براہ راست نشریات

باب المندب واپس لینے کا منصوبہ: بڑی فوجی کارروائی کا آغاز

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Bab al-Mandab military operation

نوٹ: یہ رپورٹ اوورسیز پوسٹ کی آج صبح کی لیڈ تھی

سعودی عرب حوثیوں کی باب المندب اور بحیرہ احمر کے ساحل پر موجودگی محدود کرنے کے لیے بڑی فوجی کارروائی کے آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔
ممکنہ منصوبے میں ایک لاکھ سے زیادہ یمنی فورسز، سعودی فضائی مدد اور امریکی انٹیلی جنس تعاون شامل ہوسکتا ہے۔
تاہم آپریشن شروع کرنے کا حتمی فیصلہ اور وقت ابھی واضح نہیں۔

یمن کی جنگ کئی برس کی نسبتاً خاموشی کے بعد دوبارہ ایک حساس مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ 

رائٹرز نے علاقائی اور مغربی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کررہا ہے، جس کا بنیادی مقصد باب المندب اور بحیرہ احمر کے اہم ساحلی علاقوں پر حوثیوں کی گرفت کم کرنا ہوسکتا ہے۔

📊 اہم اعداد — منصوبہ کتنا بڑا ہے؟

100,000+ — ممکنہ طور پر متحرک کئے جانے والے یمنی اہلکار۔

2 آپشنز — باب المندب کے گرد محدود کارروائی یا کئی محاذوں پر وسیع حملہ۔

4 بڑے محاذ — البیضاء، مأرب، تعز اور الجوف وسیع آپریشن میں شامل ہوسکتے ہیں۔

20 فضائی حملے — یمنی حکومت نے 2 اکتوبر کو صرف تین گھنٹوں میں تعز میں حوثی اہداف پر حملوں کا اعلان کیا۔

رپورٹ کے مطابق ممکنہ کارروائی میں ایک لاکھ سے زیادہ یمنی فوجی شریک ہوسکتے ہیں۔ زمینی جنگ بنیادی طور پر سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز لڑیں گی، جبکہ سعودی جنگی طیارے فضائی مدد دے سکتے ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس معاونت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ 

تاہم کارروائی کے آغاز، حتمی دائرۂ کار اور مکمل منصوبے کی سرکاری تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیں

باب المندب ہی اصل ہدف کیوں؟

باب المندب محض یمن کی ایک سمندری گزرگاہ نہیں۔ 

یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتا ہے اور نہر سویز کی طرف جانے والی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔

ایشیا اور یورپ کے درمیان جانے والے بڑی تعداد میں تجارتی جہاز اسی راستے سے گزرتے ہیں۔ 

یہاں کسی بڑی جنگ، ناکہ بندی یا مسلسل حملوں کا اثر جہاز رانی کے اخراجات، توانائی کی ترسیل اور عالمی سپلائی چین تک پہنچ سکتا ہے۔

اسی لیے حوثیوں کی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں بڑھتی سرگرمی سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے لیے صرف یمنی جنگ کا مسئلہ نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی بحری سلامتی کا سوال بھی ہے۔

🌊 باب المندب ہی اصل ہدف کیوں؟

باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والی انتہائی اہم عالمی سمندری گزرگاہ ہے۔

نہر سویز کی طرف آنے جانے والی بڑی تجارتی شپنگ اسی راستے سے گزرتی ہے، اس لیے یہاں عدم استحکام کا اثر یمن سے کہیں آگے پہنچ سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی حالیہ ساحلی پیش قدمی نے اس گزرگاہ پر ان کی اسٹریٹجک گرفت بڑھا دی، جسے ریاض ممکنہ آپریشن کے ذریعے پلٹنا چاہتا ہے۔

حملہ کہاں سے ہوسکتا ہے؟

ممکنہ کارروائی کے اہم جغرافیائی محور تعز، المخا، ذباب اور الخوخہ ہوسکتے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں ان علاقوں کے قریب حوثی اہداف پر فضائی حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یمنی فوجی ذرائع نے ان کارروائیوں کو ممکنہ زمینی پیش قدمی کے لیے میدان تیار کرنے سے جوڑا ہے۔

🗺️ ممکنہ حملہ کہاں سے ہوسکتا ہے؟

ممکنہ محدود کارروائی باب المندب کے اطراف اور ساحلی پٹی پر مرکوز رہ سکتی ہے۔

وسیع کارروائی کی صورت میں تعز، مأرب، البیضاء اور الجوف میں بیک وقت محاذ کھولنے کے آپشن زیرِ غور بتائے گئے ہیں۔

اس حکمت عملی کا مقصد حوثیوں کو کئی سمتوں پر اپنی فورس تقسیم کرنے پر مجبور کرنا ہوسکتا ہے۔

ذباب باب المندب کے قریب ہونے کے باعث خاص اہمیت رکھتا ہے جبکہ المخا بحیرہ احمر کے ساحل پر ایک اہم بندرگاہ اور فوجی مقام ہے۔ 

اگر سعودی حمایت یافتہ فورسز ساحلی پٹی پر مضبوط پوزیشن حاصل کرلیتی ہیں تو حوثیوں کو باب المندب سے مزید دور دھکیلنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

تعز کا محاذ بھی اسی حکمت عملی میں اہم ہے۔ 

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حالیہ دنوں میں تعز میں حوثی اہداف پر متعدد فضائی حملوں کا اعلان کیا ہے۔

اگر تعز اور ساحلی علاقوں میں کارروائی بیک وقت بڑھتی ہے تو حوثیوں کو مختلف محاذوں پر اپنی فورس تقسیم کرنا پڑسکتی ہے۔

⚔️ محدود آپریشن یا بڑی جنگ؟

محدود آپشن: باب المندب کے اطراف ساحلی علاقے محفوظ کرنا اور بحری راستے پر حوثی دباؤ کم کرنا۔

وسیع آپشن: یمن کے مختلف صوبوں میں ہم وقت حملے کرکے حوثیوں کی مجموعی فوجی پوزیشن پر دباؤ بڑھانا۔

دوسرا راستہ زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس سے جنگ کا دائرہ تیزی سے پھیل سکتا ہے اور سعودی عرب پر جوابی حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ممکنہ آپریشن میں
ایک لاکھ سے
زیادہ یمنی
اہلکار شامل
کیے جاسکتے ہیں

محدود آپریشن یا بڑی جنگ؟

ریاض کے سامنے بنیادی طور پر دو راستے ہوسکتے ہیں۔
پہلا یہ کہ کارروائی صرف باب المندب اور ساحلی راہداری تک محدود رکھی جائے، تاکہ عالمی جہاز رانی کے لیے خطرے کو کم کیا جاسکے۔
دوسرا راستہ زیادہ بڑی، کئی محاذوں پر مشتمل زمینی کارروائی کا ہے، جس میں حوثیوں پر تعز، مغربی ساحل اور دیگر علاقوں سے دباؤ بڑھایا جائے۔
یہ دوسرا آپشن کہیں زیادہ خطرناک ہوگا کیونکہ اس کے جواب میں حوثی سعودی شہروں، فوجی اڈوں، بندرگاہوں یا توانائی تنصیبات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے بڑھا سکتے ہیں۔حالیہ دنوں میں خمیس مشیط، جازان، مدینہ اور دیگر علاقوں سے متعلق حملوں نے اسی خطرے کو نمایاں کیا ہے۔

✈️ سعودی فضائی طاقت کا کردار

رائٹرز کے مطابق زمینی کارروائی بنیادی طور پر سعودی نگرانی میں یمنی فورسز کرسکتی ہیں جبکہ سعودی فضائیہ فضائی حملوں سے معاونت فراہم کرسکتی ہے۔

اس ماڈل میں ریاض کا کردار صرف فضائی حملوں تک محدود نہیں ہوگا؛ انٹیلی جنس، نگرانی، رسد اور فضائی دفاع بھی اہم عناصر ہوسکتے ہیں۔

مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ بڑے پیمانے پر سعودی زمینی فوج اتارے بغیر یمنی اتحادی فورسز کو آگے رکھا جائے۔

سعودی فضائی طاقت کا کردار

ممکنہ حکمت عملی کا اہم پہلو یہ ہے کہ سعودی عرب خود بڑے پیمانے پر زمینی فوج اتارنے کے بجائے یمنی اتحادی فورسز کو فرنٹ لائن پر رکھ سکتا ہے۔

اس صورت میں سعودی کردار فضائی حملوں، انٹیلی جنس، رسد، نگرانی اور فضائی دفاع پر زیادہ مرکوز ہوگا۔

🌐 امریکا، پاکستان، ترکی اور فرانس کہاں؟

امریکا: رائٹرز کے مطابق سعودی آپریشنز کے لیے انٹیلی جنس تعاون فراہم کررہا ہے۔

پاکستان اور ترکی: فوجی سازوسامان اور مشیروں کی معاونت کا ذکر ہے، مگر براہِ راست جنگی کردار کی توقع نہیں بتائی گئی۔

فرانس: دفاعی نظام کی معاونت کا ذکر سامنے آیا ہے۔

یعنی بیرونی اتحادی ممکنہ طور پر معاون کردار میں رہیں گے، فرنٹ لائن زمینی جنگ یمنی فورسز لڑیں گی۔

یہ سعودی عرب کو براہ راست زمینی نقصانات سے بچانے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے، تاہم فضائی اور لاجسٹک مدد کے باوجود طویل زمینی جنگ کے سیاسی اور انسانی اخراجات خاصے بڑے ہوسکتے ہیں۔

امریکا، پاکستان اور ترکی کا کردار

رپورٹس میں امریکی انٹیلی جنس تعاون کا ذکر کیا گیا ہے۔ 

پاکستان اور ترکی کی جانب سے فوجی سازوسامان اور مشیروں کی معاونت کا امکان بھی بیان ہوا ہے، لیکن براہ راست زمینی جنگ میں ان ممالک کے فوجیوں کی شمولیت کی تصدیق نہیں ہوئی۔

🔥 تعز — کیوں اہم محاذ بن رہا ہے؟

2 اکتوبر کو یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے کہا کہ اس کے طیاروں نے تعز میں تین گھنٹوں کے دوران 20 فضائی حملے کیے۔

تعز پر طاقت کا توازن شمالی یمن، بحیرہ احمر کے ساحل اور جنوبی بندرگاہ عدن تک رسائی کے لیے اہم ہے۔

اسی کشیدگی کے باعث تقریباً 19 راستے بند کرکے انہیں فوجی آپریشنل علاقے قرار دیا گیا۔

یہ فرق اہم ہے۔ 

دفاعی تعاون، تربیت یا فوجی سازوسامان فراہم کرنا اور یمن کے اندر براہ راست جنگ لڑنا الگ معاملات ہیں۔

پاکستان نے دوسری طرف سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا ہے۔ 

پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق سعودی عرب، پاکستان اور ترکی ایران کی اس تجویز پر بات کرسکتے ہیں جس میں حوثیوں سے سیاسی رابطہ قائم کرنے کی کوشش شامل ہے۔

یعنی ایک طرف بڑی فوجی تیاری زیرِ غور ہے تو دوسری طرف مذاکرات کا دروازہ بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔

سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟

ایک لاکھ فوجی کاغذ پر بہت بڑی طاقت دکھائی دیتے ہیں، لیکن یمن کی جنگ میں تعداد ہی کامیابی کی ضمانت نہیں۔

حوثی مخالف یمنی فورسز مختلف سیاسی، قبائلی اور علاقائی گروہوں میں تقسیم ہیں۔ 

ان سب کو ایک کمانڈ، ایک فوجی ہدف اور ایک مشترکہ حکمت عملی 

کے تحت لانا کسی بھی بڑی کارروائی کا مشکل ترین حصہ ہوسکتا ہے۔

اس کے ساتھ انسانی بحران بھی شدید ہے۔ 

یمن پہلے ہی خوراک کی قلت، غربت، نقل مکانی اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر سے دوچار ہے۔ 

نئی وسیع جنگ اس بحران کو مزید سنگین کرسکتی ہے۔

🚨 سب سے بڑا خطرہ — حوثی جوابی حملے

ممکنہ زمینی کارروائی کا ایک بڑا خطرہ حوثیوں کی جانب سے سعودی شہروں، فوجی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی تنصیبات پر جوابی میزائل یا ڈرون حملے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق سعودی منصوبہ سازوں کے سامنے صرف یمن کے اندر پیش قدمی نہیں بلکہ سعودی انفراسٹرکچر کی حفاظت بھی ایک بنیادی چیلنج ہے۔

اس لیے کسی بڑے آپریشن کی کامیابی زمینی محاذ کے ساتھ ساتھ فضائی دفاع پر بھی منحصر ہوگی۔

کیا فیصلہ کن جنگ قریب ہے؟

ابھی ایسا کہنا قبل از وقت ہوگا۔

دستیاب رپورٹس بتاتی ہیں کہ بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی سنجیدہ مرحلے میں ہے، لیکن حتمی حملے کا فیصلہ، وقت اور دائرۂ کار ابھی واضح نہیں۔

🧩 ایک لاکھ فوجی، مگر اصل مسئلہ اتحاد

حوثی مخالف یمنی فورسز مختلف سیاسی، قبائلی اور علاقائی گروہوں میں تقسیم ہیں۔

ایک لاکھ یا اس سے زیادہ اہلکار جمع کرنا ایک بات ہے؛ انہیں ایک کمانڈ، ایک ہدف اور ایک مربوط حکمت عملی کے تحت چلانا کہیں زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق آپریشن کی کامیابی کا بڑا دارومدار انہی مقامی فورسز کے باہمی تال میل اور مؤثر قیادت پر ہوگا۔

اصل سوال یہ ہے کہ سعودی عرب صرف باب المندب اور ساحلی راستہ محفوظ کرنا چاہتا ہے یا حوثیوں کی مجموعی فوجی طاقت کم کرنے کے لیے زیادہ وسیع کارروائی کا خطرہ مول لے گا۔

اگر آپریشن محدود رہا تو مقصد عالمی بحری راستے کو محفوظ بنانا ہوگا۔ 

اگر کارروائی کئی محاذوں تک پھیل گئی تو یہ 2022 کے بعد یمن کی سب سے بڑی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

اور ایسی صورت میں نتائج صرف یمن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سعودی سلامتی، بحیرہ احمر کی جہاز رانی، عالمی تجارت اور پورے خلیجی خطے پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

🔗 مصادر اور مزید مطالعہ

Reuters — 2 October 2026:
سعودی عرب کے ممکنہ باب المندب آپریشن، ایک لاکھ سے زیادہ یمنی اہلکار، دو فوجی آپشنز اور اتحادی معاونت کی تفصیل۔
اصل رپورٹ کھولیں


Reuters — 2 October 2026:
تعز میں 20 فضائی حملے، 19 راستوں کی بندش اور باب المندب و بحیرہ احمر کے لیے تعز کی اہمیت۔
اصل خبر کھولیں


Reuters — 2 October 2026:
یمن میں نئی لڑائی سے خوراک کے بحران، 74 فیصد گھرانوں کی غذائی عدم تحفظ اور انسانی اثرات کی تفصیل۔
اصل رپورٹ کھولیں


Reuters — 2 October 2026:
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی ہنگامی بات چیت اور حوثیوں سے ممکنہ سیاسی رابطے کی ایرانی تجویز۔
اصل خبر کھولیں