دنیا کی سب سے طاقتور ریاست اور سنگین جنگی جرائم کا حساب لینے کے لیے بنائی گئی عالمی عدالت ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں۔
مزید پڑھیں
اس بار ان کے درمیان تنازع صرف کسی وارنٹ گرفتاری تک محدود نہیں، بلکہ امریکہ نے عالمی فوجداری عدالت کی صدر توموکو اکانے سمیت اہم عدالتی شخصیات پر پابندیاں لگا کر معاملے کو سنگین بنا دیا ہے۔
اس فیصلے سے جاپان ناراض ہوا، نیدرلینڈز نے اعتراض اٹھایا اور عالمی فوجداری عدالت نے اسے بین الاقوامی قانون کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
کھل کر خیرمقدم کیا ہے۔ اس پوری کشمکش کے پس منظر میں ایک بڑا سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا عالمی عدالت ایسے طاقتور ممالک یا ان کے اتحادیوں کے شہریوں کا احتساب کرسکتی ہے، جو خود اس عدالت کے رکن ہی نہیں؟
⚖️ عالمی عدالت کتنی طاقتور ہے؟
قانونی دائرہ کار
▼
عدالت نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر انفرادی احتساب کا اختیار رکھتی ہے، خواہ جرم رکن ملک کی سرزمین پر ہوا ہو یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے معاملہ بھیجا ہو۔
عدالت کے پاس اپنے احکامات پر عمل کرانے کے لیے ذاتی پولیس یا فوج موجود نہیں۔ گرفتاری اور شواہد کی فراہمی کے لیے اسے مکمل طور پر دستخط کنندہ ریاستوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
جس رہنما کے خلاف وارنٹ جاری ہو جائے، اس کے لیے عدالت کے تمام رکن ممالک کا سفر انتہائی پرخطر ہو جاتا ہے، کیونکہ قانوناً وہ ریاستیں ملزم کو گرفتار کر کے ہیگ بھیجنے کی پابند ہیں۔
امریکہ، روس، چین اور بھارت جیسے اہم ممالک اس عدالت کے فریق نہیں ہیں، جس کی وجہ سے طاقتور ریاستوں اور ان کے اتحادیوں پر فیصلوں کا براہِ راست نفاذ محدود رہ جاتا ہے۔
پابندیوں کی زد میں کون آیا؟
امریکی پابندیوں کا سب سے نمایاں نام عالمی فوجداری عدالت کی جاپانی صدر توموکو اکانے ہیں۔ وہ عدالت کی سربراہی کرنے والی پہلی جاپانی شخصیت بھی ہیں۔
اکانے مارچ 2018 میں 9 سالہ مدت کے لیے عدالت کی جج بنی تھیں اور وہ بنیادی طور پر پری ٹرائل چیمبر دوم سے وابستہ رہی ہیں، جس نے مارچ 2023 میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔
پیوٹن پر یوکرینی بچوں کو غیر قانونی طور پر منتقل کرنے سے متعلق جنگی جرائم کے الزامات لگائے گئے تھے۔
دوسری اہم شخصیت سینیگال سے تعلق رکھنے والے عبداللہ سی ہیں، جو عالمی فوجداری عدالت کے نائب پراسیکیوٹر ہیں۔
وہ استغاثہ کی اُس ٹیم کے سینئر وکیل بھی رہے ہیں، جس نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی گرفتاری کے لیے عدالتی کارروائی آگے بڑھائی تھی۔
اس طرح امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والی شخصیات کا تعلق دنیا کے دو انتہائی حساس معاملات، یعنی یوکرین اور غزہ سے جُڑ جاتا ہے۔
امریکہ نے غزہ اور یوکرین کے فیصلوں کے ردعمل میں عالمی فوجداری عدالت کے اعلیٰ ججوں پر مالی پابندیاں لگا کر بین الاقوامی قانون کی خودمختاری پر بڑا سوال اٹھا دیا۔
امریکی ایگزیکٹو آرڈر کے تحت عدالت کی جاپانی صدر توموکو اکانے اور نائب پراسیکیوٹر عبداللہ سی کے مالی اثاثے منجمد اور بینکاری لین دین بند کر دیے گئے۔
واشنگٹن کا موقف ہے کہ عدالت غیر رکن ریاستوں کے شہریوں کا احتساب نہیں کر سکتی، جبکہ عدالت رکن ممالک کی حدود میں ہونے والے سنگین جرائم پر دائرۂ اختیار کی دعویدار ہے۔
اسرائیل نے پابندیوں کا خیرمقدم کیا جبکہ جاپان نے قریبی اتحادی کے فیصلے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور نیدرلینڈز نے عدالتی آزادی کے تحفظ کا دفاع کیا۔
عدالت نے امریکی اقدام کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مالی و سیاسی دباؤ کے باوجود سنگین جنگی جرائم کے متاثرین کو انصاف دلانے کا عمل نہیں رکے گا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
یہ پابندیاں صرف علامتی نہیں
عالمی عدالت سے وابستہ شخصیات کے خلاف امریکی اقدام محض سیاسی ناراضی کے اظہار تک محدود نہیں۔
ان پابندیوں کے تحت توموکو اکانے اور عبداللہ سی کے امریکہ میں موجود یا امریکی مالیاتی نظام کے دائرے میں آنے والے اثاثے اور مالی مفادات منجمد ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح امریکی نظام کے ذریعے ان کے ساتھ مالی یا تجارتی لین دین بھی ممنوع ہوگا اور یہی نکتہ واشنگٹن کی عائد کردہ ان پابندیوں کو زیادہ مؤثر اور اہم بناتا ہے۔
دنیا کے بڑے بینک اور مالیاتی ادارے کسی نہ کسی شکل میں امریکی ڈالر اور امریکی بینکاری نظام سے منسلک ہیں۔ اس لیے امریکی مالی پابندیوں کے اثرات اکثر امریکہ کی سرحدوں سے کہیں آگے تک پہنچتے ہیں۔
یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کی گئی ہے، جو امریکی حکومت کو عالمی فوجداری عدالت کے حکام کے خلاف تعزیری اقدامات کا اختیار دیتا ہے۔
امریکا بمقابلہ عالمی عدالت: اصل جھگڑا کیا ہے؟
➔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ چونکہ وہ اور اسرائیل روم اسٹیٹیوٹ کے فریق نہیں ہیں، اس لیے عدالت کو ان کے شہریوں پر عدالتی اختیار چلانے کا کوئی حق نہیں۔ واشنگٹن اسے ریاستی خودمختاری پر تجاوز اور سیاسی کارروائی سمجھتا ہے۔
عدالت کا مؤقف ہے کہ اگر جنگی جرائم کسی رکن ملک کی تسلیم شدہ سرزمین (جیسے فلسطین یا یوکرین) پر سرزد ہوں، تو مبینہ مجرم کی شہریت سے قطع نظر عدالت کو تحقیقات اور گرفتاری کے احکامات جاری کرنے کا مکمل قانونی اختیار ہے۔
جاپان کے لیے مشکل سفارتی لمحہ
امریکی فیصلے نے اس وقت جاپان کو خاص طور پر مشکل صورت حال میں ڈال دیا ہے۔
ایک طرف ٹوکیو واشنگٹن کا قریبی تزویراتی اتحادی ہے، تو دوسری جانب توموکو اکانے جاپانی شہری اور عالمی فوجداری عدالت کی پہلی جاپانی صدر ہیں۔
جاپانی وزارت خارجہ نے فی الحال اسی لیے پابندیوں کو’انتہائی افسوس ناک‘ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ جاپان طویل عرصے سے عالمی فوجداری عدالت کا نمایاں مالی، سیاسی اور قانونی حامی بھی رہا ہے۔
ٹوکیو کا مؤقف ہے کہ انتہائی سنگین بین الاقوامی جرائم کے ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور عالمی سطح پر قانون کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے عدالت کا کردار اہم ہے۔
اس طرح جاپانی جج پر امریکی پابندی نے قریبی اتحادیوں کے درمیان غیر معمولی حساس مسئلہ کھڑا کردیا ہے۔
🤝 امریکا، روس اور اسرائیل ایک نکتے پر کیسے؟
▼
اپنے فوجیوں اور اتحادی رہنماؤں کو غیر ملکی قانونی کارروائیوں سے بچانے کے لیے ایگزیکٹو آرڈرز اور مالیاتی پابندیوں کا مؤثر ہتھیار استعمال کرتا ہے۔
پیوٹن کے وارنٹ پر عدالت کے ججوں اور پراسیکیوٹرز کے خلاف اپنے جوابی گرفتاری وارنٹ جاری کر کے آئی سی سی کی قانونی حیثیت کو یکسر مسترد کر چکا ہے۔
غزہ جنگ کے دوران نیتن یاہو کے وارنٹ کو قانونی حدود سے تجاوز اور سیاسی تعصب قرار دے کر امریکی پابندیوں کا فعال حامی بنا ہوا ہے۔
واشنگٹن کو اصل اعتراض کیا ہے؟
امریکہ کا بنیادی مؤقف نسبتاً واضح ہے۔ واشنگٹن سمجھتا ہے کہ عالمی فوجداری عدالت ایسے ممالک کے شہریوں اور حکام کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی جنہوں نے اس کا دائرۂ اختیار قبول نہیں کیا۔
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کے مطابق اکانے اور عبداللہ سی نے ایسے ممالک کے حکام کی تحقیقات، گرفتاری یا ان کے خلاف مقدمات میں براہ راست کردار ادا کیا، جو عدالت کے اختیار کو تسلیم نہیں کرتے۔
امریکہ خود بھی روم اسٹیٹیوٹ کا فریق نہیں ہے۔ اسرائیل اور روس بھی عالمی فوجداری عدالت کے رکن نہیں ہیں۔
روبیو نے عدالت کو سخت الفاظ میں ’بدعنوان اور انتہائی سیاسی‘ ادارہ قرار دیتے ہوئے اس پر قانونی اختیارات سے تجاوز کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ امریکی شہریوں یا ایسے اتحادی ممالک کے حکام کے خلاف عدالتی کارروائی قبول نہیں کرے گا جو آئی سی سی کے رکن نہیں۔
⚡ امریکی پابندیاں کتنی خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں؟
+
پابندیوں کی زد میں آنے والے ججوں کے امریکی اثاثے منجمد ہو جاتے ہیں اور امریکی ڈالر سے منسلک تمام بینکنگ سروسز بند ہو جاتی ہیں۔
دنیا بھر کے تجارتی اور یورپی بینک امریکی جرمانے کے ڈر سے عدالتی اہلکاروں کے ساتھ اپنے تمام مالیاتی لین دین ختم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی وکیلوں، ماہرین اور گواہوں کے لیے قانونی معاونت حاصل کرنا یا سفری اخراجات ادا کرنا انتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
پابندیاں عدالت کے دیگر ججوں اور پراسیکیوٹرز کے لیے واضح سگنل بنتی ہیں کہ طاقتور ممالک کے خلاف مقدمات ذاتی مالیاتی محاصرے کا سبب بنیں گے۔
عالمی عدالت کی دلیل مختلف ہے
اس مقام سے قانونی تنازع زیادہ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔
روم اسٹیٹیوٹ کے تحت عالمی فوجداری عدالت بعض حالات میں ایسے جرائم کی تحقیقات کرسکتی ہے جو کسی رکن ملک کی سرزمین پر ہوئے ہوں، چاہے مبینہ ملزم کسی غیر رکن ملک کا شہری کیوں نہ ہو۔
اسی اصول نے عدالت اور بعض بڑی طاقتوں کے درمیان برسوں سے تنازع پیدا کررکھا ہے، جو اب بڑھنے لگا ہے۔
عالمی فوجداری عدالت نے امریکی پابندیوں کو اپنی عدالتی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ججوں اور پراسیکیوٹرز کو پابندیوں سے نشانہ بنانا پورے بین الاقوامی قانونی نظام کو کمزور کرسکتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ دباؤ کے باوجود وہ اپنا کام جاری رکھے گی اور سنگین بین الاقوامی جرائم کے متاثرین کے لیے انصاف کی کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
📋 پیوٹن سے نیتن یاہو تک: عدالت کے کٹہرے میں اور کون؟
▶
مارچ 2023 میں یوکرین کے مقبوضہ علاقوں سے بچوں کی مبینہ غیر قانونی منتقلی اور جنگی جرائم کے الزامات پر گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا۔
نومبر 2024 میں غزہ جنگ کے دوران شہریوں کو بھوکا رکھنے، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔
غزہ کے فوجی محاصرے اور انسانی امداد کی بندش سے جڑے جنگی اقدامات کے تحت مشترکہ وارنٹ گرفتاری کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
ماضی میں سوڈان کے عمر البشیر، لائبیریا کے چارلس ٹیلر اور کینیا کے رہنماؤں پر نسل کشی اور جنگی تنازعات میں عدالت کی کارروائی ہو چکی ہے۔
غزہ جنگ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا
واشنگٹن اور آئی سی سی کے درمیان اختلاف نیا نہیں ہے، لیکن غزہ جنگ نے اسے کہیں زیادہ شدید بنادیا ہے۔
نومبر 2024 میں عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
ان پر غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق الزامات عائد کیے گئے۔ اس فیصلے پر اسرائیل اور امریکہ دونوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
یہی وجہ ہے کہ امریکی پابندیوں کا اسرائیل میں خیرمقدم نہ صرف حیران کن نہیں بلکہ توقع کے مطابق ہے۔
نیتن یاہو نے مارکو روبیو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امریکی اقدام کو عالمی فوجداری عدالت کی مبینہ غیر قانونی کارروائیوں کے خلاف فیصلہ کن قدم قرار دیا۔
اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عدالت کے حکام کو اپنے فیصلوں کے نتائج کا سامنا کرنا چاہیے۔
⚔️ طاقت بمقابلہ انصاف: جیت کس کی ہوگی؟
▼
قلیل مدتی بنیادوں پر طاقتور ریاستیں مالی پابندیوں، ویٹو پاور اور سفارتی اثرورسوخ کا استعمال کر کے اپنے اور اپنے اتحادی رہنماؤں کو باقاعدہ گرفتاری سے مکمل تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔
طویل مدتی تناظر میں وارنٹ جاری ہونے سے رہنماؤں کی سفارتی ساکھ مستقل طور پر داغدار ہو جاتی ہے اور ان کا آزادانہ عالمی نقل و حرکت کا دائرہ ہمیشہ کے لیے سمٹ جاتا ہے۔
صرف اسرائیل نہیں، پیوٹن بھی مطلوب
آئی سی سی کے حالیہ فیصلے صرف اسرائیل ہی کے جنگی جرائم کے خلاف نہیں ہیں۔
مارچ 2023 میں عدالت نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خلاف بھی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔ یہ معاملہ یوکرین سے بچوں کی مبینہ غیر قانونی منتقلی سے متعلق تھا۔
روس نے یہ عدالتی کارروائی مسترد کی تھی اور جواب میں عالمی فوجداری عدالت سے وابستہ بعض حکام کے خلاف اپنے گرفتاری وارنٹ جاری کیے۔
اس طرح ایک دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی۔ یعنی امریکہ، روس اور اسرائیل کئی عالمی معاملات میں ایک دوسرے کے حریف ہیں، لیکن عالمی فوجداری عدالت کے دائرۂ اختیار پر تینوں کے سنگین اعتراضات موجود ہیں۔
🏛️ عالمی عدالت کو کون چلاتا اور کون فنڈ دیتا ہے؟
▶
عدالت کا انتظامی کنٹرول دستخط کنندہ 124 سے زائد ممالک پر مشتمل اسمبلی کے پاس ہے، جو ججوں اور پراسیکیوٹرز کا انتخاب اور سالانہ بجٹ کی منظوری دیتی ہے۔
جاپان طویل عرصے سے عدالت کا سب سے بڑا انفرادی مالی معاون ملک رہا ہے، جبکہ برطانیہ، جرمنی، فرانس اور کینیڈا بھی سالانہ بجٹ میں بھاری حصہ ڈالتے ہیں۔
دی ہیگ میں قائم ہیڈکوارٹر کے لیے نیدرلینڈز عدالتی عملے کو سفارتی استثنیٰ اور ادارہ جاتی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور امریکی دباؤ کی مخالفت کر رہا ہے۔
آئی سی سی اقوام متحدہ کا باقاعدہ ذیلی ادارہ نہیں ہے بلکہ ایک آزاد معاہداتی ادارہ ہے، تاہم سلامتی کونسل مخصوص معاملات کی تحقیقات عدالت کو تفویض کر سکتی ہے۔
میزبان ملک بھی عدالت کے ساتھ
اس معاملے میں اہم بات یہ ہے کہ عالمی فوجداری عدالت نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم ہے اور نیدرلینڈز نے نئی امریکی پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔
ڈچ وزیر خارجہ ٹام بیرینڈسن نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ ان کا ملک عدالت کے حکام اور ملازمین کے خلاف امریکی اقدامات سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔
بیرینڈسن کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی عدالتوں اور عدالتی اداروں کو سیاسی دباؤ کے بغیر آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دینے کا موقع ملنا چاہیے۔
🔮 آگے کیا ہوگا؟ عالمی عدالت کا اگلا امتحان
▼
ٹوکیو کو اپنے اہم ترین سیکیورٹی اتحادی امریکہ کے ساتھ شراکت داری اور اپنی شہری جج توموکو اکانے کی سربراہی والی عالمی عدالت کے دفاع میں توازن قائم کرنا ہوگا۔
نیدرلینڈز اور یورپی ممالک کو امریکی مالیاتی پابندیوں کے قانونی اثرات کو غیر مؤثر بنانے کے لیے خصوصی حفاظتی شیلڈ اور بلاکنگ ضوابط فعال کرنے پڑ سکتے ہیں۔
دباؤ کے باوجود پراسیکیوٹر آفس کے جاری مقدمات کو آگے بڑھانے کے عزم سے طے ہوگا کہ کیا ادارہ طاقتور ریاستوں کی مخالفت کے باوجود اپنی ساکھ برقرار رکھ سکتا ہے۔
اگر ججوں پر پابندیاں برقرار رہیں تو کثیر فریقی بین الاقوامی قانون کے تحت کام کرنے والے دیگر اقوام متحدہ کے اداروں اور ٹریبونلز پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ عدالت بنی کیوں تھی؟
عالمی فوجداری عدالت کی بنیاد 1998 کے روم اسٹیٹیوٹ کے ذریعے رکھی گئی، جس کے بعد عدالت نے 2002 میں باضابطہ طور پر اپنا کام شروع کیا۔
اس عدالت کا مقصد عام نوعیت کے جرائم سننا نہیں، بلکہ دنیا کے سنگین ترین جرائم کے ذمہ دار افراد کا احتساب کرنا ہے۔ ان میں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور جارحیت کا جرم شامل ہیں۔
اس عدالت کو بنیادی طور پر آخری راستہ سمجھا جاتا ہے۔ یعنی جب کسی ملک کا اپنا عدالتی نظام ایسے سنگین جرائم کی مؤثر تحقیقات یا مقدمہ چلانے میں ناکام رہے، یا ایسا کرنے پر آمادہ نہ ہو، تب آئی سی سی کا کردار سامنے آسکتا ہے۔
لیکن اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ امریکہ، روس اور اسرائیل سمیت بعض اہم ممالک اس کے رکن نہیں۔
اصل لڑائی ایک جج سے کہیں بڑی ہے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توموکو اکانے پر پابندی بظاہر ایک فرد کے خلاف امریکی اقدام لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک بڑا سوال چھپا ہوا ہے۔
اگر عالمی عدالت طاقتور ممالک یا ان کے اتحادیوں کے حکام کے خلاف قدم اٹھاتی ہے تو اسے اپنی آزادی ثابت کرنے کا موقع ملتا ہے، لیکن یہی کارروائی اسے طاقتور ریاستوں کے سیاسی، سفارتی اور مالی دباؤ کے سامنے بھی لے آتی ہے۔
دوسری جانب امریکہ اسے ریاستی خودمختاری کا مسئلہ سمجھتا ہے اور سوال اٹھاتا ہے کہ جس عدالت کا کوئی ملک رکن ہی نہیں، وہ اس کے شہریوں پر اختیار کیسے استعمال کرسکتی ہے۔
اسی کشمکش نے جاپان جیسے امریکی تزویراتی اور اہم اتحادی کو بھی کشمکش کی پوزیشن میں کھڑا کردیا ہے۔
اب تنازع صرف یہ نہیں رہا کہ توموکو اکانے یا عبداللہ سی پر پابندیاں درست ہیں یا غلط، بلکہ اصل سوال زیادہ اہم ہے کہ جب عالمی انصاف کے اصول اور بڑی طاقتوں کے قومی مفادات آمنے سامنے آجائیں تو فیصلہ آخر کس کا چلے گا؟