کافی کا ایک کپ بہت سے لوگوں کے لیے دن کی شروعات، تھکن کا توڑ یا کام کے دوران تازگی کا ذریعہ ہے۔ مگر دل کی بے ترتیب دھڑکن کے مریضوں کو برسوں سے یہی سننے کو ملتا رہا ہے کہ کیفین سے فاصلہ رکھیں۔
☕ فیکٹ باکس: کافی اور دل کا تعلق، تحقیق کیا کہتی ہے؟
طبی حقائق
▼
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین نے بے ترتیب کلینیکل ٹرائل کے ذریعے کافی پینے والے اور اس سے پرہیز کرنے والے دل کے مریضوں کا باقاعدہ موازنہ کیا۔
کیفین جسم میں اڈینوسین ریسیپٹرز کو بلاک کرتی ہے جبکہ کافی کے اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری اجزا سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
کافی باقاعدہ دوا یا علاج نہیں ہے، تاہم معتدل مقدار میں (تقریباً ایک کپ روزانہ) پینا دل کے بیشتر مریضوں کے لیے محفوظ پایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
اب ایک نئی طبی تحقیق اس پرانے مشورے پر اہم سوال اٹھا رہی ہے۔
کیا کافی سے دل کی دھڑکن بگڑتی ہے؟
طویل عرصے سے خیال کیا جاتا رہا ہے کہ کافی میں موجود کیفین ایٹریئل فبریلیشن کو متحرک کرسکتی ہے۔
کیفین والے مشروبات محدود کرنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔
نئی طبی تحقیق کے مطابق روزانہ معتدل مقدار میں کیفین والی کافی پینے سے دل کی بے ترتیب دھڑکن کے دوبارہ ابھرنے کے خطرے میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
کافی پینے والے مریضوں میں ایٹریئل فبریلیشن اور فلٹر کے دوبارہ ہونے کے امکانات میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق زیادہ تر افراد کے لیے روزانہ ایک کپ کافی دل کے لیے نقصان دہ ہونے کا امکان نہیں رکھتی۔
کیفین اڈینوسین ریسیپٹرز کو بلاک کرتی ہے جبکہ کافی کے قدرتی اجزا جسم میں سوزش اور آکسیڈیٹو نقصان کو روکتے ہیں۔
بہت زیادہ چینی کا استعمال یا کافی کے ساتھ تمباکو نوشی اس کے ممکنہ قدرتی فوائد کو ضائع کر سکتی ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ ماضی کی بیشتر طبی مشاہداتی تحقیقات میں کافی پینے والوں میں ایٹریئل فبریلیشن کا خطرہ بڑھتا ہوا دکھائی نہیں دیا۔
بلکہ بعض مطالعات نے تو الٹا کافی کے زیادہ استعمال اور نسبتاً کم خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی۔
📉 39 فیصد کم خطرہ: نئی تحقیق کا چونکا دینے والا نتیجہ
▶
کلینیکل ٹرائل میں جن مریضوں نے روزانہ کیفین والی کافی پی، ان کے دل کے اوپری خانوں میں غیر معمولی ارتعاش کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
کافی پینے والے اور نہ پینے والے دونوں گروپوں کے درمیان مضر اثرات یا منفی علامات میں کوئی واضح اور قابلِ ذکر فرق سامنے نہیں آیا۔
نئی تحقیق میں کیا سامنے آیا؟
کیلیفورنیا یونیورسٹی کے محققین کرسٹوفر اور گریگوری مارکس نے بے ترتیب طبی آزمائش کے نتائج کو جانچا۔
اس تحقیق میں ایٹریئل فبریلیشن کے مریضوں میں روزانہ کیفین والی کافی پینے والوں کا موازنہ کافی اور کیفین سے اجتناب کرنے والوں سے کیا گیا۔
محققین کے مطابق اس تحقیقی جائزے کے نتائج خاصے دلچسپ ثابت ہوئے ہیں۔
کیفین والی کافی پینے والے شرکا میں طبی طور پر تشخیص شدہ ایٹریئل فبریلیشن یا ایٹریئل فلٹر دوبارہ ہونے کا خطرہ 39 فیصد کم آیا۔ اسی طرح دونوں گروپوں میں مضر اثرات کے حوالے سے بھی نمایاں فرق نظر نہیں آیا۔
یہ تحقیق حال ہی میں سائنسی جریدے Cardiovascular Research میں شائع ہوئی ہے۔
🔄 کافی دوست یا دشمن؟ برسوں پرانا طبی خیال بدلنے لگا
▼
برسوں تک ڈاکٹرز دل کے مریضوں کو یہ مشورہ دیتے رہے کہ کیفین دل کی دھڑکن کو بے قابو اور تیز کر کے حالت بگاڑ سکتی ہے۔
نئی آزمائشوں سے ثابت ہوا کہ معتدل کافی پینے والوں میں دھڑکن بگڑنے کا امکان زیادہ نہیں بلکہ ان کا رسک نسبتاً کم رہا۔
کافی کے ساتھ زیادہ چینی، کریمرز اور سگریٹ نوشی کے امتزاج سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، خالص کافی بذاتِ خود نقصان دہ نہیں۔
مریضوں کو خود سے کافی کی مقدار حد سے زیادہ بڑھانے کے بجائے اپنے معالج کی رہنمائی میں معتدل استعمال برقرار رکھنا چاہیے۔
کیا روزانہ کافی دل کی محافظ ہے؟
یہاں ایک اہم فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ کافی ایٹریئل فبریلیشن کی دوا یا اس سے بچاؤ کا یقینی ذریعہ ہے۔ البتہ نتائج اس خیال کو ضرور کمزور کرتے ہیں کہ کیفین والی کافی لازماً اس بیماری کو بگاڑتی ہے۔
محققین کے نتائج سے اشارہ ملتا ہے کہ بیشتر افراد میں معتدل مقدار، یعنی تقریباً ایک کپ روزانہ، ایٹریئل فبریلیشن کو مزید خراب کرنے کا سبب بننے کا امکان نہیں رکھتی۔
💡 ایک کپ روزانہ: سائنس دانوں کو کیا نیا پتا چلا؟
+
کیفین ان ریسیپٹرز کو روکتی ہے جو دل کے خلیات میں غیر متوازن برقی سگنلز اور بے ترتیبی پیدا کرنے کے لیے سازگار ہوتے ہیں۔
کافی میں موجود بائیو ایکٹو مرکبات جسمانی سوزش اور آکسیڈیٹو تناؤ کو کم کر کے عضلاتِ قلب کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
معتدل کیفین روزمرہ چستی بڑھاتی ہے، جس کا بالواسطہ مثبت اثر موٹاپے اور ہارٹ فیلیئر کے خطرات کو کم کرنے پر پڑتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ایک کپ کی معتدل مقدار دل کے برقی توازن کو بگاڑے بغیر فائدہ مند اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
کافی کے اندر ایسا کیا ہے؟
سائنس دان ابھی اس تعلق کی مکمل وجہ نہیں جانتے۔ کافی میں کئی حیاتیاتی طور پر فعال مرکبات موجود ہیں۔
کیفین جسم میں اڈینوسین کے مخصوص ریسیپٹرز کو بلاک کرتی ہے، جس سے ممکنہ طور پر ایسے بعض اثرات محدود ہوسکتے ہیں جو ایٹریئل فبریلیشن کے لیے سازگار حالات پیدا کرتے ہیں۔
کافی کے بعض اجزا میں سوزش اور آکسیڈیٹو نقصان کے خلاف ممکنہ خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ کافی بلڈ پریشر، جسمانی سرگرمی، مٹاپے اور ہارٹ فیلیئر جیسے عوامل سے بھی مختلف انداز میں جڑی ہوسکتی ہے۔
📌 اہم نکات: کافی پینے والوں کے لیے تحقیق کے بڑے اشارے
▼
اگر آپ کافی پینے کے عادی ہیں اور ڈاکٹر نے خصوصی ممانعت نہیں کی، تو روزانہ ایک معتدل کپ چھوڑنے کی فوری طبی ضرورت نہیں۔
کافی کو دل کے امراض سے بچاؤ کی دوا سمجھ کر اس کا بے دریغ استعمال شروع نہ کریں، کیونکہ اس کے اثرات معتدل حد تک ہی مثبت ہیں۔
ہر فرد کا جسم کیفین پر مختلف ردعمل دیتا ہے۔ اگر کافی سے گھبراہٹ، تیز دھڑکن یا بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
دل کی صحت کا تعلق صرف کافی سے نہیں بلکہ متوازن غذا، تمباکو نوشی سے پرہیز، مناسب نیند اور روزمرہ چہل قدمی سے جڑا ہے۔
ہر کپ فائدہ مند نہیں
ایک بات یاد رہے کہ اس تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔
کیفین بعض حالات میں بلڈ پریشر اور جسم میں کیلشیم کے اخراج پر اثر ڈال سکتی ہے، جو دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی سے متعلق بھی ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح کافی پینے کا انداز بھی بہت اہم ہے۔ بہت زیادہ چینی والی کافی یا اس کے ساتھ تمباکو نوشی ممکنہ فائدے کو صحت مند عادت میں تبدیل نہیں ہونے دیتی۔
نئی تحقیق کا سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ دل کے مریضوں کے لیے کافی کو بلاشرط دشمن سمجھنے کا پرانا تصور اب دوبارہ جانچنے کی ضرورت ہے۔
تاہم اسے علاج سمجھ کر کافی کی مقدار بڑھانا بھی قبل از وقت ہوگا، کیونکہ اس کے براہِ راست حفاظتی اثرات ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔