براہ راست نشریات

معیشت کو آئی ایم ایف کا سہارا، مڈل کلاس کو مہنگائی کا نیا عذاب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Pakistan Inflation 2026

آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کو فوری مالی بحران سے بچانے میں مدد دے رہا ہے، مگر مالیاتی سختی، مہنگا تیل اور بڑھتے گھریلو اخراجات کا بڑا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر منتقل ہورہا ہے۔
جولائی 2026 میں مجموعی مہنگائی 9.2 فیصد رہی، تاہم گندم، آٹے، ٹرانسپورٹ اور بعض سبزیوں کی قیمتیں اس سے کہیں زیادہ بڑھیں۔
سوال یہ ہے کہ ہر معاشی بحران کی قیمت پہلے سے ٹیکس دینے والی مڈل کلاس ہی کیوں ادا کرے؟

پاکستان کے کسی بڑے شہر میں رہنے والے ایک شخص کی ماہانہ تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے ہو تو بظاہر اسے غریب نہیں کہا جائے گا۔ 

لیکن مکان کا کرایہ، راشن، بچوں کی فیس، بجلی و گیس، ٹرانسپورٹ اور علاج کے اخراجات ادا کرنے کے بعد اس کے پاس بچت نہیں رہتی۔ 

اچانک بیماری یا اضافی فیس کی صورت میں اسے قرض یا بیرونِ ملک مقیم رشتہ دار سے مدد لینا پڑتی ہے۔

یہ پاکستان کے لاکھوں متوسط گھرانوں کی موجودہ کیفیت ہے۔ 

انہیں سرکاری نقد امداد نہیں ملتی، ٹیکس سے مکمل چھوٹ حاصل نہیں اور مہنگائی سے بچنے کے لیے بڑی بچت بھی موجود نہیں۔

رپورٹ کے اہم نکات +
  • جولائی 2026 میں پاکستان کی سالانہ مہنگائی 9.2 فیصد رہی۔
  • شہری علاقوں میں گندم تقریباً 78 اور آٹا 68 فیصد مہنگا ہوا۔
  • وفاقی بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15.26 کھرب روپے رکھا گیا۔
  • محدود ٹیکس ریلیف کے باوجود مڈل کلاس کی قوتِ خرید کم ہورہی ہے۔
  • بیرونِ ملک پاکستانیوں نے مالی سال میں 41.6 ارب ڈالر وطن بھیجے۔

مڈل کلاس اس وقت دوہرے دباؤ میں ہے: 

ایک طرف آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی سختی اور دوسری طرف مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والا مہنگا تیل۔ 

حکومت معیشت کو ڈیفالٹ سے بچارہی ہے، مگر استحکام کی فوری قیمت زیادہ تر وہ طبقہ ادا کررہا ہے جس کی تنخواہ اور ٹیکس پہلے ہی سرکاری ریکارڈ میں ہیں۔

مزید پڑھیں

معیشت کو سہارا، گھر کے بجٹ پر دباؤ

مئی 2026 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے تقریباً 1.32 ارب ڈالر جاری کرنے کی منظوری دی۔ 

اس رقم نے بیرونی قرضوں کی ادائیگی، زرمبادلہ کے ذخائر اور سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے میں مدد دی۔

اس حمایت کے بدلے پاکستان کو ٹیکس آمدن بڑھانے، سرکاری اخراجات 

محدود رکھنے، توانائی کے نقصانات کم کرنے اور خسارے میں چلنے والے اداروں کی اصلاح کرنا ہے۔ 

یہ اقدامات طویل مدت میں ضروری ہوسکتے ہیں، لیکن فوری طور پر ان کا نتیجہ محدود سبسڈی، سخت ٹیکس وصولی اور کم ترقیاتی اخراجات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

18.77 کھرب کا بجٹ، مگر ریلیف محدود

مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا حجم تقریباً 18.77 کھرب روپے ہے۔ 

حکومت نے 4 فیصد معاشی ترقی، 8.2 فیصد اوسط مہنگائی اور 15.26 کھرب روپے ٹیکس وصولیوں کا ہدف مقرر کیا۔

دفاعی اخراجات میں 18 فیصد اضافہ کرکے 3 کھرب روپے مختص کیے گئے، جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام ایک کھرب روپے تک محدود رہا۔ 

پاکستانی معیشت: اہم اعداد +
وفاقی بجٹ کا حجم 18.77 کھرب روپے
ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15.26 کھرب روپے
معاشی ترقی کا ہدف 4 فیصد
جولائی 2026 کی مہنگائی 9.2 فیصد
سالانہ ترسیلاتِ زر 41.6 ارب ڈالر
آئی ایم ایف کی تازہ رقم 1.32 ارب ڈالر

حکومت کو آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے کے مطابق سود کی ادائیگی سے پہلے جی ڈی پی کے دو فیصد کے برابر بنیادی بجٹ سرپلس بھی حاصل کرنا ہے۔

تنخواہ دار افراد کو انکم ٹیکس کی بعض شرحوں میں محدود ریلیف ملا، لیکن اگر قابلِ استعمال تنخواہ چند فیصد بڑھے اور خوراک، کرائے، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات اس سے زیادہ بڑھ جائیں تو کاغذی ریلیف حقیقی زندگی میں ختم ہوجاتا ہے۔

مہنگا تیل ہر چیز کی قیمت بڑھاتا ہے

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل اور گیس پر انحصار کرتا ہے۔ 

عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے صرف پٹرول کی قیمت نہیں بڑھتی بلکہ درآمدی بل، ڈالر کی طلب اور روپے پر دباؤ بھی بڑھتا ہے۔

بجلی کی پیداوار اور مال برداری مہنگی ہوتی ہے۔ 

ٹرانسپورٹر اضافی خرچ کرایے میں اور تاجر اشیا کی قیمت میں شامل کردیتا ہے۔ 

بالآخر پورا بوجھ صارف کو ادا کرنا پڑتا ہے۔

آئی ایم ایف کے جولائی 2026 کے جائزے کے مطابق جنگ سے پہلے کے مقابلے میں توانائی کی عالمی قیمتیں تقریباً 25 فیصد زیادہ رہیں۔ 

طویل علاقائی تنازع پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک میں بلند مہنگائی اور کم معاشی ترقی کا سبب بن سکتا ہے۔

سرکاری مہنگائی 9.2 فیصد، باورچی خانے میں زیادہ

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق جولائی 2026 میں مجموعی مہنگائی سالانہ بنیاد پر 9.2 فیصد رہی۔ 

شہری علاقوں میں شرح 8.72 فیصد اور دیہی علاقوں میں 9.93 فیصد تھی۔

لیکن مجموعی شرح متوسط خاندان کی پوری تکلیف بیان نہیں کرتی۔ 

ایک منٹ میں پوری کہانی +

پاکستان کو آئی ایم ایف سے مالی سہارا مل رہا ہے اور بیرونِ ملک پاکستانی ریکارڈ رقم وطن بھیج رہے ہیں۔ اس کے باوجود متوسط گھرانے مشکل میں ہیں، کیونکہ مہنگی خوراک، بجلی، ٹرانسپورٹ اور تعلیم نے تنخواہوں کی حقیقی قدر کم کردی ہے۔ غیر دستاویزی شعبوں سے مطلوبہ ٹیکس وصول نہ ہونے کے باعث اضافی دباؤ پہلے سے رجسٹرڈ کاروباروں اور تنخواہ دار ملازمین پر پڑرہا ہے۔

جولائی میں خوراک کی قیمتیں صرف ایک ماہ میں 4.16 فیصد اور جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا 17.69 فیصد مہنگی ہوئیں۔ 

شہری علاقوں میں ٹماٹر تقریباً 117 فیصد، آلو 22 فیصد، پیاز 20 فیصد اور مرغی 19 فیصد مہنگی ہوئی۔

سالانہ بنیاد پر شہری علاقوں میں گندم کی قیمت تقریباً 78 فیصد، آٹے کی قیمت 68 فیصد اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات 15 فیصد سے زیادہ بڑھے۔ 

اسی لیے شہری سرکاری طور پر 9 فیصد مہنگائی پڑھتا ہے، مگر بازار میں کہیں زیادہ اضافہ برداشت کرتا ہے۔

تنخواہ دار طبقہ آسان ہدف کیوں؟

پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ غیر دستاویزی ہے۔ 

زراعت، ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور نقد کاروبار کی حقیقی آمدن مکمل طور پر ٹیکس نظام میں ظاہر نہیں ہوتی۔

رائٹرز کے مطابق گزشتہ سال صرف 1.3 فیصد پاکستانیوں نے ایسی ریٹرن جمع کرائیں جن میں قابلِ ٹیکس آمدن ظاہر کی گئی۔ 

جب حکومت نئے شعبوں سے مطلوبہ ٹیکس وصول نہیں کرپاتی تو دباؤ پہلے سے رجسٹرڈ کمپنیوں اور تنخواہ دار ملازمین پر منتقل ہوجاتا ہے۔

مڈل کلاس ہی آسان ہدف کیوں؟ +

تنخواہ دار ملازم کی آمدن بینک میں آنے سے پہلے ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے، جبکہ غیر دستاویزی کاروبار اپنی حقیقی آمدن چھپا سکتا ہے۔ زراعت، ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سے مطلوبہ ٹیکس وصول نہ ہونے پر اضافی دباؤ پہلے سے رجسٹرڈ کمپنیوں اور ملازمین پر منتقل ہوجاتا ہے۔

ہر معاشی بحران کی قیمت اسی طبقے سے کیوں وصول کی جاتی ہے جو نہ اپنی تنخواہ چھپا سکتا ہے اور نہ مہنگائی کا بوجھ کسی دوسرے پر منتقل کرسکتا ہے؟

ملازم کی تنخواہ بینک میں آنے سے پہلے ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے، جبکہ غیر دستاویزی آمدن رکھنے والا اپنی حقیقی کمائی چھپا سکتا ہے۔ 

یہی عدم مساوات مڈل کلاس میں ناانصافی کا احساس بڑھاتی ہے۔

بیرونِ ملک پاکستانیوں کی خاموش مدد

مالی سال 2025-26 میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر وطن بھیجے، جو گزشتہ سال سے 8.6 فیصد زیادہ تھے۔ 

ان ترسیلات نے روپے، تجارتی خسارے اور لاکھوں خاندانوں کے گھریلو بجٹ کو سہارا دیا۔

سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی اس معاشی دفاعی دیوار کا اہم حصہ ہیں۔ 

تاہم ان کی بھیجی ہوئی رقم اب سرمایہ کاری کے بجائے زیادہ تر راشن، بجلی، تعلیم، علاج اور قرض کی ادائیگی پر خرچ ہورہی ہے۔ 

ترسیلات بحران میں سہارا ضرور ہیں، مستقل معاشی علاج نہیں۔

آگے کیا ہوسکتا ہے؟ +

تیل سستا ہوگیا

درآمدی بل، روپے پر دباؤ اور ایندھن سے پیدا ہونے والی مہنگائی میں کمی آسکتی ہے۔

علاقائی جنگ طویل ہوگئی

پٹرول، بجلی، ٹرانسپورٹ اور ضروری اشیا کی قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔

ٹیکس نیٹ وسیع نہ ہوا

تنخواہ دار طبقے اور رجسٹرڈ کاروباروں پر مزید بوجھ پڑے گا اور شہری اعتماد متاثر ہوگا۔

آگے کیا ہوگا؟

اگر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کم اور تیل سستا ہوتا ہے تو پاکستان کا درآمدی بل، روپے پر دباؤ اور مہنگائی کم ہوسکتی ہے۔ 

جنگ طویل ہونے کی صورت میں پٹرول، بجلی اور اشیائے ضروریہ دوبارہ مہنگی ہوسکتی ہیں۔

سب سے اہم سوال ٹیکس اصلاحات کا ہے۔ 

اگر نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے پرانے ٹیکس دہندگان ہی پر مزید بوجھ ڈالا گیا تو سرکاری آمدن عارضی طور پر بڑھ سکتی ہے، مگر کاروبار، روزگار اور شہری اعتماد متاثر ہوگا۔

آئی ایم ایف کی قسط پاکستان کو فوری ڈیفالٹ سے بچاسکتی ہے، مگر کسی خاندان کا راشن، بچے کی فیس یا بیمار والدین کی دوا ادا نہیں کرسکتی۔ 

مڈل کلاس کا سوال یہ ہے: 

ہر معاشی بحران کی قیمت اسی طبقے سے کیوں وصول کی جاتی ہے جو اپنی تنخواہ چھپا سکتا ہے، نہ ٹیکس سے بچ سکتا ہے اور نہ مہنگائی کا بوجھ کسی دوسرے پر منتقل کرسکتا ہے؟

رپورٹ کے اصل اور بنیادی ذرائع وفاقی بجٹ، مہنگائی، آئی ایم ایف پروگرام، ترسیلاتِ زر اور معاشی خطرات 9 SOURCES
favicons?domain=finance.gov وزارتِ خزانہ—وفاقی بجٹ 2026-27 بجٹ تقریر، بجٹ اِن بریف، سالانہ بجٹ اسٹیٹمنٹ، وفاقی محصولات، حکومتی اخراجات اور مالیاتی اہداف کی اصل دستاویزات۔ FINANCE.GOV.PK اصل دستاویزات کھولیں ↗ favicons?domain=pbs.gov ادارۂ شماریات—جولائی 2026 کی مہنگائی مجموعی مہنگائی 9.20 فیصد، شہری مہنگائی 8.72 فیصد اور دیہی مہنگائی 9.93 فیصد رہنے کی سرکاری رپورٹ۔ PBS اصل رپورٹ کھولیں ↗ favicons?domain=imf آئی ایم ایف—پاکستان پروگرام کا تیسرا جائزہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری، تقریباً 1.32 ارب ڈالر کے اجرا اور ٹیکس، توانائی اور سرکاری اداروں کی اصلاحات سے متعلق سرکاری اعلامیہ۔ IMF اصل اعلامیہ کھولیں ↗ favicons?domain=imf آئی ایم ایف—دو فیصد بنیادی بجٹ سرپلس مالی سال 2026-27 میں جی ڈی پی کے دو فیصد کے برابر بنیادی سرپلس، وسیع ٹیکس نیٹ اور زیادہ مؤثر اخراجات کا ہدف۔ IMF مشن کا بیان کھولیں ↗ favicons?domain=imf آئی ایم ایف—جولائی 2026 عالمی اقتصادی جائزہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، توانائی کی بلند قیمتوں، عالمی مہنگائی اور تیل درآمد کرنے والی معیشتوں کو لاحق خطرات کا تجزیہ۔ IMF WEO اصل PDF کھولیں ↗ favicons?domain=sbp.org اسٹیٹ بینک—پاکستان کی ترسیلاتِ زر جون میں 3.5 ارب ڈالر اور مالی سال 2025-26 میں مجموعی طور پر 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہونے کی سرکاری تصدیق۔ SBP اصل رپورٹ کھولیں ↗ favicons?domain=sbp.org اسٹیٹ بینک—جولائی 2026 مانیٹری پالیسی معاشی ترقی، مہنگی توانائی، علاقائی کشیدگی، زرمبادلہ، ترسیلات اور مالی سال 2026-27 کے معاشی امکانات کا سرکاری جائزہ۔ SBP MPS اصل PDF کھولیں ↗ favicons?domain=reuters رائٹرز—آئی ایم ایف، جنگ اور متوسط طبقے پر بوجھ محدود ٹیکس نیٹ، غیر دستاویزی معیشت اور مالیاتی شرائط کے باعث تنخواہ دار طبقے اور رجسٹرڈ کاروباروں پر بڑھتے دباؤ کا تجزیہ۔ REUTERS اصل رپورٹ کھولیں ↗ favicons?domain=reuters رائٹرز—وفاقی بجٹ، دفاع اور ترقیاتی اخراجات 18.77 کھرب روپے کے وفاقی بجٹ، دفاعی اخراجات، ترقیاتی پروگرام، ٹیکس ہدف اور آئی ایم ایف کے تقاضوں کی تفصیلات۔ REUTERS اصل رپورٹ کھولیں ↗