپس آگئے
جب امریکہ مشرق وسطیٰ کی طویل جنگوں میں الجھا ہوا تھا، اس دوران چین خاموشی سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گیا۔ اس کی صنعتی، تجارتی، ٹیکنالوجی اور بحری طاقت تیزی سے بڑھی۔
روس سوویت یونین کے انہدام کے بعد دوبارہ عالمی سیاست میں زیادہ جارح انداز سے واپس آیا۔ جارجیا، کریمیا اور بعد میں یوکرین کی جنگ نے واضح کردیا کہ ماسکو مغربی نظام کو بلا مقابلہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اسی دوران برکس جیسے گروپ سامنے آئے، جن میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ ابتدائی اہم ارکان تھے۔ ان ممالک نے زیادہ کثیر قطبی عالمی نظام کا مطالبہ شروع کیا۔
یہیں سے وہ خیال مضبوط ہوا کہ امریکہ کی یک قطبی بالادستی شاید مستقل نہیں بلکہ ایک عبوری مرحلہ تھی۔
طاقت اہم یا تعاون؟
ماہرین کے مطابق عالمی سیاست کو سمجھنے کے 2 بڑے نظریاتی راستے آج بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
سیاسی حقیقت پسند کہتے ہیں کہ دنیا میں بالاتر عالمی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے ریاستیں بنیادی طور پر اپنی سلامتی، بقا اور طاقت کی فکر کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک قومی مفاد اخلاقی نعروں سے زیادہ اہم رہتا ہے۔
یہی سوچ قدیم یونانی مورخ تھوسیڈائڈز سے لے کر جدید مفکرین تک دکھائی دیتی ہے۔ گراہم ایلیسن نے اسی تصور کو چین اور امریکہ کی رقابت پر لاگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ابھرتی طاقت اور قائم شدہ طاقت کے درمیان خوف، جنگ کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
اس کے مقابلے میں لبرل نظریہ واضح طور پر کہتا ہے کہ جمہوریت، تجارت، اقتصادی انحصار اور عالمی ادارے جنگ کے امکانات کم کرسکتے ہیں۔
یورپی یونین اس سوچ کی بڑی مثال ہے۔ فرانس اور جرمنی، جو کبھی مسلسل جنگیں لڑتے تھے، اقتصادی مفادات اور سیاسی اداروں کے ذریعے ایسے شراکت دار بنے کہ آج ان کے درمیان جنگ کا تصور انتہائی دور نظر آتا ہے۔
آج کا بحران پہلے سے مختلف
اکیسویں صدی کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کے سامنے خطرات اب صرف فوجی نہیں رہے۔
موسمیاتی تبدیلی، سائبر حملے، توانائی کی سلامتی، سپلائی چینز، بڑے پیمانے پر ہجرت، مصنوعی ذہانت، معاشی عدم مساوات اور قوم پرستانہ سیاست ایسی مشکلات ہیں جنہیں کوئی ایک ملک اکیلا حل نہیں کرسکتا۔
آبنائے ہرمز جیسے مقامات بھی اسی نئی حقیقت کی علامت ہیں۔ چند کلومیٹر کا ایک بحری راستہ دنیا کی توانائی اور تجارت کو متاثر کرسکتا ہے۔ کسی ایک خطے کا بحران چند گھنٹوں میں عالمی منڈیوں تک پہنچ جاتا ہے۔
مبصرین اس صورت حال کو مختصراً یوں بیان کرتے ہیں کہ دنیا اس وقت پہلے سے زیادہ جڑی ہوئی بھی ہے اور پہلے سے زیادہ تقسیم شدہ بھی۔
کیا اگلا عالمی نظام بھی کسی تباہی کے بعد بنے گا؟
تاریخ کا سب سے پریشان کن سبق یہی ہے کہ دنیا نے اکثر اپنی بڑی غلطیوں کے بعد ہی نئے اصول بنائے۔
30 سالہ جنگ کے بعد ویسٹ فیلیا آیا۔ نپولینی جنگوں کے بعد ویانا کا نظام بنا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ اور موجودہ عالمی ادارے وجود میں آئے۔
آج امریکہ، چین، روس، یورپ اور دوسری ابھرتی طاقتیں ایک ایسے نظام میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں جس کے پرانے اصول کمزور پڑ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ عالمی نظام بدل رہا ہے یا نہیں، کیونکہ تبدیلی کے آثار واضح ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اس مرتبہ جنگ اور تباہی سے پہلے نئے اصول طے کرسکے گی، یا انسانیت ایک بار پھر کوئی بڑی قیمت ادا کرنے کے بعد ہی یہ سمجھ پائے گی کہ طاقت کے ساتھ تعاون بھی ضروری ہے؟
مبصرین کے مطابق بدقسمتی سے ہماری صدی کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے۔