کیوبا اس وقت ایندھن کے شدید ترین بحران کی زد میں ہے، جہاں امریکی پابندیوں نے نقل و حمل اور توانائی کے شعبوں کو مفلوج کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
کیوبا میں عوام ایندھن کے حصول کے لیے طویل انتظار پر مجبور ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں متبادل اور سستی سواریوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
سڑکوں پر ویرانی
کیوبا کے دارالحکومت ہوانا کی سڑکیں، جو اپنی کلاسک امریکی کاروں کے لیے مشہور تھیں، ویران نظر آتی ہیں۔
ایندھن کی مسلسل قلت کے باعث شہریوں نے اپنی نایاب گاڑیوں کو کھڑا کر دیا ہے، جبکہ تھری وہیلر جیسی سستی سواریاں اب عوامی زندگی کا ضرورت بن رہی ہیں۔
بلیک مارکیٹ اور طویل انتظار کا عذاب
ایندھن کی کمی کے باعث ملک میں بلیک مارکیٹ بڑھ رہی ہے، جہاں پیٹرول منہ مانگے داموں فروخت ہو رہا ہے۔
سرکاری ایپ کے ذریعے ایندھن کے حصول کا نظام بھی ناکام دکھائی دیتا ہے، جہاں ایک شہری کے مطابق اسے اپنی باری کے لیے 5 ماہ تک انتظار کرنا پڑے گا۔
امریکی پابندیوں کا گھیراؤ
یاد رہے کہ رواں برس امریکہ کی جانب سے کیوبا پر 250 سے زائد پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن کا مرکز توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے ہیں۔
کیوبا کا مؤقف ہے کہ یہ ایک غیر اعلانیہ فوجی محاصرہ ہے، جس کا مقصد مالیاتی نظام کو تباہ کر کے ملک کو معاشی طور پر تباہ کرنے کے سوا کچھ نہیں۔
ایندھن کی قلت اور پیداواری خلا
کیوبا کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے روزانہ ایک لاکھ 25 ہزار بیرل تیل درکار ہوتا ہے۔
جنوری سے اب تک واشنگٹن نے صرف ایک روسی آئل ٹینکر کو 100 ہزار ٹن تیل کے ساتھ آنے کی اجازت دی، جو ملکی ضرورت کے سامنے آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
وینزویلا سے سپلائی اور علاقائی تناؤ
کیوبا اپنی تیل کی ضرورت کا 70 فیصد وینزویلا سے درآمد کرتا ہے، تاہموینزویلا میں جاری سیاسی عدم استحکام اور امریکہ کی جانب سے مسلسل دھمکیوں نے اس سپلائی لائن کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے کیوبا پر دہشت گردی کے الزامات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
کیوبا کا ردعمل اور عالمی برادری
کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز پاریا نے امریکی اقدامات کو انسانیت کے خلاف اور اجتماعی سزا قرار دیا ہے۔
انہوں نے واشنگٹن کی فوجی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا ملک کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کیوبا کا موجودہ بحران محض ایندھن کی قلت نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری امریکی معاشی محاصرے کا نتیجہ ہے۔
جب تک بین الاقوامی سطح پر پابندیوں میں نرمی اور سپلائی چین کی بحالی ممکن نہیں ہوتی، کیوبا کے شہریوں کے لیے معمول کی زندگی کی بحالی ایک خواب ہی رہے گی۔