یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے زیرقبضہ علاقوں کو واپس لینے اور پورے ملک میں ریاستی عمل داری بحال کرنے کے لیے نئی فوجی مہم شروع کردی ہے۔
یمنی مسلح افواج نے اسے ’معرکہ آزادی‘ قرار دیا ہے، جبکہ سعودی قیادت کے تحت عرب اتحادی افواج نے مکمل آپریشنل حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
نئی کارروائی میں باب المندب، مغربی ساحل اور تعز کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
یمن کی ایک دہائی سے زیادہ عرصے پر محیط جنگ ایک بار پھر بڑے اور فیصلہ کن فوجی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔
بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے حوثیوں کے زیرکنٹرول باقی علاقوں کو واپس لینے اور ریاستی اداروں کی عمل داری پورے ملک تک بحال کرنے کے لیے باقاعدہ فوجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
🇸🇦 سعودی عرب اور بحیرہ احمر کے لیے کیا مطلب؟
سعودی عرب کے لیے یہ مہم دو سطحوں پر اہم ہے: اپنی سرزمین اور تنصیبات کی حفاظت، اور جنوبی بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے خطرات کو محدود کرنا۔
باب المندب میں عدم استحکام بڑھنے سے تجارتی جہازوں، انشورنس لاگت اور بحیرہ احمر کے شپنگ روٹس پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اسی لیے اتحاد نے اپنی حمایت کو یمن کے اندرونی محاذ کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی بحری سلامتی سے بھی جوڑا ہے۔
یمنی مسلح افواج نے اس کارروائی کو ’معرکہ آزادی اور ریاست کی بحالی‘ کا نام دیا ہے، جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے واضح کیا ہے کہ وہ یمنی مسلح افواج کو مکمل آپریشنل مدد فراہم کرتا رہے گا۔
تیاری سے عملی کارروائی تک
صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے ٹیلی وژن خطاب میں اعلان کیا کہ حکومت اب ’تیاری سے عمل‘ کے مرحلے میں منتقل ہوچکی ہے۔
ان کے مطابق مسلح افواج، سکیورٹی اداروں اور مختلف فوجی فارمیشنز کو منظور شدہ منصوبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں شروع کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
⚔️ آج کیا بدلا؟
یمنی حکومت نے اب صرف دفاعی پوزیشن برقرار رکھنے کے بجائے علاقے واپس لینے کی باقاعدہ مہم کا اعلان کردیا ہے۔
رشاد العلیمی نے کہا کہ مسلح افواج، سکیورٹی اداروں اور مختلف فوجی فارمیشنز کو منظور شدہ منصوبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ اعلان یمن کی جنگ میں نسبتاً کم شدت کے مرحلے کے بعد ایک بڑے فوجی موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔
حکومت کا اعلان کردہ ہدف صرف حالیہ محاذوں پر حوثیوں کو پیچھے دھکیلنا نہیں بلکہ ان تمام علاقوں میں ریاستی اختیار بحال کرنا ہے جو اس وقت حکومت کے کنٹرول سے باہر ہیں۔
یمنی فوج کے ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے بھی فوجی کارروائی شروع ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ریاستی اداروں کی بحالی اور حوثیوں کے زیرکنٹرول علاقوں کو واپس لینا ہے۔
سرکاری بیانات میں حوثی صفوں میں شامل افراد کو ہتھیار ڈالنے اور لڑائی چھوڑنے کی دعوت بھی دی گئی ہے۔
تاہم میدان جنگ میں مختلف محاذوں پر ہونے والے جانی اور مادی نقصانات کے بہت سے دعووں کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق ممکن نہیں۔
یہ کارروائی اب کیوں شروع ہوئی؟
موجودہ مہم کا پس منظر گزشتہ چند ہفتوں میں پیدا ہونے والی غیرمعمولی فوجی صورتحال ہے۔
حوثی فورسز نے ستمبر میں یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر بڑی پیش قدمی کی، مخا سمیت اہم علاقوں اور بعض جزائر پر کنٹرول بڑھایا اور باب المندب کے انتہائی حساس بحری راستے تک اپنی موجودگی مضبوط کی۔
اس کے ساتھ تعز کے اطراف لڑائی میں بھی شدت آئی اور شہر کو عدن سے ملانے والی اہم شاہراہ متاثر ہوئی۔
🎯 کارروائی کا اصل ہدف کیا ہے؟
یمنی حکومت کے اعلان کے مطابق مقصد صرف چند محاذوں پر حوثیوں کو پیچھے دھکیلنا نہیں۔
بڑا ہدف حوثیوں کے زیرکنٹرول باقی علاقوں کو واپس لینا، ریاستی اداروں کی بحالی اور پورے قومی علاقے میں حکومتی اختیار قائم کرنا ہے۔
یمنی فوج نے حوثی صفوں میں موجود افراد سے ہتھیار ڈالنے اور لڑائی چھوڑنے کی اپیل بھی کی ہے۔
یہ پیش رفت یمنی حکومت کے لیے صرف مزید علاقے کھونے کا مسئلہ نہیں تھی۔
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتا ہے اور عالمی تجارت کے اہم ترین سمندری راستوں میں شامل ہے۔
اس علاقے میں کسی ایک مسلح گروپ کا مضبوط کنٹرول سعودی عرب اور یمن کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے بھی سکیورٹی کا بڑا سوال بن جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے نمائندے بھی حالیہ ہفتوں میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرچکے ہیں۔
سعودی اتحاد کی مکمل حمایت
اس نئی صورتحال میں سب سے اہم پیش رفت سعودی قیادت والے اتحاد کا واضح اعلان ہے۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ مشترکہ افواج یمنی مسلح افواج کو ’مکمل آپریشنل سپورٹ‘ جاری رکھیں گی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ کھڑی رہیں گی۔
🛡️ سعودی اتحاد کی حمایت کتنی اہم ہے؟
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ مشترکہ افواج یمنی مسلح افواج کو مکمل آپریشنل سپورٹ فراہم کرتی رہیں گی۔
اتحاد نے یمنی حکومت اور ریاستی اداروں کی بحالی کے ساتھ سعودی عرب کی خودمختاری، شہریوں، مقیم افراد اور قومی تنصیبات کے تحفظ کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
اس اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ نئی مہم کو صرف داخلی یمنی کارروائی نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی سے جڑا مرحلہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔
المالکی کے بیان میں دو اہداف نمایاں ہیں:
یمنی ریاست اور اس کے اداروں کی بحالی، اور جنوبی بحیرہ احمر و باب المندب میں آزاد جہاز رانی کو درپیش خطرات کا خاتمہ۔
انہوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں، شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں اور سعودی بحری جہازوں کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مملکت کو اپنی خودمختاری، شہریوں، مقیم افراد اور قومی تنصیبات کے دفاع کا حق حاصل ہے۔
صنعاء، صعدہ اور تعز تک محاذ پھیلنے کے اشارے
ابتدائی اطلاعات بتاتی ہیں کہ موجودہ کارروائی صرف ایک جغرافیائی محاذ تک محدود نہیں۔ یمنی سرکاری فورسز نے صنعاء اور صعدہ میں حوثی اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ تعز کے گرد بھی لڑائی جاری ہے۔
اے پی کے مطابق حالیہ کشیدگی نے 2022 کے بعد نسبتاً کم شدت کے دور کو ختم کرتے ہوئے یمن کو دوبارہ وسیع جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے۔
🌊 باب المندب اس جنگ کا مرکز کیوں؟
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملانے والا دنیا کے اہم بحری راستوں میں سے ایک ہے۔
رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے گزشتہ ماہ اس آبنائے اور بحیرہ احمر کے ساحل کے تقریباً 150 کلومیٹر حصے پر پیش قدمی کی تھی۔
اسی لیے یہاں کنٹرول کا سوال صرف یمن تک محدود نہیں؛ عالمی تجارت، بحری جہاز رانی اور خطے کی توانائی سلامتی بھی اس سے متاثر ہوسکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت بیک وقت دو طرح کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے:
ایک طرف اسے باب المندب اور مغربی ساحل پر حوثیوں کی پیش قدمی روکنی ہے اور دوسری طرف تعز، مارب اور دیگر داخلی محاذوں کو محفوظ رکھنا ہے۔
اگر کارروائی طویل ہوتی ہے تو مختلف حکومت نواز فورسز کے درمیان کمانڈ، رسد اور میدان جنگ کی ہم آہنگی انتہائی اہم ہوگی۔
حوثیوں کا سعودی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ
دوسری جانب حوثیوں نے سعودی آرامکو کی ریاض اور خریص کے علاقے میں تنصیبات کو میزائل اور ڈرون سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
اے پی کے مطابق حوثی ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا، جبکہ ایک آرامکو تنصیب میں آگ لگنے کی وجہ بھی فوری طور پر سرکاری طور پر واضح نہیں کی گئی تھی۔
اس لیے حوثیوں کے مخصوص اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کے دعووں کو فی الحال دعوے ہی کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔
🗺️ اہم محاذ کون سے ہیں؟
مغربی ساحل اور باب المندب: حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کو واپس پلٹنے کی کوشش کا مرکزی علاقہ۔
تعز: ایک اہم زمینی و رسدی محاذ، جہاں حالیہ لڑائی نے دباؤ بڑھایا ہے۔
اندرونی محاذ: حکومت کا اعلان بتاتا ہے کہ کارروائی ضرورت کے مطابق متعدد علاقوں تک پھیل سکتی ہے۔
اب اصل جنگ کس چیز کی ہے؟
یمنی حکومت پورے ملک پر ریاستی اختیار بحال کرنے کی بات کررہی ہے، سعودی اتحاد سرحدی سلامتی اور باب المندب میں آزاد جہاز رانی کو بنیادی ترجیح قرار دے رہا ہے، جبکہ حوثی اپنی حالیہ فوجی پیش قدمی اور میزائل و ڈرون صلاحیت کے ذریعے دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔
⏱️ کارروائی اب کیوں شروع ہوئی؟
حالیہ ہفتوں میں حوثیوں کی مغربی ساحل، باب المندب اور تعز کے اطراف سرگرمیوں نے یمنی حکومت اور سعودی اتحاد پر دباؤ بڑھایا۔
بحری راستوں پر بڑھتے خطرات اور سرحد پار حملوں کے الزامات نے بھی فوجی ردعمل کی اہمیت بڑھائی۔
اسی پس منظر میں یمنی قیادت نے تیاری کے مرحلے سے نکل کر عملی فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا۔
اسی لیے آنے والے دنوں میں تعز، مغربی ساحل اور باب المندب تین اہم میدان ہوں گے۔
اگر سرکاری فورسز یہاں حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی واپس پلٹنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو جنگ کا توازن بدل سکتا ہے۔
لیکن اگر محاذ طویل اور وسیع ہوگیا تو یمن میں انسانی بحران، نقل مکانی اور علاقائی کشیدگی مزید بڑھنے کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔
4 اکتوبر کا اعلان اس لحاظ سے اہم ہے کہ یمنی حکومت اب محض دفاعی پوزیشن برقرار رکھنے کی بات نہیں کررہی، اس نے باقاعدہ طور پر حوثیوں کے زیرکنٹرول علاقوں کی واپسی اور پورے یمن میں ریاستی اختیار کی بحالی کو اپنی نئی فوجی مہم کا ہدف قرار دے دیا ہے۔
🔗 ذرائع اور مزید مطالعہ
سبق — 4 اکتوبر 2026:
سعودی قیادت والے اتحاد کی جانب سے یمنی مسلح افواج کو مکمل آپریشنل حمایت، مملکت کے دفاع اور باب المندب میں آزاد جہاز رانی سے متعلق موقف۔
اصل خبر کھولیں
Reuters — 4 October 2026:
یمنی حکومت کی جانب سے حوثیوں کے زیرکنٹرول علاقوں کو واپس لینے کے لیے بڑی فوجی مہم شروع کرنے کی تفصیلات۔
اصل رپورٹ کھولیں
Al Arabiya English — 4 October 2026:
رشاد العلیمی کے اعلان اور یمن میں نئی فوجی کارروائی کے آغاز کی رپورٹ۔
اصل خبر کھولیں
Reuters — 2 October 2026:
تعز میں فضائی حملوں، مغربی ساحل، باب المندب اور بڑھتی فوجی کشیدگی کا پس منظر۔
اصل رپورٹ کھولیں