آبنائے ہرمز کے انتظامات پر واشنگٹن اور عمان کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے ایران سے مذاکرات کی موجودہ سفارتی ترتیب کو متاثر کیا ہے۔
ایسے میں پاکستان کے ایران، امریکا، سعودی عرب، چین اور خلیجی ممالک سے تعلقات اسے زیادہ اہم ثالث بنا سکتے ہیں، تاہم مکہ دفاعی معاہدے کے بعد اسلام آباد کے لیے اعتماد کا توازن برقرار رکھنا بنیادی چیلنج ہوگا۔
آبنائے ہرمز کا بحران اب صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان تصادم تک محدود نہیں رہا۔ کشیدگی کا دائرہ عمان تک پھیل گیا ہے، جو برسوں سے امریکا اور ایران کے درمیان حساس رابطوں کی اہم ترین راہداریوں میں شمار ہوتا رہا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان کو ان سمندری انتظامات پر دھمکی دی جن پر مسقط ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے مذاکرات کر رہا ہے۔
یوں ایک ایسا ملک جو بحران کم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا، خود ایک فریق کے براہ راست دباؤ میں آگیا۔
یہ پیش رفت ایک اہم سوال پیدا کرتی ہے:
اگر عمان کے لیے سفارتی گنجائش محدود ہوتی ہے تو واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا دروازہ کھلا کون رکھے گا؟
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTواشنگٹن–عمان بحران — اہم نکات ⌄
- ✓آبنائے ہرمز کے انتظامات پر واشنگٹن اور عمان کے درمیان تناؤ نے ایران سے رابطے کے ایک روایتی سفارتی راستے کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
- ✓پاکستان ایران، امریکا، سعودی عرب، خلیج اور چین سے بیک وقت رابطوں کے باعث زیادہ اہم سیاسی ثالث بن سکتا ہے۔
- ✓مکہ دفاعی معاہدہ اسلام آباد کے لیے موقع بھی ہے اور امتحان بھی، کیونکہ اسے تہران کا اعتماد برقرار رکھنا ہوگا۔
- ✓عمان ہرمز کے عملی انتظامات، قطر رابطوں اور پاکستان وسیع تر سیاسی مذاکرات میں الگ الگ کردار ادا کرسکتے ہیں۔
- !پاکستان عمان کا خودکار متبادل نہیں، مگر مسقط پر دباؤ اس کے موجودہ سفارتی کردار کی قدر بڑھا سکتا ہے۔
- !ہرمز میں محدود جہاز رانی اور مہنگا تیل کسی بھی سفارتی ناکامی کی قیمت مزید بڑھا رہے ہیں۔
یہیں پاکستان کا کردار زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔
اسلام آباد عمان کا مکمل متبادل نہیں، لیکن موجودہ صورتحال اس کی سفارتی اہمیت میں واضح اضافہ کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
عمان کا بحران ہرمز سے شروع ہوتا ہے
اصل تنازع آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظامات سے متعلق ہے۔
ایران اور عمان 5 اگست کو مضیق سے گزرنے والے ایک بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر مفاہمت تک پہنچے تھے، جبکہ دیگر تفصیلات پر بات چیت جاری تھی۔
تاہم ان تجاویز پر اس وجہ سے اعتراضات سامنے آئے کہ ان سے ایران کو
خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں کی نگرانی اور ممکنہ فیس کے نظام میں زیادہ کردار مل سکتا تھا۔
معاملہ جلد ہی تکنیکی دائرے سے نکل کر سیاسی بحران میں تبدیل ہوگیا۔
18 اگست کو ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ نہ کوئی مذاکرات جاری ہیں اور نہ کوئی بات چیت طے ہے، جبکہ تہران نے کہا کہ ہرمز اس وقت تک بند رہے گا جب تک واشنگٹن عبوری معاہدے سے متعلق ایرانی شرائط پوری نہیں کرتا۔
ان میں بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنا، تیل سے متعلق پابندیاں نرم کرنا، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنا اور فوجی کارروائیاں روکنا شامل ہیں۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXثالثی کی نئی تصویر — فیکٹ باکس ⌄
- عمان
- ہرمز اور روایتی امریکا–ایران رابطہ
- پاکستان
- وسیع سیاسی ثالثی اور متعدد طاقتوں تک رسائی
- قطر
- مذاکراتی رابطہ برقرار رکھنے والا چینل
- چین
- پاکستان کا اتحادی اور ایران پر معاشی وزن رکھنے والی طاقت
- پاکستان کی منفرد طاقت
- تہران، واشنگٹن، ریاض اور بیجنگ سے بیک وقت بات کرنے کی صلاحیت
- پاکستان کا بڑا امتحان
- ایران کا اعتماد اور خلیجی دفاعی شراکت بیک وقت برقرار رکھنا
- ممکنہ نئی تقسیم
- عمان: ہرمز — قطر: رابطہ — پاکستان: وسیع سیاسی مذاکرات
اس صورتحال نے بنیادی سوال بدل دیا ہے۔
اب مسئلہ صرف یہ نہیں کہ جہاز ہرمز سے کیسے گزریں گے، بلکہ یہ ہے کہ امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر کون لا سکتا ہے؟
پاکستان کیوں اہم ہوگیا؟
اسلام آباد اس مرحلے میں ایسے سفارتی سرمائے کے ساتھ داخل ہو رہا ہے جو بہت سے دوسرے ثالثوں کے پاس نہیں۔
پاکستان اور قطر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں ثالثی کر چکے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے مشترکہ بیانات میں اس کردار کی تصدیق بھی ہوئی۔
قطر نے اگست کے آغاز میں کہا تھا کہ قطر، عمان اور پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان رابطے آسان بنانے اور اختلافات کم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
◎ OVERSEAS POST | WHY IT MATTERSیہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
یہ معاملہ صرف عمان اور امریکا کا سفارتی تنازع نہیں؛ اس کے اثرات پاکستان، خلیج اور عالمی توانائی منڈی تک جاتے ہیں:
لیکن پاکستان کی اصل طاقت صرف ثالثی کے تجربے میں نہیں بلکہ اس کے تعلقات کے وسیع جال میں ہے۔
پاکستان ایران کا ہمسایہ ہے، چین کا قریبی اسٹریٹجک اتحادی، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا اہم شراکت دار اور امریکا کے ساتھ بھی اس کے سیاسی و عسکری رابطے موجود ہیں۔
یہی امتزاج اسلام آباد کو ایسی پوزیشن دیتا ہے جہاں وہ بیک وقت ان فریقوں سے بات کر سکتا ہے جو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔
مکہ معاہدہ.. مسئلہ بھی، موقع بھی
پاکستان کے لیے یہ سفارتی فائدہ ایک نئے امتحان کے ساتھ آیا ہے، خصوصاً 7 اگست کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد۔
معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر مسلح حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ سیاسی و عسکری تعاون، مشترکہ مشقوں اور دفاعی صنعتوں میں شراکت بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا تجزیہ؟ ⌄
مصدقہ معلومات
- امریکا نے عمان کے ایران کے ساتھ ہرمز انتظامات پر سخت اعتراضات ظاہر کئے ہیں۔
- ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے بحری راستوں اور انتظامات پر مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
- پاکستان اور قطر امریکا–ایران مذاکراتی عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر چکے ہیں۔
- قطر نے پاکستان اور عمان سمیت ثالثوں کے درمیان رابطہ کاری کی تصدیق کی ہے۔
- ایران نے سعودی عرب–پاکستان–ترکی دفاعی معاہدے پر فوری تشویش ظاہر نہیں کی۔
تجزیاتی یا غیر حتمی
- پاکستان کا عمان کی جگہ مرکزی ثالث بننا ابھی کوئی سرکاری یا حتمی فیصلہ نہیں۔
- عمان پر امریکی دباؤ سے پاکستان کا نسبتی سفارتی وزن بڑھنا ایک تجزیاتی امکان ہے۔
- مکہ معاہدہ مستقبل میں ایران کے پاکستانی ثالثی پر اعتماد کو کس حد تک متاثر کرے گا، یہ واضح نہیں۔
- کسی نئے مستقل امریکا–ایران مذاکراتی دور کی تاریخ ابھی یقینی نہیں۔
- ہرمز بحران کب اور کن شرائط پر ختم ہوگا، اس پر حتمی اتفاق سامنے نہیں آیا۔
ادارتی اصول: پاکستان کے بڑھتے کردار کو امکان اور تجزیے کے طور پر پیش کیا جائے، باقاعدہ طور پر عمان کی جگہ لینے کے دعوے کے طور پر نہیں۔
بظاہر ایسی پیش رفت ایران میں پاکستانی ثالثی کے بارے میں شکوک پیدا کر سکتی تھی، لیکن تہران کا ابتدائی ردعمل مختلف رہا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے 10 اگست کو کہا کہ اسے اس معاہدے سے تشویش کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اور اسے خطے کے ممالک کی جانب سے اپنی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر کم انحصار کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا۔
یہ اسلام آباد کے لیے اہم اشارہ ہے۔
پاکستان ایک نئے خلیجی دفاعی فریم ورک کا حصہ بن چکا ہے، لیکن اب تک ایران کے ساتھ رابطے کی جگہ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اگر یہ توازن قائم رہتا ہے تو بظاہر متضاد نظر آنے والی یہی حیثیت سفارتی طاقت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
عمان کا مکمل متبادل نہیں
اس کے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان آسانی سے عمان کی جگہ لے سکتا ہے۔
مسقط کو ہرمز کی جغرافیائی اہمیت اور امریکا ایران رابطوں کے طویل تجربے کی وجہ سے منفرد حیثیت حاصل ہے۔
قطر بھی مذاکراتی چینل کھلا رکھنے کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
آبنائے ہرمز کے انتظامات پر واشنگٹن اور عمان کے درمیان تناؤ نے امریکا اور ایران کے روایتی سفارتی رابطے کو نئے دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان زیادہ اہم ہوسکتا ہے کیونکہ وہ ایران کا ہمسایہ، چین کا اتحادی، سعودی عرب اور خلیج کا قریبی شراکت دار اور امریکا سے رابطے رکھنے والا ملک ہے۔
لیکن اسلام آباد کا امتحان یہی ہے کہ وہ مکہ دفاعی معاہدے کے بعد بھی تہران کا اعتماد برقرار رکھے۔ پاکستان عمان کا مکمل متبادل نہیں، مگر موجودہ بحران نے اس کے پاس موجود مذاکراتی کنجی کی قدر ضرور بڑھا دی ہے۔
اس لیے زیادہ حقیقت پسندانہ امکان کرداروں کی نئی تقسیم ہے:
عمان ہرمز کے عملی مسئلے پر توجہ دے، قطر رابطے قائم رکھے اور پاکستان وسیع تر سیاسی مذاکرات میں زیادہ نمایاں کردار ادا کرے۔
یہ موجودہ سفارتی صورتحال کی بنیاد پر ایک تجزیاتی امکان ہے، کسی باضابطہ اعلان کی عکاسی نہیں۔
معیشت بھی دباؤ بڑھا رہی ہے
بحران کا دباؤ صرف سیاسی نہیں رہا۔
19 اگست کو آبنائے ہرمز سے صرف 6 تجارتی جہاز گزرے، جبکہ حالیہ اوسط 11 جہاز یومیہ رہی۔
دوسری جانب خام برینٹ تقریباً 91.47 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو 3 ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں رسد کے بارے میں خدشات برقرار ہیں۔
اگر ہرمز طویل عرصے تک محدود رہتا ہے تو اثرات صرف ایران یا خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ تیل، جہاز رانی، انشورنس، درآمدی اخراجات اور عالمی سپلائی چین سب اس کی قیمت ادا کریں گے۔
اس کا مطلب ہے کہ ثالثی کی ناکامی کی قیمت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔
کیا یہ پاکستان کا لمحہ ہے؟
اسلام آباد کا اصل امتحان امریکی اور ایرانی نمائندوں کو محض ایک میز پر بٹھانا نہیں ہوگا، بلکہ بظاہر متضاد کرداروں میں توازن پیدا کرنا ہوگا:
ایران کے ساتھ ثالث، سعودی عرب اور ترکی کا دفاعی شراکت دار، چین کا اتحادی اور واشنگٹن کے ساتھ اہم تعلقات رکھنے والا ملک۔
یہی پوزیشن پاکستان کے لیے سب سے بڑا فائدہ اور سب سے بڑا خطرہ دونوں ہے۔
اگر اسلام آباد کسی ایک فریق کے بہت قریب دکھائی دیتا ہے تو دوسرے فریق کا اعتماد کم ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر وہ تعلقات کا یہ توازن برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو ایک اہم ثالث سے آگے بڑھ کر کسی بھی مستقبل کے سیاسی تصفیے کی مرکزی راہداریوں میں شامل ہوسکتا ہے۔
واشنگٹن اور عمان کے درمیان بڑھتا تناؤ پاکستان کو خودکار طور پر مذاکرات کی قیادت نہیں دیتا۔ عمان کی جغرافیائی اور تاریخی حیثیت برقرار رہے گی اور قطر بھی اہم رابطہ چینل بنا رہے گا۔
البتہ موجودہ بحران نے پاکستان کے سفارتی کردار کی قیمت ضرور بڑھا دی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ واشنگٹن اور عمان کا تنازع پاکستان کو مذاکرات کی کنجی نہیں دیتا، لیکن اس کنجی کی قدر بڑھا دیتا ہے جو پہلے ہی اس کے ہاتھ میں موجود ہے۔
ایسے وقت میں جب تہران، واشنگٹن، ریاض اور بیجنگ سے بیک وقت بات کرنے کی صلاحیت بہت کم ممالک کے پاس ہے، اسلام آباد کی سب سے بڑی طاقت شاید یہی ہے کہ وہ مکمل طور پر کسی ایک کیمپ میں کھڑا نہیں۔
اگر پاکستان اس حیثیت کو برقرار رکھ سکا تو وہ موجودہ بحران میں سب سے اہم کام انجام دے سکتا ہے:
مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا، اس سے پہلے کہ اسے دوبارہ کھولنے کی قیمت جنگ جاری رکھنے سے بھی زیادہ ہوجائے۔