مراکش میں آن لائن گیمنگ کا رجحان تفریح کی حدود پار کر کے ایک سنجیدہ لت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
مزید پڑھیں
طویل وقت تک اسکرینوں کے سامنے بیٹھنے سے نوجوانوں کی زندگیوں میں اہم تبدیلیاں آ رہی ہیں، جس کے نتیجے میں خاندانوں کے لیے ان رویوں کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
والدین اور نوجوانوں کے درمیان کشیدگی
میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی مراکشی خاندانوں میں گیمنگ اب ایک تناؤ اور روزمرہ کے جھگڑوں کا سبب بن رہی ہے۔
والدین اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ نوجوان مجازی دنیا میں اس قدر گم ہو چکے ہیں کہ حقیقی زندگی کے تقاضوں، تعلیم اور گھریلو ذمہ داریوں سے ان کا تعلق ٹوٹتا جا رہا ہے۔
ایک مراکشی طالب علم کی کہانی
16 سالہ حمزہ کا کہنا ہے کہ گیمنگ کا آغاز ایک شوق کے طور پر ہوا، مگر یہ آہستہ آہستہ ان کی زندگی کا محور بن گئی۔
اب حمزہ کو اسکرین سے دُوری پر شدید ذہنی تناؤ اور بے چینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس نے ان کے تعلیمی معیار اور سماجی تعلقات کو متاثر کیا ہے۔
مارکیٹ میں تیزی اور بڑھتا خرچ
مراکش میں ویڈیو گیمز کی مارکیٹ تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ 2024ء میں گیمنگ کے شعبے میں ہونے والا خرچ تقریباً 2.27 ارب مراکشی درہم، یعنی 227 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
یہ اعداد و شمار نوجوانوں اور بچوں میں گیمنگ کے بڑھتے ہوئے مقبول رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
نیورولوجسٹ کی رائے اور سائنسی پہلو
ماہر نیورولوجسٹ ڈاکٹر یاسین یشو کے مطابق جب کوئی سرگرمی فرد کی خوشی کا واحد ذریعہ بن جائے تو وہ پیتھولوجیکل رویے میں بدل جاتی ہے۔
گیمنگ کے دوران دماغ کا ’ریوارڈ سسٹم‘ فعال ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کو مسلسل وہی لطف حاصل کرنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔
لت سے نکلنے کے مؤثر طریقے
ماہرین کا کہنا ہے کہ محض پابندیاں لگانے سے اس لت پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔
اس کے لیے خاندانی رابطوں کو بہتر بنانا، تفریح کے صحت مند متبادل فراہم کرنا اور نوجوانوں کی زندگی میں ڈیجیٹل دنیا اور حقیقی زندگی کے مابین ایک متوازن توازن قائم کرنا ناگزیر ہے۔
مراکش میں ڈیجیٹل لت کا مسئلہ صرف وقت کے ضیاع تک محدود نہیں بلکہ یہ نوجوانوں کی نفسیاتی صحت پر گہرے منفی اثرات ڈال رہا ہے۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے والدین، سماجی ماہرین اور تعلیمی اداروں کو مشترکہ طور پر ایک مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل کو مجازی دائرے سے نکال کر حقیقی دنیا سے جوڑا جا سکے۔