صومالیہ میں 2026 کے دوران تقریباً 19 لاکھ بچوں کو غذائی قلت کا خطرہ ہے۔
شدید مالی بحران کے باعث 205 صحت اور غذائیت مراکز بند ہوچکے ہیں۔
محفوظ پانی، خوراک، علاج اور تعلیم تک رسائی مسلسل محدود ہوتی جارہی ہے۔
سب سے بڑی تلخ حقیقت یہ ہے کہ علاج موجود ہے، مگر اسے بچوں تک پہنچانے کے لیے پیسے کم پڑ رہے ہیں۔
2026 میں صومالیہ ایک ایسے انسانی بحران کی جانب بڑھ رہا ہے جس میں خشک سالی، بھوک، بے گھری اور امدادی فنڈز میں کمی ایک ساتھ لاکھوں خاندانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ سب سے زیادہ خطرہ بچوں کو ہے۔
یونیسیف کے مطابق رواں سال تقریباً 19 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہوسکتے ہیں، جبکہ ان میں لگ بھگ 5 لاکھ بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہوگا، جو جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔
لیکن صومالیہ کا بحران صرف یہ نہیں کہ بچوں کے پاس خوراک نہیں۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ انہیں بچانے والا نظام بھی کمزور پڑتا جا رہا ہے۔
01 اہم نکاتصومالیہ میں بچوں کا غذائی بحران ⌄
- 19 لاکھ بچے 2026 میں غذائی قلت سے متاثر ہونے کے خدشے سے دوچار ہیں۔
- تقریباً 5 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کی خطرناک ترین شکل کا سامنا کرسکتے ہیں۔
- سال کے پہلے 6 ماہ میں شدید غذائی قلت کے باعث خصوصی مراکز میں داخل بچوں کی تعداد 32 فیصد بڑھی۔
- امدادی فنڈز میں کمی کے بعد 205 صحت و غذائیت مراکز بند ہوچکے ہیں۔
- شدید فنڈنگ بحران برقرار رہا تو ملک بھر میں 618 مراکز تک بند ہوسکتے ہیں۔
چند سال پہلے حاجیو کی زندگی مختلف تھی۔ اس کے پاس گھر تھا، مویشی تھے اور بچے اسکول جاتے تھے۔ یہی مویشی اس کے خاندان کی آمدنی اور خوراک کا بنیادی ذریعہ تھے۔
پھر خشک سالی نے آہستہ آہستہ سب کچھ چھین لیا۔ جانور ایک ایک کرکے مرنے لگے، آمدنی ختم ہوئی اور بالآخر خاندان کو اپنا علاقہ چھوڑنا پڑا۔
مزید پڑھیں
حاجیو اپنے بچوں کے ساتھ جنوب مغربی صومالیہ کے علاقے بورہاکابا پہنچی کیونکہ اسے امید تھی کہ وہاں امداد مل سکے گی۔ مگر جس امدادی نظام کی اسے تلاش تھی وہ خود شدید بحران سے گزر رہا تھا۔ خاندان کو پلاسٹک اور لکڑی سے بنے عارضی ٹھکانے میں رہنا پڑا، جبکہ محدود مدد ایسے مقامی لوگوں نے فراہم کی جو خود غربت کا سامنا کر رہے تھے۔
یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ صومالیہ کے لاکھوں لوگوں کی موجودہ حقیقت ہے۔
غذائی قلت بڑھ رہی ہے، علاج تک رسائی گھٹ رہی ہے
2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ایسے بچوں کی تعداد میں 32 فیصد اضافہ ہوا جنہیں شدید غذائی قلت اور اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث خصوصی طبی مراکز میں داخل کرنا پڑا۔
02 فیکٹ باکسپانی، تعلیم اور علاج بھی خطرے میں ⌄
اس اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پہلے بچوں کی غذائی قلت کی تشخیص مقامی سطح پر ہوجاتی تھی اور بروقت علاج ممکن تھا۔ اب بہت سے مراکز بند ہونے کے باعث بچے اس وقت اسپتال پہنچتے ہیں جب ان کی حالت زیادہ خراب ہوچکی ہوتی ہے۔
یوں مسئلہ صرف بھوک نہیں رہا بلکہ علاج میں تاخیر بھی بچوں کی جان کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
205 مراکز بند، مزید سینکڑوں خطرے میں
امدادی فنڈز میں غیرمعمولی کمی کے باعث صومالیہ میں اب تک 205 صحت اور غذائیت کے مراکز بند ہوچکے ہیں۔ اگر مالی بحران برقرار رہا تو یہ تعداد بڑھ کر 618 مراکز تک پہنچ سکتی ہے۔
صحت اور غذائیت کی سہولتوں کی مجموعی کوریج میں بھی تقریباً 30 فیصد کمی آئی ہے۔
کاغذ پر ایک طبی مرکز کا بند ہونا شاید محض ایک عدد معلوم ہو، لیکن دور دراز علاقوں میں رہنے والی ماؤں کے لیے اس کا مطلب کئی گھنٹے اضافی سفر، زیادہ کرایہ اور علاج میں تاخیر ہے۔
ایسی صورتحال میں ایک کمزور بچے کے لیے ہر دن اہم ہوتا ہے۔
03 یہ کیوں اہم ہے؟مسئلہ علاج کی عدم موجودگی نہیں، رسائی کا ہے ⌄
شدید غذائی قلت کا علاج موجود ہے اور بروقت رسائی کی صورت میں نتائج انتہائی مؤثر ہیں۔ 2021 سے 2025 کے درمیان یونیسیف کی معاونت سے 22 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ شدید غذائی قلت کے کیسز علاج کے پروگراموں میں داخل کئے گئے۔
اس کے باوجود امدادی نیٹ ورک سکڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی فضائی سروس UNHAS کا صومالیہ بجٹ 2025 سے 2026 کے درمیان 40 فیصد کم ہوا، جس سے دور دراز علاقوں تک امداد پہنچانا مزید مشکل ہوگیا۔
رپورٹس کے مطابق صومالیہ کے بعض علاقوں میں شدید غذائی قلت کے علاج کے لیے مختص فنڈنگ میں 80 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔
امریکا سمیت متعدد مغربی ممالک نے بھی مختلف امدادی پروگراموں کے لیے فنڈز محدود کئے ہیں۔
خشک سالی پہلے مویشی کھاتی ہے، پھر انسان کی خوراک
صومالیہ میں بحران کسی ایک وجہ سے پیدا نہیں ہوا۔
شمالی علاقوں میں خشک سالی شدید ہوتی جارہی ہے، کئی دوسرے حصوں میں مسلح تنازعات اور نقل مکانی جاری ہے، جبکہ خوراک اور بنیادی اشیا کی قیمتیں پہلے ہی غریب خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہیں۔
دیہی خاندان جب مویشی کھو دیتے ہیں تو وہ صرف جانور نہیں کھوتے بلکہ اپنی جمع پونجی، خوراک اور آمدنی تینوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔
پانی کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔
16 لاکھ سے زیادہ افراد کو محفوظ پانی کی ضرورت ہے، جبکہ آٹھ لاکھ سے زائد لوگوں کے پاس بنیادی صفائی کی ضروریات بھی پوری نہیں ہو رہیں۔
04 مصدقہ / اداریاتی احتیاطان اعداد کو درست تناظر میں کیسے لکھیں؟ ⌄
- 205 مراکز بند ہونے کا عدد موجودہ صورتحال ہے؛ اسے مستقبل کا تخمینہ نہ لکھیں۔
- 618 مراکز بند ہونے کا امکان یونیسیف کا شدید فنڈنگ منظرنامہ ہے؛ اسے یقینی نتیجہ قرار نہ دیا جائے۔
- 19 لاکھ بچے غذائی قلت سے متاثر ہونے کی پیش گوئی ہے؛ یہ تمام بچے شدید غذائی قلت کا شکار نہیں۔
- تقریباً نصف ملین بچوں کے لیے شدید غذائی قلت کا خطرہ الگ شمار کیا گیا ہے۔
- صومالیہ میں بھوک اور غذائی قلت کا بحران انتہائی سنگین ہے، لیکن پورے ملک کو بلا امتیاز قحط زدہ قرار دینا درست نہیں جب تک متعلقہ IPC درجہ بندی ایسا نہ کہے۔
کچھ دیہی علاقوں میں 200 لیٹر پانی کے ڈرم کی قیمت تقریباً دو ڈالر سے بڑھ کر 8 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
جس خاندان کی کوئی مستقل آمدنی نہ ہو، اسے فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ پیسے پانی پر خرچ کرے، خوراک خریدے، دوا لے یا بچے کو اسپتال پہنچانے کا کرایہ ادا کرے۔
بحران اسکولوں تک پہنچ گیا
امدادی فنڈز میں کمی کا اثر صرف خوراک اور صحت پر نہیں بلکہ تعلیم پر بھی پڑ رہا ہے۔
صومالیہ کے تعلیمی شعبے کو 2025 میں تقریباً 30 ملین ڈالر کی فنڈنگ سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 2026 میں اہم بین الاقوامی عطیہ دہندگان کی امداد مزید کم ہونے کا خدشہ ہے۔
اس کے نتیجے میں 78 ہزار سے زیادہ بچے پہلے ہی اسکول چھوڑ چکے ہیں اور تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار مزید بچوں کی تعلیم خطرے میں ہے۔
05 ایک منٹ میں پوری کہانیجب امداد کی ضرورت بڑھی تو امداد ہی کم ہوگئی ⌄
صومالیہ میں خشک سالی، تنازع، بے گھری اور مہنگائی نے لاکھوں خاندانوں کی قوتِ خرید اور روزگار کو کمزور کردیا ہے۔ اسی وقت بین الاقوامی امداد میں بڑی کٹوتیوں نے صحت اور غذائیت کا نیٹ ورک بھی سکڑ دیا۔
نتیجہ یہ ہے کہ بچے بیماری کی ابتدائی سطح پر مقامی مراکز میں علاج حاصل نہیں کر پا رہے اور کئی کیسز اس وقت بڑے اسپتالوں تک پہنچتے ہیں جب حالت پہلے ہی زیادہ سنگین ہوچکی ہوتی ہے۔
یہ بحران اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کہ علاج موجود ہے اور کامیابی کی شرح بھی بلند ہے؛ اصل رکاوٹ فنڈنگ، رسائی اور بروقت علاج ہے۔
اسکول چھوڑنے والا بچہ صرف تعلیم سے محروم نہیں ہوتا بلکہ اس کے کم عمری میں مزدوری، استحصال اور مسلح گروہوں کے ہاتھوں استعمال ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
یوں آج امداد میں ہونے والی کمی آنے والے برسوں میں ایک بڑے سماجی اور سلامتی کے بحران میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
علاج موجود ہے، مسئلہ پیسے کا ہے
اس بحران کی سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ شدید غذائی قلت کا علاج موجود ہے اور اس کے نتائج بھی ثابت شدہ ہیں۔
2021 سے 2025 کے درمیان یونیسیف کی معاونت سے 22 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ بچوں کو شدید غذائی قلت کے علاج کے پروگراموں میں شامل کیا گیا۔ 2025 میں ایسے بچوں کی صحت یابی کی شرح تقریباً 97.6 فیصد رہی۔
یعنی اگر بچے تک بروقت علاج پہنچ جائے تو اس کے بچنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
مسئلہ یہ نہیں کہ دنیا کو علاج معلوم نہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ علاج بچے تک پہنچانے کے لیے درکار مالی وسائل کم ہوتے جارہے ہیں۔
یہاں تک کہ اقوام متحدہ کی انسانی امدادی فضائی سروس، جو ایسے علاقوں میں امدادی کارکنوں اور سامان کو پہنچاتی ہے جہاں سڑک کے ذریعے رسائی مشکل ہے، اس کا بجٹ بھی 2025 سے 2026 کے درمیان تقریباً 40 فیصد کم کیا گیا۔
کیا دنیا بحرانوں کا انتخاب کرنے لگی ہے؟
صومالیہ کا موجودہ بحران عالمی امدادی نظام کے ایک بڑے مسئلے کو نمایاں کرتا ہے۔ دنیا میں جنگوں، قدرتی آفات اور معاشی بحرانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، لیکن امدادی فنڈز اسی رفتار سے نہیں بڑھ رہے۔
نتیجتاً جو بحران عالمی میڈیا کی سرخیوں میں رہتے ہیں انہیں نسبتاً زیادہ توجہ ملتی ہے، جبکہ طویل عرصے سے جاری انسانی المیے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
مگر غذائی قلت کا شکار بچے کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عالمی طاقتوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔
اس کی ماں کے لیے سوال صرف اتنا ہے کہ جب وہ اپنے بیمار بچے کو لے کر طبی مرکز پہنچے گی تو کیا اس کا دروازہ کھلا ہوگا؟
صومالیہ میں آج اصل مسئلہ یہ نہیں کہ دنیا بچوں کو بچانے سے قاصر ہے۔
علاج موجود ہے، تجربہ موجود ہے اور امدادی ادارے بھی موجود ہیں۔
خطرہ یہ ہے کہ پیسے کی کمی کے باعث وہ تمام وسائل ضرورت مند بچوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔
اور یہی سوال اس بحران کو صرف صومالیہ تک محدود نہیں رہنے دیتا: اگر ایک بھوکے بچے کی زندگی عالمی امدادی بجٹ کی ترجیحات سے وابستہ ہوگئی ہے تو پھر فیصلہ کون کرے گا کہ کس بچے تک مدد پہنچے اور کس تک نہیں؟