دنیا کی سب سے طاقتور ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شامل میٹا اب ایک ایسے مقدمے کا سامنا کر رہی ہے، جس کا اثر صرف فیس بک اور انسٹاگرام تک محدود نہیں رہ سکتا۔
مزید پڑھیں
امریکا میں شروع ہونے والی یہ نئی قانونی جنگ طے کر سکتی ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں نوجوان صارفین کی آن لائن عادتوں کی کس حد تک ذمہ دار ہیں۔
کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں شروع ہونے والے اس اہم مقدمے میں کئی امریکی ریاستیں میٹا سے تقریباً 193 ارب ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
⚖️
193 ارب ڈالر کا مقدمہ: میٹا پر اصل الزامات کیا ہیں؟
▼
اندرونی تحقیقات کے باوجود عوام اور والدین کے سامنے پلیٹ فارمز کے منفی نفسیاتی اثرات کو چھپانے اور گمراہ کن بیانات دینے کا الزام۔
فلٹرز، الگورتھم اور نہ ختم ہونے والی اسکرولنگ جیسے فیچرز کو نوجوانوں کو اسکرین سے باندھے رکھنے کے لیے جان بوجھ کر ڈیزائن کرنے کا دعویٰ۔
13 سال سے کم عمر بچوں کی ذاتی معلومات والدین کی پیشگی اجازت کے بغیر جمع کر کے وفاقی پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس مقدمے کی کارروائی تقریباً 6 ہفتے تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
اصل سوال: نوجوان بار بار واپس کیوں آتے ہیں؟
29 امریکی ریاستوں کے اتحاد کا مقدمہ 3 بڑے الزامات کے گرد گھومتا ہے۔
ان ریاستوں کا کہنا ہے کہ میٹا نوجوانوں پر اپنی ایپس کے ممکنہ نقصان دہ اثرات جانتی تھی، لیکن عوام کے سامنے درست تصویر پیش نہیں کی گئی۔
امریکی ریاستوں نے میٹا پر نوجوانوں کو جان بوجھ کر ایپس کا عادی بنانے اور بچوں کے ڈیٹا کے غلط استعمال کے الزامات کے تحت وفاقی عدالت میں قانونی جنگ شروع کر دی۔
کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں 29 امریکی ریاستیں سوشل میڈیا کے اثرات پر بھاری مالی تلافی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ریاستوں کا موقف ہے کہ میٹا نے بچوں کی ذہنی صحت کو لاحق خطرات کو جانتے بوجھتے عوام اور والدین سے چھپایا۔
والدین کی اجازت کے بغیر بچوں کا ڈیٹا جمع کرنے پر وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
فلٹرز، اسکرین ٹائم اور نوٹی فکیشنز کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا تاکہ نوجوان صارفین مسلسل اسکرین پر جڑے رہیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
دوسرا زیادہ اہم الزام ایپس کے ڈیزائن سے متعلق ہے۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ بعض فیچرز نوجوانوں کو زیادہ دیر فیس بک اور انسٹاگرام پر رکھنے کے لیے بنائے گئے۔ ظاہری شکل بدلنے والے فلٹرز اور آسانی سے نظرانداز ہونے والی وقت کی حدود بھی زیر بحث ہیں۔
تیسرا معاملہ بچوں کے ڈیٹا کا ہے۔ ریاستوں کا الزام ہے کہ میٹا نے 13 سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا والدین کی اجازت کے بغیر جمع کرکے وفاقی قانون کی خلاف ورزی کی۔
📱 اسکرولنگ کا جال: نوجوانوں کو ایپس سے جوڑے رکھنے والے فیچرز
▼
کوئی قدرتی اسٹاپنگ پوائنٹ نہ ہونے کی وجہ سے صارف وقت کا اندازہ کیے بغیر مسلسل اسکرین پر انگلی گھماتا رہتا ہے۔
چہرے اور جسم کے غیر حقیقی معیارات پیش کرنے والے فلٹرز جو نوجوانوں میں خود اعتمادی کی کمی اور مسلسل موازنے کو جنم دیتے ہیں۔
ڈوپامین کے محرکات پیدا کرنے والے الرٹس جو ایپ سے دور ہوتے ہی صارف کو فوری واپس لانے کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں۔
وقت کی یاد دہانی والے الرٹس جنہیں ایک کلک پر آسانی سے بائی پاس کیا جا سکتا ہے اور جو سخت رکاوٹ بننے میں ناکام رہتے ہیں۔
صرف جرمانہ نہیں، ایپس تبدیل کی جائیں
اس مقدمے کی اہمیت 193 ارب ڈالر کے ممکنہ ہرجانے سے کہیں آگے جاتی ہے۔ ریاستیں چاہتی ہیں کہ نابالغ صارفین کے لیے سخت ترین حفاظتی سیٹنگز خود بخود فعال ہوں۔
اس کے علاوہ اسکرین ٹائم اور نوٹی فکیشنز جیسی سہولتوں پر ایسی پابندیاں بھی مطلوب ہیں، جنہیں نوجوان خود آسانی سے تبدیل نہ کرسکیں۔
اگر عدالت نے یہ مؤقف تسلیم کیا تو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ڈیزائن کا موجودہ طریقہ بدل سکتا ہے۔
🧠 سوشل میڈیا اور نوجوان ذہن: عدالت میں کیا سوال اٹھ رہے ہیں؟
▶
کمپنیاں جان بوجھ کر نفسیاتی کمزوریوں کو نشانہ بناتی ہیں تاکہ صارفین کا زیادہ سے زیادہ وقت اشتہاری منافع میں بدلا جا سکے، جس کے نتیجے میں نوعمروں میں مایوسی اور اضطراب پھیلتا ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس نے نوعمروں کے لیے خصوصی حفاظتی ٹولز، پیرنٹل کنٹرولز اور اسکرین ریمائنڈرز متعارف کرائے ہیں اور ذہنی صحت کا مسئلہ پیچیدہ سماجی عوامل سے جڑا ہے۔
زکربرگ خود گواہی دیں گے
میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ مقدمے کے نمایاں ترین گواہ ہوں گے۔ جیوری سابق میٹا انجینئر آرتورو بیجار کو بھی سنے گی، جو اب سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف جاری بحث کی اہم آواز بن چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس 8 رکنی جیوری کا کردار مشاورتی ہوگا، جبکہ حتمی فیصلہ وفاقی جج ایوون گونزالیز راجرز کریں گی۔
🎯 میٹا کے بعد کس کی باری؟ ٹک ٹاک اور یوٹیوب بھی نشانے پر
صنعتی اثرات
▼
مختصر ویڈیوز کے انتہائی نشہ آور فیڈ اور نوعمروں کو گھنٹوں مصروف رکھنے والے فیچرز پر اسکول ڈسٹرکٹس کے مقدمات کا سامنا ہے۔
مسلسل ویڈیوز چلانے کی خودکار سہولت اور ریکمنڈیشن انجن کو نوجوانوں کی نیند اور تعلیمی وقت متاثر کرنے کی بنیاد پر چیلنج کیا جا رہا ہے۔
اسنیپ اسٹریکس جیسے گیمفیکیشن فیچرز پر تنقید ہو رہی ہے جو نوعمروں پر روزانہ ایپ کھولنے کے لیے شدید سماجی دباؤ ڈالتے ہیں۔
اگر میٹا کے خلاف نظیر قائم ہوتی ہے تو تمام ایپس کو اپنے منافع بخش 'انگیجمنٹ فرسٹ' الگورتھمز کو لازماً تبدیل کرنا پڑے گا۔
میٹا الزامات ماننے کو تیار نہیں
میٹا نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ تقریباً 3.6 ارب صارفین رکھنے والی کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس کے شواہد نوجوانوں کے تحفظ کے لیے اس کی مستقل کوششوں کو ثابت کریں گے۔
واضح رہے کہ میٹا کے لیے یہ کوئی پہلی قانونی آزمائش نہیں ہے۔ رواں سال لاس اینجلس اور نیو میکسیکو میں کمپنی کے خلاف ریاستی سطح پر 2 فیصلے آچکے ہیں، جن کے خلاف اپیلیں کی گئی ہیں۔
🔄 فیس بک اور انسٹاگرام بدل سکتے ہیں؟ مقدمے کا بڑا اثر
+
نابالغ صارفین کے اکاؤنٹس خود بخود پرائیویٹ ہوں گے اور اجنبیوں سے براہِ راست رابطے پر خودکار پابندیاں عائد ہوں گی۔
نوجوانوں کے لیے رات کے وقت الرٹس اور ایپ بندش کے ایسے فیچرز لازمی ہو سکتے ہیں جنہیں صارف خود بند نہ کر سکے۔
نیند کے اوقات میں نوعمروں کے فون پر کسی بھی قسم کا پش نوٹی فکیشن بھیجنے پر قانونی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
ایپ کی سیٹنگز اور ڈیٹا شیئرنگ پر والدین کی باقاعدہ تصدیق اور کنٹرول کو قانونی طور پر لازمی بنایا جائے گا۔
ایک مقدمہ، پوری دنیا کی نظریں
اس اہم قانونی لڑائی کی بازگشت میٹا سے باہر بھی سنائی دے رہی ہے۔
ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور یوٹیوب بھی خاندانوں، اسکولوں اور امریکی ریاستوں کے ایسے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں نوجوانوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کے الزامات شامل ہیں۔
اسی لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ میٹا کتنے ارب ڈالر ادا کرے گی۔ زیادہ بڑا سوال یہ ہے کہ کیا عدالتیں اس دور کے سب سے کامیاب ڈیجیٹل بزنس ماڈل کو بدلنے پر مجبور کرسکتی ہیں؟۔
ایسے ماڈلز جس میں صارف کی توجہ ہی سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔