کافی دنیا کے مقبول ترین مشروبات میں شامل ہے۔ پاکستان میں بھی صبح کا آغاز ہو، دفتر میں تھکن دُور کرنی ہو یا دوستوں کے ساتھ گپ شپ، کافی کا ایک کپ اکثر ساتھ ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں
کافی سے متعلق برسوں سے ایک سوال لوگوں کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے کہ کیا زیادہ کافی پینا صحت کے لیے نقصان دہ ہے یا اس کے کچھ فائدے بھی ہیں؟
اب اس بحث میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق امریکی ماہرینِ قلب نے دستیاب سائنسی تحقیقات کا جائزہ لینے کے بعد کہا ہے کہ زیادہ تر صحت مند بالغ افراد روزانہ تقریباً 5 کپ تک کافی
پی سکتے ہیں، تاہم اس کے ساتھ چند اہم شرائط بھی وابستہ ہیں۔
فیکٹ باکس کافی، کیفین اور صحت کے اہم حقائق
تحقیق کیا کہتی ہے؟
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق روزانہ 400 ملی گرام تک کیفین کا استعمال، جو تقریباً 5 درمیانے سائز کے کپ کافی کے برابر بنتا ہے، عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقدار کا استعمال بعض افراد میں دل کی بیماریوں، فالج اور دل کی کمزوری کے خطرے میں کمی سے بھی منسلک دیکھا گیا ہے۔
یہ نتیجہ ایک ہی تحقیق پر نہیں بلکہ مختلف سائنسی مطالعات کا جائزہ لینے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کی وجہ سے اسے کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
نئی سائنسی تحقیق: کافی کا استعمال اور طبی حقائق
امریکی ماہرینِ قلب کے مطابق اعتدال کے ساتھ کافی پینا صحت کے لیے کس حد تک محفوظ ہے؟
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق روزانہ 5 کپ تک سادہ کافی کا استعمال دل اور دماغ کی صحت کے لیے محفوظ اور فائدے مند ہے۔
☕ روزانہ کی محفوظ حد
روزانہ 400 ملی گرام کیفین یعنی تقریباً 5 درمیانے کپ کافی صحت مند افراد کے لیے بالکل محفوظ ہے۔
❤️ بیماریوں کے خطرے میں کمی
کافی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس کے باعث دل کے امراض، فالج اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کا امکان کم ہو جاتا ہے۔
⚠️ استعمال کی اہم شرط
کافی کا حقیقی فائدہ صرف اس وقت حاصل ہوتا ہے جب یہ اضافی چینی، مصنوعی سیرپ یا زیادہ کریم سے پاک اور سادہ ہو۔
🩺 طبی احتیاط
ہائی بلڈ پریشر، بے خوابی یا دل کی دھڑکن کے مسائل کا شکار افراد ڈاکٹر کے مشورے کے بعد کیفین کا استعمال کریں۔
📊 روزانہ کیفین کی تجویز کردہ حد
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
صرف چستی ہی کافی کا فائدہ نہیں
کافی کو عام طور پر صرف نیند بھگانے والا مشروب سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیقات اس سے آگے کی تصویر پیش کرتی ہیں۔
بعض مطالعات کے مطابق کافی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو نقصان پہنچانے والے مضر اجزا کے خلاف کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ کچھ تحقیقات میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں کمی اور دماغی صحت پر مثبت اثرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کئی ماہرین کافی کو متوازن غذا کا حصہ قرار دیتے ہیں، بشرطیکہ اس کا استعمال اعتدال کے ساتھ کیا جائے۔
ہر شخص کے لیے ایک جیسا اصول نہیں
اگرچہ نئی تحقیق کافی کے شوقین افراد کے لیے حوصلہ افزا ہے، لیکن ماہرین واضح کرتے ہیں کہ یہ سفارشات ہر فرد پر یکساں لاگو نہیں ہوتیں۔
ہائی بلڈ پریشر، بے خوابی، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی یا دیگر مخصوص طبی مسائل رکھنے والے افراد کے لیے زیادہ کیفین نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسے افراد کو اپنی کیفیت کے مطابق ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
اصل مسئلہ کافی نہیں، اس میں شامل چیزیں ہیں
ماہرین کے مطابق کافی کا زیادہ تر فائدہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اسے سادہ شکل میں پیا جائے۔
اگر ایک کپ کافی میں ضرورت سے زیادہ چینی، کریم، شربت یا فلیورڈ سیرپ شامل کر دیے جائیں تو کیلوریز اور چکنائی بڑھ جاتی ہے، جس سے اس کے ممکنہ فوائد کم ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح کیفین والے انرجی ڈرنکس یا میٹھے کافی مشروبات کو عام بلیک کافی یا بغیر چینی والی چائے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔
اعتدال ہی بہترین راستہ
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ نئی تحقیق کا مقصد لوگوں کو زیادہ کافی پینے کی ترغیب دینا نہیں بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ مناسب مقدار میں کافی پینا زیادہ تر صحت مند بالغ افراد کے لیے تشویش کی بات نہیں ہے۔
اگر کافی سادہ ہو، مقدار متوازن ہو اور کسی طبی مسئلے کی صورت میں ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کیا جائے تو صبح کا پسندیدہ کپ صرف تازگی ہی نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی ایک بہتر انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔