اہم خبریں
3 June, 2026
--:--:--

سوشل میڈیا اور امریکی اسکولوں کے درمیان قانونی جنگ خطرناک موڑ پر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سوشل میڈیا ایپس کے خلاف امریکی اسکولوں کی قانونی جنگ
تصفیے کی شرائط میں فی الحال سوشل میڈیا ایپس میں کوئی تکنیکی تبدیلی یا اصلاحات شامل نہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکہ میں ٹیکنالوجی کمپنیوں اور تعلیمی اداروں کے مابین قانونی جنگ ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔

مزید پڑھیں

کینٹکی کی ایک اسکول ڈسٹرکٹ کی جانب سے دائر مقدمے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو طلبہ کی ذہنی صحت متاثر کرنے کے الزامات پر کروڑوں ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، میٹا، الفابیٹ اور بائٹ ڈانس جیسی بڑی کمپنیاں 27 ملین ڈالر کی تصفیہ رقم ادا کرنے پر آمادہ ہوگئی ہیں۔ 

میٹا اپنی سوشل میڈیا ایپلی کیشنز فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ 

کے لیے 9 ملین ڈالر جبکہ اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک 8، 8 ملین ڈالر ادا کریں گی۔

یونیورسٹیوں اور اسکولوں کے لیے تکنیکی معاونت

یوٹیوب نے تصفیے کے تحت 2.01 ملین ڈالر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

علاوہ ازیں گوگل اپنی تعلیمی سروس ’گوگل کلاس‘ کے لیے اسکول ڈسٹرکٹ کو خصوصی تربیتی معاونت فراہم کرے گا، تاہم ان ادائیگیوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کمپنیوں نے اپنے پلیٹ فارمز پر عائد الزامات کو تسلیم کر لیا ہے۔

کمپنیوں کا مؤقف اور قانونی پہلو

مذکورہ کمپنیاں الزامات کی مسلسل تردید کر رہی ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ پلیٹ فارمز پر نابالغ اور نوعمر افراد کی حفاظت کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہیں۔

تصفیے کی شرائط میں فی الحال سوشل میڈیا ایپس میں کسی قسم کی تکنیکی تبدیلی یا اصلاحات شامل نہیں کی گئی ہیں۔

سوشل میڈیا ایپس کے خلاف امریکی اسکولوں کی قانونی جنگ
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو طلبہ کی ذہنی صحت متاثر کرنے کے الزامات کا سامنا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

اثرات اور مستقبل کے خدشات

بلومبرگ کے مطابق یہ تصفیہ برلیتھٹ کاؤنٹی کے 1600 طلبہ کے تعلیمی بجٹ کا تقریباً 8 فیصد ہے۔

یہ پیشرفت اب امریکہ بھر کی 1300 سے زائد دیگر اسکول ڈسٹرکٹ کے لیے بھی راستہ کھول رہی ہے جو انہی بنیادوں پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف مقدمات دائر کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

سوشل میڈیا کے خلاف عدالتی مقدمات کا سیلاب

رپورٹس کے مطابق امریکہ میں اب تک 6 ہزار سے زائد مقدمات دائر ہو چکے ہیں۔

ان کیسز میں سوشل میڈیا ایپس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ ان کے ڈیزائن اور فیچرز، مثلاً لامحدود اسکرولنگ، بچوں میں تمباکو کی طرح لت پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔

ذاتی نقصان کے مقدمات اور عدالتی فیصلے

لاس اینجلس کی عدالت نے میٹا اور یوٹیوب کو 20 سالہ خاتون کو نفسیاتی دباؤ پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

دوسری جانب نیو میکسیکو کی جیوری نے میٹا کو نابالغوں کو تحفظ فراہم نہ کرنے پر 375 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جو ایک اہم مثال ہے۔

امریکی عدالتوں میں جاری یہ مقدمات ٹیکنالوجی کمپنیوں کے احتساب کی جانب ایک بڑی پیشرفت ہیں۔ 

اگرچہ تصفیے کی رقوم بظاہر بڑی نظر آتی ہیں، لیکن یہ کمپنیاں اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی لانے سے گریزاں ہیں۔ آنے والے مہینوں میں متوقع مزید عدالتی فیصلے ڈیجیٹل دنیا کے ضوابط کو ازسرنو متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔