پاکستان کے سندھ بیسن میں تقریباً 135 ٹریلین مکعب فٹ شیل گیس کے امکانات نے توانائی کے شعبے میں بڑی امید پیدا کردی ہے۔
او جی ڈی سی ایل ستمبر 2026 سے KUC-1 کنویں میں افقی ڈرلنگ اور ہائیڈرولک فریکچرنگ کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اگر آزمائش کامیاب رہی تو مستقبل میں مقامی گیس کی پیداوار میں نمایاں اضافہ اور LNG درآمدات میں کمی ممکن ہے۔
تاہم موجودہ تخمینہ gas in place کا ہے، ثابت شدہ قابلِ استخراج ذخائر کا نہیں۔
پاکستان میں توانائی کے شعبے سے آنے والی ایک خبر نے بڑی توقعات پیدا کردی ہیں۔
سرکاری آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، او جی ڈی سی ایل، کے مطابق دریائے سندھ کے وسیع بیسن میں شیل گیس کے ایسے وسائل موجود ہوسکتے ہیں جن کا مجموعی حجم تقریباً 135 ٹریلین مکعب فٹ بنتا ہے۔
یہ تعداد اتنی بڑی ہے کہ پہلی نظر میں اسے پاکستان کی توانائی اور معیشت کی قسمت بدل دینے والی دریافت سمجھا جاسکتا ہے، مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ 135 ٹریلین مکعب فٹ ابھی ثابت شدہ اور تجارتی طور پر قابلِ استخراج ذخائر نہیں، بلکہ زیرزمین موجود گیس کے اندازے، یعنی gas in place، کی نشاندہی کرتا ہے۔
او جی ڈی سی ایل گزشتہ تقریباً پانچ برس سے سندھ کے حیدرآباد اور سانگھڑ کے علاقوں میں شیل گیس کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید پڑھیں
کمپنی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایکسپلوریشن خالد امین خان کے مطابق زیرِ مطالعہ علاقوں میں تقریباً 135 ٹریلین مکعب فٹ شیل گیس کے امکانات سامنے آئے ہیں۔
ان میں سانگھڑ میں تقریباً 74 ٹریلین مکعب فٹ اور حیدرآباد میں تقریباً 7.5 ٹریلین مکعب فٹ شامل ہیں۔
اب اصل امتحان یہ ہے کہ اس گیس کو زمین سے کتنی مقدار میں
اور کس لاگت پر نکالا جاسکتا ہے۔
اسی مقصد کے لئے او جی ڈی سی ایل ستمبر 2026 میں سندھ کے کنڑ ان کنونشنل-1، یعنی KUC-1، کنویں میں افقی ڈرلنگ اور ہائیڈرولک فریکچرنگ شروع کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ شیل گیس سخت چٹانوں میں پھنسی ہوتی ہے، اس لئے عمودی ڈرلنگ کے بعد افقی ڈرلنگ اور دباؤ کے ذریعے چٹانوں میں دراڑیں پیدا کرکے گیس نکالی جاتی ہے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTپاکستان شیل گیس — اہم نکات ⌄
- ✓سندھ بیسن میں تقریباً 135 ٹریلین مکعب فٹ شیل گیس کے امکانات کی نشاندہی ہوئی ہے۔
- ✓سانگھڑ کے زیرِ مطالعہ علاقے میں تقریباً 74 TCF اور حیدرآباد میں تقریباً 7.5 TCF کے امکانات بتائے گئے ہیں۔
- ✓OGDCL کا KUC-1 کنواں افقی ڈرلنگ اور ہائیڈرولک فریکچرنگ کے ذریعے اصل تجارتی صلاحیت جانچنے کا اہم مرحلہ ہوگا۔
- ✓کامیاب ترقی کی صورت میں شیل گیس سے مجموعی طور پر 600 MMCFD سے 1 BCFD تک اضافی پیداوار کی گنجائش بتائی گئی ہے۔
- !135 TCF ثابت شدہ ذخائر نہیں بلکہ زیرِ زمین موجود گیس، یعنی gas in place، کا تخمینہ ہے۔
- !اصل نتیجہ recovery rate، ڈرلنگ لاگت، پانی، ٹیکنالوجی اور پائلٹ کنوؤں کی پیداوار سے سامنے آئے گا۔
او جی ڈی سی ایل کی اپریل 2026 کی مالی رپورٹ کے مطابق KUC-1 کے لئے Baker Hughes کی مشاورتی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔
کمپنی کا منصوبہ ایک تجرباتی کنویں تک محدود نہیں۔
حکام کے مطابق KUC-1 کے نتائج حوصلہ افزا رہے تو اگلے 5 برس میں تقریباً 23 عمودی کنویں کھودے جائیں گے۔
کمپنی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کافی کامیاب کنوؤں کے بعد شیل گیس سے یومیہ تقریباً 900 ملین مکعب فٹ پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔
اس سے قبل مینیجنگ ڈائریکٹر احمد حیات لک نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ کامیاب ترقی کی صورت میں شیل گیس پاکستان کی سپلائی میں تقریباً 600 ملین سے ایک ارب مکعب فٹ یومیہ تک اضافہ کرسکتی ہے۔
پاکستان کے لئے اس منصوبے کی معاشی اہمیت بہت بڑی ہے۔
ملک مقامی قدرتی گیس کی پیداوار میں کمی کا سامنا کررہا ہے اور ضرورت پوری کرنے کے لئے درآمدی ایل این جی پر انحصار کرتا ہے۔
اگر شیل گیس تجارتی سطح پر کامیاب ہوتی ہے تو ایل این جی کی درآمد کم ہوسکتی ہے، زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور عالمی توانائی بحران یا سپلائی میں رکاوٹوں کے اثرات محدود کئے جاسکتے ہیں۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXپاکستان شیل گیس: فیکٹ باکس ⌄
- وسیلہ
- شیل گیس
- علاقہ
- سندھ بیسن
- تخمینی Gas in Place
- تقریباً 135 TCF
- سانگھڑ
- تقریباً 74 TCF
- حیدرآباد
- تقریباً 7.5 TCF
- پائلٹ کنواں
- KUC-1
- ممکنہ اضافی پیداوار
- 600 MMCFD سے 1 BCFD
- موجودہ حیثیت
- تخمینی وسائل — ثابت شدہ تجارتی ذخائر نہیں
او جی ڈی سی ایل بھی غیر روایتی گیس کے منصوبوں کو درآمدی ایل این جی پر انحصار کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہی ہے۔
لیکن سب سے بڑا سوال 135 ٹریلین مکعب فٹ کے ہندسے کا ہے۔
زمین کے اندر گیس کا موجود ہونا اور اس کا تجارتی طور پر قابلِ استخراج ہونا الگ باتیں ہیں۔ اصل فیصلہ recovery factor کرے گا، یعنی کل گیس میں سے کتنی مقدار موجودہ ٹیکنالوجی اور قابلِ قبول لاگت پر نکالی جاسکتی ہے۔
اگر ڈرلنگ مہنگی پڑے، پانی کی ضرورت زیادہ ہو یا کنوؤں کی پیداوار تیزی سے کم ہوجائے تو کاغذ پر موجود بڑی مقدار معاشی کامیابی میں تبدیل نہیں ہوتی۔
او جی ڈی سی ایل کے حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ مختلف recovery rates کا تعین عملی نتائج کے بعد ہی ہوگا۔
اسی لئے KUC-1 اس منصوبے کا فیصلہ کن امتحان ہے۔
افقی ڈرلنگ اور فریکچرنگ کے بعد دیکھا جائے گا کہ گیس کس دباؤ سے نکلتی ہے، ابتدائی پیداوار کتنی ہے اور وقت کے ساتھ کتنی تیزی سے کم ہوتی ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق افقی ڈرلنگ فروری یا مارچ 2027 تک مکمل ہوسکتی ہے، جبکہ کامیاب پائلٹ کی صورت میں تجارتی پیداوار تقریباً 3 سے 5 برس میں شروع ہونے کی امید ہے۔ تاہم توانائی کے ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان ابھی مکمل تجارتی شیل گیس پیداوار سے کافی فاصلے پر ہے۔
سرمایہ، ٹیکنالوجی اور پانی بھی بڑے چیلنج ہیں۔
امریکا میں شیل گیس کی بڑے پیمانے پر پیداوار جدید افقی ڈرلنگ، فریکچرنگ، وسیع انفراسٹرکچر اور مسلسل سرمایہ کاری کے بعد ممکن ہوئی۔
پاکستان کو بھی ایک یا دو کامیاب کنوؤں کے بجائے بڑے پیمانے پر مسلسل پیداوار ثابت کرنا ہوگی۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ دریافت پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟ ⌄
شیل گیس کی کامیابی پاکستان کی توانائی معیشت کو تین بڑے محاذوں پر متاثر کرسکتی ہے:
رائٹرز کے مطابق او جی ڈی سی ایل نے پہلے ہی کہا ہے کہ شیل پروگرام کامیاب ہونے کی صورت میں توسیع کے لئے شراکت داروں کی ضرورت پڑسکتی ہے، جبکہ پانی کی دستیابی کو بھی تجارتی کامیابی کے اہم عوامل میں شمار کیا جاتا ہے۔
اگر پائلٹ کنویں کامیاب ثابت ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کی توانائی کہانی میں بڑی تبدیلی کا آغاز ہوسکتا ہے۔
مقامی گیس میں نمایاں اضافہ ایل این جی درآمدات، زرمبادلہ اور توانائی سلامتی پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
لیکن اس مرحلے پر اسے ’135 ٹریلین مکعب فٹ کا ثابت شدہ گیس ذخیرہ‘ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟ ⌄
مصدقہ معلومات
- OGDCL سندھ بیسن میں شیل گیس کے بڑے امکانات پر کئی برس سے مطالعات اور آزمائشیں کررہی ہے۔
- زیرِ مطالعہ علاقوں کے لیے تقریباً 135 TCF gas in place کا تخمینہ سامنے آیا ہے۔
- KUC-1 میں افقی ڈرلنگ اور ہائیڈرولک فریکچرنگ کے ذریعے پیداواری صلاحیت جانچنے کا منصوبہ ہے۔
- کامیابی کی صورت میں مزید کنوؤں اور بڑے ترقیاتی پروگرام کی گنجائش موجود ہے۔
تاحال غیر ثابت یا غیر واضح
- 135 TCF میں سے کتنی مقدار حقیقتاً recover کی جاسکے گی، ابھی حتمی نہیں۔
- تجارتی پیمانے پر فی یونٹ گیس کی اصل لاگت ابھی ثابت نہیں ہوئی۔
- پائلٹ کنوؤں کی پیداوار کتنی دیر برقرار رہے گی، اس کا عملی ڈیٹا درکار ہے۔
- پاکستان کتنی تیزی سے LNG درآمدات کم کرسکے گا، اس کا انحصار بڑے پیمانے کی کامیاب پیداوار پر ہوگا۔
اہم احتیاط: 135 ٹریلین مکعب فٹ کو اس مرحلے پر “ثابت شدہ تجارتی ذخیرہ” کہنا درست نہیں؛ یہ زیرِ زمین موجود ممکنہ وسائل کا تخمینہ ہے۔
اصل خبر یہ نہیں کہ پاکستان کو اچانک 135 ٹریلین مکعب فٹ استعمال کے لئے تیار گیس مل گئی ہے۔
اصل خبر یہ ہے کہ پاکستان نے ایک بہت بڑے ممکنہ شیل گیس وسیلے کو تجارتی حقیقت میں بدلنے کی اہم آزمائش شروع کردی ہے۔
اگر KUC-1 اور اس کے بعد کے کنویں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ منصوبہ ملک کے توانائی نقشے کو بدل سکتا ہے، اگر لاگت، پانی، ٹیکنالوجی یا پیداوار کے مسائل غالب آئے تو 135 ٹریلین مکعب فٹ زمین کے نیچے موجود ایک بڑا مگر مشکل خواب بن کر رہ سکتا ہے۔