براہ راست نشریات

سعودی عرب 70 کروڑ ریال کی انشورنس ڈھال کیوں بنا رہا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Red Sea Shipping

سعودی عرب جنگ اور سیاسی تشدد کے خطرات کے لیے ایک نئے انشورنس پول پر غور کررہا ہے۔
مجوزہ نظام ہر حادثے کے لیے 70 کروڑ ریال تک کوریج دے سکتا ہے۔
مقصد صرف پریمیم کم کرنا نہیں بلکہ مشکل حالات میں انشورنس کی دستیابی برقرار رکھنا ہے۔
اگر منصوبہ کامیاب ہوا تو یہ خلیج میں سمندری تجارت کے تحفظ کا نیا ماڈل بن سکتا ہے۔

خلیج اور بحیرۂ احمر میں جنگ اب صرف میزائلوں کی تعداد یا نشانہ بننے والے جہازوں سے نہیں ناپی جارہی۔ 

ایک اور محاذ تیزی سے اہم ہوتا جارہا ہے، جو نظروں سے نسبتاً اوجھل ہے مگر تجارت پر اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہوسکتے ہیں: انشورنس۔

کوئی جہاز تکنیکی طور پر سفر کے قابل ہوسکتا ہے، بندرگاہ کھلی ہوسکتی ہے اور سامان بھی تیار، لیکن اگر انشورنس کمپنی سفر کو کور کرنے سے انکار کردے یا اتنی زیادہ قیمت طلب کرے کہ سفر تجارتی طور پر غیرمنافع بخش ہوجائے تو جہاز بندرگاہ چھوڑنے سے پہلے ہی رک سکتا ہے۔

اسی پس منظر میں سعودی عرب ایک غیرروایتی قدم پر غور کررہا ہے: جنگ اور سیاسی تشدد کے خطرات کے خلاف ریاستی حمایت یافتہ انشورنس نظام قائم کرنا، تاکہ عسکری بے یقینی سعودی سمندری تجارت پر غیرعلانیہ معاشی محاصرے میں تبدیل نہ ہوجائے۔

مزید پڑھیں

فنانشل ٹائمز کی 24 اگست 2026 کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے لندن میں انشورنس بروکرز کے ساتھ ایسے انشورنس پول کے قیام پر بات چیت کی ہے جو ہر بیمہ شدہ حادثے، مثلاً میزائل حملے یا جہاز کے قبضے، کے لیے 70 کروڑ ریال، یعنی تقریباً 18 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک کی کمرشل کوریج فراہم کرسکے۔ 

یہ منصوبہ ابھی زیرغور ہے اور حتمی نظام کے طور پر نافذ نہیں ہوا۔

خطرہ اب صرف سمندر میں نہیں

سعودی اقدام کی وجہ واضح ہے۔ انشورنس کمپنیاں اب خطے سے منسلک جہازوں، بندرگاہوں اور کھیپوں کو زیادہ خطرے والے اثاثوں کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

ایران کے ساتھ جنگ، آبنائے ہرمز میں کشیدگی، حوثیوں کے حملے اور بحیرۂ احمر میں مسلسل دھمکیوں نے کچھ انشورنس کمپنیوں کو نرخ بڑھانے، کوریج کی شرائط محدود کرنے اور بعض انتہائی حساس راستوں کو کور کرنے سے انکار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTسعودی جنگی انشورنس — اہم نکات
  • سعودی عرب جنگ اور سیاسی تشدد کے خطرات کے خلاف ریاستی حمایت یافتہ انشورنس نظام قائم کرنے پر غور کررہا ہے۔
  • مجوزہ نظام ہر بیمہ شدہ حادثے کے لیے 70 کروڑ ریال، یعنی تقریباً 18 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک کوریج فراہم کرسکتا ہے۔
  • بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث جنگی انشورنس پریمیم کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔
  • مسئلہ صرف مہنگی انشورنس نہیں؛ بعض حساس روٹس پر کمپنیوں کی جانب سے کوریج محدود یا مسترد ہونے کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
  • متبادل بحری راستے بعض کھیپوں کا سفر تقریباً 20 دن سے بڑھا کر 50 سے 60 دن تک لے جارہے ہیں۔
  • اگر منصوبہ نافذ ہوا تو یہ سعودی تجارت، توانائی کی برآمدات اور سپلائی چین کے لیے اقتصادی سلامتی کی نئی ڈھال بن سکتا ہے۔
overseaspost.net

یہ صورتحال اس لیے خطرناک ہے کیونکہ میرین انشورنس کوئی اضافی سہولت نہیں جسے آسانی سے چھوڑ دیا جائے۔ بڑے تجارتی جہاز، آئل ٹینکرز، مالیاتی ادارے اور بندرگاہیں ایسے نقصانات سے بچنے کے لیے انشورنس پر انحصار کرتی ہیں جو کروڑوں یا اربوں ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔

جب انشورنس کمپنیاں خطرہ اٹھانے سے پیچھے ہٹتی ہیں تو جنگ کا خوف براہ راست ہر کھیپ کی قیمت میں شامل ہونے لگتا ہے۔ 

ایک دن میں 0.25 فیصد سے 1 فیصد

اعداد اس مسئلے کی شدت واضح کرتے ہیں۔

جولائی کے آخر میں حوثی حملوں میں اضافے کے بعد لندن کی انشورنس مارکیٹ نے بحیرۂ احمر کے بڑے علاقوں کو زیادہ خطرے والے زون میں شامل کردیا۔

رائٹرز کے مطابق جدہ اور ینبع جیسی سعودی بندرگاہوں کے لیے جنگی خطرات کے انشورنس پریمیم ایک ہی دن میں جہاز کی مالیت کے تقریباً 0.25 فیصد سے بڑھ کر ایک فیصد تک پہنچ گئے، جبکہ جنوبی بحیرۂ احمر کے راستوں کے لیے یہ شرح ایک سے 2 فیصد تک جا پہنچی، جو کشیدگی سے پہلے تقریباً 0.3 فیصد تھی۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXسعودی جنگی انشورنس: فیکٹ باکس
مجوزہ کوریج
70 کروڑ ریال فی حادثہ
ڈالر میں
تقریباً 18 کروڑ 60 لاکھ ڈالر
مرکزی خطرہ
جنگ اور سیاسی تشدد
اہم خطے
بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز
اہم مقصد
انشورنس کی دستیابی برقرار رکھنا
ممکنہ اثر
جہاز رانی اور تجارت کا تسلسل
ممکنہ شریک ادارے
سعودی ری انشورنس کمپنیاں اور سعودی ایکسپورٹ امپورٹ بینک
منصوبے کی حیثیت
زیرغور — ابھی حتمی طور پر نافذ نہیں
overseaspost.net

یہ شرحیں بظاہر چھوٹی لگتی ہیں، مگر بڑے ٹینکروں پر ان کا مالی اثر بہت بھاری ہوتا ہے۔

اگر کسی جہاز کی قیمت 10 کروڑ ڈالر ہو تو 0.25 فیصد کا پریمیم تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر بنتا ہے۔ 

یہی شرح 1 فیصد ہوجائے تو لاگت 10 لاکھ ڈالر، اور 2 فیصد پر 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔

یعنی انشورنس کی شرح میں معمولی اضافہ بھی ایک ہی سفر کی لاگت میں 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا اضافہ کرسکتا ہے۔

70 کروڑ ریال کی چھتری کا مطلب کیا ہے؟

یہیں سعودی منصوبے کی اہمیت سامنے آتی ہے۔

زیرغور منصوبے کے تحت ایک انشورنس پول قائم کیا جاسکتا ہے جو ہر حادثے کے لیے 70 کروڑ ریال تک کی کمرشل کوریج فراہم کرے، جبکہ ضرورت پڑنے پر سعودی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اضافی مالی حمایت دے سکتا ہے۔

توقع ہے کہ اس میں سعودی ری اور ریاض ری جیسی سعودی ری انشورنس کمپنیاں بھی شریک ہوسکتی ہیں، جبکہ بین الاقوامی اداروں کی شمولیت کا امکان بھی موجود ہے۔

منصوبے کا مقصد یہ نہیں کہ حکومت تمام خطرہ اپنے اوپر لے لے، بلکہ یہ ہے کہ ایک اضافی حفاظتی تہہ تیار کی جائے تاکہ نجی انشورنس کمپنیاں کسی تباہ کن نقصان کے خوف کے بغیر مارکیٹ میں موجود رہ سکیں۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ منصوبہ کیوں اہم ہے؟

سعودی جنگی انشورنس منصوبہ تین سطحوں پر اہم ہوسکتا ہے:

تجارت کا تسلسلاگر نجی انشورنس کمپنیاں حساس روٹس سے پیچھے ہٹیں تو ریاستی پشت پناہی جہازوں کو کوریج دستیاب رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
لاگت پر دباؤاضافی مالی ضمانت جنگی رسک پریمیم کے غیرمعمولی اضافے کو محدود کرنے اور شپنگ لاگت قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اقتصادی سلامتیتیل، خوراک، گاڑیوں اور خام مال کی سمندری نقل و حمل متاثر ہونے کی صورت میں انشورنس بحران براہ راست صارف اور معیشت تک پہنچ سکتا ہے۔
اصل اہمیت: جنگ بندرگاہ بند کئے بغیر بھی تجارت روک سکتی ہے؛ اگر جہاز کو انشورنس نہ ملے تو وہ سفر شروع نہیں کرے گا۔ اسی خلا کو سعودی منصوبہ پُر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
overseaspost.net

سادہ الفاظ میں، ابتدائی نقصان کمرشل مارکیٹ برداشت کرے اور اگر حادثہ بہت بڑا ہو تو ریاستی حمایت یافتہ ادارے اگلی سطح پر مدد فراہم کریں۔

یہی اس پورے منصوبے کی اصل طاقت ہوسکتی ہے۔

مسئلہ صرف قیمت کا نہیں

موجودہ بحران میں مسئلہ صرف مہنگے پریمیم نہیں۔

بڑا خطرہ یہ ہے کہ بعض انشورنس کمپنیاں سفر کو کور کرنے سے ہی انکار کردیں۔

ایسی صورت میں جہاز کا مالک یہ نہیں پوچھے گا کہ انشورنس کتنی مہنگی ہے، بلکہ یہ کہ کیا کوئی کمپنی اسے انشورنس دینے کے لیے تیار بھی ہے؟

✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا معلوم ہے، کیا ابھی زیرغور ہے؟

مصدقہ معلومات

  • سعودی عرب نے جنگی اور سیاسی خطرات کے لیے نئے انشورنس انتظام پر بات چیت کی ہے۔
  • مجوزہ کوریج فی حادثہ 70 کروڑ ریال تک ہوسکتی ہے۔
  • بحیرۂ احمر اور ہرمز میں خطرات نے انشورنس اور شپنگ لاگت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
  • سعودی عرب متبادل برآمدی راستوں اور بندرگاہوں کے استعمال پر بھی کام کررہا ہے۔
  • منصوبے کا بنیادی مقصد شدید کشیدگی میں بھی انشورنس اور جہاز رانی کی دستیابی برقرار رکھنا ہے۔

ادارتی احتیاط

  • 70 کروڑ ریال کا نظام ابھی حتمی طور پر نافذ شدہ اسکیم نہیں؛ اسے زیرغور منصوبے کے طور پر بیان کیا جائے۔
  • ممکنہ شریک اداروں اور حکومتی پشت پناہی کی حتمی ساخت کے بارے میں قطعی دعویٰ نہ کیا جائے۔
  • انشورنس پریمیم مختلف روٹس، جہازوں اور حالات کے مطابق بدلتے ہیں؛ ایک شرح کو پوری مارکیٹ پر لاگو نہ کیا جائے۔
  • یہ دعویٰ نہ کیا جائے کہ انشورنس نظام فوجی خطرہ ختم کردے گا؛ یہ بنیادی طور پر مالی خطرہ کم کرنے کی کوشش ہے۔

اہم احتیاط: منصوبے کو قائم شدہ سرکاری فنڈ کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ ایک مجوزہ اور زیرغور انشورنس انتظام ہے۔

overseaspost.net

اگر جواب نفی میں ہو تو جہاز چلے گا ہی نہیں۔

اس لیے سعودی منصوبے کا اصل مقصد صرف نرخ کم کرنا نہیں بلکہ انشورنس کی دستیابی کو برقرار رکھنا ہے۔

یہ فرق بہت اہم ہے۔ 

ہرمز اب انشورنس اور قانونی بحران بھی ہے

آبنائے ہرمز اس پیچیدگی کی سب سے واضح مثال ہے۔

جنگ سے پہلے اس راستے سے دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی مجموعی تجارت کا بہت بڑا حصہ گزرتا تھا۔ لیکن حالیہ ہفتوں میں جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق 19 اگست کو Kpler کے ڈیٹا میں صرف چھ کموڈیٹی جہازوں کی آمدورفت ریکارڈ ہوئی، جبکہ 10 روزہ اوسط تقریباً 11 جہاز یومیہ تھی۔

لیکن مسئلہ صرف فوجی نہیں۔

یہ تنازع اس سوال تک بھی پہنچ گیا ہے کہ ایران جہازوں سے گزرنے کے لیے کیا فیس یا شرائط عائد کرسکتا ہے۔

1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی

خلیج اور بحیرۂ احمر میں جنگی خطرات نے جہاز رانی کے ساتھ انشورنس کو بھی بحران کا حصہ بنا دیا ہے۔ پریمیم میں تیز اضافہ اور بعض روٹس پر کوریج محدود ہونے کا خدشہ تجارت کے لیے نئی رکاوٹ بن رہا ہے۔

سعودی عرب اب ایسے نظام پر غور کررہا ہے جو ہر حادثے کے لیے 70 کروڑ ریال تک کوریج فراہم کرسکے، تاکہ شدید کشیدگی کے باوجود جہازوں، تیل اور تجارتی سامان کی نقل و حرکت جاری رہے۔

متبادل بحری راستے بعض کھیپوں کا سفر تقریباً 20 دن سے بڑھا کر 50 سے 60 دن تک لے جارہے ہیں۔ الدرعیہ میں ان کی نمازِ جنازہ ادا ہوئی، اور یوں ایک فوٹوگرافر کا سفر اسی سرزمین پر ختم ہوا جسے اس نے دہائیوں تک اپنی عدسہ میں محفوظ کیا۔

overseaspost.net

رائٹرز کے مطابق لوئڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن نے ایک ایسی شق متعارف کرائی جس کے تحت بعض حالات میں اگر جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مخصوص فیس یا ادائیگی کرے تو اس کی انشورنس کوریج ختم ہوسکتی ہے، جبکہ کسی پابندی زدہ ایرانی فریق کو ادائیگی الگ قانونی مسئلہ پیدا کرسکتی ہے۔

سعودی عرب متبادل راستے بھی تلاش کررہا ہے

اس بحران میں آرامکو نے کسی جامع سیاسی حل کا انتظار نہیں کیا۔

کمپنی نے اگست میں آبنائے ہرمز کے اندر واقع بندرگاہوں سے تیل کی لوڈنگ بحال کی، راس تنورہ اور الجعیمہ سے بڑے ٹینکر روانہ کئے، اور ایشیائی ریفائنریز کو خلیج کے باہر جہاز سے جہاز منتقلی کے ذریعے عرب میڈیم اور عرب ہیوی خام تیل کی پیشکش بھی کی۔

$OVERSEAS POST | COST CHECKایک سفر پر انشورنس کا بوجھ کتنا؟
جہاز کی مثال
10 کروڑ ڈالر مالیت
0.25 فیصد پریمیم
2 لاکھ 50 ہزار ڈالر
1 فیصد پریمیم
10 لاکھ ڈالر
2 فیصد پریمیم
20 لاکھ ڈالر
overseaspost.net

اسی دوران سعودی عرب نے مشرق-مغرب پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کو بحیرۂ احمر تک پہنچانے اور مصر کی تنصیبات کے ذریعے متبادل روٹس استعمال کرنے پر بھی انحصار بڑھایا ہے۔

لیکن متبادل راستے مفت نہیں ہوتے۔

فاصلہ بڑھتا ہے، جہاز کا کرایہ بڑھتا ہے اور سفر طویل ہوجاتا ہے۔

جاپانی ریفائنر ایڈیمٹسو نے سعودی خام تیل کی بعض کھیپیں نہر سویز اور کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے حاصل کرنا شروع کردی ہیں۔ کمپنی کے مطابق کچھ سفر جو پہلے تقریباً 20 دن میں مکمل ہوجاتے تھے اب 50 سے 60 دن لے رہے ہیں۔

یعنی راستہ بدلنے سے سکیورٹی کا خطرہ کم ہوسکتا ہے، لیکن اقتصادی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

بڑے خریدار بھی خطے سے بچنے لگے

چین اس کی اہم مثال ہے۔

دو بڑی چینی سرکاری شپنگ کمپنیوں نے، جو چین کی مشرق وسطیٰ سے تیل درآمدات کے تقریباً نصف حصے کی نقل و حمل میں شامل رہی ہیں، جولائی کے آخر سے اپنے کئی ٹینکرز کو آبنائے ہرمز اور باب المندب سے دور رکھا۔

OVERSEAS POST | IMPACTجنگی انشورنس عام صارف تک کیسے پہنچتی ہے؟

شپنگ اور انشورنس کی بڑھتی لاگت صرف تیل کمپنیوں کا مسئلہ نہیں رہتی؛ اس کا ایک حصہ بالآخر بازار تک منتقل ہوسکتا ہے۔

خوراکدرآمدی اشیا پر فریٹ اور انشورنس لاگت بڑھ سکتی ہے۔
گاڑیاں و مشینریطویل روٹس اور مہنگی شپنگ قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔
خام مالصنعتی درآمدات مہنگی ہوں تو مقامی پیداوار کی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔
overseaspost.net

اسی دوران عمان سے چین جانے والے بعض ٹینکر روٹس کے یومیہ کرائے ایک لاکھ 40 ہزار ڈالر تک پہنچ گئے، یعنی سابقہ سطح سے تقریباً 4 گنا۔

اس کا مطلب ہے کہ انشورنس اور شپنگ بحران صرف سعودی عرب کا اندرونی مسئلہ نہیں۔

اگر ایشیا کے سب سے بڑے خریدار یہ سمجھنے لگیں کہ خطہ بہت خطرناک ہوگیا ہے تو اس کے اثرات تیل برآمد کرنے والے ممالک، ریفائنریز، ایندھن کی قیمتوں اور عالمی سپلائی چین پر پڑتے ہیں۔

سعودی انشورنس چھتری کیا فائدہ دے سکتی ہے؟

اگر یہ منصوبہ کامیابی سے نافذ ہوجاتا ہے تو اس کے تین بڑے فوائد ہوسکتے ہیں۔

پہلا، انشورنس کی دستیابی برقرار رہ سکتی ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب نجی کمپنیاں مارکیٹ سے پیچھے ہٹنے لگیں۔

OVERSEAS POST | ROUTESہرمز سے بچیں تو قیمت کہاں بڑھتی ہے؟
  • سعودی خام تیل کے لیے مشرق-مغرب پائپ لائن اور بحیرۂ احمر اہم متبادل ہیں۔
  • بعض کھیپیں نہر سویز یا کیپ آف گڈ ہوپ کے طویل راستوں سے بھیجی جارہی ہیں۔
  • کچھ سفر تقریباً 20 دن سے بڑھ کر 50 سے 60 دن تک پہنچ سکتے ہیں۔
  • راستہ بدلنے سے سکیورٹی کا ایک خطرہ کم ہوسکتا ہے مگر فریٹ، ایندھن اور وقت کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔
overseaspost.net

دوسرا، ریاستی مالی پشت پناہی سے انشورنس کمپنیوں کی غیرمعمولی نقصان کی تشویش کم ہوسکتی ہے، جس سے رسک پریمیم نیچے لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

تیسرا، جہاز مالکان اور سرمایہ کاروں کو یہ اعتماد مل سکتا ہے کہ بحران کے دوران سعودی سمندری تجارت مکمل طور پر بین الاقوامی انشورنس مارکیٹ کے فیصلوں کی یرغمال نہیں رہے گی۔

اس زاویے سے یہ منصوبہ صرف انشورنس اسکیم نہیں بلکہ اقتصادی سلامتی کا ایک نیا آلہ بن سکتا ہے۔

کیا 70 کروڑ ریال کافی ہوں گے؟

ضروری نہیں۔

اگر ایک حادثہ ہو تو 70 کروڑ ریال بڑی رقم ہے، لیکن اگر ایک ہی مدت میں کئی جہاز یا تنصیبات نشانہ بن جائیں تو یہ رقم محدود ثابت ہوسکتی ہے۔

اس کے علاوہ پیسہ عسکری خطرہ ختم نہیں کرسکتا۔

70OVERSEAS POST | LIMITS70 کروڑ ریال کیا کرسکتے ہیں، کیا نہیں؟

ممکنہ فائدہ

  • بڑے حادثے کی مالی کوریج میں مدد
  • نجی انشورنس کمپنیوں کا اعتماد بڑھ سکتا ہے
  • حساس روٹس پر کوریج برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے

حدود

  • متعدد بیک وقت حملوں میں رقم محدود پڑسکتی ہے
  • انشورنس فوجی خطرہ ختم نہیں کرتی
  • جہاز کے عملے اور آپریشنل تعطل کا خطرہ بدستور رہتا ہے
overseaspost.net

کسی جہاز کے مالک کو یہ یقین ہوسکتا ہے کہ جہاز ڈوبنے کی صورت میں اسے مکمل معاوضہ مل جائے گا، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ عملے کی جان یا کئی ماہ کی آپریشنل بندش کا خطرہ مول لینے پر آمادہ ہو۔

اسی لیے انشورنس معاشی خطرہ کم کرسکتی ہے، مگر سمندری سلامتی کا متبادل نہیں بن سکتی۔

سب سے بڑا خطرہ: جنگ ہر چیز کی قیمت میں شامل ہوجائے

یہ معاملہ صرف تیل تک محدود نہیں۔

سعودی عرب بڑی مقدار میں خوراک، گاڑیاں، مشینری، خام مال اور صنعتی مصنوعات سمندر کے راستے درآمد کرتا ہے۔

اگر شپنگ اور انشورنس کی لاگت طویل عرصے تک بلند رہی تو کمپنیاں یہ اضافی بوجھ ہمیشہ خود برداشت نہیں کرسکیں گی۔

اس کا ایک حصہ بالآخر صارف تک منتقل ہوگا۔

OVERSEAS POST | NEXTآگے کیا ہوسکتا ہے؟

اگر سعودی منصوبہ نافذ ہوا تو پہلا امتحان یہ ہوگا کہ کیا نجی انشورنس کمپنیاں حساس خلیجی اور بحیرۂ احمر روٹس پر زیادہ اعتماد کے ساتھ واپس آتی ہیں۔

پریمیم میں کمی یا کوریج کی دستیابی بہتر ہوئی تو سعودی تجارت اور توانائی کی برآمدات کو براہ راست فائدہ ہوسکتا ہے۔

اگر بحران طویل ہوا تو دوسرے خلیجی ممالک بھی ریاستی حمایت یافتہ جنگی انشورنس کے اسی طرز کے ماڈل پر غور کرسکتے ہیں۔

overseaspost.net

یوں بحیرۂ احمر میں فائر کیا گیا ایک میزائل سینکڑوں کلومیٹر دور کسی اسٹور میں فروخت ہونے والی چیز کی قیمت تک پہنچ سکتا ہے۔

اب فارمولہ کچھ یوں بنتا ہے:

آخری قیمت = مصنوعات کی قیمت + ٹرانسپورٹ + انشورنس + جغرافیائی سیاسی خطرے کی لاگت

اور جنگ جتنی طویل ہوگی، آخری عنصر اتنا ہی زیادہ اہم بنتا جائے گا۔

جنگ نے بندرگاہیں بند نہیں کیں.. مگر انشورنس کرسکتی ہے

یہی اس پوری کہانی کا سب سے اہم نکتہ ہے۔

بندرگاہ یا آبنائے کی بندش ایک واضح واقعہ ہے، جسے دیکھا جاسکتا ہے۔

لیکن انشورنس کی قیمتوں میں اضافہ ایک خاموش معاشی رکاوٹ ہے۔

جہاز موجود ہے، بندرگاہ کھلی ہے، تیل دستیاب ہے، مگر سفر اتنا مہنگا ہوجاتا ہے کہ وہ تجارتی طور پر بے معنی ہوجاتا ہے۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

اسی لیے سعودی عرب اس حلقے کو توڑنے کی کوشش کررہا ہے جو مکمل فوجی ناکہ بندی کے بغیر بھی تجارت کو مفلوج کرسکتا ہے۔

اگر 70 کروڑ ریال کی انشورنس چھتری کامیاب ہوتی ہے تو یہ جنگ کے باوجود جہازوں کو حرکت میں رکھنے، لاگت قابو میں رکھنے اور بین الاقوامی انشورنس مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے سعودی عرب کی وابستگی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

لیکن اس منصوبے کی کامیابی آخرکار ایک ایسے سوال سے جڑی رہے گی جس کا جواب صرف پیسہ نہیں دے سکتا:

جب آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں خطرات چند گھنٹوں میں بدل سکتے ہوں تو کیا انشورنس واقعی جہاز مالکان کا اعتماد واپس لاسکتی ہے؟

اسی سوال کا جواب طے کرے گا کہ سعودی منصوبہ محض ایک عارضی مالی حل بنتا ہے یا خلیجی ممالک کے لیے جنگی دور میں سمندری تجارت کے تحفظ کا ایک نیا ماڈل۔

OVERSEAS POST | SOURCESرپورٹ کے بنیادی ذرائع

یہ ذرائع رپورٹ میں استعمال ہونے والی بنیادی معلومات، انشورنس خطرات اور سعودی جہاز رانی کی حکمت عملی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

overseaspost.net