عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی صومالیہ کے کئی علاقے ایک بار پھر شدید قحط کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق 2022 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کے مخصوص حصوں میں بھوک کی سطح اس قدر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
صومالیہ طویل عرصے سے خشک سالی، خانہ جنگی اور غربت کی وجہ سے غذائی عدم تحفظ کا شکار رہا ہے۔
اس سے قبل 2011 کے قحط میں ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 2017 اور 2022 میں بھی ملک قحط کے قریب پہنچ گیا تھا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ بحران کی بڑی وجوہات میں عالمی امداد میں کٹوتی اور ایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ کے اثرات شامل ہیں۔
ان عوامل نے بارشوں کی کمی اور مسلسل بدامنی کے باعث پیدا ہونے والی غذائی قلت کے خلاف کوششوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے تعاون سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق جنوبی ریجن بائے کے شہر بور ہکبہ میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ یہاں کی 2 لاکھ آبادی میں سے 37 فیصد سے زائد چھوٹے بچے اس وقت شدید غذائی قلت کا شکار ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اپریل سے جون کے سیزن میں بارشیں نہ ہوئیں اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھیں تو قحط ناگزیر ہوگا۔
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملنے والی امداد میں کمی اس خطرے کو مزید بڑھا رہی ہے۔
عالمی معیار کے مطابق قحط اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب 20 فیصد خاندان خوراک سے محروم ہوں اور 30 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہوں۔
اس صورتحال میں روزانہ 10 ہزار میں سے 2 افراد بھوک سے ہلاک ہونے لگتے ہیں۔
امریکی فنڈز سے چلنے والے نیٹ ورک ’فیوز نیٹ‘ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فصلیں کم ہوئیں تو بائے، بکول اور جدو کے ریجنز میں قحط تیزی سے پھیل سکتا ہے، جہاں فی الحال بارشوں سے عارضی استحکام کی امید کی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریباً 60 لاکھ صومالی باشندے غذائی عدم تحفظ کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ بارشوں کے خراب سیزن کی وجہ سے یہ تعداد فروری کے اندازوں اور توقعات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صومالیہ کے لیے عالمی امداد میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی ہے، جو کہ ایک بڑا چیلنج ہے۔
اس سلسلے میں 2026 میں اب تک صرف 160 ملین ڈالر موصول ہوئے ہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ رقم 531 ملین ڈالر تھی۔
2022 کے خشک سالی بحران میں صومالیہ کو 2.38 ارب ڈالر کی امداد ملی تھی۔ موجودہ امداد صرف 12 فیصد متاثرہ افراد کی ضرورت پوری کر پا رہی ہے، جس سے لاکھوں زندگیاں اس وقت شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں۔